پیسے کے پیچھے بھاگتا بالی ووڈ

پرینکا پریم تیواری
ایک چھوٹی سی فلم کے پروڈکشن سے 1899میں بالی ووڈ انڈسٹری کی شروعات ہوئی تھی۔ 1913میں آئی دادا صاحب پھالکے کی فلم’ راجا ہریش چندر‘ بالی ووڈ میں پہلی خاموش فلم تھی۔ اس کے بعد 1930میں پہلی سائونڈ فلم اردیش ایرانی کی ’’عالم آرا‘‘ تھی، جو سنیما جگت میں بہت بڑی ہٹ فلم کی شکل میں درج ہے۔اس کے بعد بالی ووڈ میں آواز والی فلمیں بننے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 1899میں بالی ووڈ میں ایک شارٹ فلم بننے کے تقریباً 11سال بعد یعنی 1910میں ہالی ووڈ کا جنم ہوا۔ہالی ووڈ کی پہلی پروڈکشن ایک بایو گرافک میلوڈرامہ تھی۔ سال 2006میں بالی ووڈ انڈسٹری نے 1.75بلین ڈالر کی کمائی کی تھی، جبکہ اسی سال ہالی ووڈ کی والٹ ڈجنی اسٹوڈیو کی آمدنی اس کی دوگنی تھی۔انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق یہ امید کی جا رہی تھی کہ 2010کے آخر تک بالی ووڈ کی آمدنی کی رقم بڑھ کر3.4بلین ڈالر ہو جائے گی مگر سال کے ابتدائی چھ ماہ گز جانے کے بعد اب تک بالی ووڈ کی صرف ایک فلم پرکاش جھا کی ’راج نیتی‘‘ ہی بہتر کاروبار کر پائی ہے ۔جبکہ اب تک بالی ووڈ میں125بڑی فلمیں ریلیز ہوئی ہیں۔ انڈسٹری کو پہلے سال کے پہلے چھ ماہ میں450-500کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے پھر بھی دھڑلے سے فلمیں بننے کا سلسلہ کم نہیں ہوا ہے۔
ہالی ووڈ میں ہر سال تقریباً500فلمیں بنتی ہیں جبکہ بالی ووڈ میں ہر سال تقریباً1000فلمیں بنتی ہیں۔ پوری دنیا کے سنیما کے مقابلہ ہالی ووڈ میں کافی کم فلمیں بنتی ہیں، مگر یہاں جتنی بھی فلمیں بنتی ہیں ان کا 75فیصد ٹیکس جمع ہو جاتا ہے ۔ وہاں کی فلموں کی 50فیصد آمدنی غیر ممالک سے ہی آ جاتی ہے اور امید یہ کی جا رہی ہے کہ یہ آمدنی آنے والے 10-12سالوں میں80فیصد بڑھ جائے گی۔اس طرز پر دیکھا جائے تو بالی ووڈ کی فلمیں غیر ممالک میں صرف بیس فیصد کاروبار کر پاتی ہیں۔ہر سال فلم سازی میں ہونے والے اضافہ کے باوجود بالی ووڈ فلموں میں لگنے والا پیسہ آمدنی کیوں نہیں کرا پاتا یہ فکر کا موضوع ہے۔
سنیما کو ہمیشہ سے دو زمروں میں تقسیم کیا جاتا رہا ہے۔ ہمارے یہاں کے سنیما  میں ایک طرف شہرت اور دولت ہے اور دوسری جانب ان چیزوں کا فقدان ہے۔بالی ووڈ کی فلموں کو آرٹ اور کمرشیل دو زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کمرشیل فلمیں انٹر ٹینمنٹ کو سامنے رکھ کر بنائی جاتی ہیں۔ ایسی فلمیں کامیڈی، رومانس، سسپینس، آسیب وغیرہ موضوعات کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ ایسی فلموں میں کیمرے کا جادو خوب دکھایا جاتا ہے، مگر یہ فلمیں منطقی نہیں ہوتیں اور فلم کی کہانی پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ان موضوعات پر بننے والی بیشتر فلمیں بڑے بجٹ کی ہوتی ہیں۔جبکہ فلم سازی کا دوسرا پہلو، آرٹ فلمیں سماج کو متاثر کر رہے ایشوز، سماجی بیداری، سماج میں دبے ہوئے اہم حقائق اور معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔ کہانی کو بغیر توڑے موڑے حقیقت سے روبرو کراتے ہوئے پردے پر پیش کیا جاتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سماج کو آئینہ دکھاتی ان فلموں کی تعمیر میں فلمسازوں اور ہدایت کاروںکی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی اور یہی وجہ ہے کہ یہ فلمیں بہترین کہانی اور حقیقی سنیما لوگوں تک پہنچا پانے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔ایسی فلموں میں اکثر پیسے کا فقدان ہوتا ہے، جس کی وجہ سے فلم کی پیشکش پر خاص توجہ نہیں دی جاتی، جبکہ تڑک بھڑک والی بیکار فلموں میں ڈائریکٹر پیسہ لگانے سے نہیں چوکتے ۔ آرٹ فلموں کی سادہ اور معمولی پیشکش سے اکثر ناظرین ان فلموں کو سست، تھکائووغیرہ کے لقب دیتے ہیں۔ کئی آرٹ فلمیں ایسی ہیں جن کے نام تک لوگوں کو پتہ نہیں چل پاتے ہیں مگر ان فلموں کے بھی محدود ناظرین ہوتے ہیں،جنہیں دانشمند ناظر کہتے ہیں۔ مگر پھر بھی یہ فلمیں بہتر کاروبار نہیں کر پاتی ہیں جبکہ عالمی سطح پر مضبوط سنیما کے طور پر انہیں فلموں کا تذکرہ ہوتا ہے۔
گزشتہ کچھ سالوں میں کمرشیل فلموں کے باکس آفس پر دھوم مچانے کے لئے زور شور سے تشہیر کرنے میں ہدایتکار وں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ کئی بار دانستہ طور پر فلموں کومتنازع بنادیا جاتا ہے تاکہ ناظر ین انہیں اسی بہانے دیکھنے آئیں اور فلمیں زیادہ کمائی کریں، لیکن آرٹ فلموں کی جانب شاید ہی کوئی ہدایتکار اس طرح سے توجہ دیتا ہے۔ اس طرح فلم انڈسٹری میں آنے والا پیسہ برباد ہوتا رہتا ہے اور اچھی فلمیں پردے پر آنے سے پہلے ہی غائب ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں فلمی دنیا اپنی پہچان کھوتی جا رہی ہے۔ اب فلمیں غیر ملکی خیالات پر بنتی ہیں، لیکن مغرب کو کاپی کرنے کے بعد بھی فلم بہتر کاروبار نہیں کر پا رہی ہیں۔گزشتہ سال تمام نسخوں کے باوجود کچھ فلمیں ہی ناظرین کو اپنی جانب کھینچنے میں کامیاب ہوئیں،بیشتر فلمیں فلاپ ہو گئیں۔ بلو باربر ،بلیو، قربان،کمبخت عشق، دل بولے ہڑپا،چاندنی چوک ٹو چائنا،دے دنادن جیسی فلمیں کروڑوں کی لاگت سے بنی تھیں، لیکن ناظرین کو پسند نہیں آئیں۔وہیں عرفان خان کی ’’تھینکس ماں‘‘ نصیر الدین شاہ کی ’’بولے رام‘‘ اور اپرنا سین گپتا کی ’’جیپنیز وائف‘‘ کو بے حد کامیابی ملی لیکن یہ کامیابی صرف تبصرہ نگاروں تک ہی بنی رہی، ناظرین تک پہنچ ہی نہیں پائی۔فلم بنانے والے لوگ ایسی فلموں پر رسک نہیں لینا چاہتے اور نہ پیسہ اور وقت برباد کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ اپنی محنت اور اپنا وقت ایک ایسی فلم پر لگانا چاہتے ہیں ، جو انہیں دولت اور شہرت دے۔ ایسے میں ہندی سنیما اپنی اہم شناخت کھوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ مدھر بھنڈارکر جیسے کچھ فلمسازوں نے درمیان کا راستہ اختیار کر کے ایک مثال پیش کی ہے۔ ان کی فلمیں نہ تو آرٹ فلموں کی طرح سست ہوتی ہیں اور نہ ہی پوری طرح سے کمرشیل ہوتی ہیں۔ ان میں کاروبار اہم ہوتا ہے مگر حقیقت کے ساتھ پیغام بھی ہوتا ہے۔ مدھر بھنڈارکر کے مطابق آج زبردست مسالا فلموں کے دور میں معاشرے کے حقائق کو سامنے لانے والی فلمیں بنانا مشکل بھرا کام ہے۔ وہ جس طرح کی فلمیں بناتے ہیں، وہ کسی سماجی ایشو پر مبنی ہوتی ہیں۔بالی ووڈ میں موجود فلمساز،ہدایت کار بھی اگر مدھر بھنڈارکر کے راستہ پر چلتے ہیں تو بالی ووڈ میں برباد ہوتا پیسہ اور وقت ہمارے سنیما کو بہتر سمت میں لے جانے میں کامیاب ہوگا ورنہ فلم سازی کے گرتے معیار سے اوپر اٹھ پانا بالی ووڈکا خواب ہی رہ سکتاہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *