کیا مغرور ہو گئے ہیں نتیش ؟

ڈاکٹر منیش کمار
جمہوریت میں حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ آئین کے مطابق چلے۔ اگر کوئی حکومت یہ کام کرتی ہے تو وہ کسی انعام کی حق دار نہیں ہے، یہ اس کا فرض ہے۔ جب راشٹریہ جنتادل کے 15سال کے اقتدار کے بعد نتیش کمار کی حکومت بنی تھی، تب لوگوں کو یہ امید تھی کہ بہار میں بڑی تبدیلیاں ہوںگی۔ ملازمت کے لیے بہار کے لوگوں کو دوسری ریاستوں میں بھٹکنا نہیں پڑے گا۔ صنعت و کثیر ملکی کمپنیوں کے لیے دروازے کھل جائیںگے۔ کسانوں کی مصیبتیں ختم ہوجائیںگی۔ مزدور خوشحال ہوجائیںگے ، لیکن بہار میں 15سال کے اقتدار اور آج کے حالات میں فرق صرف اتنا ہے کہ جہاں حکومت نہیں تھی وہاں حکومت نظر آنے لگی ہے۔ ریاست میں اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوا۔ بہار کے لوگ بھولے بھالے ہیں۔ عوام اچھی سڑک بنا دینے کو ہی ترقی سمجھتے ہیں اور حکومت کے سربراہ نتیش کمار کے غرور کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ نتیش کمار بہار کی ضرورت ہیں، ایسا کئی لوگ مانتے ہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ وہ بغیرتشہیر کے الیکشن جیتنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ بہار کے عوام نتیش سے ایک اسٹیٹس مین بننے کی امید رکھتے ہیں، ایسی امید کرنا غلط بھی نہیں ہے، کیوں کہ ان کا سیاسی پس منظر ایسا ہی ہے۔ نتیش کمار نے شروعاتی دور میں ایسے اشارے بھی دیے،لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ترجیحات بدل گئیں۔ نتیش پہلے لیڈروں سے دور ہوئے، پھر حامیوں سے اور اب عوام سے بھی دوری بنا لی ہے۔ اس کے علاوہ نتیش کمار نے اپنے دور اقتدار میں کبھی بھی اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش نہیں کی۔ ان کے پاس اکثریت ہے، ان کی شبیہ اچھی ہے، اسی احساس نے نتیش کمار کو ناکارہ بنادیا ہے۔ وہ مغرور ہوگئے ہیں، جس نتیش کو لوگ ایک اسٹیٹس مین کی طرح دیکھنا چاہتے تھے، وہ ایک معمولی وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں۔ جمہوریت میں عوام ہی لیڈر کا انتخاب کرتے ہیں۔ وزیر اور وزیر اعلیٰ بناتے ہیں۔ اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کے قریب ہو۔ نتیش کمار بہار کے ایسے وزیر اعلیٰ ہیں، جن سے حکومت تو دور کوئی وزیر، رکن اسمبلی یا رکن پارلیمنٹ بھی سیدھے نہیں مل سکتا۔ انہیں اس کے لیے عرضی دینی پڑتی ہے۔ نتیش کمار کے یہاں کام کرنے والے لوگ دن میں دو بار ملنے والوں کی لسٹ تیار کرتے ہیں۔ معلوم یہ ہوا ہے کہ روز صبح ناشتے کے وقت نتیش اس لسٹ کو دیکھتے ہیں اور پنسل سے نشان لگاتے ہیں، جن ناموں کے داہنی جانب نشان لگ جاتا ہے، انہیں ملنے کی اجازت ملتی ہے اور جن ناموں کے بائیں جانب نشان لگتا ہے، ان سے صرف فون پر باتیں ہوتی ہیں۔ لسٹ میں موجود بیشتر ناموں کے آگے نتیش پنسل نہیں چلاتے ہیں، وہ نہ تو ملنے والوں کی لسٹ میں ہوتے ہیں اور نہ ہی فون سے بات کرنے والوں کی لسٹ میں۔ یہاں غور کرنے والی بات یہ ہے کہ اگر کوئی وزیر یا ایم ایل اے آج ملنے کی عرضی دیتا ہے تو اس کا نمبر ایک یا دو ہفتے کے بعد آتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایک مہینہ کے بعد۔ وزیر اعلیٰ اور اراکین اسمبلی کے درمیان فاصلہ کتنا بڑھ گیا ہے، اس حوالے سے ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں۔ بہار کے ایک ایم ایل اے ہیں رامیشور چورسیا۔ کبھی نتیش کمار کے کافی قریب تھے۔ انہیں اپنے حلقے کی ترقی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سے کچھ باتیں کرنی تھیں۔ انہوں نے اپنا نام لکھوا دیا، لیکن ان کا نمبر نہیں آیا۔ انہوں نے دو تین بار اپنا نام لکھوایا، تقریباً ایک ماہ بعد اچانک ان کے موبائل پر نتیش کمار کا فون آیا۔ نتیش نے پوچھا کوئی کام تھا؟ رامیشورچورسیا نے کہا نہیں۔ پھر نتیش کمار نے پوچھا کہ لسٹ میں آپ کا نام لکھا تھا۔ تب رامیشور چورسیا کو یاد آیا کہ انہوں نے ایک ماہ قبل ملنے کی عرضی دی تھی۔ اس  واقعے سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک توا س سے وزیر اعلیٰ اور اراکین اسمبلی کے درمیان کی دوری کا پتہ چلتا ہے اور دوسرا یہ کہ حالات اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ اراکین اسمبلی کو وقت نہیں ملنے کااب کوئی افسوس بھی نہیں ہوتا ہے۔ اراکین اسمبلی نے یہ مان لیا ہے کہ نتیش بدل گئے ہیں۔ جب نتیش کمار وزیر اعلیٰ بنے تھے، تب وہ ایسے نہیں تھے۔ پارٹی کے لیڈر و کارکنان بتاتے ہیں کہ نتیش میں اقتدار کا ذرا بھی رعب نہیں تھا۔ گپ شپ دربار لگا کرتا تھا۔ جس میں پارٹی کے چھوٹے بڑے کارکنان اور حکومت سے وابستہ لوگ شامل ہوتے تھے۔ اس میں عام لوگ بھی شریک ہوتے تھے۔ کوئی روک نہیں تھی۔ ہنسی مذاق کا دور بھی چلتا تھا۔ اسی دوران کا ایک واقعہ اورہے۔ نتیش وہاں بیٹھے لوگوں کو بتا رہے تھے کہ ملازمت کے لیے بہار کے لوگ کہیں بھی چلے جائیںگے۔ ملازمت کے لیے اگر امتحان چاند پر بھی ہو تو وہاں بھی بہار کے طلبہ نظر آئیںگے۔ اس پر شہری کونسل کے صدر انل پاٹھک نے کہا کہ انگلینڈ میں 75فیصد ڈاکٹر بہار کے ہیں۔ اس پر نتیش نے چٹکی لی اور کہا پاٹھک جی یہ آپ کو کیسے معلوم ہے۔ بہاری ڈاکٹروں کی گنتی کرنے آپ کیا لند ن گئے تھے۔ دربار میں بیٹھے لوگ ہنس پڑے۔ انل پاٹھک نے فوراً جواب دیا کہ آپ بھی تو چاند پر نہیں گئے۔ دربار میں قہقہے گونج گئے۔ نتیش بھی ہنس پڑے تھے۔ آج نتیش کے آس پاس کارکنا ن کی ہنسی کے پھوارے چھوٹتے نظر نہیں آتے۔ وزیر اعلیٰ صاحب اور ان کے چاہنے والوں کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ اب وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ میں اس کے طرح کے دربار نہیں لگتے، لوگ وہاں جانے سے ڈرتے ہیں۔ معلوم نہیں کونسا سپاہی یا افسر ان کی عزت اتار دے۔
ایسا نہیں ہے کہ نتیش کمار کے پاس لوگوں سے ملنے کا وقت نہیں ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عوام کے نمائندوں کو وزیر اعلیٰ سے ملنے کے لیے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، لیکن ریاست کے نوکرشاہوں کے لیے نتیش کا دربار ہمہ وقت کھلا رہتاہے۔ ان افسران کے لیے وزیر اعلیٰ کے پاس وقت ہی وقت ہے۔ ان کے لیے وہ 24گھنٹے موجود رہتے ہیں۔ نتیش کمار نے پارٹی کے لیڈران ، کارکنان یا عوام کی باتوں کو سننا بند کردیا ہے۔ کسی بھی منصوبہ یا پالیسی کو طے کرنے میں عوامی نمائندوں کی حصہ داری نہیں کے برابر رہ گئی ہے۔ پارٹی کے لیڈر بے بس ہیں، ان کا الزام ہے کہ موقع پرست نوکر شاہوں نے وزیر اعلیٰ کو اپنے مایا جال میں پھانس رکھا ہے۔ وہ ہمیشہ نتیش کمار کے ارگرد گرد گھومتے ہیں۔ نتیش پارٹی کے لیڈران اور عوام کی مدد سے حکومت نہیں چلا رہے ہیں۔ اصلیت یہ ہے کہ بہار میں کچھ گنے چنے افسران ہی تمام فیصلے لے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بہار میں لال فیتہ شاہی کا بول بالا ہے اور نوکر شاہ بے لگام ہوگئے ہیں۔ بہار میں جمہوریت کا یہ کیسا روپ ہے۔ جمہوری اقدار کا یہ کیساچہرہ ہے کہ عوام کے نمائندوں اور ان کے اہل خانہ کی پولس افسران پٹائی کردیتے ہیں اور حکومت کا مکھیا کوئی بھی کارروائی کرنے سے ڈر جاتا ہے۔ اشونی چوبے بھاگلپور کے ایم ایل اے ہیں۔ بہار کے بڑے لیڈروں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ پٹنہ میں ایک دن ان کے کنبے کے لوگوں نے موریہ لوک کے پاس ایک ایسی جگہ گاڑی لگا دی جہاں نو پارکنگ کا بورڈ لگا تھا۔ پولس نے ان کی گاڑی وہاں سے ہٹا دی۔ تھوڑی دیر میں یہ بات چیت گرما گرم بحث میں تبدیل ہوگئی اور پولس نے اشونی چوبے کے بیٹے کی پٹائی کردی۔ اسے بچانے ان کی اہلیہ آگے آئیں تو پولس والوں نے انہیں بھی پیٹ دیا۔ اشونی چوبے وزیراعلیٰ کو فون کرتے رہ گئے۔ پولس افسران کے خلاف کارروائی کی امید کرتے رہ گئے، لیکن نتیش کمار نے تین روز تک ان کے فون کا جواب تک نہیں دیا۔ بہار کے ایک اور ایم ایل اے پیتامبر پاسوان کو سمستی پور میں ایک پروگرام میں ایک ایس ڈی او نے دھکا دے دیا اور بے عزت کیا۔ اس معاملے نے کافی طول پکڑا۔ یہ معاملہ اسمبلی میں بھی اٹھا تھا۔ ایک سال تک پیتامبر پاسوان اسمبلی نہیں آئے، لیکن حکومت کے سربراہان نے اس افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔
بہار کے اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ کی یہ شکایت ہے کہ نتیش کمار کی ساری دریادلی نوکرشاہوں کے لیے ہے، لیکن جیسے ہی کسی عوامی نمائندے سے جڑا مسئلہ آتا ہے، تو وہ ہٹلر کی طرح پیش آتے ہیں۔ حکومت میں شامل لیڈر بھی دبی زبان سے کہتے ہیں کہ نتیش اب افسران کی صلاح پر فیصلے لیتے ہیں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ عوام میں وزیر اعلیٰ صاحب اور حکومت کی شبیہ اچھی ہے۔ نتیش کمار کو شاید اسی بات کا غرور ہے۔ اراکین اسمبلی کو بھی محسوس ہوتا ہے کہ نتیش کے ساتھ رہ کر ہی وہ اسمبلی میں پھر سے منتخب ہو کر آسکتے ہیں۔ اس لیے ان کے فیصلوں پر سوال اٹھانے کی ہمت نہیں کرتے۔ لوگوں نے نتیش کے خلاف بولنے کی کوشش کی، ان کا کیا حشر ہوا، یہ دیکھ کر پارٹی کے دوسرے لیڈر صدمے میں ہیں۔ نتیش کمار پر نوکرشاہوں کا ایسا اثر ہے کہ ان کے مشورہ پر وہ وزراء کے شعبے تک بدل دیتے ہیں۔ جو وزیر اچھا کام کر رہا ہوتا ہے، اس کا شعبہ ہی بدل جاتا ہے، چاہے اس کا خمیازہ عوام کو کیوں نہ بھگتنا پڑے۔ ایک بار انہوں نے وزیر صحت چندر موہن رائے، وزیر گنا نتیش مشرا، وزیر انفارمیشن و رابطہ عامہ ارجن رائے، وزیر توانائی وجیندر یادو اور وزیر دیہی ترقی نریندر نارائن یادو کا ایک ساتھ شعبہ بدل دیا۔ اس  واقعہ کے بعد سے پھر کسی وزیر نے نتیش کے سامنے زبان کھولنے کی ہمت نہیں کی۔ حال ہی میں للن سنگھ نے پارٹی میں بغاوت کی، ایسا ماحول بن گیا تھا کہ لگنے لگا کہ کہیں پارٹی ہی نہ ٹوٹ جائے۔ پھر خواتین ریزرویشن بل کے حوالے سے شرد یادو کے ساتھ کھٹ پٹ ہوئی، لیکن نتیش کے غرور کے سامنے ان سب نے گھٹنے ٹیک دیے۔ اب عالم یہ ہے نتیش کی پوزیشن مزید مستحکم ہوگئی ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ مغرور اور بے لگام ہوگئے ہیں۔
نتیش کمار اپنے شروعاتی دنوں میں عوام اور لیڈران کے کافی قریب تھے۔ وہ وزیر اعلیٰ بنے تھے، تب کارکنان کا دربار لگتا تھا۔ ہر منگل کو پارٹی آفس میں کارکنان سے براہ راست ملتے تھے۔ ان کے مسائل اور عوام کی پریشانیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتےتھے۔ پارٹی دفتر میں ایک سیاسی سکریٹری ہوتا تھا، جو کارکنان کو وزیر اعلیٰ سے ملانے کا کام کرتا تھا۔ وقت کے ساتھ ملنا جلنا کم ہوتا گیا اور آہستہ آہستہ پوری طرح بند ہوگیا۔ آج حالات یہ ہیں کہ نتیش اتنی کھری کھوٹی سناتے ہیں کہ لیڈر اور کارکنان صحیح بات کہنے سے ڈرتے ہیں۔ الیکشن نزدیک ہے۔ نتیش ریاست کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں، وہاں جب کارکنان یہ کہتے ہیں کہ افسران من مانی کر رہے ہیں، حکومت کی امیج خرب ہورہی ہے تو نتیش کا جواب ہوتا ہے کہ آپ لوگ شک میں نہ رہیں، سب ٹھیک چل رہا ہے اور حکومت کی شبیہ کے بارے میں بلاوجہ فکر مند نہ ہوں۔ حکومت کے سربراہان جب ایسی بات کہتے ہیں تو حکومت کے حامیوں کے پاس خاموش رہنے کے علاوہ دوسرا کوئی متبادل نہیں رہ جاتا ہے۔ نتیش کا دروازہ پہلے عام لوگوں کے لیے کھلا تھا۔ ہر پیر کو جنتا دربار لگتا تھا۔ صبح صبح اپنے مسائل لے کر لوگ ان سے ملتے تھے۔ نتیش انہیں مایوس بھی نہیں کرتے تھے۔ اسی وقت وہ فون کر کے معاملے کا خاتمہ کردیتے تھے۔ اب وزیر اعلیٰ کے تیور بدل گئے ہیں، ترجیحات بدل گئی ہیں، اس لیے جنتا دربار کا کردار بھی بدل گیا ہے۔ جنتا دربار سے جنتا غائب ہوگئی۔ اب پٹنہ میں جنتا دربار لگنا بھی بند ہوگیا ہے، وہ جس دن جہاں ہوتے ہیں، خانہ پوری کے لیے دربار لگ جاتا ہے، لوگ ملتے ہیں، عرضی دیتے اور وزیر اعلیٰ عرضی ڈی ایم کو سونپ کر بھول جاتے ہیں۔
نتیش کمار کو یہ غرور سا ہوگیا ہے کہ ان کے دور اقتدار میں حکومت عوام کے من موافق کام کر رہی ہے۔ بہار کی میڈیا حکومت کے رابطہ عامہ محکمہ کی طرح کام کر رہی ہے۔ یہاں تک کہ دہلی کے انگریزی اخباروں میں پورے پورے صفحات خرید کر بہار کی حکومت اپنے کام کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہے۔ افسران اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں۔ نتیش کے آس پاس جو لوگ ہیں، وہ بھی صحیح خبر نہیں دیتے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ کوئی دلیل فٹ نہیں بیٹھتی کہ نتیش کمار جیسے پختہ ذہنیت کے زمینی لیڈر کو یہ کیسے لگ سکتا ہے کہ حکومت کا کام صرف سڑک بنانا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بہار میں سڑکیں بنائیں گئی ہیں۔ بہار میں 90ہزار کلو میٹر سڑکیں ہیں۔ گزشتہ پانچ برسوں میں صرف 18ہزار کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر ہوئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی تقریباً 80ہزار کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر باقی ہے۔ بہار میں لالو یادو کے 15سال کے دور اقتدار میں سڑکوں کی حالت بہت خراب تھی۔ نتیش کمار کے دور اقتدار میں جو تھوڑی بہت سڑکیں بنی ہیں، انہیں دیکھ کر بہار کے معصوم عوام کو یہی لگتا ہے کہ پوری ریاست میں سڑکوں کی از سر نو تعمیر ہورہی ہے۔
بہار کے افسران یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ریاست میں لااینڈ آرڈر کو درست کیا گیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جرائم میں کمی آئی ہے۔ رنگ داری میں کمی ہوئی ہے۔ جس طرح پہلے دن دہاڑے ڈکیتی اور غنڈہ گردی کا عالم تھا، اس میں کمی آئی ہے۔ اس کی ستائش بہار کے عوام تو کر رہی رہے ہیں، لیکن یہ تو حکومت کا بنیادی فرض ہے۔ بہار کے افسران اتنے لاپروا ہوگئے ہیں کہ وہ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ لا اینڈ آرڈر کو ٹھیک رکھنا تو حکومت کا ہی کام ہوتا ہے، جو حکومت یہ نہیں کر سکتی، اسے حکومت میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ہمارا آئین تو یہی کہتا ہے۔ نتیش کمار کو تو یہ جواب دینا چاہئے کہ جرائم پوری طرح ختم کیوں نہیں ہوئے، اغواکرنا، چوری، قتل اور آبروریزی کی وارداتیں کیوں ہو رہی ہیں۔
اس حکومت سے پہلے حکومت نہیں کے برابر تھی۔نتیش کمار کے وقت میں صرف اتنا فرق آیا ہے کہ حکومت نظر آ رہی ہے، لیکن مسائل جوں کے توں ہیں۔نتیش کمار کے دور اقتدار میں آج بہار کے عوام بجلی، پانی کے مسئلہ سے دوچار ہیں۔طبی سہولیات میں پیسہ تو لگایا گیا ہے، لیکن زمین پر کچھ نہیں ہو پایا ہے۔ تعلیم کا معیار بیکار ہو چکا ہے۔ بہار میں جس طبقہ کے پاس پیسہ ہے، وہ دوسرے شہروں میں پڑھنے اور نوکری کے لئے چلا جاتا ہے، لیکن جو غریب لوگ ہیں، ان کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بہار میں اسکولوں میں ڈریس بانٹنے کا فیصلہ لیا گیا۔ افسران کی وجہ سے زبردست گھپلے بازی ہوئی۔خبر آئی ہے کہ ایک طالب علم کا نام کئی اسکولوں میں درج ہے۔ نوکر شاہوں کے بھروسے حکومت چلانے کا خمیازہ تو بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ آج بہار میں غریب طلبا کو اچھے اسکول میں انٹر پاس کرنا ہی مشکل ہو گیا ہے۔افسران نے نہ جانے کس دماغ سے یونیورسٹی میں انٹر کی پڑھائی بند کر دی۔ اب انٹر کرنے کے لئے صرف پرائیویٹ اسکول بچے ہیں، جو طلبا سے اتنی فیس وصول کرتے ہیں کہ غریب طلبا اس میں پڑھنے کا خیال بھی نہیں کر سکتے۔پٹنہ سائنس کالج میں انٹر میڈیٹ کی پڑھائی بند ہے۔ بہارکی حکومت نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ایک سال بعد تمام اسکولوں میں انٹر کی پڑھائی ہوگی، لیکن اب تک کچھ نہیں ہوا ہے۔ حکومت سے جب غریب طلبا کے مستقبل کے بارے میں پوچھا جاتا ہے تو دو ٹوک جواب ملتا ہے کہ یہ تو برداشت کرنا پڑے گا۔اس میں کوئی تعجب نہیں ہے کہ ہر حکومت اپنے حساب سے منصوبہ بناتی ہے، پالیسیوں پر کام کرتی ہے لیکن اس دوران یہ فکر بھی ہوتی ہے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے کسی کا نقصان نہ ہو۔یہاں تو غریب بچوں کے مستقبل سے کھلواڑ ہو رہا ہے اور حکومت کا جواب ایسا ہے جو شاید کسی ہٹلر شاہی میں نہیں دیا جاتا ہوگا۔
نتیش کمار کے وزیر اعلیٰ بننے سے لوگوں میں امید پیدا ہوئی تھی ۔نتیش ایماندار ہیں، صاف شبیہ رکھتے ہیں، لوگوں کو اپنے جیسے لگتے ہیں، اس لئے جب افسران اپنا کام ٹھیک سے نہیں کرتے ہیں تو دھرنا مظاہرہ کر کے لوگ اپنے مسائل کو وزیر اعلیٰ تک پہنچانے پٹنہ پہنچ جاتے ہیں، لیکن نتیش کمار کے دور اقتدار میں بہار میں ایک نئی روایت کا آغاز ہوا ہے۔اپنے جمہوری اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کوئی دھرنا مظاہرہ کرتا ہے تو بہار کی پولس بے دردی سے ڈنڈا چلاتی ہے۔پٹنہ میں ہر بڑے احتجاج کے دوران پولس نے لاٹھی چارج کیا ہے۔خواہ ہوم گارڈ کے جوان ہوں یا شکشا متر ، ان لوگوں نے جب بھی مظاہرہ کیاان کی بھرپور پٹائی کی گئی۔بہار میں احتجاج کر رہے اردو اور سنسکرت کے اساتذہ کو بھی دوڑا دوڑا کر پیٹا گیا۔ طبی خادمائیں اور پنچایت کے نمائندے جو دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں کام کرتے ہیں، ان کے جسم پر بھی پولس نے ڈنڈے برسائے۔یہ لوگ اپنی نوکری اور تنخواہ کے مسائل کو لے کر فریاد کرنے پٹنہ آئے تھے، مگر آنکھوں میں آنسو ، جسم پر ڈنڈوں کے نشان لے کر حکومت کو کوستے ہوئے واپس گئے۔ بہار کے دیگر اضلاع میں سیلاب متاثرین پر بھی لاٹھی چارج کے واقعات ہوئے ہیں۔پٹنہ میں میڈیا اور ٹی وی کیمروں کے ڈر سے پولس اور افسران کا ظلم تھوڑا کم بھی ہوتا ہے۔اگر مظاہرے چھوٹے موٹے علاقوں میں ہوں۔پانی ،بجلی کے مسئلے کو لے کر کہیں لوگ روڈ جام کر دیں یا حکومت کے خلاف نعرے بازی کریں، تو پولس فوراً انگریزی حکومت کی یاد دلا دیتی ہے۔ بے دریغ لاٹھیاں چلتی ہیں اور مظاہرین کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔مہنگائی کے ایشو کو لے کر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے مظاہرے کو طاقت کی بنیادپرنمٹایا گیا۔اب تو عالم یہ ہے کہ اسمبلی میں ممبران اسمبلی کو بھی نہیں بخشا جاتا ہے۔ پتہ نہیں بہار میں مظاہرے کب سے غیر قانونی ہو گئے ہیں جبکہ نتیش کمار خود ایسی سیاست کی پیداوار ہیں، جس کی بنیاد ہی احتجاج اور مظاہرے ہیں۔دیکھنا تو یہ ہے کہ عوام کے احتجاجی مظاہرے پر لاٹھی چلانے والے کیسے خود کو جے پرکاش نارائن کا پیرو کار مانتے ہیں۔ نتیش کمار کی مخلوط حکومت اکثریت میں ہے۔ اکثریت کا استعمال حکومت نے کس طرح کیا اسے سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروی ہے کہ حکومت نے کس طرح آئینی فرائض اور روایات کونبھایا۔پانچ سال کی نتیش حکومت کے دوران سب سے زیادہ کھٹکنے والی بات اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہے۔پارلیمانی طرز میں یہ تقریباً ان کہاقانون ہے کہ ایوان کا ڈپٹی اسپیکر اہم اپوزیشن پارٹی سے ہوتا ہے۔لالو پرساد کی آر جے ڈی نے اس عہدہ کے لئے شیام رجک کو منتخب کیا۔ وہ مہادلت طبقہ سے ہیں۔ نتیش کمار کو شیام رجک کے نام پر اعتراض تھا اس لئے انھوں نے انتخاب تک نہیں ہونے دیا۔نتیش کمار نے اکثریت کا ایسا رعب دکھایا کہ لالو یادو کو ہار کھا کر شیام رجک کی جگہ شکونی چودھری کا نام پیش کرنا پڑا۔جمہوریت کی ایک کمی ہے، پلک جھپکتے ہی اکثریت مطلق العنان حکومت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔بہار کی لجسلیٹو کونسل میں ایسا ہی ہوا۔ نتیش کمار نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدہ کو اپنے پاس رکھ لیا۔ نتیش کمار نے یہاں تین سال تک انتخاب نہیں ہونے دیا۔ ان کی ضد کی وجہ سے کارگزار اسپیکر ہی اس عہدہ پر فائز رہے۔
بچے ضد کرتے ہیں، یوگی ہٹ کرتے ہیں، لیکن جب کوئی بااثر شخص یہ کام کرتا ہے تو اسے غرورکہا جاتا ہے۔ نتیش کمار جمہوری تحریک،نظریے اور اقدار سے پیدا ہوئے لیڈر ہیں۔ بہار ہی نہیں پورے ملک کے عوام کو نتیش کمار سے امیدیں وابستہ ہیں۔وہ ان چند لیڈران میں سے ایک ہیں جنہیں ملک کے عوام ایماندار سمجھتے ہیں۔دوسری ریاستوں کے لوگ بھی انہیں ملک کے ممکنہ وزیر اعظم کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن بہار کے پانچ سال کے دور اقتدار کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔نتیش کمار کے دور اقتدار کا سب سے بڑا داغ یہ ہے کہ انہیں حکومت چلانے میں اپوزیشن کا ساتھ نہیں ملا۔ اسمبلی میں جب بھی کوئی اہم فیصلہ لیا گیا اس میں اپوزیشن کا واک آئوٹ شامل رہا۔ نتیش جی کویہ درد ہمیشہ رہے گا۔ وزیر اعلیٰ یہ بھی جانتے ہیں کہ انھوں نے اپنے پانچ سالوں میں ایک بھی ایسا کام نہیں کیا جس کے دوررس سماجی اور سیاسی نتائج سامنے آئیں۔نتیش کمار کی دوسری سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ انھوں نے پارٹی میں لیڈران کی دوسری قطاربننے ہی نہیں دی۔ جن لوگوں نے دوسری قطار کے لیڈران میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی انہیں پارٹی سے نکلنے پر نتیش کمار نے مجبور کر دیا۔وہ سیاست میں کنبہ پروری کے حمایتی بھی نہیں ہیں پھر بھی بہار میں جے ڈی یو کے پاس نتیش کے علاوہ پارٹی کو قیادت دینے والا کوئی نیا یا نوجوان چہرہ نظر نہیں آتا ہے۔بڑے لیڈ کی یہ نشانی ہی نہیں فرض بھی ہے کہ وہ اپنے پیچھے نئے لیڈران کی ایک قطار چھوڑ جاتا ہے ۔نتیش کمار کہتے ہیں کہ ہم چادر تان کے سوئیں گے تب بھی ڈیڑھ سو سے زیادہ سیٹ جیت جائیں گے۔ ہم پورے سال پڑھنے والے طلبا ہیں، صرف امتحان کے وقت ہی نہیں پڑھتے ہیں۔ اس لئے انتخاب جیتنے کی فکر نہیں ہے۔ نتیش جی انتخاب جیت جائیں یہ بہار کے لئے اچھا ہے، لیکن ملک کے عوام کی امیدوں پر کھرا اترنا نتیش کمار کی ذمہ داری ہے اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو وہ ہمیشہ ایک معمولی وزیر اعلیٰ کے طور پر ہی جانے جائیں گے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *