!سفید ہاتھی بن گیا ہے پبلک کمشنر کا عہدہ

ششی شیکھر
بدعنوانیکے خلاف آوازاٹھانا، مطلب جان سے ہاتھ دھونا۔ ستیندر دوبے ،منجوناتھ سے لے کر جیٹھوا تک، ایک طویل فہرست ہے۔ حکومت کچھ نہیں کرسکتی سوائے قانون بنانے کے۔اب ایک اور نیا قانون۔وہیسل بلوار بل 2010سی وی سی کو دیوانی عدالت جیسے اختیارات ملیںگے، لیکن صرف اختیارات ملنے سے کیا ہوگا؟ پبلک کمشنر جیسا عہدہ پہلے ہی بے معنی ہوچکا ہے، جس کے پاس کافی اختیارات ہیں۔ سوال اس منشا کا ہے جسے اپنے اختیارات کا استعمال کرنا ہے۔کیا سی وی سی سے امید کی جاسکتی ہے؟
آج سے سات سال پہلے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ایک انجینئر ستیندر دوبے کو بہار کے گیا سرکٹ ہاؤس میں گولی مار دی گئی تھی۔ انہوںنے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو براہ راست خط لکھ کر این ایچ آئی میں بد عنوانی کے تعلق سے معلومات فراہم کی تھیں۔ لیکن پی ایم او نے ان کی شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ یہ خبر بھی آئی تھی کہ پی ایم او سے ہی اس شکایت کی معلومات لیک کی گئی تھیں۔اسی طرح انڈین آئل کارپوریشن میں پھیلی بدعنوانی کو منظرعام پر لانے والے آئی او سی کے افسر منجو ناتھ کا بھی قتل کردیا گیا ۔ منجو آئی آئی ایم لکھنؤ کے سابق طالب علم تھے۔ چاہتے تو آرام سے کسی ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت حاصل کرکے عیش کرسکتے تھے، لیکن حب الوطنی کے جذبات نے انہیں سرکاری کمپنی کا ملازم بنا دیا۔ ایمانداری دکھائی تو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ 2010کے پہلے 7 مہینے میں ہی8 آرٹی آئی رضاکاروں کا قتل کردیا گیا۔ جولائی میں گجرات کے آرٹی آئی کارکن امت جیٹھوا کا قتل اس لئے کیا گیا کیونکہ انہوں نے غیر قانونی کان کنی کے معاملے میں گجرات کے ایک بی جے پی رکن پارلیمنٹ کا پردہ فاش کیا تھا۔ قتل کے ان تمام معاملات میں ایک پیغام مضمر ہے، وہ پیغام یہ ہے کہ جو بھی بد عنوانی کے خلاف آواز اٹھائے گا اسے اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
بہر حال ان تمام بے رحمانہ قتل کے واقعات کے بعد حکومت خواب غفلت سے بیدار ہوئی ہے۔ حکومت نے بد عنوانی اور رشوت خوری جیسے معاملات میں آواز اٹھانے والوں کی شناخت مخفی رکھنے اور انہیں تحفظ فراہم کرانے کے لئے ایک قانون بنانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کا نام ہے ،پبلک انٹرسٹ ڈسکلوزر اینڈ پروٹیکشن فار پرسنس میکنگ ڈسکلوزر بل2010‘۔یعنی بالفاظ مختصر’وہیسل بلوار بل2010۔‘وہیسل بلوار بل2010میں سرکاری املاک کے غلط استعمال اور سرکاری اداروں میں ہورہے گھوٹالوں کی اطلاع دینے والے شخص کو وہیسل بلوارتسلیم کیا جائے گا۔یعنی بدعنوانی کے خلاف بگل بجانے والا۔ اس بل میں مرکزی ویجلنس کمیشن(سی وی سی) کو اضافی اختیارات دئے جانے کی بات ہے۔ سی وی سی کو دیوانی عدالت جیسے اختیارات بھی دینے کی بات ہے۔ سی وی سی بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے خلاف غیر قانونی کارروائیوں کو روک سکے گا اوربدعنوانی کی اطلاع دینے والے کی شناخت کو مخفی رکھنے کی ذمہ داری بھی سی وی سی کی ہی ہوگی۔ اگر شناخت اجاگر ہوجاتی ہے تو ایسے افسران کے خلاف شکایت بھی کی جاسکے گی۔ اس بل کے دائرے میں مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور عوامی مقامات کے ملازمین بھی شامل ہوںگے۔ بہرحال اس بل میں سی وی سی کو جتنی ذمہ داری سونپی جارہی ہے، کیا سی وی سی اسے پورا کر پائے گا۔کیا سی وی سی کی تنظیمی تشکیل اتنی بڑی ہے ،جس سے وہ ہندوستان جیسے بڑے ملک میں بدعنوانی سے دو دو ہاتھ کرسکے۔یہاں تو بدعنوانی کی جڑیں بڑی گہری ہیں اور اوپر سے لے کر نیچے تک پھیلی ہوئی ہیں۔کس کس کی شکایتوںپر سی وی سی ٹھوس کارروائی کرپائے گا؟ریاستوں، اضلاع اور پنچایتوں میں پھیلی بدعنوانی سے کیسے نمٹے گا سی وی سی؟ اس بل کی سنجیدگی سے متعلق چند سوالوں پر حکومت کو سوچنا ہوگا۔ حکومت کو سوچنا چاہئے کہ آرٹی آئی قانون کے لئے تو سنٹرل انفارمیشن کمیشن کے ساتھ ریاستی انفارمیشن کمیشن بھی ہے۔ صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لئے تو ضلع سطح پر کمیشن کی تشکیل کردی گئی ہے۔ پھر بدعنوانی جیسے حساس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے صرف سی وی سی ہی کیوں؟ وہ بھی صرف مرکزی سطح پر؟
گزشتہ کئی سالوں سے پورے ملک کے سماجی کارکنان حکومت سے یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ بدعنوانی کے خلاف بگل بجانے والے لوگوں کو قانونی تحفظ فراہم کرایا جائے ۔ ایک ایسا قانون بنایا جائے جو اس طرح کے لوگوں کی شناخت مخفی رکھے ، ساتھ ہی انہیں سرکاری تحفظ بھی مل سکے۔ جولائی کے آخری ہفتے میں دہلی میں سینکڑوں آرٹی آئی اور سماجی کارکن، جرنلسٹ اورعام شہری جمع ہوئے۔ اس میٹنگ میں چیف انفارمیشن کمشنر حبیب اللہ بھی شامل ہوئے تھے۔ اس بات پر غور وغوض کیا گیا کہ آخر ایسی ہلاکتوں کو روکنے کے لئے حکومت کیا کرسکتی ہے؟ کافی غوروخوض کے بعد یہ نتیجہ نکلا کہ حکومت کو جلد سے جلد لوک پال بل پاس کرنا چاہئے۔ پبلک کمشنر کے عہدے کو مزید اختیارات دینے چاہئیں۔ ان اداروں کو اتنا مضبوط بنایا جائے کہ یہ ادارے اس طرح کے معاملات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ جانچ کرسکیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ پبلک کمشنر یا سی وی سی جیسے ادارےکیا اور کتنا کام کرسکتے ہیں؟ کتنے غیر جانبدار اور ایماندار رہ سکتے ہیں؟ بہر حال ’چوتھی دنیا‘ نے دو بڑی ریاست اتر پردیش اور بہار پبلک کمشنر دفتر کا پورا جائزہ لیا ہے۔ آرٹی آئی کے تحت ملی اطلاع سے واضح ہوتا ہے کہ ان ریاستوںمیں پبلک کمشنر کا دفتر ایک سفید ہاتھی بن چکا ہے۔ تمام اختیارات کے بعد بھی ان ریاستوں میں یہ ادارہ کوئی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس کے باوجود ہر سال کروڑوں روپے اس دفتر پر خرچ ہورہے ہیں۔ بہار جیسی ریاست میں تو عام آدمی کو یہ بھی نہیں معلوم ہے کہ پبلک کمشنر جیسا کوئی عہدہ بھی ہوتا ہے، جہاں وہ اپنی شکایت درج کراسکتا ہے۔ جہاں تک سی وی سی کا تعلق ہے تو حکومت میں بدعنوانی اور بدعنوان افسروں کی جانچ کرنے کی ذمہ داری اس ادارے پر ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان دنیا کے سب سے بدعنوان ملکوں میں سے ایک ہے۔ ایسے میں یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سی وی سی کے کام کا دائرہ کتنا وسیع ہوجاتا ہے۔ پھر بھی سی وی سی اپنے تین رکنی کمیشن کی بنیادپر کتنی ذمہ داریاں نبھا پائے گا، یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔علاوہ ازیں وہیسل بلوار بل2010میں جتنی جوابدہی کمیشن کو دی جارہی ہے، اسے نبھا پانا تین رکنی کمیشن کے لئے کسی مسئلہ سے کم نہیں ہوگا۔

ایسے پبلک کمشنر کے عہدے کا کیا فائدہ؟

پبلک کمشنر عہدے کا قیام ریاستوں کے لئے ہوا تھا۔ اس مقصد کے تحت کہ پبلک کمشنر ریاستی حکومت میں بدعنوانی اور افسروں کے تعلق سے آئی شکایتوں کی سنوائی کرنے کا کام کرے گا۔ حالانکہ پبلک کمشنر ریاست کے وزراء اور وزرائے اعلیٰ کے خلاف جانچ نہیں کرسکتے ۔سب سے پہلے اڑیسہ میں پبلک کمشنر کی تقرری عمل میں آئی تھی، بعد میں اور بھی کئی ریاستوں میں پبلک کمشنرکے عہدے کی تشکیل ہوئی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیاپبلک کمشنر کا دفتر اپنے مقصد میں کامیاب رہا؟ ’چوتھی دنیا‘  نے اس بارے میں جو معلومات جمع کی ہیں، ان سے تو یہی لگتا ہے پبلک کمشنرکا عہدہ اب ایک سفید ہاتھی بن چکا ہے۔ اتر پردیش اور بہار سے موصولہ اطلاع کے مطابق ہرسال ان اداروں پر کروڑوں روپے خرچ ہورہے ہیں۔ سال 2002-07 کے دوران اتر پردیش پبلک کمشنر آفس پر 5کروڑ 20لاکھ روپے سے زیادہ خرچ ہوگئے اور کام کتنا کیا اس آفس نے؟ ان پانچ سالوں میں اس دفتر میں 20ہزار دوسو24 معاملات آئے۔ ان میں سے4191معاملوں کی جانچ شروع کی گئی،125معاملوں میں کارروائی شروع ہوئی اور صرف4918معاملوں میں پبلک کمشنر کے ذریعہ اختتامی کارروائی کی گئی۔ بہار پبلک کمشنر آفس کا معاملہ بھی اس سے کچھ مختلف نہیں ہے۔2002-07کے درمیان بہار پبلک کمشنر آفس پر 5کروڑ12لاکھ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے۔ ان پانچ سالوں میں اس دفتر کے پاس 8ہزار7سو43 شکایتیں آئیں۔7043معاملوں میں جانچ شروع کی گئی۔131شکایتیں نوکر شاہوں اور سیاست دانوں کے خلاف آئیں۔ ان تمام معاملوں میں اختتامی کارروائی کیا ہوئی ، اس کی معلومات نہیں دی گئی ہے۔ نوکر شاہوں اور سیاستدانوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ، اس کی خبر کم سے کم میڈیا میں آج تک نہیں آئی ہے۔ یہ حالت صرف ان ہی دو صوبوں کی نہیں ہے، اور بھی جن صوبوں میں پبلک کمشنر ہیں ، وہاں کی حالت بھی بہت اچھی نہیں ہے۔ کرناٹک کا معاملہ تو ابھی تازہ ہے۔ بدعنوانی اور کان مافیاؤں کے خلاف اپنے سخت رویّے کی وجہ سے یہاں کے پبلک کمشنر سنتوش ہیگڑے نے استعفیٰ دے دیا۔ان کا کہنا تھاکہ کرناٹک کی بی جے پی سرکار پبلک کمشنر کے تئیں مذموم رویہ اپنا رہی ہے۔ ایسی ایک مثال بھی سامنے نہیں آئی ہے، جس میں پبلک کمشنر نے کسی سیاستداں کے خلاف کوئی کارروائی کی ہو۔ دراصل انفارمیشن کمشنر کی طرح ہی پبلک کمشنر کا عہدہ بھی سیاسی خود غرضیوں کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صوبائی حکومت اپنے چہیتے کو اس منصب پر فائز  کر دیتی ہے۔ ظاہر ہے ایسے پبلک کمشنر سے بھلا عوام کیا امید کرسکتے ہیں؟ دوسرے ایڈ منسٹریٹیو ریفارم کمیشن کی رپورٹ میں لوک پال کا عہدہ تشکیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لوک پال مرکزی سرکار اور مرکزی وزراء اور افسران سے متعلق معاملوں کی جانچ کرے گا۔ لوک پال بل پر گزشتہ کئی سالوں سے بحث چل رہی ہے، لیکن اب تک کسی بھی سیاسی پارٹی نے سنجیدگی سے توجہ نہیں دی۔ البتہ اس بات پر تبصرہ ضرور ہوا کہ اس بل سے وزیر اعظم اور صدر جمہوریہ کو باہر رکھنا چاہئے۔ خیر!لوک بل اگر پاس ہوبھی جاتا ہے تو اس بات کی گارنٹی کون دے گا کہ اس کا حشر بھی پبلک کمشنر یا انفارمیشن کمشنر کے عہدے کی طرح نہیں ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *