اتراکھنڈ کو چاہئے بے داغ سپہ سالارا

راجکمار
اتراکھنڈکے سیاسی منظر میں فلمی گیت کی یہ لائن اس وقت زیادہ گنگنائی جارہی ہے ’مانجھی جب ناؤ ڈبوئے اسے کون بچائے۔‘ یہ لائن بی جے پی کے قومی صدر نتن گڈکری کے دہرہ دون دورہ کے بعد نشنک حکومت کے حق میں دیے گئے بیان  ’مشن 2012کے کھیون ہار نشنک ہی ہوںگے‘ کے بعد موضوع بحث ہے۔ سیاست دانوں کا خیال ہے کہ جب مشن 2012کو گڈکری ہی تہس نہس کرنا چاہتے ہیں تو اسے کون بچا سکتا ہے۔ سیاسی ماہرین کی دلیل ہے کہ بی جے پی کی سیاسی کشتی کو چلانے والے نتن گڈکری نے جس طرح اپنے دو روزہ دورہ کے دوران دو بیان دیے، وہ دونوں بیان ہی بی جے پی کے لیے خود کش اور کانگریس کی باچھیں کھلانے والے ثابت ہوئے۔ بی جے پی کے قومی صدر نے صوبہ کے سست پڑے کانگریسی لیڈروںکو گھر بیٹھے ایشو فراہم کردیا۔ گڈکری نے کہا ’افضل گرو کیا کانگریس کا داماد لگتا ہے؟‘ اپنے سوال کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’کیا کانگریس نے اسے اپنی بیٹی دے رکھی ہے جو اس کی حفاظت کر رہی ہے۔‘ اس طرح انہوں نے اٹل بہاری واجپئی حکومت کے قندھار حادثہ کی بزدلی کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا۔
نتن گڈکری کے بچکانہ بیان نے جس طرح ان کی سیاسی ناپختگی  کی پول کھول دی، وہیں دو سے زیادہ سنگین بدعنوانی کے معاملے میں اپوزیشن کے الزام سے داغ دار ہوچکے نشنک کی حکومت کے حق میں کھل کر بیان دینا، اس بات کا اشارہ کر گیا کہ جب پارٹی کا سربراہ جسے لوگ ایک ملاح کی شکل میں پارٹی کی کشتی کو بہ حفاظت منزل مقصود پر پہنچانے والا مان رہے تھے، وہی کشتی کو ڈبونے پر آمادہ ہوجائے تو بھلا اس کشتی کو کون بچا سکتا ہے۔ اتراکھنڈ میں کانگریس این ڈی تیواری کی حکومت کے دو درجن سے زیادہ گھوٹالوں کے الزام کی عوام کے سامنے صحیح ڈھنگ سے تردید نہیں کر سکی تھی۔ اسی وجہ سے ترقی کے حامل لیڈر کو عوام نے برطرف کردیا اور کانگریس کے آپسی خلفشار کا فائدہ ریاست کی اپوزیشن پارٹی بی جے پی کو ملااور بی جے پی کی اقتدار میں واپسی ہو گئی۔ ٹھیک اسی طرح کی غلطی بی جے پی نے بھی اپنے مشن 2012کے ٹرمپ کارڈ کے پتے کھول کر کی ہے، اس طرح پارٹی کے سربراہ کے ایک بیان نے ریاست میں بی جے پی کے مشن 2012پر کالک پوت دی ہے۔ اتراکھنڈ کے عوام آج بھی کسی داغ دار کو اپنے اقتدار کی کنجی نہیں سونپنا چاہتے۔ نشنک کی حکومت بے داغ ہے، اس کا امتحان پاس کیے بغیر انہیں مشن 2012کا کھیون ہار ڈکلیئر کرنا بی جے پی کے لیے خودکشی کے مترادف ہوسکتا ہے۔ ریاست کے سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے اس انتہائی قدم کے لیے براہ راست نتن گڈکری کو ذمہ دار مان رہے ہیں۔ گزشتہ اسمبلی الیکشن2007میں ریاست کی سیاست میں بی جے پی کو عوام نے اپنی پہلی پسند بنایا تھا، جس کے پیچھے ریاست کے فوجی اکثریت والے پریوار کے عوام نے سابق جنرل بھون چندر کھنڈوری کی شخصیت کی بنیاد پر کانگریس کے مقابلہ بی جے پی کو زیادہ ووٹ دے کر جتایاتھا۔ اس وقت پارٹی ہائی کمان نے بھی عوام کا مزاج سمجھ کر کھنڈوری کو اقتدار کی باگ ڈور سونپ دی تھی۔ سابق جنرل کھنڈوری نے اپنے دور حکومت میں فضول خرچی کے تئیں سخت رخ اپنایا، لیکن سابق جنرل کو جس طرح انہی کی پارٹی کے کچھ لیڈروں نے منظم گروپ بنا کر بدنام کیااس سے ان کے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں پر بھی عوام کو غلط پیغام پہنچا۔ اسی دوران ہوئے پارلیمانی انتخابات میں راہل گاندھی کے سامنے سابق جنرل کی ایک نہ چلی۔ جس کے نتیجے میں ریاست سے بی جے پی کا صفایا ہوگیا۔ نوجوان ووٹروں کا اثر یہ رہا کہ راہل گاندھی کے اعلان پر ریاست کی پانچوں سیٹ پر ترنگا لہرا اٹھا۔ ریاست میں ایک بھی سیٹ پر بی جے پی کا کھاتا نہ کھلنے سے جنرل کے مخالفین کی منھ مانگی مراد پوری ہوگئی۔ جب کہ سچائی یہ تھی کہ اس شکست کے لیے اکیلے کھنڈوری ہی ذمہ دار نہیں تھے۔ اس شکست کے لیے امیدواروں کے انتخاب میں ٹہری راج گھرانے کی بے اعتنائی کے ساتھ ہردوار جیسی سیٹ پر ایک غیر سیاسی شخص کو امیدوار بنانے جیسے کئی اسباب تھے۔ چنانچہ موقع ملتے ہی سیاسی گھاگوں نے دہلی دربار سے کھنڈری کا پتا صاف کروا دیا۔ سیاست کے اکھاڑے میں ڈسپلن کے نام پر ان سے وزیر اعلیٰ کے عہدہ سے استعفیٰ دلوا دیا گیا۔ اسی کے ساتھ ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک کو ریاست کی باگ ڈور سونپ دی گئی۔ کھنڈوری کی حکومت کی جڑ میں مٹھا ڈالنے کا سب سے زیادہ کام انہی لوگوں نے کیا جو ان کی وزارت میں شامل تھے اور ان کے ساتھ گھوٹالے نہیں کر پا رہے تھے۔ بلّی کی قسمت سے چھینکا ٹوٹنے نے  ریاست میں سیاسی حالات کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنتے ہی اس کے لیڈر وں نے ایک بار پھر ریاست کو ماڈل ریاست بنانے کا عوام سے کیا گیا وعدہ دہرایا۔ کھنڈوری کی حکومت کے ہٹتے ہی تعلیم، سیاحت،جنگلات اور شجرکاری سمیت ریاست کو ماڈل ریاست بنانے کے بی جے پی کے خواب کو بھی دھکا لگا۔ اب ریاست میں تعلیم کا برا حال ہو رہا ہے، سرکاری اسکول تو بھگوان بھروسے ہی چل رہے ہیں، ’سب کے لیے تعلیم مہم‘ کا بھی برا حال ہو رہا ہے۔ 100دنوں کی روزگار کی گارنٹی دینے والی مہاتما گاندھی نیشنل روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت حکومت ہند سے موصول ہونے والی رقم کا استعمال ریاستی حکومت مزدوروں کے حق میں نہیں کر پارہی ہے۔ بچوں کے حقوق تلف ہو رہے ہیں، کمزور طبقہ کے بچوں کو اسکول بھیجنے کے لیے عوامی فلاح و بہبودکی اسکیمیں محض کاغذوں پر چل رہی ہیں۔ محکمہ سیرو سیاحت تو اس ریاست میں بدعنوانی کے لیے ہی جانا جارہا ہے۔ مذکورہ محکمہ کے وزیر کے عہدہ سنبھالتے ہی محکمہ کا برا حال ہوگیا۔ مہاکنبھ 2010کے ساتھ ہی سیرو سیاحت کے معاملے میں مدن کوشک پر جس طرح انگلیاں اٹھیں اس کی صفائی سرکار نہیں دے پارہی ہے۔ ریاست کے عوام کی عقیدت سے جڑی چار دھام یاترا بدانتظامی کا شکار ہوچکی ہے۔ جنگلات ، ماحولیات، جنگلی جانوروں کے لیے مانی جانے والی یہ ریاست اب درختوں کی بے تحاشہ کٹائی اور جنگلی جانوروں کے شکار کے لیے جانی جارہی ہے۔ ریاست کے کستوری ہرن، شیر، ہاتھی اور گل دار کے ساتھ ہورہے تشدد نے سرکار کی منشا پر سوال کھڑا کر دیا ہے۔ دہرہ دون میں درختوں کی کٹائی کے اعداد وشمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر سرکار نے قبل از وقت اقدام نہ کیا تو وہ دن دور نہیں جب ہری بھری وادیوں کے لیے جانا جانے والا دہرہ دون بھی ریگستان بن جائے گا، دہرہ دون کی سرزمین پر سرکار شجرکاری تو کرتی نہیں، البتہ شہری علاقہ میں سڑکوں کے بیچ گملوں میں کچھ درخت لگا کر اس پر گرین زون کا نعرہ لکھ دیا گیا ہے۔ ریاستی سرکار پر مہاکنبھ 2010میں بھاری گھوٹالہ سمیت بجلی اسکیموں کی تقسیم، اسٹرڈیا فیکٹری کی زمین کو کروڑوں روپے کا گھوٹالہ کر کے بلڈر گروپ کو دے کر اب یہ سرکار پوری طرح سے بدعنوان حکومت کی شکل میں اپنی پہچان بنا چکی ہے۔ صرف 12مہینوں میں جس طرح نشنک سرکار نے کارنامے کیے اس سے عوام کا ذائقہ بگڑچکا ہے۔ ریاست میں بی جے پی کے بڑے لیڈروں سے لے کر گاؤں کی سطح کے کارکنوں کو یہ امید تھی کہ دلی دربار مشن 2012کی سنجیدگی کو محسوس کرتے ہوئے مشن کے لیے کوئی بے داغ سپہ سالار بھیجے گا ،کیوںکہ کسی بھی حالت میں عوام سے لے کر کارکن تک کو داغ دار سپہ سالارقبول نہیں ہے۔ ریاست میں ایک برس بعد ہی الیکشن ہوگا۔ ریاست کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس پورے جوش و خروش میںہے۔ ایسی حالت میں بی جے پی کے قومی صدر نتن گڈکری کے ذریعہ نشنک کی حوصلہ افزائی کرنا بی جے پی کے لیے خود کشی ثابت ہوگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *