اینی میشن فلموں پر توجہ کی ضرورت

پرینکا پریم تیواری
فلم ہنومان کی کامیابی کے بعد ہندوستان میں اینی میٹڈ فلموں کا باب کھل گیا ہے۔ ناسکام کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں اینی میشن فلموں کا کاروبار سال 2008میں تقریباً460ملین امریکی ڈالر کا تھا، جو ہر سال 27فیصد کے تناسب سے بڑھ رہا ہے۔ سال 2012تک اس کے 1.16بلین امریکی ڈالر تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ آئی ٹی اور بی پی او ٹریڈ باڈی ناسکام کے 2009کے پروجیکٹ کے مطابق اس انڈسٹری میں35-40فیصد تک اضافہ یقینی طور سے درج کیا جا سکتا ہے۔ ناسکام کی رپورٹ کے مطابق85گھریلو اینی میشن فلموں کی ریلیز کا اعلان کیا گیا ہے اور 28فلمیں زیرپروڈکشن ہیں۔ یعنی ہندوستان میں تقریباً100اینی میشن فلمیں زیر پروڈکشن ہیں۔ناسکام کی نائب صدر سنگیتا گپتا کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو سالوں میں گھریلو اینی میشن انڈسٹری میں حیران کن طور پر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اہم فلموں میں بھی اینی میشن اور اسپیشل افیکٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ مثلاً فلم درون، تارے زمین پر، جودھا اکبر اور لو اسٹوری 2050وغیرہ اہم ہیں، لیکن بچوں کی تفریح کے دوسرے وسیلوں کی طرح اینی میشن فلموں کا میدان بھی قابل لوگوں کے فقدان سے پریشان ہے۔اس لئے کڈس فلموں کی ترقی کا پہیہ تھم سا گیا ہے۔
کئی پروڈکشن کمپنیاں جیسے یو ٹی وی، یشراج فلمس اور ریلائنس بگ انٹرٹینمنٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سیکٹر کی کچھ بڑی کمپنیوں جیسے ڈریم ورک، والٹ ڈجنی و پکچر اینی میشن کے ساتھ خود کو جوڑیںگی اور ہندوستان اس کی توسیع کریں گی۔ کمپنیوں نے فلموں میں آنے والی اوسطاً لاگت 15-20ملین ڈالر طے کی ہے۔ ہمارے ملک کے لئے یہ اچھی بات ہے کہ بہترین اینی میشن فلموں کے  ناظرین ہر طبقہ میں موجود ہیں۔ہندوستان میں جب اینی میٹڈ فلمیں بنتی ہیں تو سماج میں رائج کہانیاں ان کا موضوع ہوتی ہیں، جو بچوں پر اتنا اثر نہیں ڈالتیں، جتنا ہالی ووڈ میں بننے والی فلمیں ڈالتی ہیں۔ اینی میشن فلموں کا بازار ہندوستان میں تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں تقریباً85شو ہوئے۔ 2008میں یہاں بہت سی فلمیں باکس آفس پر ریلیز ہوئیں، جیسے روڈ سائڈ رومیو، گھٹوتکچ ، دشاوتار اور مائی فرینڈ گنیشا -2۔
اب تک آئی کچھ اینی میٹڈ فلموں میں روڈ سائڈ رومیو، ٹن پور کا راجہ، سلطان دی ویریئر، ایک کھلاڑی ایک حسینہ، مہا یودھا رام اور ارجن وغیرہ اہم ہیں۔ مذکورہ تمام اینی میشن فلمیں بڑے بجٹ کی ہیں۔ ان فلموں کی اوسطاًلاگت کی رقم 25سے 45کروڑ روپے ہے، جو ایک بڑے اسٹار کاسٹ والی فلم کی رقم کے برابر ہے۔ ہندوستان میں اینی میشن فلمیں ابھی تک ابتدائی سطح پر باہری ذرائع پر انحصار کرتی تھیں۔اینی میشن میں پہلے کسی ایک کردار کو تیار کر کے پھر اسے حرکت میںلایاجاتا ہے۔ اس کے تعمیری عمل میں آرٹسٹ، کرافٹس مین، کارٹونسٹ، السٹریٹر، فائن آرٹسٹ،اسکرین رائٹر، موسیقار ، کیمرا آپریٹر اور موشن پکچر ڈائریکٹر سبھی یکساں طور پر اپنا تعاون دیتے ہیں۔ا ینی میشن میں اس طرح کی تصویر بنائی جاتی ہے کہ اس کے زندہ ہونے کا بھرم پیدا ہوتا ہے۔ ہندوستان میں  بننے والی پہلی اینی میٹڈفلم رامائن اور دی ریزن آف پرنس رام ہیں۔اس کے بعد تقریباً درجن بھر فلمیں ہندوستان میں بنیں، مگر وہ زیادہ تر انگریزی میں تھیں، وہیں ان میں اینی میشن کی کوالٹی بھی کم معیار کی تھی۔
یہی وجہ تھی کہ مذکورہ فلمیں میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کرا پائیں، جو کہ ان کے ناکام ہونے کا ایک اہم سبب رہا۔ پھر بھی گزشتہ دنوں ریلیز فلم ہنومان کی کامیابی کے بعد کچھ امید پیدا ہوئی۔حالانکہ اس میں استعمال کیا گیا اینی میشن بھی بہت اچھی کوالٹی کا نہیںتھا۔ سہاراون موشن پکچرس اور پینٹا میڈیا گرافکس لمیٹڈ کے مشترکہ تعاون سے انگریزی اور ہندی دونوں زبانوں میں بنی فلم لیجنڈ آف بدھا کو آسکر کے لئے منتخب کیا گیا ۔ دی لائن کنگ،الا دین ، دی بیوٹی اینڈ بیسٹ اور ہنومان وغیرہ 2-Dفلمیں ہیں۔ دوسرے زمرہ میں3-Dکے تحت آنے والی فلموں میں شریک-2،ٹوائے اسٹواری،فائنڈنگ نیموں، دی انسکریڈیبلس اور میڈا گاسکر وغیرہ کو پوری طرح سے کمپیوٹر پر تیار کیا گیا۔ اسپکرپٹ ،اسٹیج سے لے کر اسکرین تک 2-Dاور 3-Dفلموں کے پروڈکشن میں22سے لے کر 24ماہ تک کا وقت لگتا ہے۔ اینی میشن فلم کارٹون نہیں ہے ، بلکہ یہ ایک آرٹ ہے۔ اس طرح کی فلموں کے پروڈکشن میں بہت سے خیالات اور محنت کااشتراک ہوتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس میدان میں ہمارے یہاں ماہر لوگوں کا فقدان ہے۔ مانا جاتا ہے کہ ہندوستان میں اس فن میں ماہر لوگوں کی کمی ہے، جبکہ ہر سال اینی میشن کی پڑھائی کر کے نکلنے والے طلبا کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اپنے ملک میں اس شعبہ کے ساتھ ہو رہے تعصب کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں سے زیادہ تر طلبا غیر ممالک کی جانب رخ کر لیتے ہیں۔اینی میشن فلموں کے لئے موضوع کی بات کی جائے تو ہندوستان میں کئی اچھی کہانیاں ہیں، جو سماج میں رائج بھی ہیں۔ ان میں سے کسی بھی کہانی کو اینی میشن فلم کی شکل میں تیار کیا جا سکتا ہے اور اینی میشن کی کوالٹی بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔ ہمارے ملک کے تفریحی شعبہ میں بچوں پر بالکل توجہ نہیں دی جاتی۔اس سے اینی میشن فلموں کا شعبہ بھی اچھوتا نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا رہا تو ملک میں خاص طور سے قائم کی گئی ’’بال چتر سمیتی‘‘ ہونے کے باوجود بچوں کی صحتمند تفریح کا فقدان قائم رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *