ایک ایٹم بم ،ہندو مسلم دلی ختم

ڈاکٹر منیش کمار
ہندوستان کے چہار جانب جوہری ہتھیاروں کا ذخیرہ جمع ہو رہا ہے۔ پاکستان اور چین کے پاس ہندوستان سے زیادہ ایٹمی ہتھیار ہیں۔کچھ رپورٹس تو یہ بھی بتاتی ہیں کہ برما اور بنگلہ دیش بھی ایٹمی ہتھیار بنانے کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں،لیکن ان میں سب سے زیادہ خطرہ دہشت گردوں سے ہے۔جن کے پاس ریڈیشن پھیلانے والے ہتھیاروں کو بنانے کی طاقت ہے۔ساتھ ہی یہ بھی ظاہر ہو چکا ہے کہ سابق سوویت یونین کے ممالک سے غائب ہوئے نیو کلیئر وار ہیڈس دہشت گردوں تک پہنچ چکے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بگڑتے رشتے ہوں یا پھر کوئی سرپھرا فوجی سربراہ پاکستان کے اقتدار پر قابض ہو کر جنگ کا اعلان کر دے۔ اب یہ تصور نہیں رہا۔دہشت گردوں کا آسان نشانہ ہندوستان ہے ۔ وہ کبھی بھی دنیا کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ہندوستان میں ایٹمی دھماکہ کر سکتے ہیں۔اس کے لیے ملک کی راجدھانی دہلی اور ملک کی اقتصادی لائف لائن ممبئی سب سے بہتر ، سب سے آسان اور سب سے موثر مقامات ہیں۔اگر ایسا ہوتا ہے تو ہمیں جان لینا چاہئے کہ کیا کیا ہو سکتا ہے؟ پہلے تو یہی جاننا چاہئے کہ بم پھٹنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ سب کچھ ختم ہو جاتا ہے یا پھر کچھ باقی بھی رہ جاتا ہے؟ایک بم سے کتنے لوگ مارے جائیں گے؟ایٹمی بم پھٹنے کے بعد حفاظت کا کام کیسے ہو تا ہے اور کیا ہماری حکومت ایسے حالات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے؟
ظاہر ہے پاکستان یا دہشت گرد اگر ہندوستان پر ایٹمی حملہ کریں گے تو وہ حملہ پنجاب کے کھیتوں پر نہیں ہوگا بلکہ پاکستان کے نشانہ پر دہلی و ممبئی جیسے شہر ہونگے۔ یہ خطرہ ہمارے سامنے تو ہے، لیکن اس سے نمٹنے کی تیاری ایسی ہے کہ بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے دس میں سے نو لوگوں کی موت بم دھماکے سے نہیں بلکہ علاج کی کمی اور خراب نظام کی وجہ سے ہوگی۔ اگر بم کا نشانہ کناٹ پلیس ہوا تو پہاڑ گنج، قرول باغ، راجیندر نگر، دریا گنج،پرانی دہلی کے چاندنی چوک، جامع مسجد، بلی ماران، فتح پوری، ترکمان گیٹ، مٹیا محل اور سیتا رام بازار اور لٹین زون میں راشٹر پتی بھون،پارلیمنٹ، اراکین پالیمنٹ کے سکریٹریوں کے گھر، فوج کا صدر دفتر،آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ اور آئی ٹی او سمیت پورے علاقہ میں کچھ بھی نہیں بچے گا۔ اس علاقہ کی تمام تر عمارتیں تباہ ہو جائیں گی۔ پوری دہلی میں تباہی کا ایسا منظر نظر آئے گا جو انسانی سوچ کے دائرے سے باہر ہے۔اس ایک بم کا اثر دہلی کے سبھی علاقوں کے ساتھ ساتھ میرٹھ ، نوئیڈا، گڑگائوں اور فرید آباد جیسے شہروں پر بھی ہوگا۔یہاں بھی لوگوں کی جانیں جائیں گی ۔ فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹ کے مطابق پاکستان کے پاس نو ہزار سے 12ہزار ٹن ٹی این ٹی والے طاقتور ایٹم بم ہیں۔امریکہ نے جاپان پر جو ایٹم بم گرائے تھے ان کی طاقت صرف 13اور18ٹن ٹی این ٹی تھی ۔ان سے 80ہزار لوگوں کی موت ہو ئی تھی۔ دہلی کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے بھی زیادہ ہے جو ہیرو شیما کی آبادی کے مقابلہ کافی گھنی ہے،اس لئے یہاں زیادہ تباہی ہوگی۔جاپان کے مقابلہ یہاں زیادہ لوگوں کی موت ہوگی۔
جوہری سائنسداں بتاتے ہیں کہ اگر ایٹم بم صرف ایک میگا ٹن کا ہے تو جس جگہ پر وہ گرے گا وہاں سے چھ میل کے دائرے میں جتنے بھی لوگ ہوں گے ان کی موت گاما شعائوں سے ہوگی۔ دھماکہ ہوتے ہی وہ لوگ دھویں میں تبدیل ہو جائیں گے۔ پلک جھپکتے ہی ان کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔انہیں یہ بھی نہیں معلوم ہوگا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔کیونکہ جب تک انہیں معلوم ہوگا کہ کیا ہوا ہے تب تک وہ گاما شعائوں کی وجہ سے پگھل چکے ہوں گے۔ ایٹمی حملے میں جو لوگ اس چھ میل کے اندر ہوں گے ان کی قسمت اچھی ہوگی۔ورنہ اس کے بعد جو کچھ ہوگا وہ نہایت ہی خوفناک اور دردناک ہوگا۔
جو لوگ طاقتور گاما شعائوں سے بچ جائیں گے ان کے لئے زندگی ایک عذاب بن جائے گی۔ جب ایٹم بم کا دھماکہ ہوتا ہے تو ایک بڑا سا آگ کا گولا بنتا ہے۔ اس گولے کے دائرے میں آنے والی ہر چیز پگھل جاتی ہے۔اس گولے سے جو روشنی نکلتی ہے وہ کئی سورج کی روشنی سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آنکھیں بند ہیں یا کھلی۔ یہ روشنی ہر کسی کو اندھا بنا دیتی ہے۔ایک میگا ٹن کے ایٹم بم سے جو روشنی نکلتی ہے اسے اگر پچاس میل کی دوری سے کوئی دیکھ لے تو اس کے بعد وہ زندگی میں پھر کبھی کوئی صاف تصویر دیکھنے لائق نہیں رہے گا۔ اس کی آنکھیں زندگی بھر کے لئے دھندلی ہو جاتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی علاقہ میں آگ کی آندھی چلتی ہے۔اس گرم ہوا کے دوران ہوا کا دبائو اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اس کے دائرے میں آنے والی ہر چیز تباہ ہو جاتی ہے۔دھماکہ کے ساتھ ہی آندھی چلتی ہے،جو کئی سو کلو میٹر کی رفتار کی ہوتی ہے اور جو اپنے ساتھ راستہ میں پڑے سامانوں کو اڑا لے جاتی ہے۔اس سے لوگوں کی موت ہوتی ہے اور ساتھ ہی لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں۔ دھماکہ کے چاروں طرف سو مربع میل کے علاقہ میں تباہی مچ جاتی ہے۔ پورے علاقہ میں افرا تفری مچنا لازمی ہے۔ اس سے بھی خطرناک صورتحال تب پیدا ہوتی ہے جب دھماکہ کے بعد پھیلا ریڈ یشن کئی کلو میٹر کے علاقہ کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ یہ ریڈیشن اس لئے خطرناک ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ علاقہ میں موجود دھول میں مل جاتا ہے اور ہوا کے ذریعہ کئی میل تک کے علاقہ میں پھیل جاتا ہے۔اس کے بعد یہ آہستہ آہستہ زمین پر گرنے لگتا ہے۔پھر اس کے بعد شروع ہوتا ہے موت کا ایسا خطرناک کھیل جس کے بارے میں سوچنے بھر سے ہی انسان کانپ اٹھتا ہے۔ ریڈیشن کی وجہ سے جسم کے اندر کی مولی کیولر ٹوٹنے لگتی ہے۔جو بھی لوگ اس علاقہ میں موجود ہوتے ہیں انہیں الٹیاں ہونے لگتی ہیں ۔ پورے جسم میں پھوڑے نکلنے لگتے ہیں۔جلد گلنے لگتی ہے اور سر کے بال گرنے لگتے ہیں۔ ہر انسان کو ایسی پیاس لگتی ہے جسے پانی بھی نہیں مٹا پاتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔
ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں ایٹمی حملہ کے بعد ہوئی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ ریڈیشن سے لوگوں کے دماغ پر بھی اثر پڑتا ہے۔ریڈیشن سے چھوٹی سیلز اور ویسیلز کو نقصان پہنچتا ہے۔ ریڈیشن کا اثر اگر زیادہ ہے تو لوگوں کی موت بھی ہو جاتی ہے۔تھائرائڈ گلینڈ پر بھی ریڈیشن کا برا اثر پڑتا ہے۔ جو لوگ ریڈیشن کی گرفت میں آتے ہیں ان کا خون بھی آلودہ ہو جاتا ہے۔ان کے خون میں لمفو کائٹ سیل کی کمی ہو جاتی ہے۔جس سے جسم میں انفیکشن ہو نے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور یہ خطرہ کئی سالوں تک برقرار رہتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ ریڈیشن کے فوری ختم ہو جانے کے بعد سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔بم دھماکے کے کئی سالوں بعد تک ریڈیشن کا اثر جاری رہتا ہے۔ دھماکہ کے 10سال بعد تک لوگوں کو لیو کیمیا اور کینسر جیسی بیماری ہوتی رہتی ہے۔ جاپان میں ہوئی تحقیق کے مطابق دھماکہ کے دس سال بعد بھی خون کی بیماری ہوتی رہی۔لوگوں کو انیمیا ستاتارہا۔ہیرو شیما اور ناگا ساکی میں جو لوگ بم دھماکہ میں بچ گئے، کئی سالوں بعد بھی ان کے سر کے بال گرتے رہے۔جو لوگ اس دھماکہ کے بعد زندہ بچ جاتے ہیں ان کی آنے والی کئی نسلیں تباہ ہو جاتی ہیں۔
ایک میگا ٹن کے ایٹم بم کے دھماکہ سے جو آگ کا غبارہ بنتا ہے،وہ زمین سے دس میل کی بلندی تک پہنچ جاتا ہے اور اتنے ہی مربع میل میں پھیل جاتا ہے۔یعنی اگر ایٹم بم کا مرکز دہلی کا کناٹ پلیس ہوا تو اوکھلا، میور وہار، پریت وہار، پنجابی باغ، راجوری گارڈن، آر کے پورم، گریٹر کیلاش، مالویہ نگر، ماڈل ٹائون اور آزاد پور وغیرہ رنگ روڈ کے اندر اور اس سے ملحق علاقوں میں اس کا سب سے زیادہ اور خطرناک اثر ہوگا۔ایسا نہیں ہے کہ اس کے باہر کے علاقوں میں کچھ نہیں ہوگا ۔اس کے باہر بھی لوگ ریڈیشن کی گرفت میں آئیں گے لیکن مرنے والوں کی تعداد کم ہوگی۔راحت اور حفاظتی کام کی ضرورت انہیں علاقوں میں پڑے گی۔ دھماکہ کے کچھ دیر بعد دس مربع میل کے علاقہ میں پھیلا یہ غبارہ سفید رنگ کا بن جاتا ہے۔کیونکہ اس کے اندر اور باہر کے پانی کی گیس جمنے لگتی ہے۔ تقریباً ایک گھنٹہ کے بعد یہ غبارہ نیچے اترنے لگتا ہے اور جس کی وجہ سے زمین پر کچھ بھی دیکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کتنے لوگ مر چکے ہیں اور جو زندہ بھی بچے ہیں وہ کہاں ہیں یہ پتہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔آسمان سے ریڈیو ایکٹیو بادلوں کی وجہ سے ریڈیشن کا پھیلا ئو ہو جاتا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس علاقہ میں راحتی کام اس لئے نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس علاقہ میں جو بھی جائے گا خود ریڈیشن کا شکار ہو جائے گا۔
ریڈیو ایکٹیو زون میں جانے کے لئے مون شوٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ہم نے دہلی کے جتنے بھی ڈاکٹروں سے بات کی ، ان کا کہنا یہی تھا کہ دہلی میں مون شوٹ کہاں ہیں۔ یہ کسی کو معلوم نہیں ہے، اس لئے یہ مانا جا سکتا ہے کہ دہلی میں مون شوٹ نہیں ہیں اور اگر ہیں بھی تو ڈاکٹر وں اور راحتی ارکان کی رسائی سے باہر ہیں۔ویسے بھی ہر طرف مچی افرا تفری میں ریڈیو ایکٹیو بادلوں کی پہچان کرنے کی بات شاید ہی کسی کے دماغ میں آئے۔ اگر کوئی ریڈیشن کے بارے میں سوچ بھی لے تو اس سے بھی کچھ فائدہ نہیں ہونے والا ہے، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ شہر کو ایٹمی حملہ کی آفت سے بچانے کے لئے دہلی کے اسپتال تیار نہیں ہیں۔ راجدھانی میں60بڑے اسپتال ہیں،جن میں حکومت دہلی کی نگرانی میں25اور مرکزی حکومت کی نگرانی میں 11اسپتال ہیں، جبکہ 24نجی اسپتال ہیں۔ چھوٹے بڑے کل ملا کر راجدھانی میں 750اسپتال ہیں۔ ان اسپتالوں میں ریڈیشن سے نمٹنے کے انتظامات نہیں کے برابر ہیں۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ بیشتر اسپتال شہر کے وسط میں ہیں جو ایٹمی حملہ میں خود ہی ختم ہو جائیں گے۔ایسے حالات میں حملہ کے بعد دہلی کے لوگوں کا کیا ہوگا ان کی مدد کے لئے کون آئے گا،کوئی مدد کرنا چاہے بھی تو ریڈیشن کی وجہ سے جا نہیں پائے گا۔زخمیوں کا کیا ہوگا۔ایسے ہی تمام سوال ہیں جو دل و دماغ کو جھنجوڑ کر رکھ دیتے ہیں، لیکن ان سوالوں پر حکومت نے اب تک شاید توجہ نہیں دی ہے۔ ایسے حالات میں حکومت ہاتھ کھڑے کر دے گی۔دہلی کے لوگوں کو طبی سہولیات کے لئے آس پاس کے شہروں کے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے سہارے چھوڑ دیا جائے گا۔ جہاں نہ تو تربیت یافتہ ڈاکٹر ہیں اور نہ ہی ریڈیشن سے پھیلی بیماریوں کا علاج۔
چوتھی دنیا کی تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ دہلی کے ایمس اسپتال کے ٹراما سینٹر کی تیسری منزل پر ریڈیشن اور کیمیکل کے قہر سے بچنے کے لئے ایک سینٹر بنایا گیا ہے۔اس سینٹر کے پاس تین کمرے ہیں، لیکن وہ پوری طرح سے تیار نہیں ہیں۔اس سینٹر میں تالا لگا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسے دولت مشترکہ کھیلوں تک تیار کر لیا جائے۔ اب معلوم نہیں کہ دولت مشترکہ کھیلوں کا کیمیکل اور ریڈیشن کی بیماریوں سے کیا رشتہ ہے۔ ویسے حکومت نے اس سینٹر کے افتتاح کے لئے کافی تشہیر کی تھی۔حکومت کی تیاری کیا ہے؟اس کی پول تب کھل گئی جب دہلی کے مایاپوری علاقہ میں کسی اسکریپ میں موجود کوبالٹ کے ریڈیشن سے تین چار لوگ نیلے پڑ گئے۔ ان لوگوں کو اسی سینٹر میں لایا گیا تھا۔ سینٹر تیار نہیں تھا۔ ظاہر ہے ٹراما سینٹر کے ڈاکٹروں نے ان مریضوں کا علاج کرنے کی کوشش کی۔ 28اپریل کو ہوئے اس حادثہ کے دوران ایمس کے ڈاکٹروں کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ریڈیو ایکٹیو مریضوں کا علاج کیسے کیا جائے؟ اس چھوٹے سے کیس کو صحیح طریقہ سے نمٹانے میں ناکام رہے ڈاکٹروں پر نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے افسران ناراض ہو گئے۔ اس کے بعد ان افسران نے بھابھا ایٹومک ریسرچ سینٹر سے مدد لی۔سرکارچلانے کا ہمارے ملک میں انداز بھی سرکاری ہے۔ ڈجاسٹر مینجمنٹ کی قلعی کھلی تو اس کے افسران نے یہ حوالہ دے دیا کہ کیمیکل، بایولوجیکل، ریڈیولوجیکل اور نیو کلیئر گائیڈ لائن 2007میں ہی جاری کر دی گئی تھیں،جس کی پانچ سو کاپیاں تمام اداروں کو بھیج دی گئی تھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے اتنا بڑا کام کر ہی دیا تھا تو کوبالٹ کے مریضوں کے ساتھ ساتھ ایمس کے ڈاکٹر کیوں نیلے پڑ گئے۔ علاج کرنے میں ان کے ہاتھ پائوں کیوں پھول گئے۔
ایٹمی حملہ کے بعد پھیلے ریڈیشن کے اثر اور مریضوں کے علاج کے انتظام کی تحقیقات کے دوران یہ معلوم ہوا کہ دہلی میں حکومت کے تین ڈزاسٹر مینجمنٹ سینٹر ہیں۔پوری دہلی میںصرف 150ایسے لوگ ہیں جنھوں نے ڈزاسٹر مینجمنٹ کی ٹریننگ لی ہے۔ ان تینوں سینٹروں میں ایک ہی وقت پر صرف 15لوگ ہی تعینات رہتے ہیں ،جو بالکل نہیں کے برابر ہیں۔ ہم نے پولس افسران سے بات کی ۔ ان سینٹروں پر تعینات افسران سے جب پوچھا گیا کہ ایٹمی حملہ کو جھیلنے کے یہ سینٹر کتنے اہل ہیں ،تو وہ خاموش رہ گئے۔تمام افسران نے یہ مانا ہے کہ موجودہ وقت میں جو انتظام ہے وہ ایسے حملہ میں کسی بھی کام نہیں آئے گا۔ انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن کے سابق چیئر مین و دہلی میڈیکل ایسو سی ایشن کے رکن ڈاکٹر انل بنسل سے جب ہم نے پوچھا کہ ایٹمی حملہ کے بعد لوگوں کے علاج کے لئے دہلی کتنی تیار ہے تو ان کا جواب تھا کہ بم پھٹنے کے بعد یہاں کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ریڈیشن سے بچنے کے لئے ٹریٹمنٹ ہمارے پاس ہے ہی نہیں۔ریڈیشن ہونے سے فوری اثر ہوتا ہے اس کے لئے خاص ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے ،جو ہمارے پا س نہیں ہے۔ مخصوص طریقہ سے تربیت یافتہ ڈاکٹروں اور اسسٹنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ا س کے علاوہ الگ طرح کے ماسک اور کورس وغیرہ کی ضرورت بھی پڑتی ہے اور ڈیڑھ کروڑ لوگوں کے علاج کے لئے ہمارے پاس کوئی انتظام نہیں ہے۔ جب ریڈیشن ہوتا ہے تو جس کا جو نقصان ہونا ہوتا ہے وہ تو ہو چکا ہوتا ہے۔ ریڈیشن کے افیکٹ کو ٹریٹ کرنے کے لئے مخصوص گارڈس اور حفاظتی دستے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں کو بھی اپنی جان بچانے کے لئے اسپیشل کٹ پہننی پڑتی ہے، جو بیشتر اسپتالوں میں موجود نہیں ہے۔ جہاں ہیں بھی وہ بہت کم تعداد میں ہیں۔ بڑی سطح پر ایسے اثرات سے نمٹنا بہت مشکل ہے۔ڈاکٹروں کی حفاظت کے لئے ماسک، گائون اور گلوب کی ضرورت ہوتی ہے،جس سے ریڈیو ایکٹیو عناصر معالج کے جسم پر اثر نہ کر پائیں۔ اس کے علاوہ جو مریض ہوتے ہیں انہیں بھی وہ چیزیں پہننی پڑتی ہیں ،تاکہ ان کے جسم سے نکلنے والے ریڈیشن کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ اسپتالوں میں بھی اس طرح کے ٹریٹمنٹ کے لئے اسپیشل وارڈ ہونے چاہئیں۔ ظاہر ہے ڈاکٹر بنسل کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ ایٹمی حملہ کے بعد کے حالات اوپر والے کے ہی بھروسہ رہیں گے۔
اگر یہ حملہ ممبئی میں ہوا تو صورتحال مزید خطرناک ہو جائے گی، کیونکہ وہاں کی آبادی دہلی سے بھی زیادہ گھنی ہے۔ سب سے زیادہ دقت ممبئی کی بناوٹ سے ہوگی۔ممبئی دہلی کی طرح چاروں طرف پھیلی ہوئی نہیں ہے۔ممبئی ایک ٹاپو کی طرح ہے ۔ اس کے تین طرف سمندر ہے اور ایک طرف ندی ہے۔ ایٹمی حملہ کے بعد مچی تباہی اور شہر میں پھنسے لوگوں کو بچانے اور سامان پہنچانے کے راستے کم ہیں۔ اگر ندی پر بنے پلوں کو نقصان پہنچتا ہے تو پھر ممبئی میں پھنسے لوگوں کو بچانے میںکافی دقتیں پیش آئیں گی۔مدد کے انتظار میں ہی لوگ دم توڑتے رہیں گے۔ اس کے علاوہ سمندر کا پانی ریڈی ایشن کی گرفت میں آ جائے گا۔ جس کا اثر کئی دہائیوں تک نظر آئے گا۔ ملک کی معیشت کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ جس کا اثر پورا ملک محسوس کرے گا۔ ممبئی اور دہلی بڑے شہر ہیں۔ان کی وسعت اتنی ہے کہ ایٹمی حملہ کے باوجود یہاں پر لوگ زندہ بچ جائیں گے، لیکن پٹنہ، جے پور، بھوپال، بنارس اور لکھنؤ جیسے شہروں پر اگر یہ حملہ ہوتا ہے تو پلک جھپکتے ہی پورے شہر تاریخ بن جائیں گے۔
یہ حیرانی کی بات ہے کہ ایٹمی حملہ کا خطرہ ملک کے سامنے منڈلا رہا ہے، لیکن حکومت نے اب تک ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے نہ تو کوئی تیاری کی ہے اور نہ ہی کوئی منصوبہ بنایا ہے۔دہشت گردوں نے اگر یہ حملہ کیا تو وہ اچانک ہی ہوگا،اگر پاکستان سے میزائل کے ذریعہ حملہ ہوتا ہے تو کسی بھی میزائل کو دہلی پہنچنے میں دس منٹ سے زیادہ کا وقت نہیں لگے گا۔ ہمارے پاس سو فیصدی فل پرو رڈار بھی نہیں ہیں، جو پاکستان یا کسی بھی ملک سے آنے والے میزائل کی پہلے ہی پہچان کر سکیں۔جو رڈار ہمارے پاس ہیں وہ یہ تو بتا سکتے ہیں کہ کوئی میزائل یا فائٹر پلین ہماری سرحد میں داخل ہو گیا ہے، لیکن اس بات کا قطعی پتہ نہیں چلے گا کہ وہ پلین یا میزائل ایٹمی ہتھیار سے لیس ہے یا نہیں۔ مطلب یہ کہ جو کچھ ہوگا اچانک ہوگا۔ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی اور ایٹمی بم موت کا بادل بن کر چھا جائے گا۔زندہ بچے لوگوں کو بچانے کے لئے حکومت کے پاس وقت نہیں ہوگا، اگر ہم پہلے سے تیار نہیں ہیں تو ہمارے ملک میں موت کا منظر ہیرو شیما اور ناگا ساکی سے کئی گناہ دردناک اور خطرناک ہونے والا ہے ۔
ہم ان سوالوں کو اس لئے نہیں اٹھا رہے ہیں کہ ایٹمی ہتھیار اچھے ہیں یا برے یا پھر ان کا استعمال جائز ہے یا نہیں۔خطرہ ہمارے سامنے ہے۔پڑوسیوں کے پاس طاقتور بم ہیں۔ میزائلیں ہیں جن کے پاس نہیں ہیں وہ کچھ ہی سال میں حاصل کر لیں گے۔ اب تو یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ایٹم بم آ چکا ہے۔ ان بموں کا استعمال امریکہ یا فرانس پر نہیں ہونے والا ہے ۔ ان ہتھیاروں کا استعمال ہندوستان کے خلاف ہوگا۔ ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو،لیکن ہمیں اس آفت سے نمٹنے کے لئے تیار تو رہنا پڑے گا۔ ہم حکومت سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ایٹمی ہتھیاروں کے حوالہ سے ہمارے پاس یہ معلومات ہے۔ اگر یہ غلط ہے تو حکومت اسے غلط ثابت کرے اور اگر صحیح ہے تو اس کے لئے اب تک کوئی تیاری کیوں نہیں ہے؟ دولت مشترکہ کھیلوں کے نام پر ہم اتنا کچھ خرچ کر سکتے ہیں، لیکن ملک کے سامنے منڈلا رہے خطرات کے بارے میں حکومت کیوں فکر مند نہیں ہے؟ ہم یہ سوال اس لئے اٹھا رہے ہیں کہ یہ ملک کے شہریوں کی حفاظت اور بچائو کے سوال ہیں۔ہماری یہ فکر نہیں ہے کہ ایٹمی حملہ کے بعد ہندوستان کیا کرے گا، یا پھر پاکستان کے کتنے شہروں پر ہماری فوج ایٹم بم گرائے گی۔
لیکن اگر حکومت ہندان دس منٹوں میں پاکستان پر ایٹمی حملہ کر دیتی ہے تو لاہور، اسلام آباد،راول پنڈی اور کراچی نہ صرف پوری طرح تباہ ہو جائیںگے ، بلکہ تاریخ کا حصہ اسی طرح بن جائیں گے، جس طرح ہم بنیں گے۔ایسے حالات میں نہ حکومتیں باقی رہیں گی اور نہ دہشت گرد۔ ہندوستان کے پاس ایٹمی طاقت پاکستان سے بہت زیادہ ہے۔ پاکستانی ایٹمی ہتھیار امریکہ کی کتنی بھی نگرانی میں ہوں، جنونی دہشت گردوں کی رسائی سے بہت دور نہیں ہیں۔اس سوال پر دونوں حکومتوں کو اپنے اپنے عوام کو بچانے کے لیے بچوں کی طرح لڑنا چھوڑ کر ایماندار اور سنجیدہ قدم فوراً اٹھانے چاہئیں۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

One thought on “ایک ایٹم بم ،ہندو مسلم دلی ختم

  • December 17, 2012 at 8:21 pm
    Permalink

    مسلمان ایسا کر سکتا ہے نہ ہی اسلام اسکی اجازت دیتا ہے.. شاید کوئ ہندو جنونی ایسا کر گذرے

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *