تم زمین پر رحم کرو تاکہ آسمان تم پر رحم کرے

عفاف اظہر،کناڈا
تاریخ کے بد ترین زلزلے کے جھٹکوں سے ابھی سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ تاریخ کے اس بد ترین سیلاب کے تھپیڑوں نے آن دبوچا ۔ پاکستان میں حالیہ سیلاب اور زمین کے کھسکنے سے اب تک ہزاروں اموات ہو چکی ہیں جب کہ متاثرین کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ کو بھی تجاوز کر چکی ہے ۔ متاثرہ علاقوں میں بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ چکا ہے بلکہ ہیضہ کی وبا پھیلنے کی اطلاعات مل رہی ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ملک بھر میں مانسون کی بارشوں کا دوسرا دور بھی چل پڑا ہے ۔ سیلاب سے بے گھر ہوئے لاکھوں افراد اشیائے خورد و نوش حتی کہ صاف پانی کی قلت کا بری طرح شکار ہیں ۔ دریائے سندھ سے گزرنے والے اس صدی کے سب سے بڑے سیلابی ریلے سے اب تک سیکڑوں پل تباہ اور متعد د آبادیاں جزیروں میں تبدیل ہو چکی ہیں ۔ امدادی اداروں کے مطابق یہ حالیہ نقصان 2005 کے زلزلے سے کہیں زیادہ ثابت ہوسکتا ہے۔ امدادی کاروائیاں انتہائی سست اور ناکافی ہیں بلکہ نہ ہونے کے برابر ہیں ۔لاکھوں سیلاب زدگان کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑے ہیں ۔ گویا کہ:
ہم غریب لوگ تو تنکوں کا ڈھیر ہیں
ملبے میں دب گئے تو کبھی پانی میں بہہ گئے
سیلاب ہر سال آنے والی قدرتی آفات میں شامل ہے لہٰذا سیلاب سے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے ،کیوں کہ سیلاب سے تباہی کمزور اور غریب طبقہ پر ہی آتی ہے، اس لئے اس آفت کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے 62سال ہو گئے اور ہر سال آنے والے سیلاب سے جانی و مالی نقصان کے علاوہ خشک سالی، پانی و بجلی کے بحران کے باوجود آج تک کسی بھی حکمران نے پانی جیسی قدرتی نعمت کی ذخیرہ اندوزی کر کے اس کا مناسب استعمال نہیں سوچا، بلکہ الٹا اس رحمت کو پوری قوم کے لئے زحمت بنا چھوڑا۔ قدرتی آفات کو روکنا کسی کے بس کی بات نہیں، مگر ایسی آفات جن کا پیشگی اندازہ لگایا جا سکتا ہو مناسب حفاظتی انتظامات کے ذریعہ اس کے نقصانات پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے ۔بر صغیر کے جغرافیائی حالات کی وجہ سے قدرتی آفات زلزلے اور سیلاب سے ان کی تاریخ بھری پڑی ہے، لیکن پھر بھی انسان کی حکمت عملی ہے جو ہر بڑے سے بڑے نقصان پر قابو پانے کی بھر پور صلاحیت رکھتی ہے، جس قسم کی تباہی و بربادی کے منظر اس سیلاب سے دیکھنے کو ملے ہیں اس نے احساس دلایا کہ ایک بڑا انسانی المیہ جنم لینے والا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار سے تباہی بہت زیادہ ہے بلا شبہ بارشوں سے سو سال کے ریکارڈ ٹوٹے، بے شک قدرتی آفات کے آگے انسان بے بس ہیں، لیکن کیا آج کی ترقی یافتہ دنیا کا سو سال قبل سے مقابلہ کرنا درست ہے ؟کیا سی ون تھرٹی میں کشتیاں لوڈ کرتے فوٹو سیشن کرنے والے قوم کے خادم سپاہیوں کو کچھ دیر پہلے حرکت میں نہیں آ جانا چاہے تھا؟ کیا ناکارہ ڈیموں کی مرمت اور ناقص پلوں کی تعمیر ہمارا فرض نہ تھا ؟ اور کیا ندی نالوں میں پھنسے لاکھوں ہم وطنوں کو بر وقت امداد پہنچانا بھی ہمارے بس میں نہ تھا ؟
اس قوم کی بد قسمتی کا عالم تو دیکھئے کہ پانی کم ہو تو بھی تباہی زیادہ ہو تو پھر بھی بربادی۔ گزشتہ سالوں سے جس پانی اور بجلی کی قلت نے لاکھوں ایکڑ زمین بنجر کر دی اور ملک بھر کی صنعت کو اربوں کا نقصان پہنچایا آج اسی پانی کی فراوانی نے لاکھوں کو بے گھر کر کے کھڑی فصلیں برباد کر کے تباہی کا دوسرا چہرہ دکھا دیا، اب بھی لاکھوں کیو سک سیلابی پانی سمندر میں بہہ جائے گا اور چند ماہ بعد ہم پھر اسی پانی کی قلت کا شکار ہوں گے ،کیوں کہ اس اضافی پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے ہم آج بھی محروم ہیں اور پھر اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو گا کہ اس مصیبت کی گھڑی میں جب کہ پورا ملک اس طوفان نوح کے نرغے میں ہے اور عوام کا منتخب کردہ نجات دہندہ اس قوم کا موسیٰ سرکاری خرچہ پر یورپ کی سیر کے مزے لوٹ رہا ہے ۔ وطن عزیز سیلاب میں ڈوبا ہے، لاکھوں فاقہ زدہ سیلاب زدگان کئی دنوں سے گھروں کی چھتوں پر بیٹھے امداد کے منتظر ہیں اور ہمارے منتخب کردہ عوامی نمائندگان بیرون ملک بیٹھے ٹی وی پر ہی قوم کی تباہی کے مناظر دیکھنے پر اکتفا کر رہے ہیں اور دوسری طرف صوبائی حکومتیں ہیں جنہیں اس قیامت کی گھڑی میں بھی سیاست چمکانے کی پڑی ہے ۔سیلاب زدگان کی تعمیر نو کے لئے ایسے بلند و با لا دعوے کیے جا رہے ہیں گویا پانچ سال پہلے زلزلہ زدگان کی بحالی کے تمام وعدے پورے کر لئے ہوں ۔ قصور وار تو بیچارے حکمران بھی نہیں ،کیوں کہ انہوں نے تو بار ہا ہمیں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس زمین کی مخلوق ہیں ہی نہیں۔ انھیں پاکستان کے عوام کی مشکلات و مصائب کا علم کیوں کر ہو سکتا ہے، جو اپنا مستقبل خلیجی ممالک میں رکھتے ہیں ۔ افسوس تو عوام پر ہے جو آج تو اپنی تباہی و بربادی پر دھاڑیں مار رہے ہیں، مگر اسی تباہی کا بیج بوتے ہوے بھول گئے تھے کہ کل کو ہمیں کو اس کی فصل بھی کاٹنی ہے۔
ایسی ناگہانی آفات میں حکومت کے نا کارہ انتظامات کو دوش دے دینا کافی نہیں کیوں کہ انتہائی محدود وسائل اندرونی و بیرونی سازشوں سے گھری دہشت گردی سے نڈھال حکومت کے لئے قدرتی آفات مرے کو مارنے کے مترادف ہے اور پھر اس ضمن میں زیادہ قصووار تو بحیثیت قوم ہم خود ہیں ۔ ہم نے تو آج تک اپنی مدد آپ کے اصول کے تحت ا پنے اس نو زائیدہ وطن کو فقط اپنی آبادی پر ہی قابو پا کر وسائل بڑھانے کی مہلت دینے کی بجاے آبادی کے ایم بم سے اپنے ہی چمن کے چیتھڑے اڑا دیے۔
گزشتہ برسوں سے ہماری ہی زمین ہم پر تنگ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایک طرف خدا کی چکی ہے جس میں ہم بری طرح پس رہے ہیں تو دوسری طرف خود ساختہ مصائب کے طوفان ہیں۔ ایک قیامت ختم نہیں ہوتی کہ دوسری کا بگل بج جاتا ہے۔ غربت و بیروزگاری کے جبڑے کھلے ہیں تو دوسری طرف خوراک ،پانی اور بجلی کے بحرانات باہیں پھیلائے ہیں۔ایک طرف جرائم اور لوٹ مار کی اندھیر نگری ہے تو دوسری طرف مذہبی دوکان داروں کی موت کی اندھیر نگریاں۔ ہر طرف ایک شور محشر بپا ہے اور آہوں و سسکیوں کی تال پر موت کا بھیانک رقص جاری و ساری ہے ۔ جس کی فقط ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے ہماری بے حسی ، زلزلہ آیا لاکھوں لوگ مر گئے مگر شکر ہے میں بچ گیا ۔ بم دھماکوں نے مساجد، مزار، بازار اور ہسپتال اڑا دیے مگر ہم اپنے عزیز و اقارب کی خیریت پر ہی خوش رہے ۔ نمازی بھون دیے گئے ،مظلوم جانوں سے گئے مگر ہم اسی میں پرسکوں رہے کہ ان میں ہمارا کوئی نہ تھا۔ حادثات پر حادثات ہوتے رہے آفات پر آفات ٹوٹتی رہیں مگر ہم فقط اپنی ہی خیر مناتے رہے ۔ لیکن کب تک ؟ آخر کب تک ؟ خداے بزرگ و برتر نے بار ہا حقوق العباد کو حقوق اللہ پر فوقیت دی، مگر ہم نفرتوں کی ماری قوم نے اپنی سرزمین پر حقوق العباد کی ایسی دھجیاں اڑائیں کہ انسانیت تک شرما گئی۔
لاتی ہے بام عرش پر سو بار زلزلے
اک آہ زیر لب کا اثر کچھ نہ پوچھیے
شاید ہماری ان تباہیوں کے پس پردہ بھی وہ ہی ہیں جنہیں ہم اپنے طاقت کے گھمنڈ میں دبا گئے ۔ جب معصوم نمازیوں کو بھونا جائے گا، جب مساجد بموں سے اڑائی جائیں گی ، جب گرجے، مندر اور گردواروں پر بم برسائیں جائیں گے، جب عیسائیوں ہندئوں اور احمدیوں کی آبادیوں کو زندہ جلایا جائے گا اور انسانی خون کی قدر و قیمت کو انسانیت کے رنگ سے نہیں بلکہ ان کے عقائدکے پلڑوں میں تولا جانے لگے گا تو وہ قوم خدا کے قہر سے کیوں کر محفوظ رہ سکے گی؟ جب بازاروں ،اسکولوں اور ہسپتالوں میں اندھادھند دھماکوں سے انسانی چیتھڑے اڑائے جائیں گے تو اجڑتی کوکھ کی دکھی ماؤں ، برباد جیون لئے سوگوار بیواؤں کے آنسوؤں کے سیلاب معصوم و مظلوم یتیموں کی آہیں اور سسکیاں عرش کیوں نہ ہلائیں گی؟
یہ ہمارے اعمال ہیں جو آفات کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ جب دہشت گردی کے واقعات کی مذمت ہونے کی بجائے جواز مہیا کیے جانے لگیں اور انسانی لہو کی ارزانی کو نفرتوں کے رنگ دیے جانے لگیں تو پھر خدا کا وہ قانون حرکت میں آ جاتا ہے کہ’’تم زمین پر رہنے والوں پر رحم کرو تاکہ آسمان پر رہنے والا تم پر رحم کرے۔‘‘یہ خدا کی بے آواز لاٹھیاں ہی ہیں جو کبھی بد ترین زلزلہ کے روپ میں تو کبھی بد ترین سیلاب کی صورت لئے ہوئے ہمیں متواتر جھنجوڑنے کی کوشش میں ہیں، کیوں کہ یہ قانون قدرت ہے کہ اللہ اپنی روئے زمین پر مردہ ضمیر لئے ایک  ظالم قوم کو زیادہ دیر تک زندہ نہیں رکھتا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *