چودہ اگست : یہ داغ داغ اجالا

اسد مفتی، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
برطانیہ کے ممتاز اخبار ٹائمز نے ہندو پاک کی آزادی کے ساٹھ سال مکمل ہونے پر ایک نمایاں اداریہ سپرد قلم کیا تھا۔ اس اداریہ کو ٹائمز نے ’’مشترکہ تقدیر ‘‘ کا معنی خیز نام دیا ۔ آج سے 63سال پہلے 14اگست 1947کو ملنے والی آزادی کا اخبار نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہندوستان کی تقسیم ایک بھیانک غلطی تھی۔ اس تاریخی غلطی کے نتیجہ میں رونما ہونے والے واقعات پر ’’ٹائمز ‘‘نے اپنی مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اخبار نے مملکت خدا داد کے حوالہ سے منفی واقعات کا ذکرکرتے ہوئے لکھا کہ ’’ہندوستان کی تاریخ میں صرف ایک مرتبہ مسز اندرا گاندھی نے جمہوریت پر ایمر جنسی کے اوچھے ہتھیار کے ذریعہ حملہ کیا تھا جبکہ پاکستان میں جمہوریت کی جڑیں ہی کھوکھلی ہیں۔اخبار لکھتا ہے کہ ہندوستانی ایک ایسی قوم ہے جو اس وقت بھی پوری انسانیت کا پانچواں حصہ تھی۔ جب پاکستانی ایک نوتشکیل مسلم قوم جس کی سوچ اسلامی دنیا میں نمایاں ریاست بننا تھا۔ ہندوستان کی تقسیم سوائے محمد علی جناح کے کسی کے لئے بھی کامیابی کی نوید نہ تھی، جن کی زندگی کا مقصد ایک اسلامی ریاست کا خواب تھا۔ اخبار لکھتا ہے’’ہندوستان میں آج بھی 120ملین مسلمان ہیں جو پاکستان سے زیادہ ہیں۔ ٹائمز نے مزید لکھا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کو اپنے خوشحال پڑوسی ہندوستانی سے قریبی معاشی تعلقات قائم کرنے چاہئیں‘‘۔
جون 1949کی بات ہے ۔بروکلین نیویارک میں پروفیسر ڈی شوئی مان نے ایشیا کی تازہ سیاسی صورتحال پر لیکچر دیتے ہوئے کہا تھاکہ ’’سائوتھ ایشیا میں حال ہی میںپاکستان نامی ریاست عالم وجود میں آئی ہے یہ ریاست ایسے اندھے کنویں(PITFAUSٌ)کی مانند ہے جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔اس کا وجود غیر محفوظ ہے جس کو وقت ثابت کرے گا۔یہ ریاست نصف صدی سے بھی کم عرصہ میں اپنے ہی لوگوں کی مشکلات میں گھر جائے گی کیونکہ اس کے لوگوں نے غلامی کی زنجیروں میں جنم لیا ہے۔ وہ ایک آزاد ملک کی محبت کو محسوس نہیں کر سکتے ۔میرے الفاظ نوٹ کر لیجئے میں ان کا اندرونی حال جانتا ہوں‘‘۔پروفیسر ڈی شوئی مان کی پیش گوئی مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح اس وقت درست ثابت ہوئی جب 16دسمبر 1971کو پاکستان دو لخت ہوا اور بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔یہ سانحہ غیر جمہوری طرز سیاست ، غیر جمہوری طرز عمل اور غیر جمہوری دور میں رونما ہواکیونکہ اس ’’مملکت خداداد‘‘میں عوام کے حقوق اور جمہوری امنگوں کا احترام کرنے سے پہلے دن سے ہی انحراف کیا گیا تھا۔ یہاں میں آپ کو اس ملک شادباد کے ابتدائی دنوں کے ایک ہولناک واقعہ سے روشناس کرانا چاہتا ہوں۔ قیام پاکستان کے فوری بعد جب مشرقی اور مغربی پاکستان کے مختلف سیاسی جلسوں میں قائد اعظم محمد علی جناح کے لامحدود اختیارات پر دبے دبے لفظوں میں سرگوشیاں شروع ہوئیں تو مسلم لیگ کے چیف آرگنائزرچودھری خلیق الزماں نے محمد علی جناح کو کرۂ ارض کا سب سے عظیم رہنما قرار دیتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر کہا کہ ’’ایک اسلامی مملکت کے حاکم اعلیٰ کو ’’لازماً ‘‘ آمریت اختیار کرنی چاہئے،خلفائے راشدین مجلس شوریٰ سے مشورہ ضرور کرتے تھے لیکن اس مشورے کو ماننے یا مسترد کرنے کا اختیار ان کے پاس تھا۔پاکستان کے حکمرانوں کے پاس بھی اس اختیار کا ررہنااسلامی اصول کے عین مطابق ہے۔ اسلامی طرز حکومت میں آخری فیصلے کا اختیار اسمبلیوں کو سونپنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘چودھری خلیق الزماں کا یہ مشورہ ان کے قد کے برابر تھا جبکہ میرے حساب سے محمد علی جناح نے کبھی اس بات کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ مارچ 1940کی قرارداد لاہور میں جن’’ریاستوں‘‘ کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وہ ہندوستان سے الگ کئے جانے کے بعد جمہوریت ہی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔ جسے انھوں نے پاکستان کی اساس اور نشان امتیاز قرار دیاتھا۔
سلور جوبلی، گولڈن جوبلی، پلاٹینیم جوبلی،یا ڈائمنڈ جوبلی منا کر جہاں قوموں کو خوشی ہوتی ہے وہیں انہیں گزرے ہوئے برسوں میں اپنی مجموعی کارکردگی کا موقع بھی ملتا ہے۔برصغیر کے ماضی کے 63برسوں کا جائزہ لیتے ہوئے بی بی سی نے جو تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان 63برس کے ہو چکے ہیں۔ ان 63برسوں میں دونوں ملک ایٹمی طاقت بن چکے ہیں لیکن پاکستان اس عرصہ میں تنزلی کی طرف گیا ہے۔گزشتہ 63سالوں میں پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی ترقی کا گراف اوپر سے نیچے اور ہندوستان کا گراف نیچے سے اوپر گیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اب سے بیس برس پہلے تک پاکستان کا عام آدمی کہتا تھا کہ خدا کا شکر ہے ۔ہم ہندوستان کی طرح بھوکے ننگے نہیں ہیں۔ لیکن آج پاکستان کا ہر شہری برملا یہ کہتا ہے کہ ہم جمہوری اور اقتصادی لحاظ سے ہندوستان کی طرح کیوں نہیں بن سکے،کیوں نہیں بن سکتے؟امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جنرل درانی نے ایک انٹرویو میں ہندوستان کو پاکستان کے لئے کئی حوالوں سے نمونہ عمل یا رول ماڈل قرار دیا ہے۔ جنرل درانی جو آئی ایس آئی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں نے کہا ہے کہ ہندوستان جمہوری اور سیاسی اعتبار سے ہمارے ملک کے لئے ماڈل ہے۔معیشت کے اعتبار سے ہمارے لئے نمونہ ہے ۔البتہ وہ سیکولرازم کے حوالہ سے ہمارے لئے ماڈل نہیں بن سکا۔ اس کا سبب بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہندوستان کی طرح کی سیاسی قیادت فراہم نہیں ہو سکی۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں ہو سکی؟مانا پاکستان کی تخلیق مذہب کے نام پر ہوئی ہے لیکن مذہب سے مارشل لا کا کیا تعلق ہے۔میرے حساب سے ہندوستان اور پاکستان کی سیاست کا بنیادی ، اہم ترین اور جوہری فرق ہے مارشل لا اور فوجی حکومتیں۔ہندوستان نے ایک بار بھی مارشل لا کی شکل نہیں دیکھی اور ہم پانچ مارشل لا بھگت چکے ہیں۔1958سے آج تک جرنیل ہماری قومی زندگی کا مرکزی کردار ہیں۔ بقول شخصے مارشل لا پاکستان کی بارات کا دولہا ہے جو ہر پانچ سات سال کے بعد بھرا ہو پستول لے کر درمیان میں آ دھمکتا ہے اور اعلان کرتا ہے ’’ٹھہرو یہ شادی نہیں ہو سکتی‘‘ ۔ اس کے براتی کچھ تو جیل میں ڈال دئے جاتے ہیں اور کچھ تتر بتر ہوجاتے ہیں۔سومیرے حساب سے پاکستان، پاکستانی سیاست اور پاکستانیوں کا مقابلہ ہندوستان ، ہندوستانی سیاست یا ہندوستانیوںسے ہو ہی نہیں سکتا۔ہندوستان میں جمہوریت،سیکولرازم اور رواداری کے تسلسل نے ہندوستان کے اندر یہ استعداد اور انرجی پیدا کر دی ہے کہ اس نے سیاست ، صحافت اور ـثقافت کے علاوہ فلم تھیٹر، ڈرامہ اور ٹی وی کو بھی قومی اتحاد اور مخالف بدی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستانی’’مسلم معاشرہ‘‘ جسے ایک معمولی ٹیلی ویژن تباہ کر سکتا ہے اس کے بارے میں آپ کیسے اور کیونکر خوش فہمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔مانا کہ اسلام کی فرقہ واریت، اختلافات، تنازعات ،تفریق اور تقسیم آڑے آتی ہوگی لیکن لسانیات کو آپ کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ ہندوستان میں پچاس سے زائد بڑی زبانیں بولی جاتی ہیں اور وہاں کسی لسانی تنازع کا احساس تک نہیں ہوتا اور یہاں لے دے کے چار پانچ بڑی زبانیں ہیں جبکہ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوانے میں زبان نے ہی پہلی اینٹ رکھی تھی۔ ہمارے یہاں پاک سرزمین میں لسانی فسادات، تنازعات اور علیحدگی کی پوری ایک تاریخ ہے۔ آخر یہ سارے کمالات خود تو نہیں ہو گئے۔ ہم نے بڑے خلوص اور محنت سے اس ملک کو جہنم بنایا ہے۔ ہم نے اپنی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد تعمیر کر کے خدا کو خوش کرنے کی دیانتدارانہ کوشش کی ہے۔ ہندوستان میں اگرسو سے زائد زبانیں بولنے والی قوموں اور70سے زیادہ الگ الگ ثقافتوں کو ایک جھنڈے تلے اکٹھا رکھا جا سکتا ہے تو ہم بلوچوں ، پختوں اور سندھیوںکو خود سے کیوں دور کرتے جا رہے ہیں؟ تقسیم ملک سے اب تک باقاعدہ ہندوستان میں انتخابات ہو چکے ہیں ، ہو رہے ہیں، ہندوستان کا الیکشن کمیشن 80کروڑ ووٹروں کے ہوتے ہوئے 8لاکھ پولنگ اسٹیشنوں پر پورے ملک میں کامیاب اور شفاف انتخابات کا انعقاد کرواتا ہے۔انتقال اقتدار کے مراحل انتہائی خوش اسلوبی سے طے پاتے ہیں اسی لئے آج ہندوستان کو پوری دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر مانا اور پہچانا جاتا ہے۔کیا اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لئے بھی جھٹلایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے مقابلہ میں ہندوستان کے پاس کہیں بڑی فوج ہے ہر صوبے سے تعلق رکھنے والے فوجی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود آج تک کسی طالع آزما نے ہندوستان میں نہ تو شب خون مارا ہے، نہ سیاست میں دخل اندازی کی ہے اور نہ ہی مارشل لا لگا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے جرنیل گزشتہ نصف صدی سے قوم کی تقدیر کو فٹبال بنا کر اس سے کھیل رہے ہیں۔ ہندوستان خوش قسمت ہے(اور یہ خوش قسمتی اس کی جمہوریت اور سیکولرازم لایا ہے) کہ اس کے پاس اقتدار اور مال و دولت کے حریص جرنیل نہیں ہیں۔ ہمیں جرنیل اور ہندوستان کوجمہوریت مبارک۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *