فوٹو گرافی میں کریئر

ڈاکٹر ایم اے خالد
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے۔یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’’نوجوانوں کی دنیا‘‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا ہے،تاکہ وہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کررہے ہیں اور جاب کے متلاشی اور کریئرسازی کے لئے سرگرداںنوجوانوں کوکورس، اس کی افادیت، مطلوبہ تعلیمی لیاقت اور متعلقہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کریںگے۔آج ہم جس کورس کے تعلق سے بات کرنے جارہے ہیں،اس کا نام ہے ’’فوٹو گرافی‘‘
کورس کا نام: فوٹو گرافی
کورس کی اہمیت و افادیت
ایک عرصہ قبل تک لوگ فوٹو گرافی کو ایک شوق سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ بلیک اینڈ وہائٹ کے بعد رنگین فوٹو گراف کے سحر نے اس میدان میں کچھ کرگزرنے کا موقع فراہم کرایا ہے۔ فیشن فوٹو گرافروں اور فیشن صحافیوں کی بڑھتی مانگ اور اس فن کے وسیع ہوتے میدان نے اسے ایک مکمل کریئر کی عظمت عطا کی ہے۔ اب آپ فوٹو گرافی میں اپنا بہترین مستقبل تلاش کرسکتے ہیں۔
تیزی سے بدلتے آج کے ماحول میں فوٹو گرافی اپنا اہم مقام رکھتی ہے۔ فوٹو گراف کے بنا کوئی بھی کام ادھورا سمجھا جاتا ہے۔ شادی کی تقریب ، یوم پیدائش کی تقریب، تہذیبی پروگرام، عوامی جلسہ، سیمنار جیسے تمام مواقع پر فوٹو گرافی اپنی اہمیت کا احساس کراتی ہے۔ فوٹو گرافی کی ایجاد یوں تو مغربی ملکوں میں ہوئی لیکن آج دنیا کے ہر ملک میں فوٹو گرافی ہر دل عزیز ہے۔ پینٹنگ، موسیقی، مصوری، ترسیمی ا ور اداکاری جیسے تمام فنون کی طرح فوٹو گرافی بھی ایک فن ہے۔ ادبی رجحان کے نوجوانان کے لئے اس میدان میں کاروباری طور پر ترقی کے کافی امکانات ہیں۔ آج ہندوستان میں فوٹو گرافی کی تربیت کا بہترین انتظام ہے۔ تمام یونیورسٹیاں، انسٹی ٹیوٹس، کالج اس فن کی کاروباری تربیت دے رہے ہیں۔ یہ روزگار یافتہ تعلیم تین مہینے سے تین سال میں پوری کی جا سکتی ہے۔ اس کو رس میں داخلے کے لئے اعلیٰ تعلیم اور زیادہ عمر راہ کا روڑا نہیں بنتی ہے۔کسی بھی عمر کا آدمی اس فن میں فضیلت حاصل کر سکتا ہے۔ فوٹو گرافی کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے لئے ایک سالہ ڈپلوما کورس کیا جا سکتا ہے۔ اس  کورس میں فوٹو گرافی کی جدید تکنیک کی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تمام تر انسٹی ٹیوٹس ’’سرٹیفکٹ کورس‘‘ کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ تین، چھ اور بارہ مہینے کے اس کورس میں اس فن کی ابتدائی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کورسیز کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ اپنا اسٹوڈیو کھول کر روزگار شروع کر سکتے ہیں، لیکن فیشن فوٹو گرافی، ماڈلنگ اور فوٹو صحافت کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے ’ڈپلوما‘ یا ڈگری کورس کی خاص اہمیت ہے۔
ایک سالہ کورس میں چھ ماہ کا وقت ’’بیسک کورس‘‘ کے لئے رکھا گیا ہے، جبکہ چھ ماہ ایڈوانس کورس کرایا جا تا ہے۔ بیسک کورس کے تحت کیمرے کا انتخاب، کیمرہ ہینڈلنگ لینسر، اینگلس، ایکسپوزر، ملٹرس ، کمپوزنگ، سبجیکٹ، کلر ڈیولپنگ اور پرنٹنگ کی باریکیوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ تربیت کے دوران تقریباً ہر ایک انسٹی ٹیوٹ میں انگریزی زبان کا ہی استعمال ہوتا ہے۔ فوٹو گرافی سے متعلق سبھی کتابیں انگریزی زبان میں ہی دستیاب ہیں۔کورس میں استعمال ہونے والے تکنیکی الفاظ کا ابھی تک ہندی یا اردو میں ترجمہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی انگریزی زبان کی سمجھ لازمی ہے۔
فوٹو گرافی سے متعلق ڈگری کورس تین سال میں کیا جا سکتا ہے۔ کئی یونیورسٹیاں بی اے (آنرس) فوٹو گرافی کا کورس کراتی ہیں، جس میں داخلے کے لئے 10+2میں50فیصد نمبر کے ساتھ کامیابی لازمی ہے۔
اس کاروباری کورس کو کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ گریجویٹ ہونے کے بعد آپ انڈین سول سروس، پی سی ایس اور دیگر سرکاری نوکریوںمیں بھی قسمت آزما سکتے ہیں۔
فوٹو گرافی سے متعلق سبھی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلہ عام طور پر جولائی اور  اگست میں شروع ہو تا ہے۔ اگر کسی وجہ سے سرکاری انسٹی ٹیوٹ یایونیورسٹی میں داخل نہ مل سکے تو فوٹو گرافی کی تربیت پرائیویٹ انسٹی ٹیوٹ سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔
آج بہت سے ایسے تربیتی ادارے وجود میں آ چکے ہیں، جہاں فوٹو گرافی کے سبھی دائو پیچ آسانی سے سیکھے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ کہیں نوکری کرنے میں یقین نہیں رکھتے ہیں تو اپنا ذاتی اسٹوڈیو کھول کر ذریعہ معاش کا انتظام کر سکتے ہیں۔آج صحافت کی دنیا میں فوٹو گرافی کی اہمیت کسی کی نظروں سے نہیں چھپی ہے۔ اخبار، میگزین اور کتابیں اعلیٰ تکنیک اور اشاعت کی خوبی کی وجہ سے اچھا کاروبار کر رہی ہیں۔ ان سبھی کی کامیابی کے پیچھے اعلیٰ فوٹو گرافی کا ہاتھ ہے۔
تقریباً سبھی انسٹی ٹیوٹ اپنی ضرورت کے مطابق فوٹو گرافر س کی تقرری کرتے ہیں۔ پھر باہر سے منگائے گئے فوٹو گرافس کے بغیر ان کا کام نہیں چلتا ۔ ویسے بھی بڑے سے بڑا انسٹی ٹیوٹ ہر جگہ اپنے ملازم نہیں رکھ سکتا ۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے فری لانس فوٹو صحافی کی ضرورت ہوتی ہے۔
دراصل جو کام ایک نامہ نگار کرتا ہے وہی کام فوٹو صحافی بھی کرتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ صحافی الفاظ سے کھیلتا ہے جبکہ فوٹو صحافی پورے واقعات کو تیسری آنکھ یعنی کیمرے سے دیکھتا ہے۔ الفاظ کے ذریعہ کی گئی فوٹو گرافی پر سوالیہ نشان لگ سکتا ہے لیکن فوٹو گراف کے ذریعہ کی گئی صحافت کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔
تربیتی ادارے
n    فرگیوسن کالج
پونہ یونیورسٹی ،پونہ (مہاراشٹر)
n    بی جے بی کالج
اتکل یونیورسٹی ،بھونیشور (اڑیسہ)
n    گورنمنٹ ماڈل سائنس کالج
جواجی یونیورسٹی ، گوالیار(ایم پی)
n    انڈو -امریکن فوٹو گرافک سوسائٹی
کتاب محل، 5ڈسکھا ڈوال مارگ، فورٹ،ممبئی
n    سوسائٹی آف فوٹو گرافی اینڈ فائن آرٹس
21/34،نواب گنج کانپور(یو پی)
n    الہ آباد یونیورسٹی، الہ آباد
n    گورکھپور یونیورسٹی، گورکھپور
n    فوٹو گرافک سوسائٹی آف بہار
بی کے سنہا ،9/4،آریہ کمار روڈ، راجیندر نگر ،پٹنہ(بہار)
n    رانچی پکٹوربلسٹ اسٹوڈیو
دی ایونیو مین روڈ، رانچی (جھارکھنڈ)
n    فوٹو گرافک سوسائٹی آف انڈیا
195،ڈاکٹر ڈی این روڈ، سینٹرل کیمرہ کے اوپر،5ویں منزل، فورٹ ممبئی۔
n    آندھرا پردیش فوٹو گرافرس سوسائٹی
تلسی 1/12،بیگم پیٹ، حیدر آباد(آندھرا پردیش)
n    جے جے اسکول آف آرٹس ،ممبئی
n    آندھرا پردیش اسٹیٹ اکادمی آف فوٹو گرافی
پریم باغ، ایچ نمبر8-2،334،روڈ نمبر12، بنجارہ ہلس ، حیدر آباد (آندھرا پردیش)
n    کیمرہ کلب
اسم پلس ٹریننگ کالج، ڈرپگن
n    ایمیچور فوٹو گرافک سوسائٹی
8-5،ڈی ڈی اے فلیٹ، صفدر جنگ انکلیو، نئی دہلی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *