سروج سنگھ
کچھ دن قبل ہی بہار کے ایک اہم ہندی روزنامہ نے اپنے صفحہ اول پر دو تصویریں شائع کی تھیں۔پہلی تصویر اس موقع کی تھی، جب نتیش کمار بی جے پی کے صوبائی صدر سی پی ٹھاکر کی رہائش گاہ پر ناشتہ کے لئے گئے تھے اور دوسری تصویر نوادہ سے کانگریس کے اجلاس میں ہوئی مبینہ مارپیٹ کی تھی۔ پہلی تصویر کی پنچ لائن تھی جلوہ، جبکہ دوسری میں ذلالت لکھا گیا تھا۔ مونگیر میں منعقد ہ جے ڈی یو کے اجلاس میں شرد یادو کی موجودگی میں جم کر مارپیٹ ہوئی اور ہنگامہ ہوا۔اس کے بعد موتیہاری ،نوادہ، مظفر پور، بکسر اور سمستی پور میں منعقدہ اجلاسوں میں بھی کارکنان ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔سیوان میں تو نتیش کمار کے پروگرام میں بھی بدنظمی پھیلی رہی۔ لکھی سرائے میں سشیل مودی کے اجلاس بھی اس سے بچ نہیں سکے۔مطلب جلوہ ،ذلالت میں تبدیل ہوتا گیا، مگر اس روزنامہ کی نظر اس پر اس طرح نہیں پڑی ، جس طرح کانگریس کے نوادہ اجلاس پر پڑی تھی۔خیر ان کی مرضی، لیکن اگر جلوہ سے ذلالت تک کے سفر کی کہانی کو سیاسی نظریہ سے دیکھیں تو الیکشن سے ٹھیک قبل جے ڈی یو ، بی جے پی اتحاد کے لئے یہ اچھا شگون نہیں مانا جا سکتا ہے۔
’’وشواس یاترا‘‘ کے بعد جے ڈی یو کا منصوبہ ضلع سطح پر سیاسی اجلاس کر کے کارکنان کو انتخابات کے لئے تیار کرنا تھا۔ پارٹی کوتوقع تھی کہ انتخابات کااعلان اس طرح کے اجلاسوں سے اپنے حق میں ماحول بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، مگر یہ منصوبہ الٹا ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے۔ مونگیر میں پارٹی کے قومی صدر شرد یادو کی موجودگی میں جو کچھ ہوا، اس سے دوسرے اضلاع میں غلط پیغام گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سمستی پور ،مظفر پور، موتی ہاری اور نوادہ میں کارکنان پر قابو رکھنے میں سینئر لیڈر ناکام ہیں۔یہاں بہت کچھ ویسا ہی ہوا، جیسے کانگریس کے کچھ اجلاسوں میں ہوا تھا۔ الیکشن کے اعلان سے ٹھیک پہلے ان واقعات کی تہہ میں جائیں تو دو اہم باتوں پر نظر ٹکتی ہے۔پہلی یہ کہ نتیش کے پورے دور اقتدار میں اور اب ٹکٹ تقسیم کے عمل میں کارکنان سے بے اعتنائی اور دوسری یہ کہ لالو یادو کی ٹولی سے الگ ہو کر نتیش کمار کے ہمسفر بنے لیڈران کو زیادہ توجہ ملنا۔کارکنان ہی نہیں، بلکہ دبی زبان سے نتیش کی حکومت کے کئی وزیر بھی یہ بات اکثر کہتے رہے ہیں کہ حکومت میں افسران کا بول بالا ہے۔ کارکنان اور وزراء کی آواز کوئی نہیں سن رہا ہے۔یہاں تک کہ وزیر اعلیٰ بھی ان کی بات نہیں سن رہے ہیں۔تھانہ سے لے کر اسپتال تک جے ڈی یو کے کارکنان خود کوحقیرمحسوس کرتے رہے ۔ جے ڈی یو کے دور اقتدار میں وزراء کا دربار کب لگا، کب بند ہو گیا، کسی کو پتہ بھی نہیں چلا۔گائوں اور ضلع سے لے کر پٹنہ تک ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا۔ جس ارمان سے انھوں نے نتیش کمار کو اقتدار سونپا تھا، وہ وقت بڑھنے کے ساتھ ساتھ چورہوتا چلا گیا۔جن کارکنان کی نظر بورڈ اور کارپوریشن پر تھی، انہیں بھی مایوس ہونا پڑا۔ لالوکی مخالفت میں سڑکوں پر ڈنڈے کھانے والے کارکنان کو ’’مایا ملی نہ رام‘‘۔ٹکٹ کی آس لگائے ہوئے جے ڈی یو کے کارکنان کو بھی مثبت اشارے نہیں مل رہے ہیں،اس لئے غصہ فطری تھا۔
معاملہ یہیں ختم ہو جاتاتو ٹھیک تھا، مگر لالو کی ٹولی سے الگ ہو کر جے ڈی یو میں آئے لیڈران کے ٹھاٹ نے پارٹی کے وقف کارکنان کا پارا ساتویں آسمان پر چڑھا دیا۔ شیوانند تیواری، مناظر حسن، شیام رجک،رمئی رام ،بھولا سنگھ اور نہورا یادو وغیرہ نہ جانے کتنے نام ہیں، جو جے ڈی یو میں چاندی کاٹ رہے ہیں، جبکہ جدوجہد کے دنوں میں نتیش کمار کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے کارکنان سڑک پر گھوم رہے ہیں۔جے ڈی یو کے سیاسی اجلاسوں میں ایسے لیڈران کے رتبے سے سالوں سے وابستہ کارکنان کے جذبات کو گہری ٹھیس پہنچی ہے۔ نتیجہ مارپیٹ،ہنگامہ اور ہاتھاپائی کی شکل میں سامنے آیا۔حالات بگڑتے دیکھ کر کچھ اضلاع کے اجلاس کو ملتوی کرنا پڑا،لیکن ان واقعات نے پارٹی کے بڑے لیڈران کو پریشان کر رکھا ہے۔ اسی طرح بی جے پی کے بھی کچھ اجلاسوں میں ہنگامہ ہوا ۔یہ دیکھ کرخود کو ڈسپلن میںرکھنے والی پارٹی کا دعویٰ کرنے والی بی جے پی بھی حیران رہ گئی۔لکھی سرائے میں تو بی جے پی کے ایک کارکن کے سوال پر سشیل مودی اتنے ناراض ہو گئے کہ انھوں نے اسے اجلاس سے باہر کر دیا۔اجلاس کے باہر پولس نے اس کارکن کی زبردست پٹائی کی۔انتخابات سے ٹھیک پہلے کارکنان کے غصہ کواین ڈی اے کے لیڈر ٹھیک نہیں مان رہے ہیں۔ اس لئے کوشش یہ ہو رہی ہے کہ جلد سے جلد کارکنان کے غصہ کو ٹھنڈا کیا جائے۔
جے ڈی یو کے سابق صوبائی صدرناراض لیڈر للن سنگھ کا ماننا ہے کہ جے ڈی یو کے اجلاسوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ غیر فطری نہیں ہے۔للن سنگھ کہتے ہیں کہ میں تو اسی بات کے لئے قصوروار ہوں کہ میں نے پارٹی میں کارکنان کی عزت وآبرو کی بات اٹھائی اور وقف کارکنان کو ان کا حق دلانے کی بات کہی، لیکن جب میں نے دیکھا کہ اقتدار کی بلندی پر بیٹھا آدمی کارکنان کی بات نہیں سن رہا ہے تو میں نے صدر کے عہدہ پر قائم رہنا مناسب نہیں سمجھا۔اجلاسوں میں کارکنان اپنے دل کی بات کہنا چاہتے ہیں، مگر جب انہیں موقع نہیں ملتا ہے تو ہنگامہ شروع ہو جاتا ہے۔للن سنگھ کہتے ہیں کہ اپنے دور حکومت میں نتیش کمار کارکنان کا اعتماد جیتنے میں پوری طرح ناکام رہے اور آنے والے انتخابات میں انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا ہی ہوگا۔ ادھر جے ڈی یو کے بھولا پرساد سنگھ کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سیاسی اجلاسوں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ للن سنگھ کرا رہے ہیں۔بھولا سنگھ کا کہنا ہے کہ جے ڈی یو اور نتیش کمار کے کرشمے کو للن سنگھ اوچھی حرکتوں سے کم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جے ڈی یو کے کارکنان پوری طرح ڈسپلن میں ہیں اور بہار کی ترقی چاہتے ہیں اور نتیش کا دوبارہ اقتدار میں آنا طے ہے۔ دوسری جانب کانگریس کے ترجمان پریم چند مشرا کہتے ہیں کہ جے ڈی یو کوئی پارٹی نہیں، بلکہ دل بدلو ئوں کا ایک گروپ ہے۔ پہلے اس گروپ کے لوگ نتیش کمار کی بات مانتے تھے، مگر آج جب انہیں لگ رہا ہے کہ نتیش دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے والے، تو وہ سیاسی اجلاسوں میں افرا تفری پھیلا رہے ہیں۔ نوادہ کے کانگریس اجلاس میں کوئی مارپیٹ نہیں ہوئی، مگر بات کا بتنگڑ بنا دیا گیا۔ جے ڈی یو کے کارکنان نتیش کمار سے اتنے ناراض ہیں کہ وہ مجرموں جیسا سلوک کر رہے ہیں۔ایل جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق ممبر پارلیمنٹ رام چندر پاسوان کی رائے ہے کہ جے ڈی یو کے سیاسی اجلاسوں میں ہو رہے ہنگامے نتیش کمار کے زوال کی جھانکی ہے۔ بہار کے عوام اور جے ڈی یو کے کارکنان نتیش کمار سے تنگ آ چکے ہیں اور آئندہ انتخابات میں اس بدعنوان حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لئے کمر بستہ ہیں۔پاسوان نے کہا کہ ایل جے پی ، آر جے ڈی اتحاد بہار میں اگلی حکومت بنائے گا اور صحیح معنوں میں بہار کی ترقی کرے گا۔
نتیش کمار تقریباً اپنے ہر اجلاس میں جے ڈی یو کارکنان کو الیکشن کے لئے کمربستہ ہونے کا فرمان سنارہے ہیں، لیکن لالو اور رابڑی کے اقتدار کو اکھاڑنے کے لئے جدوجہد کرتے کرتے اور ان پانچ سالوں میں سیاسی طور پرمایوس اور تھانے داروں، انجینئروں کی پھٹکار کھانے والے جے ڈی یو، بی جے پی کے کارکنان کتنا دم خم دکھا پائیں گے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ دیکھا جائے تو انتخابات سے قبل جے ڈی یو اور بی جے پی کے لئے ایک نئی مصیبت سامنے آ گئی ہے۔ اب یہ ان کے لیڈران پر منحصر ہے کہ وہ جلوہ سے ذلالت تک کے سفر کو کیسے روکتے ہیں۔
جو کچھ ہو رہا ہے، وہ للن سنگھ ہی کرا رہے ہیں۔ وہ جے ڈی یو اور نتیش کمار کے جلوہ کو اوچھی حرکتوں سے ماند کرنا چاہتے ہیں۔
بھولا پرساد سنگھ
جے ڈی یو کے اجلاسوں میں جو ہو رہا ہے وہ غیر فطری نہیں ہے۔ میں تو اسی بات کے لئے قصوروار ہوں کہ میں نے پارٹی میں کارکنان کی عزت وآبرو کی بات اٹھائی۔
للن سنگھ
جے ڈی یو کے سیاسی اجلاسوں میں ہو رہا ہنگامہ نتیش کمارکی حکومت کے زوال کی جھلک ہے۔بہار کے عوام اور جے ڈی یو کے کارکنان نتیش کمار سے تنگ آ چکے ہیں۔
رام چندر پاسوان
جے ڈی یو کوئی پارٹی نہیں،بلکہ دل بدلو ئوں کا ایک گروپ ہے۔پہلے اس گروپ کے لوگ نتیش کمار کی بات مانتے تھے، مگر آج جب انہیں لگ رہا ہے کہ نتیش کمار دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے والے، تو وہ سیاسی اجلاسوں میں افرا تفری پھیلا رہے ہیں۔
پریم چندر مشرا






