لندن نامہ

حیدر طبا طبائی، لندن یو کے
ساری دنیا کے لئے یہ بات باعث حیرت ہے کہ برطانیہ میں ہائیر سیکنڈری اسکولوں کے ہیڈ ماسٹروں کی تنخواہیں برطانوی وزیرا عظم سےبھی زیادہ ہوتی ہیں۔ یہ کہہ کر کہ بنیادی تعلیم اعلیٰ ہونا ضروری ہے بے تحاشا تنخواہیں بڑھتی چلی گئیں ۔ آج مشرقی لندن کے ایک ہیڈ ماسٹر کی تنخواہ ماہانہ دو لاکھ اسی ہزار پونڈ ہے جبکہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون فقط ایک لاکھ پونڈ ہر ماہ پاتے ہیں۔ اب اگر اسکولوں کی تنخواہیں کم کی جاتی ہیں تو تعلیم میں گڑبڑ پیدا ہو سکتی ہے۔ برطانیہ ، عراق و افغانستان کی بے مطلب کی جنگ میں پھنس کر مالی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔ اب برطانیہ کے شاہی خاندان اور سابق وزیر اعظم کی سیکورٹی کی تعداد میں کمی کا امکان ہے۔
عالمی کساد بازاری نے برطانیہ کے ہر شعبۂ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ حتیٰ کہ شاہی خاندان بھی مالی مشکلات سے دو چارہے ۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ ملکۂ برطانیہ کی طرف سے اپنے ایک فارم ہائوس کو فروخت کر کے مالی مشکلات کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ لندن سے کچھ دور 150ایکڑ اراضی پر مشتمل سولہویں صدی کے ’’ہیڈلے ہال فارم ہائوس‘‘ کو گزشتہ روز نیلام کر دیا گیا۔ یہ نیلامی اس وقت ہوئی جب ملکۂ معظمیٰ کے ذاتی اکائونٹس اور سرکاری اخراجات کے بارے میں خبر شائع ہوئی جس کے مطابق ملکہ کو کساد بازاری اور کریڈٹ کرنچ کی وجہ سے مالی تنگدستی کا سامنا ہے۔ اب تو ناقدین کا کہنا ہے کہ ملکہ کو بکنگھم پیلس  کے اخراجات ذاتی جیب خرچ سے کرنے چاہئیں۔ ملکہ کے ذاتی محلات میں جمع کئے گئے1600تحائف رائل ٹرین جو سونے چاندی کی بنی ہوئی ہے اور وہ عظیم درخت جو سعودی عرب کے شاہ خالد نے ملکہ کو بطور تحفہ دیا تھا یہ درخت سفید سونے کا بنا ہوا ہے اور نادر ترین ہیرے و جواہرات و لعل اس میں پھول و پتیوں کی شکل میں لٹک رہے ہیں۔ جس کے جواب میں ملکہ نے صرف اپنی ایک تصویر اپنے دستخط کے ساتھ پیش کر دی تھی۔ اس کے علاوہ رائل عجائب گھر کے نوادرات ہزاروں ایکڑ اراضی تمام بڑے ہیرے فروخت کر دینے چاہئیں۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ کے چیف سرپال سٹفین نے عندیہ ظاہر کیا ہے کہ سالانہ پانچ کروڑ پونڈ بچانے کے لئے اہم شخصیات کی سیکورٹی پر مامور  محفاظوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔فقط سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی حفاظت پر سالانہ دو لاکھ پچاس ہزار خرچ ہوتے ہیں۔
برطانوی طیاروں کو اڑانے کی سازش کے الزام میں تین پاکستان نژاد مسلمانوں کو عمر قید کی سزا ہوئی ہے۔ ابراہیم ساونت، عرفات اور وحید زماں کو کم از کم بیس سال کی قید بھگتنا ہوگی۔ اس سازش کے نتیجہ میں نئے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ۱۲؍۱فراد کو سزا دی جا چکی ہے۔ جس میں ان کا ماسٹرمائنڈ بھی شامل ہے۔ 2006میں لندن سے شمالی امریکہ تک سات ٹرانس اٹلانٹک پروازوں کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانوی جیلوں میں مردوں سے زیادہ خواتین قیدی ہیں جبکہ ان خواتین کے جرائم اتنے سنگین نہیں ہیں۔
وزارت داخلہ کی دوسری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منشیات کی فروخت میں دوسرے ممالک میں ایک ہزار برطانوی باشندے جیلوں میں ہیں۔ زنا بالجبر کے الزام میں13اور چاقو زنی و پستول چلانے کے الزام میں 140برطانوی دوسرے ممالک کی جیلوں میں موجود ہیں۔ ہر سال ٹریفک حادثات میں 5980افراد برطانیہ میں مر جاتے ہیں۔ اخبار ڈیلی میل نے ایک خبر یہ دی ہے کہ ٹونی بلیئر کرنل قذافی سے خفیہ مذاکرات کے لئے لیبیا گئے تھے۔ سرکاری ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم جو بڑے فخر سے کہا کرتے تھے کہ وہ کسی فوجی آمریا فاسدہیڈ آف دی اسٹیٹ سے رابطہ نہیں رکھتے لیکن بلیئر نے گراں قدر رقم لے کر خفیہ طور پر لیبیا کا سفر کیا اور قذافی کو بین الاقوامی و ملکی مسائل اور سرمایہ کاری کے بارے میں مشورے دئے۔ یہ ملاقات گزشتہ ماہ کے وسط میں ہوئی تھی۔ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیشتر برطانوی یہودی مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے علیحدہ فلسطینی ریاست کے حق میں ہیں۔52فیصدحماس کے ساتھ اسرائیل کے مذاکرات کے حامی ہیں۔ 77فیصد برطانوی یہودی چاہتے ہیں کہ ایک الگ فلسطینی ریاست قائم ہو جائے اور یہ قتل وخون کی ہولی بند ہو ۔یہ یہودی اسرائیلی حکومت کو مالی امداد بھی عطا کرتے ہیں۔
برطانیہ بھر میں ہر علاقہ کا ممبر پارلیمنٹ پورے ہفتہ اپنے علاقہ کے لوگوں کا دکھ درد سننے کے لئے علاقہ کے مختلف محلوں میں جاتا اور وہ لوگوں کی شکایات کے لئے گورنمنٹ یا سفارت خانوں کو سفارشی خطوط لکھتا ہے۔ اب اکثر اراکین پارلیمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی نقاب پوش خاتون سے ملاقات نہیں کریں گے۔البتہ وہ نقاب پوش خاتون اپنی شکایت لکھ کر دفتر میں دے جائیں تو کارروائی ضرور ہوگی۔اخبار سنڈے ٹائمز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسداد دہشت گرد ی کی خفیہ ایجنسی میں نسل پرست کلچر فروغ پا رہا ہے کیونکہ ان دفاتر میں سیاہ فام اور ایشین افراد بہت کم ہیں۔ گورے ایشیائیوں یا سیاہ فاموں کے خلاف شکایت سن کر سختی برت رہے ہیں۔ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ 1995میں بوسینا میں آٹھ ہزار مسلمانوں کا خون ناحق بہایا گیا ۔ انھوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت بلقان کے علاقہ میں گہری دلچسپی لے گی اور بوسینا و ہرزیگونیا کو یوروپین یونین اور ناٹو میں شمولیت کے لئے مدد کرے گی۔
ایک میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ماہرین نے مصنوعی خون تیار کر لیا ہے۔ اس خون کو عنقریب شدید زخمیوں اور میدان جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کے علاج میں استعمال کیا جائے گا۔ اصطلاح میں اس مصنوعی خون کو ’’فارمنگ‘‘کا نام دیا گیا ہے۔ا س میں ہما ٹوپیکس سیل کو جانوروں کے جسم میں داخل کر کے قابل استعمال خون میں تبدیل کر کے نکال لیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس خون کی اجازت  مل گئی تو اب لوگ خون کے عطیے دینے یا فروخت کرنے نہیں آئیں گے۔
ہندوستان میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ خون فروخت کرکے جوا کھیلتے ہیں یا منشیات خریدتے ہیں۔مصنوعی خون بہت بڑی کامیابی ہے۔

Latest posts by حیدر طباطبائی (see all)

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *