بالی ووڈ کا پیار اور میڈیا کی حماقت

ریتیکا سونالی
اسے میڈیا کی حماقت ہی کہیں گے، جو حقیقت سے پردہ اٹھانے کے بجائے جھوٹ فروخت کرنے والوں کے چنگل میں پھنس کر ٹی وی اور اخبارات میںایسی خبریں شائع کر دیتا ہے جس کا سماج پر منفی اثر پڑتا ہے۔ ایسی کیا بات ہے کہ جب بھی کسی اداکارہ کی فلم ریلیز ہونے والی ہوتی ہے توعین وقت پر اس کی زندگی میں نیا عاشق آ جاتا ہے یا پھر کوئی تنازعہ کھڑاہو جاتا ہے۔ ایسی جھوٹی خبریں آسانی سے فروخت ہو جاتی ہیں، اس لئے آج کے نامہ نگاروں نے حقیقت کی گہرائی تک جانا چھوڑ دیا ہے۔
آج کل فلم اداکارائوں اور اداکاروں کے بدلتے رشتوں کی خبریں مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔ ان خبروں کو دیکھ اور پڑھ کر ناظرین اور قارئین کو یہ یقین ہونے لگا ہے کہ بالی ووڈ میں رشتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ پیار محبت جیسی چیزیں بیکار ہو گئی ہیں۔ ان خبروں سے سماج کو یہ پیغام ملتا ہے کہ زمانہ بدل رہا ہے۔ ہمارا سماج بندھنوں سے آزاد ہو کر اپنی الگ شناخت بنا رہا ہے ،جہاں پہلے جیسے احساسات و جذبات اور پیار جیسی چیزوں کی کوئی جگہ نہیں رہ گئی ہے۔ ایسی خبریں بدلتے ہوئے سماج اور نئی نسل کے خیالات و اخلاق کا چہرہ پیش کرتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ فلم اداکارائوں کے رشتوں کے حوالے سے شائع ہونے والی بیشتر خبریں حقیقت نہیں ہوتیں۔
حال ہی میں سبھی ٹی وی چینلوں پر یہ خبر چل رہی تھی کہ دپیکا پاڈوکون کی زندگی میں کوئی نیا عاشق آیا ہے۔ یہ وہی دپیکا ہیں جو ’’اوم شانتی اوم ‘‘ کے مرکزی کردار میں تھیں، اسی وقت ریلیز ہونے والی ایک اور فلم تھی ’’سانوریا‘‘جس کے ہیرو رنبیر کپور تھے۔ دونوں فلمیں ایک ساتھ ریلیز ہوئی تھیں۔پروموشن کے دوران دپیکا شاہ رخ کے ساتھ اور رنبیر کپور کے ساتھ انل کپور کی بیٹی سونم کپور تھیں۔ اس دوران ایک بھی سچ کسی ٹی وی چینل پر نہیں دکھا یا گیا کہ رنبیر کپور اور دپیکا کافی وقت سے ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔حد تو تب ہو گئی، جب سچ بتانے کے بجائے رنبیر کپور اور سونم کپور کے عشق کی جھوٹی خبریں دکھائی جانے لگیں۔دپیکا کی دوسری فلمیں آتی گئیں اور میڈیا کی بدولت ان کے رشتے کبھی دھونی سے تو کبھی یوراج سنگھ کے ساتھ جڑتے چلے گئے۔دپیکا کی جب بھی کوئی نئی فلم ریلیز ہونے کا وقت آتا ہے تو ان سے جڑی جھوٹی کہانیاں ٹی وی اور اخبارات کی زینت بن جاتی ہیں۔ حال ہی میں آئی فلم ’لفنگے پرندے‘ سے دپیکا پاڈوکون اور نیل نتن مکیش کے عشق کی افواہیں اڑنے لگیں ۔ تمام چینلوں نے گھنٹہ بھر کا  پروگرام دکھا کر ان کے معاشقے کی تصدیق بھی کی ۔  خبر کے ساتھ عام طور پر جتنی ناشائستہ زبان کا استعمال کیا جا سکتا تھا،اس کا استعمال تمام چینلوں اور اخباروں نے کیا ۔اسٹاروں کے عشق کی خبریں میڈیا میں تفریح کی سب سے اہم چیزیں بن گئی ہیں۔ ایسا صرف دپیکا کے ساتھ ہی نہیںہے، بالی ووڈ کے ’لو بڈرس‘ مانے جانے والے کرینہ کپور اور شاہد کپور کی فلم ’جب وی میٹ ‘کے پروموشن کے وقت فلم کا پروموشن کم دونوں کے عشق کا پروموشن زیادہ ہوا۔یہاں تک کہ دونوں کا ایم ایم ایس بھی آ گیا جسے خوب نشر کیا گیا۔ اس طرح کی خبریںدیگر اداکارائوں کے بارے میں بھی شائع ہو چکی ہیں۔ ایسا تبھی ہوتا ہے جب ان کی فلم آنے والی ہوتی ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی خبروں پر اداکارائیں فوری طور پر ردعمل بھی نہیں دیتی ہیں۔فلم کے ریلیز ہونے کے ایک دو ہفتے بعد وہ ان خبروں کی نہایت آسانی سے تردید کردیتی ہیں اور بات آئی گئی ہو کر رہ جاتی ہے۔سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس طرح کی خبریں آتے ہی اداکارائیں فوری طور پر ان کی تردید کیوں نہیں کرتیں اورکیا وجہ ہے کہ فلم ریلیز ہونے کے وقت ہی میڈیا میں اس طرح کی خبریں لگائی جاتی ہیں۔کیا اس طرح کی خبروں کو جان بوجھ کر شائع کیا جاتا ہے۔اصلیت یہ ہے کہ آج  میڈیا میں کام کرنے والے فلمی نامہ نگاروں کے پاس سچائی سمجھنے اور جاننے کی نہ تو اہلیت ہے اور نہ ہی ان کے اندر  محنت کرنے کا حوصلہ ہے۔ان کے لئے پریس ریلیز ہی سب کچھ ہوتاہے۔حالانکہ پریس ریلیز میں وہی لکھا جاتا ہے جسے کوئی شخص یا ادارہ شائع کروانا چاہتا ہے۔جبکہ نامہ نگاروں کا کام ہوتا ہے چھپی چیزوں کو باہر نکالنا۔اس معاملہ  میں آج کے دور میں سب سے خراب حالت فلموں کی ہے۔ فلموں سے وابستہ بیشتر خبریں پی آر ایجنسیوں کے ذریعہ آتی ہیں۔مطلب یہ ہے کہ فلموں کے پروموشن کے لئے فلمساز پبلک رلیشن اداروں کو اپنا ایجنٹ بناتے ہیں۔ان ایجنسیوں کا کام فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے اسے زبان پر لانا ہوتا ہے ۔ہندوستان میں ان ایجنسیوں کو یہ غلط فہمی ہو گئی ہے کہ فلم ریلیز ہونے سے پہلے کوئی تنازعہ کھڑا ہو جائے تو فلمیں خود بخود ہٹ ہو جائیں گی۔یہی وجہ ہے کہ ریلیز ہونے والی فلم کے اداکاروں اور اداکارائوں کے رشتے کو لے کر کچھ تنازعہ کھڑا کیا جاتاہے۔جبکہ اصل زندگی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ فلموں کو ہٹ بنانے کے لئے یہ ایجنسیاں جھوٹی خبریں پھیلا دیتی ہیں۔ اسی کام کے لئے یہ ایجنسیاں فلمسازوں سے پیسہ لیتی ہیں۔ مگر ان خبروں کو شائع کرنے والے نامہ نگاروں کی حماقت کا عالم یہ ہے کہ انہیں پبلک رلیشن کمپنیوں کا یہ کھیل نظر نہیں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان خبروںکی نہ تو کبھی تصدیق ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے چل رہے کھیل کا پردہ فاش ہو پاتا ہے۔بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ایسی خبریں اس بات کا ثبوت ہیں کہ نامہ نگاروں کا معیار دن بدن گھٹتا چلا جا رہا ہے۔
بالی ووڈ کے اداکار اور اداکارائوں کے معاشقہ کی خبریں کوئی نئی بات نہیں ہے مگر وہ زمانہ اور تھا جب کسی فلم اداکارہ کے رشتوں کے بارے میں کوئی خبر آتی تھی تو پورا ملک اس خبر کو لے کربے قرار ہو جاتا تھا۔زبان کااستعمال بھی ہوشیاری سے کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی جب ٹی وی پر کسی پروگرام میں ریکھا اور امیتابھ بچن کو ایک ساتھ دیکھتے ہیں تو یہ جاننے کو بے چین ہو جاتے ہیں کہ ریکھا نے امیتابھ کو کس طرح دیکھا یا پھر امیتابھ نے ریکھا کی طرف نظر ڈالی یا نہیں۔ آج کے دور کے اسٹاروںکی پریم کہانیاں نہ کسی ناظر کے من میں کسک پیدا کرتی ہیں نہ ہی کوئی ہمدردی پیدا کرتی ہیں۔
میڈیا اپنی بے وقوفی کا ثبوت چیخ چیخ کر ایسی خبریں دکھاکر پیش کرتا ہے۔ اکثر کسی فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے فلم کی ہیروئن اور ہیرو کے معاشقہ کی خبریں ہر نیوز چینل آدھے گھنٹے تک چلاتا ہے۔ ایسے میںان کے گزشتہ معاشقہ کو توڑ کر ، آنے والی فلم میں ان کے ساتھ کام کرنے والے اسٹار کے ساتھ نام جوڑ دیاجاتا ہے۔ ایسا کرنے کے پیچھے وجہ صرف ایک ہی ہوتی ہے وہ ہے فلم کا پروموشن۔ کئی بار فلم پروڈکشن کے کانٹریکٹ کی بے بسی ہوتی ہے تو کبھی فلم کو عوام کے بیچ تبصرے کا موضوع بنانے کا طریقہ  لیکن فلمی نامہ نگار یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کی اس بے وقوفی کا کیا نتیجہ ہوگا۔ ملک کے گائووں، شہروں میں سینکڑوں ایسے لوگ ہیں جو بالی ووڈ، ماڈلنگ یا کوئی بھی پبلک انٹرسٹ والی انڈسٹری میں کریئر بنانے پر غور کر رہے ہوتے ہیں، ایسے میں اس طرح کی خبر ان لوگوں کے سرپرستوں کے دل میں شک پیدا کرتی ہے۔بالی ووڈ کی گلیاں بے وجہ بدنام ہوتی رہتی ہیں اور انہیں بدنام کرنے میں سب سے بڑا رول میڈیا ادا کرتا ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ پہلے بالی ووڈ میں ہونے والے معاشقوں پر کوئی خبر یا افواہ نہیں اڑتی ہوں، مگر اس وقت ان خبروں کو بے حد حساسیت کے ساتھ ناظرین کے سامنے پیش کیا جاتا تھا، اس وقت اب کی طرح پھوہڑپن نہیں تھا۔ ملک کے عوام نہ تو ریکھا کو جانتے ہیں اور نہ ہی انہیںامیتابھ بچن سے ملنے اور جاننے کا موقع ملتا ہے۔ ایسی ہی بات بالی ووڈ کے دوسرے اداکار اور اداکارائوں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے۔ خبر دیکھنے اور پڑھنے والے میڈیا کے وسیلہ سے ان کے بارے میں شبیہ بناتے ہیں۔ ایسی جھوٹی خبریں خطرناک ہیں۔ یہ بھرم پیدا کرتی ہیں۔ لوگوں کوگمراہ کرتی ہیں۔ ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں انسانی ہمدردی اورعزت و ناموس  کی خاص اہمیت ہے۔اسے میڈیا کی غلطی کہیں یا حماقت یہ ہمارے سماج کے تانے بانے پر ہی ضرب لگا رہی ہے۔

رتیکا ایس برنوال

نوجوان طبقہ کی نبض کو پڑھنے اور ان کی امنگوں کو بیان کرنے میں ماہر رتیکا ایس برنوال ہمیشہ کچھ الگ کرنےکو کوشاںرہتی ہیں۔

Latest posts by رتیکا ایس برنوال (see all)

Share Article

رتیکا ایس برنوال

نوجوان طبقہ کی نبض کو پڑھنے اور ان کی امنگوں کو بیان کرنے میں ماہر رتیکا ایس برنوال ہمیشہ کچھ الگ کرنےکو کوشاںرہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *