اترا کھنڈ کنٹریکٹ تقرریاں، گولمال ہے بھئی سب گول مال ہے

شیو کمار
ڈاکٹر  رمن سنگھ نے جب پہلی بار وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں پالیسی اور نیت کی بات کہی تھی۔ ڈاکٹر رمن سنگھ نے کہا تھا کہ ان کی سرکار کی نیت صاف ستھری اور پالیسی واضح رہے گی۔رمن سنگھ کو چھتیس گڑھ کی حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے سات سال ہونے والے ہیں، اسی کے ساتھ حکومت کی نیت اور پالیسی پر سوالیہ نشان لگنے شروع ہوگئے ہیں۔ تازہ معاملہ یہ ہے کہ ریاستی حکومت کے محکمہ دیہی صنعت کے اصولوں کو درکنار کرتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر ایڈیشنل کنٹرولر کے عہدہ کے خلاف بنگلور کے مرکزی ریشم بورڈ سے سائنسداں سی کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے ایک افسر کوبطور تکنیکی ماہرکنٹریکٹ پر رکھ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پر دباؤ ڈال کر حقیقی اطلاع دیے بغیر ریاست کے چیف سکریٹری نے مذکورہ تقرری کو انجام دیا ہے۔ اس عہدہ کے لیے ضابطے کے مطابق کوئی اشتہار بھی شائع نہیں کیا گیا۔ چھتیس گڑھ میں کنٹریکٹ تقرری کے نام پر افسران بڑے کھیل کھیل رہے ہیں۔ ریاست کے بجلی  پنچایت، پولس اور محکمۂ دیہی صنعت میں ایسی تقرریاں ہوئی ہیں۔ محکمۂ بجلی میں مرکز سے ڈیپوٹیشن پر آئے ایک بڑے افسر اور محکمہ بجلی کے سکریٹری رہے امن سنگھ سے استعفیٰ کر ان کی کنٹریکٹ  تقرری اسی عہدہ پر کر دی گئی۔ وہ انڈین ریوینیو سروس سے تھے۔ آئی اے ایس نہیں ہونے کے باوجود محکمۂ بجلی کے سکریٹری کے عہدہ پر ان کی تقرری کے سبب احتجاج ہو رہا تھا اور مرکز نے ان کی ڈیپوٹیشن کی مدت میں اضافہ سے انکار کر دیا تھا۔ اسی طرح محکمۂ دیہی وپنچایت سے سبکدوش ہوئے کو آرڈی نیٹرسوتی کی کئی مرتبہ کنٹریکٹ پرتقرر کی گئی۔ محکمہ پولس میں بھی قوانین کو درکنار کرتے ہوئے سی ایس پی بامبرا اور بی بی ایس راجپوت کو کنٹریکٹ پر تقرری دی گئی اور انہیں غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا۔ غور طلب ہے کہ ریاست کے پبلک سروس کمیشن نے ان تقرریوں پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تقرریوں اور ڈیپوٹیشنوں سے ریاست میں بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ محکمۂ دیہی صنعت میں ایڈیشنل کو آرڈی نیٹر کے عہدہ پرکو آرڈی نیٹر کی تنخواہ پر بطور تکنیکی ماہرجے وی کرشنا راؤ کی کنٹریکٹ تقرری میں محکمہ کے سکریٹری نے چیف سکریٹری کے اشارے پر قوانین کو جم کر نظر انداز کیا۔ سب سے پہلے تو وزیراعلیٰ کو یہ جھوٹی اطلاع دی گئی کہ متعلقہ محکمہ میں 230کروڑروپے کی ایک بڑی اسکیم تیار ہے، جس کے لیے تکنیکی ماہر کی ضرورت ہے، جب کہ ایسی کسی اسکیم کونہ توریاستی حکومت اور نہ ہی مرکزی حکومت کی منظوری ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ کوئی اشتہار بھی شائع نہیں کیا گیا۔ کنٹریکٹ تقرری جس عہدے کے خلاف کی گئی وہ پرموشن کا عہدہ ہے اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈٖپارٹمنٹ کے ضابطہ کے مطابق یہ تقرری جائز ہی نہیں ہے۔ کرشنا راؤ نے کبھی بھی ریاست چھتیس گڑھ میں اپنی خدمات نہیں دی ہیں اور وہ مرکزی ریشم بورڈ بنگلورو سے جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے ہیں۔ انہیں جس عہدہ پر تقرر ی دی گئی وہ عہدہ جوائنٹ ڈائریکٹر سے بڑا عہدہ ہے۔ ان کی خاص اہلیت، تجربہ اور تکنیکی تعلیم کی وضاحت بھی تقرر نامہ میں نہیں کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ چھتیس گڑھ سول سروس (کنٹریکٹ) تقرری ضابطہ 2004 میں دی گئی سہولت کی دفعہ کے مطابق پرموشن سے بھرے جانے والے عہدوں کو کنٹریکٹ تقرری کا عہدہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔
اس تقرری کے لیے چیف سکریٹری پی جائے امّین نے محکمۂ دیہی صنعت سے ایک تجویز منگائی اور اپنے تبصرہ میں لکھا کہ محکمہ کے سکریٹری کے ذریعہ ریاست میں  مجوزہ ریشم اسکیم کے لیے ایک باصلاحیت تکنیکی ماہرکی تقرری انتہائی ضروری ہے اور مرکزی ریشم بورڈ کے سبکدوش جوائنٹ ڈائریکٹر راؤ اس کام کے لیے سب سے زیادہ موزوں ہیں اور ایڈیشنل کو آرڈی نیٹر کے عہدہ کے خلاف راؤ کی تقرری کنٹریکٹ بیس پر ایک برس کے لیے کی جانی مناسب ہے۔ انہوں نے اس نوٹ شیٹ پر وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ سے اجازت بھی لے لی۔ جب یہ نوٹ شیٹ محکمۂ دیہی صنعت کے وزیر پنا لال موہیلے کے پاس پہنچی تو انہوں نے اس پر سخت رد عمل کا اظہار کیا اور ریاست میں دستیاب ماہرین کی اطلاع مانگی، جس پر محکمہ کے سکریٹری نے جواب میں لکھاکہ ریاست میں ایسا کوئی ماہر موجود ہی نہیں ہے۔ محکمۂ دیہی صنعت کے سکریٹری نارائن سنگھ نے اپنے تبصرہ میں لکھا کہ محکمہ جاتی افسران سے بات چیت کی گئی۔ کرشنا راؤ کے لمبے تجربے اور تکنیکی علم کے برابر نہ تو موجودہ وقت میں کوئی تجربہ کار افسر موجود ہے اور نہ ہی کوئی سبکدوش افسر۔محکمۂ مالیات نے بھی اس کنٹریکٹ تقرری کو لے کر کئی سوال کھڑے کیے۔ محکمۂ مالیات کے ایڈیشنل سکریٹری نے اپنے تبصرہ میں لکھا کہ ایڈیشنل کو آرڈی نیٹر کا عہدہ پرموشن کا ہے، اس لیے اس عہدہ پر کنٹریکٹ تقرری کے لیے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی رضامندی ضروری ہے۔ انہوں نے کنٹریکٹ تقرری پر کنٹریکٹ تنخواہ کو لے کر بھی سوال اٹھائے، جس پر محکمہ کے سکریٹری نے گول مول تبصرہ نوٹ شیٹ پر تحریر کر دیا۔
محکمۂ دیہی صنعت کے سکریٹری نے کنٹریکٹ تقرری میں دلچسپی لیتے ہوئے اپنی نوٹ شیٹ میں لکھاکہ جب تک پرموشن ممکن نہ ہو سکے تب تک کے لیے خاص حکم  سے ایسے عہدے کنٹریکٹ کے ذریعہ پر کیے جاسکیںگے۔ انہوں نے تجویز بھیج دی کہ راؤ کو تکنیکی ماہرکی شکل میں کو آرڈی نیٹر دیہی صنعت عہدہ کے خلاف تنخواہ دیتے ہوئے کنٹریکٹ تقرری دے دی جائے۔ جب کہ یہ عہدہ آئی اے ایس سطح کا ہے اور راؤ اس سے کمتر جوائنٹ ڈائریکٹر کے عہدہ سے سبکدوش ہوئے ہیں، چنانچہ یہ بھی قانون کے خلاف ہی ہے۔
محکمے کے وزیر نے اپنی نوٹ شیٹ پر یہ واضح طور پر لکھا تھا کہ یہ تقرری موجودہ وقت میں عہدوں پر فائز افسران کی ترقی متاثر نہیں ہونے پر ہی کی جائے۔باوجود اس کے یہ تقرری کر دی گئی۔ اس تقرری سے ایسے 9 عہدے متاثر ہوئے ہیں۔ جب محکمۂ مالیات کے ایڈیشنل سکریٹری نے اپنی نوٹ شیٹ میں اس کنٹریکٹ تقرری کے سلسلے میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی رضامندی کو ضروری قرار دیا تو فائل چیف سکریٹری کے پاس بھیج دی گئی اور انہوں نے اپنا تبصرہ دیکھنے اور رضامندی کے سلسلہ میں گول مول حکم دے دیا۔ محکمۂ مالیات نے بعد میں اپنی نوٹ شیٹ میں یہ لکھ دیا کہ حالانکہ کنٹریکٹ تقرری کے لیے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی رضامندی ضروری ہے، لیکن تجویز پر چیف سکریٹری کے ذریعہ سے وزیر اعلیٰ کی اجازت حاصل ہے۔محکمۂ مالیات نے پوچھا کہ کیا اسے ہی جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کی اجازت مان لی جائے؟
محکمۂ مالیات نے یہ بھی اہم سوال اٹھایا کہ پہلے محکمہ دیہی صنعت کے ذریعہ ایڈیشنل کو آرڈی نیٹرکے عہدہ پر کنٹریکٹ تقرری کی تجویز رکھی  گئی تھی پھر بعد میں کو آرڈی نیٹر کے عہدہ کے خلاف تنخواہ دیتے ہوئے کنٹریکٹ تقرری کی تجویز رکھی گئی ، جس کے جواب میں کہا گیا ہے کہ اس کے لیے وزیر اعلیٰ اور چیف سکریٹری کی اجازت محکمہ کی نوٹ شیٹ میں حاصل ہے۔ بعد میں اس حوالے پر راؤ کو مذکورہ تقرری دے دی گئی۔ جب کہ اس تقرری کے سلسلہ میں جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ میں باقاعدہ کوئی نوٹ شیٹ ہی نہیں چلی اور وزیر اعلیٰ کی اجازت کو ہی محکمہ کی رضامندی مان لیا گیا۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وزیر اعلیٰ کو ضوابط کی اطلاع تھی؟ کیا مذکورہ تقرری کے حوالے سے انہیں محکمہ کے وزیر اور محکمۂ مالیات کے شبہات سے آگاہ کرایا گیا تھا؟ یہاں یہ دھیان دینا ضروری ہے کہ وزیر اعلیٰ ہی وزارت مالیات اور جنرل ایڈمنسٹریشن ڈپارٹمنٹ کے وزیر ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ 230کروڑ کا کوئی منصوبہ نہیں ہونے کے باوجود تکنیکی ماہرکی کیوں اور کیسے تقرری کر لی گئی ؟محکمہ کے سکریٹری اور چیف سکریٹری نے اس کنٹریکٹ تقرری کو لے کر اتنا زور کیوں دیا؟ دباؤ کیوں بنایا؟ اور براہ راست وزیر اعلیٰ سے اجازت کیسے لے لی گئی؟ قابل غور بات یہ ہے کہ محکمۂ دیہی صنعت کے سکریٹری نارائن سنگھ کے خلاف پبلک کمیشن میں معاملہ درج ہے اور چیف سکریٹری پی جے امّین اور راؤپہلے مرکزی ریشم بورڈ میں ایک ساتھ کام کر چکے ہیں۔
واضح ہو کہ چھتیس گڑھ پبلک کمیشن کے چیف پبلک کمشنر ایل سی مادو نے دفعہ 16کے تحت مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست میں ڈیپوٹیشن اور کنٹریکٹ تقرری فوری بند کر کے پاور کمیٹی بنائی جائے، جس میں چیف سکریٹری، مالیات کے سکریٹری، لا سکریٹری، جنرل ایڈمنسٹریشن سکریٹری اور رجسٹرار جنرل کے علاوہ محکمہ کے سربراہ کو شامل کیا جانا چاہیے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *