!میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے

اسدمفتی، ایمسٹرڈیم، ہالینڈ
امریکی سیاستداں باب گرہام نے ہوم لینڈ سیکورٹی کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنے نیو کلیئر ہتھیار طالبان کے ہاتھوں میں جانے کا موقع دے گا اور طالبان نیو کلیئر بموں کو بھارت کے خلاف استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ جائے تو پاکستان اپنے نیو کلیئر بم طالبان کے حوالے کر کے ان بموں سے بھارت پر حملہ کروائے گا۔ گرہام جو نیو کلیئر عدم پھیلاؤ کمیٹی کے عہدیدار بھی ہیں، نے ہوم لینڈ سیکورٹی کمیٹی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر ایشو پر بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹکراؤ پیدا ہوجائے یا تناتنی کا ماحول پیدا ہوجائے تو یہ ایک ایسا موقع ہوگا، جس کے بارے میں کسی ایک کو کوئی فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔ ہم نیوکلیئر بموں کا استعمال نہیں چاہتے لیکن ہم کرایہ کے طالبان کو نیو کلیئر بموں تک رسائی کا موقع فراہم کررہے ہیں اور انہیں ’’ڈاٹی ورک‘‘ سر انجام دینے کو اکسانا چاہتے ہیں۔ باب گرہام امریکی کمیشن برائے انسداد عام تباہی کے ہتھیار ادارہ کے صدر ہیں اور صدر اوباما کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے ہیں۔
اس سے قبل کئی امریکی عہدہ داریہ بات کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کو پاکستان کے نیو کلیئر ہتھیاروں کی سلامتی کے تعلق سے فکر وتشویش ہے۔ باب گرہام نے اس تشویش کا ذرا کھل کر اظہار کردیا ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ اور سوویت یونین دونوں ایک دوسرے کے حریف تھے جو تصادم کی صورت میں ایک دوسرے کا صفایا کرنے کے قابل تھے۔ ایسی ہی کچھ صورت حال بھارت اور پاکستان کی ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کی چنگاری بھڑکے یا اتفاقی جنگ چھڑ جائے۔گرہام نے یہ بھی کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہے کہ بھارت اور چین نے اپنے نیوکلیئر اسلحہ خانوں کو محفوظ بنانے میں پہل کی ہے۔
ادھر امریکی صدر بارک اوبامانے کہا ہے کہ دنیا ایٹمی حملوں کے خطرات سے دوچار ہوگئی ہے کیونکہ القاعدہ خفیہ طور پر ایٹم بم کے حصول میں مصروف ہے۔ ہم یہ معاملہ عالمی ایٹمی کانفرنس میں اٹھائیں گے۔ یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ القاعدہ پہلے ہی ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ میں امریکہ اور برطانیہ کے درمیان میچ پر حملے کی دھمکی دے چکا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ چونکہ القاعدہ ایٹم بم کے حصول میں کوشاں ہے، اس لئے امریکہ عالمی ایٹمی کانفرنس میں اس خطرے سے دنیا کو آگاہ کرے گا۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ایٹمی ہتھیاروں کے تحفظ کے لئے سخت سیکورٹی، رازداری، وارہیڈکی میزائلوں سے علیحدگی ، جیسے اہم اقدامات ناگزیر ہیں، تاہم دوسری طرف ایسے تجزیہ نگار اپنے دعوے کے ثبوت میں اس بات کی اکثر نشاندہی کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان کی جوہری تنصیبات کے قریب ہونے والے دھماکوں اور دہشت گردانہ کارروائیوں کے بعد ان تنصیبات کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ بریڈ فورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر گریگوری نے کہا ہے کہ ان کو مکمل طور پر محفوظ قرار دینا اب کوئی حقیقت پسندی نہیں ہے۔ ادھر کارینگی انسٹی ٹیوٹ کے ماہر شیرون سکواسونی نے کہا ہے کہ اگر دہشت گرد کمانڈوز جوہری تنصیبات میں گھس گئے تو یقینا یہ دنیا کے لئے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ زیادہ تر ان کی ناکامی کا امکان ہے، پھر بھی یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر خدشات ظاہر نہ کئے جائیں۔ ایمسٹرڈیم یونیورسٹی کے پروفیسر نے حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں نیوکلیئر ہتھیاروں کو غلط ہاتھوں میں جانے کے خدشات پر اپنی تشویش ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کیمیکل بایو، ریڈیو ایکٹی ویٹی ، نیوکلیئر وارفیر کے ذریعہ حملوں کے امکانات میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس لئے تابکاری سے نمٹنے کے لئے نہ صرف فوج کو بلکہ پولس کو بھی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔
حال ہی میں نیو یارک میں امریکہ کے ممتاز صحافی سیمورہرش کا ایک مضمون شائع ہوا ہے، جس میں (یہ آرٹیکل آن لائن مطبوعہ ہے)یہ احساس ظاہر کیا گیا ہے کہ واشنگٹن ، پاکستانی نیوکلیئر اسلحہ ومواد سے متعلق اندیشوں میں اس قدر گھر گیا ہے کہ امریکی فوج کے ماہرین ایک ’’خفیہ‘‘ اشارہ ملتے ہی پاکستان روانہ ہونے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ مضمون میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اوباما انتظامیہ اور پاکستانی افواج کے درمیان انتہائی حساس نوعیت کی مفاہمت کی کوششیں جاری ہیں، جس کے پس پردہ بحران کے دوران پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیارو ںکو اضافی تحفظ کی فراہمی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ بھارت پاکستان سے ملحقہ سرحدوں سے اپنے فوجیوں کو ہٹانے سے اتفاق کرسکتا ہے، ایسی صورت میں پاکستان کو افغانستان سے ملحقہ شمال مغربی صوبہ سرحد پر طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائیوں پر توجہ پوری طرح مرکوز کرنے کا موقع حاصل ہوگا۔ یاد رہے کہ امریکی افواج(مع ناٹوافواج) اسی علاقے میں2001سے طالبان کی سرکوبی کی کوشش کررہی ہیں، تاہم انہیں ناکامیوں سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔ہرش نے وضاحت کی ہے کہ یہ اقدام وسیع تر فوجی پرگرام کا حصہ ہے تاہم پاکستان میں اس کے غیر ارادی نتائج برآمد ہونے کا بھی اندیشہ ہے کہ پاکستانیوں کو امریکی مداخلت سے سخت نفرت ہے۔ پاکستان امریکہ پر اعتماد بھی نہیں کرتا۔ اسے یہ بھی اندیشہ ہے کہ ایسی صورت میں اس کے’’ نیوکلیئر رازہائے سربستہ ‘‘سے بھارت واقف ہوسکتاہے۔ پاکستانیوں کے قول وفعل میں زبردست تضادات موجود ہیں۔ یہاں یہ بات انتہائی اہمیت کی حامل اور یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جون2009میں پینٹاگن کی ٹیم ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے پاکستان آنے کے لئے دوبئی پہنچ چکی تھی کہ انہیں اطلاع ملی کہ نیوکلیئر ہتھیاروں سے متعلق وارننگ دینے والے سسٹم نے غلطی کا ارتکاب کیا ہے، علاوہ ازیں نومبر2001میں بھی ملک شادبار کے نیو کلیئر ہتھیاروں اور نیو کلیئر پروگرام سے متعلق اطلاعات ملکی اور غیر ملکی میڈیا میں موضوع بحث بنی رہی تھیں۔
دوسرے ملکوں کے ایٹمی ہتھیاروں پر نظر رکھنے والا امریکہ جس نے عدم توسیع کی کوششوں میں فروغ کے پیش نظر تاریخ میں پہلی بار اپنے نیوکلیئر ذخائر کی ضخامت کو بے نقاب کیا ہے۔پینٹاگن نے بتایا ہے کہ گذشتہ ستمبر کے اواخر میں اس کے نیوکلیئر ذخائر میں 5113وارہیڈ شامل تھے۔1967میں وارہیڈ کی تعداد31225تھی جب کہ دیوار برلن کے انہدام کے وقت 1989میں22217تھی۔
پاکستان کی بار بار یقین دہانیوں کے باوجود دنیا یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور اس کی بنیادی وجوہات یہ بتائی جاتی ہیں کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ، القاعدہ ، طالبان اور دہشت گردوں کا نیٹ ورک، عوام میں امریکی مخالفت میں اضافہ اور فوج کے مورال میں کمی ایسے محرکات ہیں۔ ان حالات میں ایٹمی اثاثوں کے محفوظ ہونے کی بات اونچی آواز میں کرنا کہاں کی عقل مندی اور دانش مندانہ بات ہے؟
میں بھی سوچتا ہوں ، آپ بھی سوچئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *