تاریخ اسلام کے اوراق سے

رضوان عابد

سیاسی قیادت کے فقدان کی وجہ سے جنگی قیادت بھی نہیں ہوتی۔ کوئی مسلمان کمانڈر اس Levelپر نہیں تھا جو صلیبیوں کا مقابلہ کرسکے۔ امت مسلمہ میں ہشاشین پیدا ہوچکے تھے جو فوجی قیادت کو قتل کر رہے تھے۔ اگر اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص تائید نہ ہوتی تو پوری امت مسلمہ صلیبیوں کا ہرگز مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔
اس دور کی جنگی حکمت عملی پر کچھ بات کریں۔ عام طور پر جنگیں قلعوں کے آس پاس ہوتی تھیں۔ ہر شہر کا ایک قلعہ ہوتا تھا، فصیل ہوتی تھی اور فصیل کے اندر اور باہر محافظین کی جماعت ہوتی تھی۔ جب کسی شہر کو فتح کرنا ہوتا تھا تو اس کا محاصرہ کرلیا جاتا تھا۔ سپلائی لائن کاٹ دی جاتی تھی۔ Ambushکے ذریعے بھی سپلائی لائن کو نقصان پہنچایا جاتا تھا اور دوسرا راستہ براہ راست میدان جنگ میں آمنے سامنے جنگ کا تھا۔ 1099میں بیت المقدس کے ہاتھ سے جانے کے بعد تقریباً 10سال تک مسلمان کوئی مزاحمت نہیں کرسکے۔ تقریباً 1110 میں سلجوق سلطانوں نے اپنا ایک گورنر موصل کی طرف روانہ کیا، جس کا نام مودود تھا۔ مودود نے کئی جنگوں میں صلبیبیوں کو شکست دی، اب مسلمانوں کو یہ امید ہو چلی تھی کہ اب مسلمان صلیبیوں کو بیت المقدس سے نکالنے میں کامیاب ہوجائیںگے، لیکن ایک دہشت گرد ہشاشین کے خنجر سے مودود شہید کردیے گئے۔ اب سلجوق لشکر سے ایک اور مجاہد سامنے آتا ہے، جس کی تربیت مودود نے خود کی تھی۔ ان کا نام عماد الدین زنگی تھا۔ 1128میں عماد الدین زنگی کو موصل کا گورنر مقرر کیا گیا۔ ان کی ذمہ داریوں میں صلیبیوں کے ساتھ جنگ بھی شامل تھی۔ اگلے 20سال تک عماد الدین زنگی مسلمانوں کی آبرو کا دفاع کرتے رہے۔ ان کا بیٹا نورالدین زنگی تھا۔ عماد الدین زنگی ایک درویش فوجی تھے، جس وقت عماد الدین زنگی نے کمان سنبھالی، اس وقت شام اور فلسطین کے تقریباً سارے قلعے مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل کر صلیبیوں کے پاس جاچکے تھے۔ عماد الدین کو تین طرف سے جنگ لڑنا پڑ رہی تھی، ایک طرف صلیبی دوسری طرف مسلمانوں کے اندر دہشت گرد ہشاشین تھے، جو آگے بڑھتی ہوئی فوجی قیادت کو نشانہ بناتے تھے اور تیسری طرف فاطمی خلافت اور دوسرے ترک سلاطین جو اپنی سلطنت کو وسیع کرنے کے لیے عباسیوں سے جنگ کرتے رہتے تھے۔ انہیں سے بہت سے سردار عماد الدین زنگی کے خلاف صلیبیوں سے مدد مانگتے تھے، اسی طرح 1140میں دمشق کے مملوک حکمراں نے صلیبیوں سے مدد طلب کی اور عماد الدین زنگی کو مملوکوں اور صلیبیوں کی مشترکہ فوج کے ساتھ جنگ کرنا پڑی۔ مگر ان سب حالات کے باوجود عمادالدین صلیبیوں کو پہ در پہ شکست دیتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ 1140میں عمادالدین زنگی نے الروحہ کے قلعے کو فتح کیا۔ یہ بازی پلٹنے کا پہلا موقع تھا، اس کے بعد صلیبیوں کو شام اور فلسطین سے نکالنے کا عمل شروع ہوگیا۔
عماد الدین زنگی ایک غیرمعمولی جنگجو ، دلیر اور دشمن پر قہر کی طرح ٹوٹ پڑتے تھے۔ انہوں نے پوری عیسائی دنیا کو دہشت میں مبتلا کردیا۔ اب صلیبیوں نے ہشاشین کے ذریعہ سازشوں کا سلسلہ عماد الدین زنگی سے جان چھڑانے کے لیے شروع کیا۔ ان کے ایک ترک غلام کو پیسہ دے کر اس بات پر راضی کرلیا گیا کہ وہ عماد الدین کو شہید کردے اور 1146کے قریب عماد الدین زنگی کو بھی شہید کردیا گیا۔ عماد الدین نے جب شام میں بالبک کا قلعہ فتح کیا تو وہاں کا گورنر نجم الدین ایوبی کو بنایا، جن کا بیٹا تاریخ میں صلاح الدین ایوبی کے نام سے مشہور ہے۔ عمادالدین کا خاص کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے عربوں اور ترکوں کو اکٹھا کر کے صلیبیوں کا مقابلہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جرنیلوں کی ایک کھیپ تیار کی جنہوں نے آنے والے دور میں امت مسلمہ کو سربلند کیا۔
1146 میں نورالدین زنگی اپنے والد عماد الدین زنگی کی شہادت کے بعد تخت نشین ہوئے اور اپنے شہید والد کے مشن کو جاری رکھا۔ نورالدین زنگی ایک متقی اور ولی صفت سپہ سالار تھے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ نورالدین زنگی عمربن عبدالعزیز کے بعد امت مسلمہ کے متقی ترین سربراہ ہیں۔ نورالدین زنگی کا رسول کامل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا گہرا روحانی تعلق تھا، اس کی صرف ایک مثال ہی امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ بنی ہوئی ہے۔ نورالدین زنگی نے اسی دوران وہ خواب دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خواب میں تشریف لائے اور نورالدین کو حکم دیا کہ مدینہ کا سفر کرو، وہاں پر دو صلیبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد خاکی کو آپ کے روضۂ اقدس سے نکالنا چاہتے ہیں۔ یہ خواب نورالدین زنگی نے لگاتارتین راتوں تک دیکھا۔ اس پر وہ بے چین ہوگئے۔ مدینہ کا چپہ چپہ چھان مارا گیا، لیکن کوئی سراغ نہ ملا۔ آخر کار ایک جھونپڑی میں دو باریش بزرگ ملے جو علماء کی شکل اختیار کیے ہوئے تھے اور اس جھونپڑی میں سے حضور کے روضہ اقدس تک سرنگ کھود رہے تھے تاکہ حضور کا جسد خاکی وہاں سے نکال سکیں۔
اس پر نورالدین زنگی کو جلال آجاتا ہے اور ان دونوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضور کے روضہ مبارک کے چاروں طرف بہت گہری خندق کھدوائی گئی اور اس میں شیشہ پگھلا کر ڈال دیا گیا تاکہ قیامت تک کوئی کم ظرف اس طرح کی حرکت کرنے کی جسارت نہ کرے۔ اس کے بعد نورالدین زنگی اپنی اس خوش قسمتی پر روتے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول نے پوری دنیا میں انہیں اس مقدس کام کے لیے منتخب کیا۔ یہ نورالدین زندگی کی روحانیت کی اتنی بڑی دلیل ہے کہ  جس کی مثال تاریخ اسلام میں نہیں ملتی۔ اللہ کی یہ بے نیام تلوار اگلے 20سال تک صلیبیوں سے جنگ کرتی رہی اور ملت اسلامیہ کا دفاع کرتی رہی۔
1145میں ایک بار پھر جنگ کا بگل بجایا جاتا ہے۔ پوپ بذات خود عیسائی دنیا کو پھر سے بھڑکانا شروع کرتا ہے۔ دو بڑے بادشاہ Loudna of Germany اور Louis of Franceاپنی اپنی فوجوں کے ساتھ اس صلیبی جنگ کی قیادت پر راضی ہوجاتے ہیں۔ ان کے راضی ہوجانے کے بعد کئی چھوٹے چھوٹے بادشاہ بھی اس لشکر میں شامل ہوتے ہیں اور قسطنطنیہ کی طرف روانہ ہوتے ہیں۔ یہ لشکر 10لاکھ افراد پر مشتمل تھا۔جب یہ لشکر قسطنطنیہ کے آس پاس پہنچتا ہے تو اتنی تباہی مچاتا ہے کہ خود قسطنطنیہ کے لوگ اس سے پناہ مانگنے لگتے ہیں۔ بازنطینی سلطنت ان سے درخواست کرتی ہے کہ یہ جلد از جلد ایشیا مائنر میں داخل ہوجائیں اور فسلطین کی طرف اپنا سفر جاری کریں۔ اس وقت تونیہ کو سینٹر بنا کر یہاں پر سلجوق حکمران قائم تھے۔ سلطان مسعود سلجوق جو الپ ارسلان کی اولاد میں سے تھے۔ یہاں پر صلیبی لشکر کو روکنے کے لیے دیوار چین بن کر کھڑے ہوگئے۔
اس وقت مسلم دنیا میں اناطولیہ اور ایشیا مائنر میں سلجوق حکمران تھے اور بغداد اور دمشق کی طرف زنگی حکومت قائم ہوچکی تھی، یہ دونوں ترک قومیں تھیں اور دونوں مسلم امت کے دفاع کے لیے کھڑی تھیں۔ سلجوقی قسطنطنیہ سے آنے والے تمام راستوں پر بیٹھے تھے اور صلیبیوں کو ان کے علاقہ سے گزرنے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی تھی۔ Couradاور Louisکا یہ 10لاکھ کا جم غفیر جب اناطولیہ پہنچا تو سلطان سلجوق کی فوج ان پر ٹوٹ پڑی۔ 10لاکھ کے لشکر میں سے 6لاکھ صلیبی صرف اناطولیہ میں کاٹ دیے گئے۔ اتنی بڑی تباہی کے بعد جرمن اور فرانسیسی فوجیں بڑی مشکل سے یروشلم پہنچ پائیں۔
یہ دوسری صلیبی جنگ تھی، جس میں صلیبیوں کو بہت بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ اہم بات یہ ہے کہ اس جنگ کو شروع کرنے سے پہلے اس کا کوئی مقصد Defineنہیں کیا گیا تھا، جس طرح پہلی جنگ میں نعرہ یہ دیا گیا تھا کہ بیت المقدس کو مسلمانوں سے آزاد کرانا ہے۔ دوسری جنگ کی آگ تو بھڑکا دی گئی، لیکن صلیبیوں کو یہ ہی معلوم نہیں تھا کہ حملہ کس پر کرنا ہے۔ ایسی بے مقصد جنگ ہو تو بہت جلد فوجیں اور ان کے کمانڈر مایوس ہونے لگتے ہیں۔ جب کوئی اور ٹارگیٹ نہیں ملتاہے تو سوچا جاتا ہے کہ چلو دمشق پر ہی حملہ کیا جائے۔ جب دمشق کے محاصرے کی اطلاع نورالدین زنگی کو ملتی ہے تو یہ بجلی کی تیزی سے دمشق پہنچتے ہیں اور صلیبیوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ دمشق پر اس وقت نورالدین زنگی کے مخالف سردار کی حکومت تھی، اس کے باوجود جب دمشق پر صلیبیوں نے حملہ کیا تو نورالدین زنگی صلیبیوں کی سرکوبی کے لیے وہاں پہنچے۔ نورالدین زنگی کے دمشق پہنچنے کی صلیبیوں پر اتنی دہشت طاری ہوئی کہ صرف تین دن میں دمشق کا محاصرہ اٹھا لیا گیا، یہ تھا اختتام دوسری ناکام صلیبی جنگ کا۔ یہ سب سے زیادہ ناکام اور صلبییوں کے لیے قابل شرم صلیبی جنگ تھی۔ صرف اس چار دن کی مہم جوئی کے لیے صلیبیوں نے اپنے 6لاکھ فوجی قتل کروائے اور بغیر کسی مقصد کے واپس لوٹ گئے۔ (جاری)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *