محمود ایاز
پاکستان میں مسائل اور مشکلات کی ایک ایسی کھچڑی پکی ہوئی ہے جس کو سمجھنا اور سلجھانا تو دور کی بات اس کے بارے میں سوچنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریاں، ٹارگٹ کلنگ ،خود کش بم دھماکوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اوران سب کی زد میں آئے ہوئے بے بس عوام کا کوئی پرسان حال نہیں!
پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، ہر طرف تباہی کی داستانیں بکھری ہوئی ہیں، ملک کے بہت سے شہر، قصبے اور دیہات زیر آب آچکے ہیں، ہزاروں گھر بہہ چکے ہیں، سینکڑوں کی تعداد میں قیمتی جانور اور کھڑی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، کاروبار اجڑ گئے ہیں، لاکھوں متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارومددگار پڑے ہیں، معصوم بچوں کو سینوں سے لگائے مائیں مایوس آنکھوں سے اپنے گھروں کو ڈوبتا دیکھ رہی ہیں، لوگ اپنے پیاروں کو سیلاب کی لہروں میں سوکھے پتوں کی مانند بہتے دیکھ کر بے بسی سے ہاتھ مل رہے ہیں، جو کل اپنے گھروں میں آباد تھے آج اجڑ چکے ہیں اور حسرت و یاس کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ سیلاب سے ہلاک ہونے والی انسانی جانوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق بارشوں سے مکانات گرنے، کرنٹ لگنے اور سیلابی ریلوں میں بہہ جانے سے 2500 کے قریب افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ 2 کروڑ سے زائد آبادی متاثر ہوئی ہے، لاتعداد افراد بے گھر ہوچکے ہیں جبکہ کاروبار، باغات، مویشی، کھیتوں، سڑکوں، پلوں ، تعلیمی اداروں ، بجلی اور مواصلات کا تباہ کاری کا نقصان اس کے علاوہ ہے۔
پاکستان کو تاریخ کے ایسے بدترین سیلاب کا سامنا ہے جسے اقوام متحدہ نے سونامی سے بھی تباہ کن قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے متاثرین کی تعداد 2004 کے سونامی ، 2005 کے کشمیر کے تباہ کن زلزلے اور 2010 کے ہیٹی میں آنے والے زلزلے کے سارے متاثرین سے بھی زیادہ ہے اور ان کی بحالی کے لیے اربوں ڈالرز درکار ہونگے۔ ہمیشہ کی طرح حکومت پاکستان کے اقدامات ناکافی رہے اور بے بس و بد حال لوگ مدد کی دہائیاں دے رہے ہیں۔
سیلاب اور اسکی تباہ کاریوں کے علاوہ بجلی، پانی، اشیا ئے خوردنی کی قلت و مہنگائی اور عدم دستیابی کی داستاں اپنی جگہ مگر اس کے ساتھ ساتھ دیگر معاشی مسائل نے بھی پاکستان کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف 9 سال سے جاری جنگ اور اسکے مضر اثرات سے نہ صرف حالات کشیدہ ہو رہے ہیں بلکہ پاکستان میں تو اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔ موجودہ پاکستانی حکومت اپنے ڈھائی سالہ دور میں بھی ایسے اقدامات نہیں کرسکی جو پاکستان کے باقی ماندہ وجود کو اس جنگ کی بھڑکتی اور بڑھتی ہوئی آگ سے بچا سکے۔ دوسری طرف امریکی حکام اسلام آباد نازل ہوتے ہیں اور ڈو مور کی تسبیح پڑھا جاتے ہیں۔
پاکستان اس جنگ کے علاوہ ہزاروں قیمتی انسانی جانوں کے کم و بیش 50 ارب ڈالرز کا معاشی اور اقتصادی نقصان کرچکا ہے۔ ملکی معاملات کو چلانے کے لیے ملنے والی امداد کا 85 فیصد حصہ بھی اسی جنگ کے باعث لگنے والے زخموں پر مرہم پٹی پر ہی خرچ ہو رہا ہے۔
بلوچستان میں بڑھتی ہوئی شورش اور کراچی میں جاری قتل عام اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اب تک 200 سے زائد افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور حکومتی سطح پر وہی معمول کی کاروائیاں ہوتی ہیں، پہلے مذاکرات پھر یقین دہانیاں اور پھر امن کمیٹیاں بنا کر معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔ قتل و غارت گری امن معاہدوں اور یقین دہانیوں کے بعد بھی جاری رہتی ہے اور حکومت اس کی زمہ داری قبول نہیں کرتی۔ سوال یہ ہے عوام کہاں جائیں اپنا دکھ کسے سنائیں ؟ وہ اپنے پیاروں کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں مگر ان کے قتل کا کوئی گواہ نہیں، کوئی ذمہ دار نہیں، آخر وہ اپنا دکھ کسے سنائیں؟
بلوچستان میں شورش اور ٹارگٹ کلنگ ، کراچی میں جاری قتل و غارت اور سیاسی جماعتوں میں جاری جنگ ، پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں بڑھتی ہوئی خود کش دھماکوں کی وارداتیں، فوج پولیس کے اہلکاروں ، عام شہریوں کی جانوں کا زیاں، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں مجبور لوگوں کی خود کشیاں، چوری، ڈکیتی کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ، یہ وہ تحائف ہیں جو پاکستان نے دہشت گردی کی جنگ کے عوض پائے ہیں ،کیونکہ پولیس اور دیگر قانون نافظ کرنے والے اداروں کی تمام تر توجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی جنگ پر مرکوز ہے، وسائل کا ایک بہت بڑا حصہ اسی کے تحفظ کے لیے خرچ ہو رہا ہے جسکی وجہ سے فیکڑیاں، کارخانے اور دیگر ذرائع تجارت متاثر ہورہے ہیں اور ملک میں بے روزگاری اور بد حالی بڑھتی جار ہی ہے۔ دوسری طرف حکومتی سطح پر بگڑتی ہوئی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے بجلی، گیس اور پٹرول سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میںبے تحاشا اضافہ ہو رہا ہے ۔مختصر یہ کہ مسائل اور مشکلات کی بھرمار ہے اور اس پر جاری سیلاب کا المیہ ہے جس نے پاکستان کا رخ مزید بد حالی کی طرف موڑ دیا ہے۔
اس المناک صورت حال میںجہاں ایک طرف پاکستانی قوم مسائل و مشکلات اور سیلاب جیسی قدرتی آفت میں مبتلا ہے تو دوسری طرف افسوس ناک طرز عمل یہ کہ سیاسی قائدین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے بیان بازی میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ملکی قائدین اپنے مفادات سے بالا تر ہو کر ان مسائل اور مشکلات سے نجات حاصل کریں اور سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی اور انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنے میں مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کریں تاکہ اس قدرتی آفت سین مٹاجاسکے۔


