آزاد ہندوستان کا سب سے بڑا گھوٹالہ

ڈاکٹر منیش کمار
دولت مشترکہ کھیلوں کی اصل کہانی یہ ہے کہ ایک سال قبل دہلی سے اس انعقاد کو ختم کرنے کی مکمل تیاری ہوچکی تھی۔ 7ممالک نے انکار کردیا تھا کہ دہلی میں دولت مشترکہ کھیل نہیں ہونے چاہئیں۔ اس میں تری نداد اینڈ ٹوبیگو جیسا چھوٹا ملک بھی دہلی کے خلاف کھڑا ہوگیا تھا۔ ان ممالک کا یہ ماننا تھا کہ دہلی اس کھیل کو وقت پر کرانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔ ذرائع کے مطابق ان کا منہ بند کرنے کے لیے ان ممالک کے افسران کو 40کروڑ روپے دیے گئے۔ ہر افسر کو ایک ایک کروڑ روپے دیے گئے۔ سارے پیسے حوالہ کے ذریعہ دیے گئے۔ اب ملک کا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ(ای ڈی) جاگا ہے تو دولت مشترکہ کھیلوں کے نام پر جو پیسے بیرون ممالک بھیجے گئے ان کی تحقیقات ہو رہی ہے۔ ہر دن نئی کہانی سامنے آرہی ہے اور ان انکشافات کا سلسلہ کافی دنوں تک چلتا رہے گا۔ یاد رہے کہ یہ سرکاری افسران کی اس تاریخی لوٹ کا سب سے قابل فخر صفحہ ہے۔
ایک مزیدار کہانی بتاتاہوں۔ پرنس ہیری رگبی کا میچ دیکھنے دہلی آئے۔ ساتھ میں دولت مشترکہ کھیلوں کے کئی افسران بھی تیاری کا جائزہ لینے آئے تھے۔ اسٹیڈیم دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ گھاس وغیرہ بالکل ہری، اسٹیڈیم کے چاروں طرف کی سجاوٹ دیکھ کر تمام لوگ خوش ہوگئے۔ کھلاڑی بھی خوش تھے کہ دہلی میں اتنا شاندار اسٹیڈیم بن رہاہے۔ غیر ممالک سے آئے کچھ افسران کو یقین نہیں ہوا، وہ سوچ میں پڑ گئے کہ ایسی کایا کلپ کیسے ہوسکتی ہے۔ ایک نے سوچا کہ چلو دیواروں کے پیچھے دیکھتے ہیں کہ آخر وہاں کیا ہے۔ دیواروں کے درمیان جا کر دیکھا تو مزدور سو رہے تھے۔ سیمنٹ کی بوریاں پڑی ہوئی تھیں۔ اینٹ پتھر بکھرے پڑے تھے۔ گندگی پھیلی ہوئی تھی۔ سب کچھ ڈھکا ہوا تھا جو بھی کچھ اسٹیڈیم کے اندر سے نظر آرہا تھا، وہ سب صرف اچھا نظر آنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ سب دکھاوا تھا۔ دیواروں کے پار سب کچھ کھوکھلا تھا۔ رپورٹ چلی گئی کہ اسٹیڈیم کھیل کے لائق نہیں ہے۔ آج یہی حال دہلی میں بن رہے اسٹیڈیمس کا ہے۔ دولت مشترکہ کھیل ہوجائیں گے۔ڈھک اورپوت کر اسٹیڈیموں کو خوبصورت بھی بنادیا جائے گا، لیکن کھیلوں کے انعقاد کے تین ماہ بعد کوئی یہ پوچھنے نہیں جائے گا کہ دولت مشترکہ کھیلوں کے نام پر جو اسٹیڈیم بنائے گئے، حکومت کا خزانہ جو لوٹا گیا ، اس کا کیا ہوا؟ جس طرح سے یہ اسٹیڈیم بنائے جارہے ہیں، وہ کھلاڑیوں کے کسی کام کے نہیں ہیں۔ یہیں سے ہم دولت مشترکہ کھیلوں کے نام پر ہو رہی لوٹ، گھپلے بازی، بدعنوانی اور دھوکہ وفریب کاری کی کہانی شروع کرتے ہیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں لندن کی کمپنی اے ایم فلمس کی، جس کے حوالے سے ٹی وی اور اخباروں میں کافی ہنگامہ ہو رہا ہے۔ ا س کے بارے میں ایک اخبار نے یہ انکشاف کیا ہے کہ اس کار کمپنی کو دیے گئے پیسے میں بدعنوانی ہوئی ہے۔ ایک انجان اور چھوٹی کمپنی کو او سی نے 6کروڑ روپے دیے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پہلے کلماڈی نے تمام تر الزامات کو خارج کیا، پھر اس معاملے میں درباری کو ہٹایا گیا اور بعد میں یہ انکشاف بھی ہوگیا کہ اے ایم فلمس کو پیسے دینے کا آرڈر کلماڈی نے دیا تھا۔ اس کیس کے حوالے سے سامنے آئی حقیقت نصف حقیقت ہے۔ پیسے دیے گئے، لیکن اصل کہانی کچھ اور ہے۔ یہ معاملہ کوئنس بیٹن ریلے کا ہے۔ دولت مشترکہ کھیلوں کی مشعل کی شروعات بکنگھم پیلیس سے ہوتی ہے۔ کلماڈی اور افسران کی اس بات کے لیے تعریف ہونی چاہیے کہ اس کا بہت ہی بہترین انعقاد کیا گیا ۔ اس میں 4-5ہزار لوگوں کے شامل ہونے کا اندازہ تھا، لیکن 45ہزار لوگوں نے اس تقریب میں شامل ہو کر اسے تاریخی بنادیا۔ اس کا انعقاد ایسا ہوا کہ جسے دیکھ کر کسی بھی ہندوستانی کا سر فخر سے اونچا ہوجائے۔ اتنے بڑے انعقاد کے لیے پیسے بھی فراخ دلی سے خرچ کیے گئے، لیکن سب کچھ آخری وقت پر ہوا۔ غلطی یہ ہوگئی کہ کلماڈی اینڈ کمپنی پیسے نہیں پہنچاپائے۔ آناً فاناً میں انہوں نے آخری وقت میں اس کار کمپنی کے ذریعہ انگلینڈ پیسے بھیجے۔ انہوں نے جتنے پیسے بھیجے وہ کم پڑ گئے۔ ذرائع کے مطابق اس تقریب میں خرچ ہوئے بیشتر پیسے حوالہ کے ذریعہ لندن بھیجے گئے۔ یہ معاملہ صرف 6کروڑ روپے کا ہے۔ دولت مشترکہ کھیلوں کے نام پر جس طرح سرکاری خزانہ کی لوٹ ہوئی، اس کے سامنے یہ معاملہ بہت ہی چھوٹا ہے۔
1600کروڑ روپے دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کا بجٹ ہے۔ اس میں پورے 3سال قبل ملبورن کی بیٹن ریلی سے لے کر دولت مشترکہ کھیلوں کے آخری وقت تک کا خرچ شامل ہے، جس میں اسٹیڈیم اور دہلی میں بننے والے فلائی اوور اور سڑکوں یا انفرا سٹرکچر کا خرچ شامل نہیں۔ 1600کروڑ روپے میں اسٹیڈیم کے اندر کی سہولیات، اوپننگ اور کلوزنگ کا انعقاد نیز کھلاڑیوں کے اخراجات شامل ہیں۔ اس میں او سی نے یہ کہا تھا کہ وہ حکومت کو واپس کردیںگے۔ اس میں 300کروڑ روپے کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے دیے گئے تھے تاکہ ہندوستان کو زیادہ سے زیادہ میڈل مل سکیں، لیکن ان 300کروڑ روپے میںاب تک 40کروڑ روپے بھی کھلاڑیوں پر خرچ نہیں کیے گئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ پیسے گئے کہاں؟ میڈیا میں گھوٹالے کی جو خبریں آرہی ہیں، وہ انہی 1600کروڑ روپے کے  خرچ میں گھپلے بازی کا معاملہ ہے۔ اس میں ٹریڈ مل سے لے کر انگلینڈ کی کمپنی اے ایم فلمس کو دیے گئے پیسے شامل ہیں۔ چوتھی دنیا کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ دولت مشترکہ کھیلوں میں جو سامان خریدا گیا ہے، اس میں ایک بڑا حصہ دیپالی ڈیزائن اینڈ ایکزیبٹس نام کی کمپنی کے ذریعہ خریدا جارہا ہے، اس کمپنی کے پیچھے بی جے پی کے لیڈر سدھانشو متل کا نام جڑا ہوا ہے۔ اس کمپنی کے مالک سدھانشو متل کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ اس کمپنی کو او سی نے تقریباً 230کروڑ روپے دیے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ان 230کروڑ روپے میں جتنے بھی سامان خریدے گئے یا کرایے پر لائے گئے، وہ اصل میں 25کروڑ روپے کے بھی نہیں ہیں۔اس کمپنی کے ذریعہ تمام چیزیں نہیں خریدی گئی ہیں، بلکہ بیشتر چیزیں کرائے پر لائی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ کھیلوں کے انعقاد کے بعد ہمارے اسٹیڈیم میں ہندوستانی کھلاڑیوں کے ہاتھ کچھ نہیں لگنے والا ہے۔ مثال کے طور پرٹریڈ مل کو ہی لے لیجئے۔ 45روز کے کرائے کی شکل میں اس کمپنی کو ایک ٹریڈ مل کے لیے 9.75لاکھ روپے مل رہے ہیں۔ معلوم یہ ہوا ہے کہ یہ کمپنی دہلی کی مقامی دکانوں سے ایک لاکھ سے کم کرایہ دے کر ٹریڈ مل لے رہی ہے اورا سی ٹریڈ مل کے لیے منتظمہ کمیٹی سے 9.75لاکھ روپے لے رہی ہے۔ مطلب یہ کہ او سی ایک چیز کے لیے 9گنا زیادہ روپے خرچ کر رہی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس ٹریڈ مل کی قیمت صرف چار لاکھ روپے ہے۔ یعنی ایک ٹریڈ مل کے 45دنوں کے کرایہ سے ہم دو ٹریڈ مل خرید سکتے تھے۔ ٹشو پیپر کا رول کیسے خریدا گیا ہے، یہ تو حقیقتاً چونکانے والا ہے۔ ہمارے افسران نے دولت مشترکہ کھیلوں کے لیے 3757روپے میں ایک رول خریدا ہے۔ بازار میں اس کی قیمت 30روپے ہے۔ اسے ایس آر ٹشو اینڈ فوائلس نام کی کمپنی سے خریدا گیا۔ اگر ایسی بیوقوفی سے ڈیل کرنی تھی، تو منتظمہ کمیٹی میں اتنے پڑھے لکھے لوگوں کی ضرورت کیا تھی؟ ایسا کون سا چھاتا ہے، جس کا کرایہ 6ہزار روپے ہے اور اس کی کیا خاصیت ہے؟ یہ راز منتظمہ کمیٹی کے افسران کو ضرور فاش کرنا چاہیے۔ عوام کے پیسے کو کس طرح ناجائز طریقے سے خرچ کیا گیا ہے، اسے سمجھنے کے لیے کسی کو جاسوس بننے کی ضرورت نہیں ہے۔ سب کچھ سامنے ہے۔ خریدے گئے سامانوں کی حقیقی قیمت اور ان کے لیے ادا کی گئی قیمت نیز کرایے میں زمین آسمان کا فرق دیکھ کر کوئی معمولی سمجھ والا شخص بھی بلا جھجھک یہ بتادے گا کہ یہ کھلی لوٹ ہے۔
300کروڑ روپے کھلاڑیوں پر خرچ کرنے تھے، حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہمیں بھی نہیں معلوم ہورہا ہے کہ ہاکی کا کیمپ کہاں چل رہا ہے۔ بلیرڈس کی ٹریننگ کہاں ہوگی۔ ایتھلیٹکس کی ٹریننگ و پریکٹس کہاں ہو رہی ہے، یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ شوٹنگ کا بھی وہی حال ہے۔ جب کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس میں ہندوستان کو میڈل مل سکتا ہے۔ اصلیت تو یہ ہے کہ ابھی ٹیم کا بھی اعلان نہیں ہوا ہے۔ ایک مہینہ رہ گیا ہے، لیکن کیمپ تک شروع نہیں ہوپایا ہے۔ کوئی اسٹیڈیم ٹھیک سے تیار نہیں ہے۔ سب اوپر والے کے ہاتھ میں چھوڑ دیا گیا ہے۔
چوتھی دنیا کی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ او سی کے بیشتر افسران کو معلوم تھا کہ خریداری اور انعقاد میں شدید گھپلے بازی ہورہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آل انڈیا ٹینس ایسو سی ایشن کے صدر انل کھنہ جو او سی کے خزانچی تھے، نے استعفیٰ دے دیا۔ انہوں نے دو ماہ سے کسی بھی چیک پر دستخط کرنے بند کردیے تھے۔ انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد میں گھپلے بازی ہور ہی ہے۔ ان کے جاتے ہی اے کے مٹو کو او سی میں لایا گیا۔ یہ ایک بڑا حادثہ ہے، کیونکہ ان کے آتے ہی کلماڈی کی وہی پرانی ٹیم جو ایتھلیٹکس کی ٹیم تھی ، وہی فعال بن گئی۔کلماڈی، للت بھروٹ، اے کے مٹو، سنجے مہیندرو اور درباری نے ٹیم بناکر سارے کارناموں کو انجام دیا۔ اس ٹیم کی تاریخ کے بارے میں اگر جاننا ہے تو حکومت کو اس کے ان کارناموں کی تحقیقات کرنی چاہئے، جو اس نے ملک کے ایتھلیٹکس کے ساتھ کیا ہے۔ بہت سارے انکشافات خود بخود سامنے آجائیں گے اور ملک کے لوگوں کو یہ بھی پتا چل جائے گا کہ ایتھلیٹکس کی حالت کیوں خراب ہے۔
سب سے بڑی گھپلے بازی کا انکشاف تب ہوگا، جب او سی اور اسپورٹس مارکیٹنگ اینڈ مینجمنٹ (ایس ایم اے ایم ) کے درمیان ہوئے سودے کا سچ سامنے آئے گا۔ اس کمپنی کو مارکیٹنگ رائٹس دئے گئے تھے، جنہیں اب مسترد کردیا گیا ہے۔ اسے اس شرط پر رکھا گیا تھا کہ اسے ہر ڈیل کا 23فیصد پلس سروس چارج ملے گا۔یعنی خواہ انڈین ریل ہو یا پھر او این جی سی، جو بھی اس کھیل میں اشتہار دے گا، اس میں سے لگ بھگ 25فیصد رقم اس کمپنی کو مل جائے گی۔ اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ دہلی میں انعقاد ہوگا، ہندوستان کی کمپنی پیسے لگائے گی اور آسٹریلیا کی کمپنی کو بیٹھے بٹھائے25فیصد پیسے چلے جائیںگے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ یہ وہی کمپنی ہے، جسے کلماڈی نے پنے گیمس2008میں مارکیٹنگ رائٹس دئے تھے۔ اس کمپنی کے تار ماریشس کی اس کمپنی کے ساتھ جڑے ہیں، جس کا نام آئی پی ایل گھوٹالے میں آیا ہے۔ اس کمپنی کو للت مودی نے فیسلیٹیشن فیس کے طور پر380کروڑ روپے دئے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے باوجود یہ کمپنی دولت مشترکہ کھیلوںکے لئے اسپانسر نہیں لاسکی۔ یہی وجہ ہے کہ انڈین ریل اور او این جی سی نے اپنی 100-100کروڑ روپے کی اسپانسر شپ واپس لے لی۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ اگر اس میں 25فیصد آسٹریلیا کی کمپنی کو جانا ہے تو پیسے لگانے کی کوئی تک ہی نہیں ہے۔اب حالات یہ ہیں کہ کلماڈی اور اوسی کو بھیک مانگنی پڑے گی، کیونکہ ابھی تک ہیرو ہونڈا کے علاوہ کوئی بڑا کارپوریٹ اسپانسر نہیں ملا ہے۔ جو بھی کمپنیاں ہیں، وہ کرکٹ ورلڈکپ کے لئے پیسے بچا کر رکھ رہی ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ یہ کمپنی اب اوسی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی تیاری میں ہے۔ آسٹریلیائی حکومت کے وزیر بھی بیان دے رہے ہیں کہ اس طرح سے کسی کمپنی کو برخاست نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس کا کھیل پر اس طرح سے اثر پڑنے والا ہے کہ کئی بڑے بڑے کھلاڑی دہلی نہیں آپائیں گے۔ کناڈا نے بھی اپنے بڑے بڑے کھلاڑیوں کو دہلی بھیجنے سے منع کردیا ہے۔
ابھی تو یہ شروعات ہوئی ہے۔ مانا یہ جارہا ہے کہ آسٹریلیا اور کناڈا کے بعد اور بھی ممالک اپنے بہترین کھلاڑیوں کو دہلی آنے سے منع کرسکتے ہیں۔ جب اچھے کھلاڑی حصہ ہی نہیں لیںگے تو ناظرین کسے دیکھنے کے لئے اسٹیڈیم جائیں گے یا ٹی وی دیکھیں گے۔ دولت مشترکہ کھیل کو ایک اور جھٹکا لگا ہے۔ یہ بات بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ جب اس کی تیاری ہوئی تھی تو یہ اندازہ لگا یا گیا تھا کہ تقریباً4لاکھ غیر ملکی دہلی آئیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج یہ تعداد کم ہوکر 20-30ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ اس گھپلے بازی کا دوسرا خمیازہ یہ ہے کہ ہندوستان نے ایشین گیمس کے لئے بڈ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کوئی بھی وزارت اب کلماڈی کے ساتھ ہاتھ ملانے سےپرہیز کر رہی ہے۔ اس گھپلے بازی کاایک نقصان یہ بھی ہے کہ کھیلوں میں آنے والا غیر ملکی سرمایہ رک جائے گا۔
کلماڈی سے یہ سوال بھی پوچھنا چاہئے کہ دولت مشترکہ کھیلوں میں کرکٹ کیوں نہیں ہے۔ خواہ وہ آسٹریلیا ہو ،نیوزی لینڈ، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز،سائوتھ افریقہ،ہندوستان، پاکستان یا بنگلہ دیش ہو۔یہ سب کرکٹ کھیلنے والے ملک دولت مشترکہ کے رکن ہیں۔یہ طے ہو چکا تھا کہ دہلی کے دولت مشترکہ کھیلوں میں کرکٹ بھی شامل ہوگا۔لیکن بی سی سی آئی نے اس میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔حقیقت یہ ہے کہ مہاراشٹر کے دو لیڈروں شرد پوار اور کلماڈی کی لڑائی کی وجہ سے ملک کو سب سے بڑا نقصان ہونے والا ہے۔ اگر کرکٹ کو شامل کر لیا گیا ہوتا تو 900سے 1000کروڑ روپے صرف کرکٹ سے مل گئے ہوتے۔آج حالت یہ ہے کہ سریش کلماڈی کو دوردرشن نے بھی چھوڑ دیا ہے۔اب دوردرشن نے یہ کہہ دیا ہے کہ 75000سیکنڈ کے لئے جو اسپانسرس لانے ہیں، وہ او سی ہی لے کر آئے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اسپانسرس کہاں سے آئیں گے۔ایک اندازے کے مطابق دولت مشترکہ کھیلوں سے زیادہ سے زیادہ صرف 400کروڑ روپے ہی آ سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اب کلماڈی 1600کروڑ روپے حکومت کو کہاں سے واپس کریں گے۔ اب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اگر یہ پیسہ واپس آتا ہے  تو کیا اس لوٹ کھسوٹ  کا خمیازہ ملک کے عوام کو بھگتنا پڑے گا؟
35ہزار کروڑ روپے جو انفراسٹرکچر کے لئے دئے گئے ہیں، اس میں بھی زبردست گھپلے بازی ہوئی ہے۔ حکومت کو یہ تحقیقات کرنی چاہئے کہ 32کھیلوں کے لئے جتنے بھی اسٹیڈیم بنے ہیں، سویمنگ پول،ٹینس کورٹ وغیرہ بنے ہیں۔ ان کا ڈیزائن اور آرکیٹیکچرز کمپنی نے تیار کیا۔ ان کمپنیوں کے پیچھے کون کون لوگ ہیں،۔ اس کی تحقیقات کی ضرورت اس لئے ہے کیونکہ یہ کمپنیاں اور ایجنسیاں او سی کے افسران کی فرنٹ کمپنی ہیں۔ مطلب یہ کہ پیسے کیسے خرچ ہوں گے، اسٹیڈیم کیسا بنے گا، اس کا ڈیزائن کیا ہوگا، یہ تمام فیصلے او سی کو ہی لینے تھے۔ یعنی ان سب لوگوں نے ملک کے عوام کے 35ہزار کروڑ روپے کو ذاتی اثاثہ مان کر لوٹ کھسوٹ کی۔جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم کو ہی لے لیجئے۔اس کے لئے 900کروڑ روپے خرچ کئے گئے ہیں۔ یہ عالیشان اسٹیڈیم پہلے سے بنا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 900کروڑ کس چیز پر خرچ کئے جا رہے ہیں۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اس خرچ میں کھلاڑیوں کے لئے ضروری مشینیں اور سہولیات شامل نہیں ہیں۔ پیسے کی بربادی کایہ انوکھا نمونہ ہے۔مثال کے طور پر پنے کے بالیواڈی اسٹیڈیم کو لے لیجئے، جو ایک بہترین اسٹیڈیم ہے۔ یہ 82کروڑ روپے میں بنا تھا۔یہاں ورلڈ کلاس سہولیات ہیں، الٹرا ماڈرن جم ہے۔ مطلب یہ کہ اگر200یا 300کروڑ روپے بھی خرچ کئے جائیں تو کیا ایک نیا اسٹیڈیم بن سکتا ہے، وہ بھی ورلڈ کلاس کا۔ سویمنگ پول کا بجٹ 300کروڑ کا ہے،جبکہ اچھا سے اچھا سویمنگ پول پانچ کروڑ میں تیار ہو جاتاہے۔ پیسے کی بربادی کے ساتھ ساتھ ان کاموں میں جس طرح سے قاعدے قانون کو نظر انداز کیا گیا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ دولت مشترکہ کھیلوں سے جڑے کام مکمل نہیں ہو پائے ہیں۔ اس کام میں لگے ٹھیکیدار اور کمپنیاں افسران کی تمام گھپلے بازی سے واقف ہیں۔ جب انہیں کوئی ٹینڈر نہیں ملتا تو وہ آر ٹی آئی ڈال دیتے ہیں۔ معاملہ کورٹ میں پہنچ جاتا ہے اور کام رک جاتا ہے۔ عدالت میں اب تک تقریباً30آرٹی آئی درخواست دی جا چکی ہیں۔آرٹی آئی ڈالنے والے سماجی خدمت گارنہیں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ ان ٹھیکیداروں اور کمپنیوں کے اشارے پر کام کر رہے ہیں۔
دولت مشترکہ کھیل صحیح معنوں میں کاجل کی کالی کوٹھری ہیں۔اس میں جو بھی شامل ہیں ، ان کا بے داغ نکلنا مشکل ہے۔کچھ دنوں پہلے تک کلماڈی جب بھی دکھائی دیتے ، اطالوی سوٹ اور غیر ملکی رنگین چشمہ میں نظر آتے تھے ۔ جب سے دولت مشترکہ کھیلوں میں گھوٹالہ کی خبر آئی ہے، وہ پہلے شرٹ اور پینٹ میں نظر آئے اور اب سفید کھادی کرتے میں نظر آتے ہیں۔ سفید کھادی کی طاقت وہ جانتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہندوستان کے عوام بھولے بھالے ہیں، بہترین افتتاحی تقریب اور زبردست آتش بازی کے درمیان سب کچھ بھول جائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تقریب کے لئے پچاس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ زبردست آتش بازی ہوگی، جس کی چمک اور دمک کے درمیان بدعنوانیوں کے تمام معاملے دب جائیں گے۔ پھر الگ الگ ایجنسیوں کو تفتیش میںلگایا جائے گا۔ یہ دکھایا جائے گا کہ حکومت گناہگاروں کو سزا دلائے گی، لیکن گناہگار پھر بھی بچ جائیں گے۔ ویسے بھی ہمارے ملک میں یہ ایک روایت بن چکی ہے کہ یہاں طاقتور گھپلے بازوں کو سزا نہیں ملتی ہے۔میڈیا انکشاف کرتا رہے گا، پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہوتا رہے گا اور مجرمین مسکراتے رہیںگے۔ اب تو بس ایک ہی سوال باقی رہ گیا ہے، جنہیں ناز ہے ہند پر،وہ کہاں ہیں؟

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *