آرٹی آئی رضاکاروں کا قتل،اور کتنےمار جائیں گے سچ کے سپاہی ؟

ششی شیکھر
سات ماہ کے دوران 8قتل ،کیونکہ ان لوگوں نے ایک سوال پوچھا تھا، کیونکہ انہی سوالوں نے غیر قانونی کان کنی کرنے والوں کاراز فاش کردیا تھا، کیونکہ اراضی گھوٹالے کا پردہ فاش بھی انہی سوالوں کے ذریعہ ہوا تھا۔ یہ ایسے سوال تھے، جن سے بدعنوان لوگوں کی نیند حرام ہوگئی تھی۔ سچ اور اطلاعات کے یہ سپاہی بدعنوان لوگوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن گئے تھے۔ نتیجتاً گزشتہ 7ماہ کے دوران 8آرٹی آئی رضاکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 20جولائی کو ہی احمدآباد میں آر ٹی آئی رضاکار امت جیٹھوا کو سرعام گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ آر ٹی آئی کے تحت جیٹھوا نے گیر کے جنگلوں میں غیرقانونی کان کنی کے معاملے کا پردہ فاش کیا تھا۔ پولس ان کے قتل کے پیچھے کان کنی مافیا کا ہاتھ ہونے کی بات کہہ رہی ہے، لیکن جیٹھوا کے والد بھیکھو بھائی اپنے بیٹے کے قتل کے پیچھے بی جے پی لیڈر اور رکن پارلیمنٹ دینو بھائی سولنکی کا ہاتھ ہونے کی بات کہہ رہے ہیں۔ ویسے اس الزام میں دم بھی ہے، کیونکہ جیٹھوا نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ دینو بھائی سولنکی کے خلاف بھی غیرقانونی کان کنی کی شکایت کی تھی اور اسی وجہ سے سولنکی پر 40لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔ جیٹھوا سولنکی کے خلاف آزاد امیدوار کے طور پر لوک سبھا کا چناؤ بھی لڑ چکے تھے۔ کچھ وقت قبل بھی امت جیٹھوا پر قاتلانہ حملہ ہوچکا تھا۔ جیٹھوا کی آر ٹی آئی درخواستوں کے سبب غیرقانونی کان کنی سے وابستہ کئی معاملے سامنے آئے تھے۔ ساتھ ہی ایک سیمنٹ کمپنی کو بھی جیٹھوا کی درخواستوں سے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جیٹھوا کے والد بھیکھو بھائی اپنے بیٹے کے قتل کی تفتیش سی بی آئی سے کرانا چاہتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ چونکہ معاملہ بی جے پی کے ممبرپارلیمنٹ سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ریاست کی بی جے پی حکومت اور اس کی پولس غیرجانب دار ہو کر تفتیش نہیں کرپائے گی۔
بھیکھو کا یہ خدشہ بہت حد تک صحیح بھی ہے۔ سوال ہے کہ جس نظام کے خلاف کوئی شہری ایک انفارمیشن نکالتا ہے اور اسے عام کرتا ہے، وہی نظام کیوں اور کتنی حفاظت اس شہری کو دینا چاہے گا اور غیرجانب دار تفتیش کی بات تو بہت دور کی ہے۔ یہ حقیقت کون نہیں جانتا کہ کسی بھی بڑے گھوٹالے میں کون کون سے اور کس طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔ ہندوستان کے جتنے بھی بڑے گھوٹالے سامنے آئے ہیں ان میں سے ہر گھوٹالے میں کسی لیڈر یا افسر کی شمولیت ضرورہوتی ہے۔ ایسے کوئی عام آدمی گھوٹالے کاپردہ فاش کرتا ہے تو سوچئے کیا ہوگا؟ پنے کے ستیش شیٹی کے ساتھ کیا ہوا؟ بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھانے والے سماجی کارکن ستیش شیٹی کا بھی قتل کردیا گیا۔ علی الصبح جب وہ گھر سے باہر نکلے تو حملہ آوروں نے تیز دھار والے ہتھیاروں سے ستیش شیٹی پر حملہ کیا۔ 38سال کے ستیش پنے سے 40کلو میٹر دور تالے گاؤں میں رہتے تھے۔ آرٹی آئی کے تحت ستیش کئی معاملوں کا پردہ فاش کرچکے تھے۔ ستیش پنے کی انسداد بدعنوانی کمیٹی کے کنوینر بھی تھے۔ آرٹی آئی کا استعمال کر کے ستیش شیٹی نے مہاراشٹر میں کئی اراضی گھوٹالوں اور ممبئی-پنے ایکسپریس وے میں گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا تھا۔ اسی وجہ سے ستیش زمین مافیاؤں کے نشانے پر آگئے تھے۔ آر ٹی آئی ایکٹ کی مدد سے ستیش نے غیرقانونی بنگلے کی تعمیر، کیروسن تیل کی فروخت، راشن اور کالا بازای کی مخالفت میں آواز اٹھائی تھی۔
مئی 2010میں مہاراشٹر کے ہی دتا پاٹل (جو انا ہزارے کے قریبی دوست بھی تھے) کا قتل کردیاگیا۔ پاٹل نے آر ٹی آئی کے ذریعہ بدعنوانی کے کئی معاملات کا پردہ فاش کیا تھا، جس کی وجہ سے ایک پولس افسر اور ایک سینئر پولس انسپکٹر کو ملازمت سے دست بردار کردیا گیا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کے افسروں کے خلاف کارروائی بھی شروع ہوگئی تھی۔ پاٹل نے ایک بلڈر کے خلاف بھی پولس میں کئی معاملے درج کرائے تھے۔ سچ اور ایمانداری سے کام کرنے والے پاٹل کو اس کی قیمت اپنی جان سے ہاتھ دھو کر چکانی پڑی۔ اپریل 2010میں مہاراشٹر کے وٹل گیتے کا قتل بھی اس لیے کردیا گیا، کیوںکہ انہوں نے آر ٹی آئی کے استعمال سے گاؤں کے ایک اسکول میں ہو رہی بدعنوانی کا پردہ فاش کیا تھا۔ بعد میں ایجوکیشنل سوسائٹی چلانے والے ایک دبنگ آدمی کے بیٹے نے گیتے پر حملہ کردیا۔ ان تمام قتلوں میں جو یکسانیت نظر آتی ہے، وہ یہ ہے کہ تمام معاملات میں ملزمین طاقت ور لوگ ہیں۔ اپریل 2010میں ہی آندھرا پردیش کے سولہ رنگ راؤ کو سوال پوچھنے کی قیمت اپنی جان دے کر چکانی پڑی۔ راؤ نے اپنے گاؤں میں نالے کی تعمیر کے لیے جاری کیے گئے فنڈ کے بارے میں سوال پوچھے تھے۔ راؤ کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ راؤ کے قتل میں وہی لوگ شامل ہیں، جنہوں نے نالے کی تعمیرکے فنڈ سے پیسے چرائے ہیں۔ فروری 2010میں بہار کے بیگو سرائے کے ششی دھر مشرا کو لوگ خبری لال کے نام سے جانتے تھے، کیونکہ انہوں نے کئی گھوٹالوں کا پردہ فاش کیا تھا۔ ظاہر ہے کچھ لوگوں کو یہ سب پسند نہیں آیا ہوگا، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ششی دھر کے سر میں گولی مار دی گئی، یعنی سچ کا ایک اور سپاہی مارا گیا۔
بہرحال تشدد کے معاملات تو اس برس کے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ اس سے پہلے آرٹی آئی رضاکاروں کا قتل نہیں ہوا ہے۔ دو سال قبل جھارکھنڈ کے سماجی کارکن للت مہتا کا قتل بھی اس لیے ہوا تھا کہ انہوں نے آرٹی آئی کے تحت قومی دیہی روزگار گارنٹی اسکیم کا سوشل آڈٹ کرانے کی کوشش کی تھی، وہ اس منصوبہ کے تحت کیے گئے خرچ کو جاننا چاہتے تھے، لیکن سوشل آڈٹ سے ایک دن قبل ہی ان کا بے رحمی سے قتل کردیا گیا۔ انجینئر سے سماجی کارکن بنے للت مہتا کی کسی سے دشمنی نہیں تھی، وہ تو پلاموں ضلع میں خوراک کے ایکٹ مہم کے اہم رکن تھے۔ پولس نے ان کے مردہ جسم کا جلد بازی میں پوسٹ مارٹم کرایا اور جائے واردات سے 25کلو میٹر دورلے جا کر دفنا دیا۔ للت مہتا کے قتل کے 12دنوں کے بعد سوشل آڈٹ ہوا۔ آڈٹ سے معلوم ہوا کہ ضلع میں منصوبہ کے تحت خرچ کیے گئے 73کروڑ روپے کا ایک بڑا حصہ، ٹھیکیداروں، افسران اور ترقیاتی مافیاؤں کے حصے میں آگیا ہے۔
ان سبھی واقعات کو دیکھنے اور سننے کے بعد سب سے اہم سوال اطلاعات کے ایسے سپاہیوں کی حفاظت کے تعلق سے اٹھتا ہے۔ جب موجودہ انتظامیہ اس طرح کے تشدد کو روکنے میں ناکام ثابت ہورہی ہو تو آخر کیا تدبیر باقی رہ جاتی ہے؟ کچھ ایسے ہی سوالوں کے ساتھ دہلی کے گاندھی شانتی ادارہ میں 26جولائی کی شام سیکڑوں آر ٹی آئی کارکنان، صحافی اورعام شہری جمع ہوئے۔ گاندھی شانتی ادارہ سے جلوس کی شکل میں یہ لوگ سمتا استھل پہنچے۔ سمتا استھل پر تقریباً ایک گھنٹہ تک غور وخوض اور صلاح ومشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ حکومت کو جلد سے جلد لوک پال بل پاس کرنا چاہئے۔ پبلک کمشنر کے عہدے کو مزید اختیارات تفویض کرنے چاہئیں۔ ان اداروں کو اس قدر مضبوط بنایا جائے کہ یہ ادارے اس طرح کے معاملات کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر جانچ کرسکیں۔ اس کے علاوہ ایک اور اہم حل کا ذکر اروندر کیجریوال نے کیا۔ حل یہ پیش کیا گیا کہ جب کبھی کسی آرٹی آئی رضاکار کو درخواست دینے کی وجہ سے دھمکی ملے تو 100-50افراد اسی موضوع پر اپنے اپنے نام سے درخواست داخل کریں۔ ایسے میں دھمکی دینے والا کتنے لوگوں کو دھمکی دے پائے گا۔ یقینی طور پر یہ ایک مناسب حل تھا، لیکن یہ تو شہریوں کی طرف سے پہل کرنے کی بات ہوئی۔ خود حکومت کو بھی اس معاملے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ یوپی اے حکومت جس حق اطلاعات قانون(آر ٹی آئی) کو اپنی سب سے بڑی حصولیابی بتاتی ہے، اس کا کیا حشر ہو رہا ہے، اس پر بھی سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور منموہن سنگھ کو توجہ دینی ہوگا۔

کوئی قانون اس کا حل نہیں ہے

اس طرح کے تشدد کی بنیادی وجہ انتشار و انارکی ہے۔جب بھی کوئی شخص طاقت ورلوگوں کے خلاف آواز اٹھاتا ہے تو ایسے پرتشدد واقعات پیش آتے ہیں۔ آرٹی آئی انارکی اور بد عنوانی دور کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ ثابت ہورہا ہے۔ اسی لئے تشدد کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ ہر شہری کی حفاظت کا انتظام ہو توکچھ ہوگا، لیکن یہ ممکن نہیں ہے۔ ایسی پرتشدد وارداتوں کے لئے ایک مکمل اور دیر پا حل کی ضرورت ہے، لیکن ہمیں اس کے لئے کوئی جادوئی چھڑی نظر نہیں آتی۔ ہاں!جب کبھی اس طرح کا تشدد وقوع پذیر ہوتا ہے تو چار آرٹی آئی رضاکاروں کو چاہئے کہ جس شخص کا قتل ہوا ہے، اس کے ایشو کو وہ اپنا لیں، تب وہ کتنے لوگوں کا قتل کرپائیںگے۔ پبلک کمشنر یا اس طرح کے عہدے سے کیا ہوگا؟ مجھے اس سے کوئی خاص امید نہیں ہے اور اس طرح کے ادارے بنا کر ہم کیوں مزیدخرچ بڑھائیں۔
شیلیش گاندھی، سینٹرل انفارمیشن کمشنر

اس کا حل لوک پال بل ہے

سات مہینے میں آٹھ رضاکاروں کا قتل ہوگیا۔ تمام بدعنوان عناصر متحد ہوگئے ہیں۔ سیاسی قائدین، نوکرشاہ، پولس اورمافیا سبھی لوگ اس موضوع پر متحد و متفق نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے ٹھان لیا ہے کہ جوشخص بھی آواز اٹھائے گا اسے چھوڑیں گے نہیں۔ جو بھی معلومات منظر عام پر آتی ہیں، وہ اینٹی کرپشن ایجنسی، پولس اور سفید پوشوں کے خلاف ہی ہوتی ہیں۔ایسے میں ہم کس سے تحفظ طلب کریں۔ ان حالات میںایک آزاد ایجنسی کا قیام  ضروری ہے ،جو ایسے معاملات کی آزادانہ طور پر جانچ کر سکے۔ جیسے لوک پال کا عہدہ ۔ حکومت کو جلد سے جلد لوک پال بل لانا چاہئے۔ ریاستوں میں پبلک کمشنر کے عہدے کو مزید با اختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ لوک پال اور پبلک کمشنر کو زیادہ سے زیادہ اختیارات دینے اور ان کو وسائل فراہم کرنے ہوں گے، تاکہ اگر کوئی لوک پال یا پبلک کمشنر کے پاس اس طرح کی کوئی شکایت لے کر جائے تو اس کی غیر جانبدارانہ جانچ کرسکے۔ جانچ کے لئے لوک پال یا پبلک کمشنر کو کسی بھی ایجنسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہ پڑے۔
اروند کیجریوال، آرٹی آئی رضاکار،
ریمن میگ سیسے ایوارڈ یافتہ

سات ماہ اور آٹھ قتل

.1       13 جنوری  2010ستیش سیٹھی، مہاراشٹر
.2      11 فروری2010  وشرام لکشمنڈڈودیا، گجرات
.3      14 فروری2010  ششی دھر مشرا، بہار
.4      26فروری2010  ارون ساونت، مہاراشٹر
.5      11 اپریل2010  سولا رنگا راؤ، آندھرا پردیش
.6      21اپریل2010  وٹل گیتے، مہاراشٹر
.7      26مئی2010دتہ پاٹل، مہاراشٹر
.8      20جولائی2010  امت جیٹھوا ، گجرات

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *