زاہد خان
سہراب الدین فرضی مڈبھیڑ مودی حکومت کے لیے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ ریاستی پولس محکمہ اور سی آئی ڈی پولس کے افسروں کی گرفتاری کے بعد اب باری گجرات کے وزیر داخلہ امت شاہ کی ہے۔ آخر کار امت شاہ قانون کے شکنجے میں پھنس ہی گئے ۔ سہراب الدین کو فرضی مڈبھیڑمیں اور سہراب الدین کی بیوی کوثر بی اور دوست تلسی پرجاپتی کے قتل کی سازش میں سی بی آئی نے انہیں گرفتار کر لیا ہے۔ سی بی آئی کی چارج شیٹ میں امت شاہ پر قتل، قتل کی سازش، مجرمانہ سازش، اغوا، جبراً وصولی، یرغمال بنانے اور ثبوتوں کو مٹانے جیسے کئی سنگین الزامات ہیں۔ مجموعی طور پر سی بی آئی کی چارج شیٹ میں 15ملزمین ہیں، جس میں اہم ملزم کے طور پر امت شاہ کا نام ہے۔ سی بی آئی نے اب تک کی اپنی تحقیقات میں شاہ کے خلاف ڈھیر سارے ثبوت حاصل کیے ہیں۔ اس معاملے میں گجرات پولس کئی آئی پی ایس افسروں کو پہلے ہی گرفتار کر چکی تھی، لہٰذا سی بی آئی کو ثبوت جٹانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پولس افسران سے پوچھ گچھ اور موبائل فون ریکارڈ کی بنا پر سی بی آئی نے پایا کہ فرضی مڈبھیڑ میں شامل پولس افسر واردات کے دوران، واردات سے قبل اور اس کے فوراً بعد بھی شاہ سے مسلسل رابطہ بنائے ہوئے تھے۔ سی بی آئی کا ماننا ہے کہ فرضی مڈبھیڑ کا ناٹک انہی کے اشارے پر انجام دیا گیا۔
ایک وزیر مملکت برائے امور داخلہ جس پر صوبے کا لااینڈ آرڈر سنبھالنے اور عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے کی اہم ذمہ داری ہوتی ہے، اس پر اور اس کے پولس محکمے پر اس طرح کے الزام یہ ثابت کرتے ہیں کہ گجرات میں سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے۔ چمکتے دمکتے گجرات کے چہرے کے پیچھے ایک چہرہ اور بھی ہے، جو بے گناہوں کے خون سے رنگا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس سال جنوری میں سپریم کورٹ نے سہراب الدین فرضی مڈبھیڑ کی تفتیش سی بی آئی کو سونپتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس معاملے کی تفتیش نئے سرے سے شروع کرے اور اپنی رپورٹ 6مہینے کے اندر سونپے۔ جیسا کہ تفتیش کے پہلے اندیشہ تھا ٹھیک ویسا ہی ہوا۔ اس معاملے میں گجرات پولس کے ساتھ ساتھ امت شاہ بھی قصوروار نکلے۔ سی بی آئی کے پاس ایسے کئی ثبوت ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاہ اس معاملے میں ملوث ہیں۔ سی بی آئی کی تین ہزار صفحات کی طویل چارج شیٹ کے مطابق امت شاہ نے سہراب الدین کو مارنے کا کام بنجارہ، پانڈین اور احمد آباد کرائم برانچ کے اس وقت کے چیف ابھے چوڈاسما کو سونپا تھا۔ گواہوں کے بیانات میں امت شاہ کے شامل ہونے کی بات کئی بار سامنے آئی ہے۔ کیس کی تفتیش سی بی آئی کو سونپنے کے بعد سے ہی امت شاہ نے گواہوں کو دھمکانے اور ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھیڑ کرنے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوپائے۔ کورٹ میں داخل اپنی چارج شیٹ میں سی بی آئی نے شاہ پر یہ الزام لگایا ہے کہ انہوں نے اپنے قریبی اجے پٹیل اور یشپال چوڈاسما کو یہ کام خاص طور پر سونپا تھا۔ فی الحال پٹیل اور چوڈاسما دونوں ہی فرار ہیں۔
سی بی آئی کی تفتیش سے 3سال قبل یعنی 2007میں گجرات سی آئی ڈی نے بھی اپنی تفتیش میں سہراب الدین سے ہوئی مبینہ مڈبھیڑ کو فرضی پایا تھا اور جانچ کے بعد وزیراعلیٰ نریندر مودی کے نزدیکی پولس افسر ڈی آئی جی (سرحدی علاقہ) ڈی جی بنجارا، خفیہ محکمہ کے ایس پی راجکمار پانڈین اور راجستھان کے ایک پولس افسر ایم این دنیش سمیت کئی پولس افسران کو گرفتار کیا تھا۔ حکومت گجرات کی اس کارروائی کے بعد بھی سہراب الدین شیخ کا خاندان مطمئن نہیں ہوا۔ اس نے اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا، لیکن مودی سرکار سی بی آئی تفتیش سے کنارہ کشی کرتی رہی اور اپنی طرف سے کیس کی تفتیش کی سفارش نہیں کی۔ مجبوراً فریادی کو انصاف کے لیے ایک بار پھر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑااور نتیجہ فریادی کے حق میں آیا۔ دراصل گجرات پولس کی رپورٹوں میں ایسے کئی سوال تھے، جو ابھی تک سلجھے نہیں تھے اور انہی سوالوں کے جواب سہراب الدین شیخ کے اہل خانہ چاہتے تھے۔
اس معاملے میں صرف پولس افسران کو مہرہ بنا کر حکومت گجرات کا بے داغ بنے رہنا کسی کے بھی گلے سے نہیں اتر رہا تھا۔ مودی شاہی میں یہ کیسے ممکن ہے کہ صوبہ میں کوئی بڑا انکاؤنٹر ہو اور حکومت اوراس کے وزیر داخلہ پوری طرح سے انجان بنے رہیں اور ایک بات اورکہ اگر صوبائی سرکار واقعی میں بے گناہ تھی، تو اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے سے کیوں بچتی رہی۔ یہ بات سچ ہے کہ مودی سرکار نے پہلے تو فرضی مڈبھیڑ کی اصلیت سے ہی انکار کیااور جب اس پر سپریم کورٹ کا دباؤ پڑا تب اس نے یہ تفتیش شروع کروائی۔ تفتیش میں جب پولس افسروں کے ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ صوبے کے اعلیٰ لیڈروں کے نام بھی آتے دکھائی دئے تو اس نے اس کیس کی تفتیشی افسر گیتا جوہری کی رپورٹ کو پہلے روکنے اور پھر بدلنے کا دباؤ ڈالا، یہاں تک کہ امت شاہ نے داغ دار پولس افسروں کے خلاف مقدمے درج نہ کرنے کا حکم بھی دیا۔ گیتا جوہری کے انکار کرنے پر انہیں اس کیس سے الگ کر دیا گیا اور کیس دوسرے افسر کو سونپ دیا۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی حکومت گجرات نے دوبارہ تفتیش گیتا جوہری کو سونپی تو اس کے بعد فرضی مڈبھیڑ کی سچائی دنیا کے سامنے آئی۔
سی بی آئی کی تحقیقات اب جب کہ ایک مناسب مقام پر پہنچنے والی ہے اور روز بروز نئے راز کھل رہے ہیں، تو بی جے پی اسے سیاسی رنگ دے کر امت شاہ کو بچانے میں لگ گئی ہے۔ پارٹی زور شور سے یہ راگ الاپ رہی ہے کہ کانگریس نے سی بی آئی کا غلط استعمال کر کے امت شاہ کو پھنسایا ہے، جب کہ سچائی سے پورا ملک واقف ہے۔ سہراب الدین اور اس کی بیوی کوثر بی، دوست تلسی پرجاپتی کے قتل کی سی بی آئی جانچ کا حکم مرکزی حکومت نے نہیں، بلکہ سپریم کورٹ نے دیا ہے اور اس معاملے سے متعلق اپنی ساری کارروائی کے لیے سی بی آئی مرکزی سرکار کے تئیں نہیں، بلکہ سپریم کورٹ کے تئیں جواب دہ ہے۔ یعنی ابھی تک کی ساری تفیش سپریم کورٹ کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔ ہاں ایک بات اور کہ اگر امت شاہ بے گناہ ہیں تو وہ پھر اتنے دنوں سے سی بی آئی کی پوچھ گچھ سے کیوں بچتے رہے۔ دراصل سی بی آئی کو تفتیش سے پہلے ہی یہ اچھی طرح سے معلوم تھا کہ اس کی تفتیش پر اس طرح کے سوال اٹھائے جاسکتے ہیں، لہٰذا اس نے اپنی 5-6ماہ کی جانچ میں پہلے پختہ ثبوت اکٹھے کیے پھر امت شاہ پر ہاتھ ڈالا۔
امت شاہ اور حکومت گجرات کو بچانے کے لیے بی جے پی اور نریندر مودی ملک کے سامنے ایک اور دلیل پیش کر رہے ہیں کہ سہراب الدین ایک مجرم تھا، لہٰذا اس کا قتل صحیح ہے، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ وہی نریندر مودی ہیں جنہوں نے سہراب الدین کو دہشت گرد قرار دے کر اسے مار گرانے کے لیے اپنے پولس محکمہ کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ یہی نہیںبلکہ تفتیش میں فرضی مڈبھیڑ ثابت ہونے کے بعد بھی انہوں نے اس واقعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پہلے اسمبلی انتخابات اور پھر لوک سبھا انتخابات میں انتخابی فائدہ اٹھانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ پورے معاملے کو فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے آر ایس ایس نے مودی کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا تھا کہ مودی تنقید کے نہیں، بلکہ سلام کے حق دار ہیں۔
مجموعی طور پر سپریم کورٹ نے جب سے اس معاملے کی تفتیش سی بی آئی کو سونپی ہے، تبھی سے بی جے پی اور اس کے تمام لیڈران اس تفتیش پر سوال اٹھا کر اسے متاثر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب بی جے پی نریندر مودی اور اس کے وزراء کو بچانے میں لگی ہوئی ہے۔ گجرات فسادات کے سلسلے میں سپریم کورٹ نے نریندر مودی کو جب پھٹکار لگائی تھی، تب بھی کم و بیش بی جے پی کا ان کے تئیں یہی رویہ تھا۔ اس کا تازہ رویہ ایک بار پھر ظاہر کرتاہے کہ عدالت اور قانون کا وہ کتنا احترام کرتی ہے۔ ایک وزیر جس پر قتل، قتل کی سازش، اغوا اور جبراً رقم کی وصولی کے سنگین معاملے درج ہوئے ہوں، اس کو بچانا کہیں نہ کہیں اس کے کردار کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ الگ چال، کردار اور چہرے کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی کا اصلی چہرہ درحقیقت کیا ہے؟






