آرکیٹیکٹ کے طور پر کریئر

اے این شبلی
اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ جاتی دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے ۔ یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک معتد بہ تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے، جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم نے ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’’نوجوانوں کی دنیا‘‘ کے نام سے ایک کالم شروع کیا ہے،تاکہ وہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے مستقبل کو روشن و تابناک بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کریں گے اور جاب کے متلاشی اور کریئرسازی کے لئے سرگرداںنوجوانوں کوکورس، اس کی افادیت ،مطلوبہ تعلیمی لیاقت اور متعلقہ تعلیمی وتربیتی اداروں کے بارے میں معلومات فراہم کریںگے۔آج ہم آپ کوبیرونی ممالک میں تعلیم کے حوالے سے کچھ اہم نکات بتا رہے ہیں کہ کس طرح دنیا کی مشہور ترین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی جا سکتی ہے۔
آرکٹیکٹ کے طور پر کریئر
ہرانسان کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے اپنا مکان اور جب انسان کی یہ خواہش پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہے توسب سے بڑا مسئلہ نظر آتا ہے اس کے ڈیزائن کا۔چھوٹے چھوٹے مکان تو لوگ اپنے انداز سے اور مستریوں کی مدد سے بنا لیتے ہیں ،مگر جب کچھ الگ ہٹ کر خوبصورت بنانا ہو یا پھر بڑی بڑی عمارات بنانی ہوں تو پھر اس کے لئے مکان کا خاکہ تیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔خاکہ تیار کئے بغیر بہتر مکان نہیں بنایا جا سکتا۔مکان کا خاکہ بنانے کا کام آرکٹیکٹ کرتے ہیں۔دنیا جیسے جیسے ترقی کر رہی ہے مکان،بڑے بڑے شو روم ،بڑی بڑی عمارتیں اور مال بننے کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔اب تو چھوٹے چھوٹے شہروں میں بھی بڑے بڑے مال بن رہے ہیں۔اس لئے دن بدن آرکٹیکٹ کی مانگ بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
آرکٹیکٹ کے لئے سب سے خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ جگہ ،کلائنٹ کی ضرورت اور اس کے بجٹ کو دیکھتے ہوئے کتنا بہتر سے بہتر ڈیزائن کر سکتا ہے۔یہ وقت ایسا ہے جب کنسٹرکشن کے شعبے میں بوم آیا ہوا ہے۔بڑی بڑی کمپنیاں جہاں اپنا کام پھیلا رہی ہیں ،وہیں ہر آئے دن نئی نئی کنسٹرکشن کمپنیاں کھل رہی ہیں۔ایسے میں اچھے آرکٹیکٹ کی مانگ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ اس میدان میں کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو اس میں شوق ہو، کیونکہ اگر آپ کو اس میدان میں شوق نہیں ہوگا تو آپ بہتر سے بہتر ڈیزائن نہیں کر سکیں گے۔اگر آپ تخلیقی ذہن نہیں رکھتے ہیں توآپ اس میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کو بھی اس میدان میں شوق ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں تو آپ آرکٹیکٹ کی پڑھائی کر سکتے ہیں۔آرکٹیکچر کے کورس میں داخلہ حاصل کرنے کے لئے امیدوار کا فزکس،کیمسٹری اور ریاضی کے ساتھ بارہویں پاس ہونا ضروری ہے۔بیچلر آف آرکٹیکچر پانچ سال کا کورس ہے، جس میں آرکٹیکچرل ڈیزائن،آرٹ ایپریسی ایشن،بلڈنگ مینجمنٹ،نیچر اینڈ انوائرنمنٹ،میتھڈ آف کنسٹرکشن اور ہسٹری آف آرٹ اینڈ آرکٹیکچر کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔
آرکٹیکچر کی پڑھائی کرنے کے بعد کام کی کمی نہیں ہے۔اس میں سرکاری نوکری حاصل کرنے کے علاوہ بڑی بڑی کنسٹرکشن کمپنیوں میں کام کیا جا سکتا ہے۔اس میدان میں آزادانہ طور پر بھی کام کیا جا سکتا ہے۔یہ ایک ایسا میدان ہے جس میں اگر آپ کہیں نوکری کر رہے ہیں تو اس کے علاوہ اپنے گھر پر بھی آفس بنا کر خالی وقت میں اضافی آمدنی کے لئے کام کر سکتے ہیں۔کنسٹرکشن کی زیادہ تر کمپنیاں بڑی ہیں اس لئے ان میں آرکٹیکٹ کو کافی تنخواہ ملتی ہے۔آرکٹیکٹ کے پاس کام کی کمی اس لئے نہیں رہتی کہ ملک میں بڑی تعداد میں گھر،پل،اسٹیڈیم،مال اور سنیما ہال وغیرہ بنتے رہتے ہیں۔کنسٹرکشن کے تعلق سے کئی کئی کمپنیاں اتنی بڑی ہیں کہ ان کے کنسٹرکشن کا کام ایک ساتھ ملک کے مختلف شہروں میں چلتا رہتا ہے۔اس لئے آرکٹیکٹ کے لئے کام کی کمی نہیں رہتی۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آرکٹیکچر کے استاد اور اپنا خود کا کام کرنے والے عظیم الرحمن کہتے ہیں یہ ایک ایسا میدان ہے جس میں نوکری کی کمی نہیں ہے۔ہندوستان کے ہر چھوٹے بڑے شہروں میں مکانات بنتے رہتے ہیں ۔ہندوستان کی آبادی جس رفتار سے بڑھ رہی ہے اسی رفتار سے مکانات کی ضرورت بھی بڑھ رہی ہے۔اب تو real estate کے بزنس میں کئی بڑی بڑی کمپنیوں کے آجانے سے بھی اس میدان میں نوکری کی کمی نہیں رہی۔یہ ایک ایسا میدان ہے جس میں خود کا اپنا کام کر کے بھی خوب پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔
ہندوستان میں ایسے بہت سارے ادارے ہیں جہاں آرکٹیکچر کی پڑھائی ہوتی ہے۔ان سبھی اداروں میں داخلہ مقابلہ جاتی ٹسٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔کہیں کہیں صرف ٹسٹ کی بنیاد پر ہی داخلہ ملتا ہے، جبکہ کہیں کہیں مقابلہ جاتی ٹسٹ کے بعد انٹرویو بھی ہوتا ہے اور پھر کامیاب امیدوار کو اس کورس میں داخلہ ملتا ہے۔
آرکٹیکچر کا کورس مکمل کر لینے کے بعد شروع میں تو کسی بڑی کمپنی میں کام ملنا کچھ مشکل ہوتا ہے البتہ کچھ ہی سالوں کے تجربہ کے بعد بڑی بڑی کمپنیوں میں کام بھی ملتا ہے اور منھ مانگی تنخواہ بھی ملتی ہے۔شروع کے دنوں میں جن چھوٹی کمپنیوں میں کام ملتا ہے ان میں بھی7000یا8000سے کم روپے نہیں ملتے۔کچھ ہی دنوں کے بعد تنخواہ20سے25000تک پہنچ جاتی ہے۔اس کے بعد اتنا تجربہ ہو جاتا ہے کہ نوکری کرنے کے علاوہ آزادانہ طور بھی کام کر کے آمدنی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستان میں ایسے بہت سے ادارے ہیں جہاں آرکٹیکٹ کی تعلیم دی جاتی ہے۔اگر آپ بھی آرکٹیکٹ بن کر اپنا کریئر سنوارنا چاہتے ہیں تو یہاں مختلف اداروں کے پتے دئے جا رہے ہیں۔ آپ اپنی سہولت سے وہاں رابطہ قائم کر سکتے ہیں۔ان اداروں میں داخلوں کے تعلق سے قومی اخبارات میں اشتہار بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔اخبارات پر نظر رکھیں تاکہ آپ اس سلسے میں معلومات حاصل کر سکیں۔
٭اسکول آف پلاننگ اینڈ آرکٹیکچر،اندرپرستھ اسٹیٹ،نئی دہلی110002
٭برلا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی، میسرا،رانچی، جھارکھنڈ www.bitmesra.ac.in
٭انسٹی ٹیوٹ آف انوائرنمنٹل پلاننگ اینڈ ٹکنالوجی،اندور،مدھیہ پردیش  www.dauniv.ac.in
٭گورنمنٹ کالج آف آرکٹیکچر،لکھنؤ یونیورسٹی،ٹیگور روڈ ،لکھنؤ، اتر پردیش www.lkouniv.ac.in
٭انجینئرنگ کالج،روڑکی یونیورسٹی،روڑکی،اترانچل www.iitr.ernet.in
٭دیانند ساگر کالج آف انجینئر نگ،بنگلور،کرناٹک www.dayanandasagar.edu
٭کالج آف انجینئرنگ،کیرل یونیورسٹی،کیرل www.keralauniversity.edu

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *