کتنا بدل گیا بالی ووڈ

سونیکا گپتا
انیس سو اڑسٹھ میں آئی ہندی فلم ’’سروستوی چندر ‘‘ کا یہ نغمہ آج بھی کہیں سنائی دیتا  ہے تو دل میں محبت کی دھنیںبج اٹھتی ہیں۔اسی طرح1962 میں آئی فلم ’’20سال بعد‘‘ کا نغمہ’’کہیں دیپ جلے ، کہیں دل‘‘ سن کر جدائی کی آگ میں جل رہے عاشقوں کے زخم ہرے ہو اٹھتے ہیں۔فلم ’’کبھی کبھی ‘‘ کے نغمہ ’’کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے‘‘ میں مکیش اور لتا منگیشکر کی آواز جیسے جیسے پروان چڑھتی ہے ، دل میں ایک عجیب سی کسک کا احساس ہونے لگتا ہے، گویا بڑی مشکل سے بھولا اپنا پہلا پیار یاد آ رہا ہو، لیکن ہندی فلموں کاوہ ایک الگ دور تھا ، جب گانوں کے الفاظ میں ایک پیغام چھپا ہوتا تھا جنہیں تخلیق کرتے تھے مجروح سلطانپوری، ساحر لدھیانوی ، حسرت جے پوری،گوپال داس نیرج،شکیل بدایونی اور اندیور جیسے تخلیق کار ،لیکن آج زمانہ بد ل چکا ہے۔ آج بالی ووڈ اپنی شناخت ہالی ووڈ کی طرح بنانا چاہتا ہے اور اس لئے اب فلم کا ہیرو بے جھجھک گاتا ہے’’میری پینٹ بھی سیکسی، میری شرٹ بھی سیکسی‘‘ 2004میں آئی فلم ’’دلارا‘‘کا یہ نغمہ بتاتا ہے کہ تبدیلی کی چاہت نے بالی ووڈ کا کردار ہی بدل ڈالا ہے اور افسوس اس بات کا ہوتا ہے کہ اب اس منفی تبدیلی کے خلاف کہیں سے کوئی آواز بھی نہیں اٹھتی۔آج سے 14سال قبل کی بات ہے، راجیہ سبھا کی ایک خاتون ممبر نے فلم ’’موہرا‘‘ کے نغمہ ’’تو چیز بڑی ہے مست مستــ۔۔‘‘کے الفاظ پر اعتراض ظاہر کرتے ہوئے ہندی فلمی نغموں کے گرتے معیار کے تئیں فکر ظاہر کی تھی۔اس وقت کے وزیر مواصلات و اطلاعات سی ابراہیم سمیت ایوان کے ممبران نے ان کی فکر کی حمایت کی تھی۔ انہیں دنوں 1993میں آئی فلم ’’کھل نائک‘‘ کے نغمے ’’چولی کے پیچھے کیا ہے‘‘ نے بھی دھوم مچا رکھی تھی۔ شہدوں کو اس نغمہ کے روپ میں ایک ہتھیار سا مل گیا تھا۔
سوال یہ ہے کہ نغمہ نگار سماج کے تئیں اپنے فرائض سے کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔’’ابن بطوطہ ،بغل میں جوتا‘‘ (عشقیہ)، ’’تجھے گھوڑی کس نے چڑھایا بھوتنی کے‘‘(سنگھ از کنگ) اور ’’پپو کانٹ ڈانس سالا‘‘(جانے تو یا جانے نا) جیسے نغمے سماج کو کیا دے رہے ہیں؟ ان سے نئی نسل کے لئے کیا پیغام جا رہا ہے؟ بالی ووڈ کے بعد بھوجپوری فلموں کا نمبر آتا ہے۔بالی ووڈ فلموں سے زیادہ بد اخلاقی بھوجپوری فلموں کے نغموں میں دیکھی جاسکتی ہے۔بچے اور نوجوان ٹیلی ویژن اور فلموں میں جو کچھ دیکھتے ہیں،ان کی نقل کرتے ہیں۔سماج بالکل منتشر ہوتا جا رہا ہے۔پاکیزہ رشتے ناتوںکی افادیت  پہلے جیسی نہیں رہ گئی ہے۔کہیں نہ کہیں اس کی وجہ ہے آج کے دور کی فلمیں، جو سماج پر غلط اثر چھوڑ رہی ہیں۔ تقریباً ہر فلم میں کسی نہ کسی پرانے نغمے کا ریمکس پیش کر دیا جاتا ہے۔ بے مطلب نغموں کا استعمال عام بات ہو گئی ہے۔فلمیں سماج کا آئینہ ہوتی ہیں۔ فلمسازوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ سماج میں پھیلے فرق پر روشنی ڈالتے ہوئے عوام کو آگاہ کریں گے۔ان کے نغمے لوگوں کو تفریح تو کرائیں گے ہی، ساتھ ہی کوئی پیغام بھی دیں گے۔لیکن آج بھی جو نغمے لکھے جا رہے ہیں، ان میں نہ کوئی دھن ہے،نہ کوئی مطلب۔جس نغمہ اورموسیقی کو سن کر ہم سکون محسوس کرتے ہیں، اگر وہی غیر مہذب اور بے مطلب ہو تو وہ سماج کو کس حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے، اس کا آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔تعجب اس بات کا ہے کہ ہر گلی محلے میں یہ گانے کثرت سے سنے بھی جا رہے ہیں۔ ہندی نغموں میں انگریزی کے الفاظ بھی بے جھجھک استعمال کئے جا رہے ہیں۔
ایک وقت تھا، جب ہندوستان کی موسیقی دور دور تک مشہور تھی۔اس کے دو حصہ تھے، پہلا ہندوستانی موسیقی، جو بیشتر شمالی ہند میں سنی جاتی تھی اور دوسرا کرناٹک کی موسیقی، جو جنوبی ہند میں سنی جاتی تھی۔ وقت بدلا ،جدید نغمے لکھے جانے لگے۔ اس کے بعد ریمکس بھی ہونے لگا۔ریمکس کا جادو اس قدر چھایا کہ کیا سر، کیا تال اور کیا آواز، سبھی بد سے بدتر ہو گئے۔بے مطلب گانوں کے الفاظ تو دیکھئے ’’تجے گھوڑی کس نے چڑھایا بھوتنی کے‘‘ (سنگھ از کنگ)، ’’ابن بطوطہ بغل میں جوتا‘‘(عشقیہ )، ’’وولیم کم کر پاپا جگ جائے گا‘‘(ہائوس فل)، ’’چولی کے پیچھے کیا ہے‘‘(کھلنائک)، چھت پہ سویا تھا بہنوئی ‘‘(کرن ارجن)،’’ہونٹ رسیلے تیرے ہونٹ رسیلے ‘‘(ویلکم)،’’عشق کمینہ ‘‘(شکتی)اور چڑھ گیا اوپر رے اٹریا پے لوٹن کبوتر ‘‘(دلال)۔ ان نغموں کو تخلیق کرنے والے تخلیق کاروں کے دماغ میں کیاہے ، یہ تو نہیں معلوم، لیکن ان سے کوئی پیغام نکلتا نہیں دکھائی دیتا۔
پرانے وقت کے گیت دل کو چھو جانے والے اور سدا بہار ہوتے ہیں۔’’چودہویں کا چاند ہو،’’چندن سا بدن ،چنچل چتون ،تجھ سے ناراض نہیں زندگی‘‘، ’’کہیں دیپ جلے کہیں دل ‘‘اور ’’جب کوئی بات بگڑ جائے‘‘ وغیرہ نغمے آج بھی لوگ پورے جوش وخروش کے ساتھ سنتے ہیں۔ وجہ صرف یہی ہے کہ ان نغموں میںلوگوں کو اپنا درد جھلکتا ہے۔ اس لئے تب تخلیق کئے گئے یہ نغمے آج بھی لوگوں کو اتنے ہی محبوب  ہیں، جتنے کہ اس وقت تھے۔ نغمے کے الفاظ دل سے نکلتے ہیں، وہ کھیتوں، پیڑوں پر نہیں پیدا ہوتے۔یہ بات موجودہ تخلیق کاروں کی سمجھ میں ضرور آنی چاہئے۔

Share Article

One thought on “کتنا بدل گیا بالی ووڈ

  • September 10, 2010 at 4:08 pm
    Permalink

    سونیکا گپتا صاحبہ!
    اپنے بہت اچّھی آواز اٹھایی ہے .
    آپ نے دل کو چهو لینے والی باتیں کہی ہیں .
    مبارکباد کے مستحق ہیں.

    جاوید اختر، راشد
    اکھلا، نی دلھی-١١٠٠٢٥.
    931300

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *