ہر شعبے میں بدعنوان لوگوں کا بسیرا

آدتیہ پوجن
ملک کے الگ الگ حصوں میں واقع نیشنل کو آپریٹیو مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کی شاخیں کہنے کو تو سرکاری ہیں، لیکن ان کی ڈگریوں کو حکومت کی منظوری نہیںہے ۔ یہ بات عجیب سی بھلے ہی لگے لیکن حقیقت ہے اور اس کی گواہی خود نیشنل کو آپریٹیو یونین آف انڈیا(این سی یو آئی) کے افسران بھی دیتے ہیں۔ملک میں کو آپریٹیو تحریک کو فروغ دینے کے لیے این سی یو آئی نے مرکزی وزارت زراعت کی اجازت سے نیشنل کونسل فار کو آپریٹیو ٹریننگ (این سی سی ٹی) کا قیام کیا ہے۔این سی سی ٹی کا اہم کام ملک میں کو آپریٹیو شعبے میں کام کر رہے لوگوں کو ٹریننگ دینا ہے۔اس کے لیے قومی سطح پر پنے میں بیکنٹھ مہتا نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کو آپریٹیو مینجمنٹ کے ساتھ بنگلورو، چنڈی گڑھ، گاندھی نگر، کلیانی و پٹنہ میں ریجنل کو آپریٹیو مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ اور بھوپال، بھو نیشور، چنئی، دہرا دون، گوہاٹی، حیدرآباد، امپھال، جے پور، کنور،لکھنؤ، مدورئی، ناگپور، پنے اور ترووننت پورم میں انسٹی ٹیوٹ آف کو آپریٹیو مینجمنٹ کا قیام کیا ہے۔ان اداروں کا اہم کام ملازمین کو کو آپریٹیو ٹریننگ فراہم کرانا ہے، جس کے لیے انہیں حکومت کی جانب سے فنڈ بھی دیا جاتا ہے۔تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ٹریننگ کے علاوہ ان اداروں میں ایم بی اے کی پڑھائی بھی ہوتی ہے۔ہر سال بڑی تعداد میں طلبا ان اداروں میں ایم بی اے کے ڈگری اور ڈپلوما کورسیز میں رجسٹریشن کراتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان سے فیس کی شکل میں ایک موٹی رقم وصول کی جاتی ہے، لیکن سب سے زیادہ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایم بی اے کا کورس کرانے کے لیے ان اداروں کو حکومت کی جانب سے منظوری ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس کے لیے انہیںسرکاری امداد ملتی ہے۔ پھر بھی حکومت کے نام پر طلبا کو ٹھگا جاتا ہے اور وہ آسانی سے ان کے جال میں آ بھی جاتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کو آپریٹیو مینجمنٹ اداروں کو صرف ٹریننگ دینے کی اجازت حاصل ہے اور اسی نام پر ان اداروں میں مینجمنٹ کے کورس چلائے جاتے ہیں۔چوتھی دنیا نے جب اس حوالے سے تفتیش کی کوشش کی تو کچھ افسران جہاں لا علمی کا اظہار کرنے لگے، تو کچھ گھبرا سے گئے۔وزارت زراعت میں جوائنٹ سکریٹری و سینٹرل رجسٹرار، کو آپریٹیو  آر کے تیواری سے جب ہم نے اس حوالے سے بات کی تو انھوں نے  حیران کن طور پر بتایا کہ انہیں تو یہ پتہ بھی نہیں کہ کو آپریٹیو اداروں میں مینجمنٹ کی پڑھائی بھی ہوتی ہے۔انہوں نے ہمیں این سی یو آئی کے ڈائریکٹر جنرل انیتا منچندا سے رابطہ کرنے کی صلاح دی۔ہم نے انیتا منچندا سے یہی سوال کیا تو انہوں نے فون این سی یو آئی کے سکریٹری ٹی پرم جیوتی کو دے دیا۔پرم جیوتی نے یہ بات تو قبو ل کی ہی کہ ان اداروں میں مینجمنٹ کی پڑھائی بھی ہوتی ہے، لیکن انہوں نے مزید جو کچھ بتایا وہ زیادہ حیران کرنے والا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کو آپریٹیو مینجمنٹ اداروں کو مینجمنٹ کی پڑھائی کے لیے حکومت کی اجازت نہیں ہے۔مذکورہ کورس آزادانہ طور پر چلائے جاتے ہیں اور اے آئی سی ٹی آئی سے تسلیم شدہ ہیں۔ساتھ ہی متعلقہ ریاستی حکومتوں سے اس کے لیے نو آبجکشن  سرٹیفکیٹ بھی لیا گیا ہے۔ان کورسیز کے چلانے میں سرکاری رقم کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے اسی پیسے کا استعمال ہوتاہے، جو طلبا سے فیس کی شکل میں وصول کیا جاتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ مینجمنٹ کورس کے اس گورکھ دھندے میں حکومت کی اجازت کے بغیر اس کے نام کا بخوبی استعمال ہوتا ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ کو آپریٹیو مینجمنٹ اداروں کے پاس مینجمنٹ کے کور چلانے کے لیے الگ سے کوئی انفرا اسٹرکچر نہیں ہے۔ٹریننگ کے مقصد سے حکومت کے ذریعہ فراہم کرائے گئے انفرااسٹرکچر کے سہارے ہی مینجمنٹ کی پڑھائی کرائی جاتی ہے۔اس کے لیے الگ سے فیکلٹی بھی ان اداروں کے پاس نہیں ہے۔جو تنخواہ دی جاتی ہے وہ بھی دیگر مینجمنٹ اداروں کی فیکلٹی سے کہیں کم ہے۔ اداروں کے پرنسپل کی تنخواہ سینئر لکچرر کے برابر ہے ا ور اساتذہ کو ہائی اسکول کے ٹیچر کے مساوی تنخواہ دی جاتی ہے، جو اے آئی سی ٹی ای کے ضابطہ کے مطابق نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر ان کورسیز کو اے آئی سی ٹی ای سے منظوری حاصل ہے تو پھر ان اداروں میں اس کے احکامات کی تعمیل کیوں نہیںکی جاتی۔کچھ روز قبل پرنسپل کی اسامیوں کو پر کرنے کے لیے این سی سی ٹی نے اشتہار نکالا تھا۔اس اشتہار میں واضح طور پر لکھاہے کہ اسامیوں میں ان امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی، جن کے پاس پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما ان مینجمنٹ ہے۔مینجمنٹ کورس کرانے والے دوسرے اداروں میں پرنسپل کے عہدے پر ایسے لوگوں کو رکھا جاتا ہے، جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے میدان کے دانشورو تجربہ کار سپاہی ہوتے ہیں۔
اے آئی سی ٹی ای کی ہدایات کے مطابق ایسا کرنا ضروری بھی ہے، لیکن این سی سی ٹی ان احکامات کی کھلے عام دھجیاں اڑا رہی ہے۔اتنا ہی نہیں پرنسپل کی تقرری میں دھاندلی کے الزامات بھی عائد ہو رہے ہیں۔ کئی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ تقرریوں کے عمل میں اشتہار میں دی گئی شرائط کی تعمیل نہیں کی گئی ہے۔کچھ ناکام امیدوراوں نے نام نہیں شائع کرنے کی شرط پر بتایا کہ پیروی کرنے والوں کی راہ آسان کرنے کے لیے اشتہارات کی شرائط میں تبدیلی کی گئی اور زیادہ با صلاحیت و اہل امید واروں کو نظر انداز کر دیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ اشتہار میں جنرل کٹیگری کے امیدوراوں کو عمر کی حد میں5سال کی رعایت کا کوئی ذکر نہیں ہے۔جس کے سبب کئی امید وار درخواست دینے سے محروم رہ گئے، لیکن تقرری کے عمل میں انہیں یہ رعایت دی گئی ہے۔ الزام ہے کہ کچھ ایسے لوگوں کو اپاہج کوٹے کے تحت رکھا گیا ہے، جن کا متعلقہ سرٹیفکیٹ بھی شک کے دائرے میں ہے۔جب ہم نے اس حوالے سے پرم جیوتی سے سوال کیا تو وہ گھبرا گئے اور انہوں نے آگے بات کرنے سے انکار کر دیا۔
حقیقت یہ ہے کہ مرکزی حکومت کی ناک کے نیچے چل رہے کو آپریٹیو مینجمنٹ ادارے بد عنوانی کے اڈے بن گئے ہیں۔ ان اداروں میں قوانین و ضوابط کی کھلے عام دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور حکومت کا نام بیچ کر طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا ہے۔مینجمنٹ کی پڑھائی کے لیے حکومت کی منظوری نہیں ہونے کے باوجود یہ کورسیز چلائے جاتے ہیں،جبکہ اس کے لیے نہ تو ان کے پاس انفرا اسٹرکچر موجود ہے اور نہ ہی با صلاحیت فیکلٹی، لیکن حکومت ہے کہ اس جانب توجہ نہیں دے رہی ہے۔متعلقہ افسر اپنی ذمہ داریوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے لا علمی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔اس طرح بد عنوانی کا یہ کاروبار جاری و ساری ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *