تاریخ اسلام کے اوراق سے

رضوان عابد
ایک بار عیسائی فوجی جنرل آرنٹ نے ایک ایسے قافلہ کو لوٹ لیا کہ جو معاہدہ امن کے دوران حج پر جارہا تھا۔ جب آرنٹ نے سارے قافلہ والوں کو لوٹا اور قتل و غارت گری کی تو ایک مسلمان نے اس سے کہا کہ تمہارا ہمارے ساتھ معاہدہ ہے، ہم کو نہ چھیڑو۔ اس پر گستاخانہ انداز میں آرنٹ نے کہا کہ اپنے نبی سے کہو کہ آکر تمہیں بچائیں۔ یہ بات جب سلطان صلاح الدین ایوبی تک پہنچتی ہے تو وہ جلال میں آجاتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ جب آرنٹ ان کے ہاتھ لگے گا تو وہ اسے اپنے ہاتھ سے قتل کریںگے۔ ایک جنگ کے بعد آرنٹ بادشاہ Jeffry کے ساتھ سلطان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ سلطان پانی منگواتے ہیں اور بادشاہ Jeffryکو پیش کرتے ہیں۔ Jeffry پانی پی کر اس پیالے کو آرنٹ کی طرف بڑھا دیتا ہے۔ سلطان غصے سے لال ہوجاتے ہیں اور Jeffryسے کہتے ہیں کہ یہ پانی تم نے اسے دیا ہے میں نے نہیں پلایا۔ عربوں کے رواج کے مطابق اگر کسی دشمن کو کچھ کھلا پلا دیں تو پھر اس کی جان بخشی کردیتے ہیں۔ سلطان فیصلہ کرچکے تھے کہ آرنٹ کی جان بخشی نہیں کی جائے گی۔ اس کے بعد آرنٹ کو قریب بلاتے ہیں اور وہ گستاخانہ الفاظ یاد دلاتے ہیں جو اس نے اس مسلمان سے کہے تھے اور اس سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی آبرو کی حفاظت کے لیے میں پہنچا ہوںتم سے بات کرنے کے لیے۔ آرنٹ بہت ڈر جاتا ہے، لیکن سلطان اس پر بھی ایک موقع دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر تم اسلام قبول کرلو تو تمہیں بخش دیا جائے گا، وہ انکار کرتا ہے تو اپنی تلوار سے اس کی گردن اڑا دیتے ہیں۔ Jeffryجب یہ دیکھتا ہے تو اس کی روح فنا ہوجاتی ہے۔ سلطان کہتے ہیں کہ بادشاہ بادشاہوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں کرتے، لیکن اس نے گستاخی کی وہ حد پار کرلی تھی کہ مجھے اس کا سر اپنے ہاتھ سے قلم کرنا پڑا۔ یہ سلطان کی دینی غیرت اور حمیت کا حال تھا۔
اس دور کے Theatre of operationکی صورت حال پر بھی غور کرتے ہیں۔ شام، فلسطین اور لبنان کے علاقوں میں سیکڑوں قلعے اور شہر پھیلے ہوئے تھے۔ کچھ مسلمانوں کے پاس اور کچھ عیسائیوں کے پاس کہ اکثر ان میں جھڑپیں ہوا کرتی تھیں۔ چھوٹی موٹی جنگیں تو عام طور پر ہوا کرتی تھیں، لیکن Strategic battlesیعنی جو جنگ کا پانسہ پلٹ دے ایک آدھ ہی ہوا کرتی تھی۔ صلیبی جنگیں تاریخ کی سب سے زیادہ خونریز جنگیں تصور کی جاتی ہیں اور ان جنگوں میں فیصلہ کن کردار ان کی قیادت کا ہوا کرتا تھا۔ سلطان صلاح الدین کا مقابلہ یوروپ کے بڑے بڑے بادشاہوں سے تھا۔ اگر سلطان کے کردار اور یوروپی بادشاہوں کے کردار کا موازنہ کیا جائے تو زمین آسمان کا فرق معلوم ہوتاہے۔
جب قیادت کے ہاتھ صاف ہوں، نگاہ پاک ہو اور وہ ایک روحانی وجود ہو تو اس کا گہرا اثر اس کی فوج پر پڑتا ہے اور فوج بھی وہی رنگ اختیار کرلیتی ہے، جو اس کے امیر کا ہوتا ہے۔ یوروپی قیادت کو دیکھا جائے تو خود ان کے مؤرخ یہ بات کہنے کو مجبور ہیں کہ ان سے زیادہ بدکردار لوگ پورے یوروپ میں نہیں تھے۔ صلیبی فوجوں کے کردار پر اپنی قیادت کا اثر تھا۔ ان فوجوں کا کوئی اخلاقی کردار تھا ہی نہیں، جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا کردار تھا، جس کے ہاتھ میں طاقت اس کی بات مانی جائے گی، چاہے غلط ہو یا صحیح۔ جنگ اخلاقی کرداروں سے لڑی جاتی ہیں، جہاں تک ہتھیاروں کا تعلق ہے مسلمانوں اور صلیبیوں میں ایک حد تک توازن تھا۔ مسلمان تعداد میں اور ہتھیاراور اسلحہ میں کچھ کم نہیں تھے اور صلیبی بھی اپنے تمام تر ہتھیار اور اسلحہ لے کر آئے تھے۔ فرق صرف قیادت، کردار اور اخلاق کا تھا اور اخلاقیات اور کردار میں مسلمانوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ مسلمان اعلیٰ اخلاقی روایات اوربا کردارتھے جو کہ اپنے آپ میں ایک مثال تھی۔
اپنے دشمن کو روحانی اور اخلاقی مات دینے کے بعد سلطان نے جو جنگی حکمت عملی Deployکی وہ بھی انتہائی غیر معمولی تھی۔ آج کے دور میں جس کو c4iکہتے ہیں یعنی کمانڈ، کنٹرول، کمیونی کیشن اور انٹلیجنس۔ ان چاروں aspectsمیں بھی سلطان کا اور صلیبیوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا۔ کمانڈ سیریا سے مصر تک تمام کی تمام سلطان کے اپنے ہاتھ میں تھی۔ افریقہ سے لے کر ارجنٹینا تک اور ماوراء النہر سے لے کر یمن تک تمام عجمی عربی ترکی دستے صلاح الدین ایوبی کی ایک کمان میں تھے اور یہ دستے سلطان سے شدید محبت کرتے تھے اور ان کے ایک اشارے پر اپنی جان قربان کرنے کو تیار تھے۔ اس کے مقابلہ صلیبیوں کی کمانڈ سات جنرلوں یا بادشاہوں میں تقسیم تھی، جو باہم  دست و گریباں بھی ہوا کرتے تھے۔ شدید اختلافات اور جھڑپیں خود صلیبی فوج میں آپس میں جاری رہتی تھیں۔ کوئی Strategic objectiveہی Defineنہیں ہوتا تھا۔ کوئی War Councilایسی نہیں ہوتی تھی کہ جس کا انجام آپس کی جھڑپ پر نہ ہوتا ہو۔ جب کمانڈ میں اتنا واضح فرق ہو تو نتیجہ بالکل واضح تھا۔ مسلمانوں میں کمیونی کیشن کا یہ حال تھا کہ تمام مسلمانوں کے علاقوں کی ایک ایک پل کی خبر سلطان تک پہنچتی تھی۔ اپنے جنرلوں، جاسوسوں اور فوجیوں کے ساتھ سلطان کا بڑا مضبوط رابطہ ہر وقت قائم رہتا تھا۔ کیوںکہ مسلمان اپنی ہی سرزمین پر جنگ کر رہے تھے اور دشمن کو کئی ہزار میل دور آکر جنگ کرنا پڑ رہی تھی تو ان کا کمیونی کیشن اپنے مرکز سے ان کی سپلائی لائن اور کنٹرول کسی صورت میں بھی مسلمانوں کے مقابلہ کا نہیں ہوسکتا تھا۔ انٹلیجنس کے لحاظ سے سلطان کے ہزاروں جاسوس دشمن کے لشکر میں چھپے ہوئے تھے، جہاں ہونے والی چھوٹی سے چھوٹی بات کی اطلاع سلطان کو بہت پہلے پہنچ جاتی تھی۔ اس کے مقابلہ عیسائیوں کے لیے مسلمانوں میں اپنے جاسوس پیدا کرنا بہت مشکل تھا۔ صلیبیوں کو ہزاروں میل دور سفر کر کے جنگ کرنے کے لیے آنا ہوتا تھا۔ ان کے بادشاہ بہت جلدی میں ہوتے تھے اور جلد از جلد جنگ کو ختم کرکے واپس جانا چاہتے تھے۔ اس جلد بازی کی وجہ سے یہ غلطیاں کرتے، ان میں پھوٹ پڑتی اور تمام کمزوریاں سامنے آجاتیں، جس سے مسلمانوں کو بہت مدد ملتی۔ جب صلیبی مسلمانوں پر حملہ کرتے تو مسلمانوں کاStratagic Objectiveصرف ایک ہوتا تھا کہ اپنا دفاع اور صلیبیوں کو یہاں سے نکال باہر کرنا۔ دوسری طرف یوروپی بادشاہ اپنے اپنے مختلف Strategic objectivesلے کر جنگ میں شامل ہوتے تھے جیسے کہ بازنطینی سلطنت کے اپنے مقاصد تھے۔ templersاور Hospitalers کے اپنے مقاصد تھے۔ پوپ اپنے مقاصد پورا کرنا چاہتے تھے اور مختلف بادشاہوں کے اپنے اپنے مقاصد ہوتے تھے۔ ہتھیار دونوں طرف تقریباً ایک جیسے تھے۔ صلیبیوں کی تعداد اکثر جنگوں میں مسلمانوں سے زیادہ ہوا کرتی تھی۔ چھوٹی موٹی جنگوں میں طاقت کا توازن تقریباً ایک جیسا ہوتا تھا۔ ان سب Factorsسے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمان ان سب معاملات میں صلیبیوں سے بہت آگے تھے۔ خارجی دشمن سے جنگ کرنے کے علاوہ کچھ معاملات اندرونی بھی تھے، جو سلطان کے لیے مشکلات پیدا کر رہے تھے۔ کچھ تو چھوٹے چھوٹے سلطان ایسے تھے جو اپنی سطلنت بڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً سلطان کی فوج پر حملے کرتے رہتے تھے، ان کے علاوہ ہشاشین تھے، جنہوں نے سلطان کو قتل کرنے کی قسم کھائی ہوئی تھی۔ یہ اکثر سلطان کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ اس سے پہلے مودود کو جو پہلی صلیبی جنگ کے بعد عیسائیوں کے خلاف کھڑے ہوئے تھے، ہشاشین نے شہید کردیا تھا۔ عماد الدین اور نورالدین کو بھی ہشاشین سے ہر وقت خطرہ لاحق رہا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی بھی ان کے نشانے پر تھے اور کئی دفعہ سلطان پر براہ راست قاتلانہ حملے بھی کیے گئے تھے۔ یہ باطنی فرقہ بڑے بڑے مسلمان جانبازوں کے خلاف وہ کام کرتا رہا جو پوری صلیبی فوجیں بھی مل کر نہیں کرسکتی تھیں۔
Templer، Hospitalerاور Tutonicنائٹس کا مقصد یہ تھا کہ جب صلیبی بیت المقدس کو مسلمانوں سے خالی کرالیں گے تو یہاں پر ان کا قبضہ ہوجائے گاا ور ایک آزاد اسرائیلی ریاست کا قیام عمل میں آنا آسان ہوجائے گا۔ دراصل یہ لوگ یہودی تھے، لیکن ظاہر یہ کرتے تھے کہ وہ عیسائی ہیں۔ یہ نائٹس سود قرض اور بینکاری میں ماہر تھے۔ انہوں نے مسجد اقصیٰ پر قبضہ ہوتے ہی Temple of solomanبنایا۔ عیسائیوں نے گرجا بنایا۔ آج کے دور میں جو ہم Free masonsکا نام سنتے ہیں، اس کی اصطلاح بھی ان صلیبی جنگوں سے نکلی ہے۔ Templerاور Hospitalersزخمیوں اور بیماروں کا علاج کرتے تھے۔ دوسری طرف یہ قلعے بنانے میں بہت مہارت رکھتے تھے اور مضبوط قلعہ بندیاں بنانے کی وجہ سے ان کو Masonsکہا جاتا ہے۔
صلیبی جنگوں کے بعد جب پوپ کو ان کی اصلیت کا اندازہ ہوا اور پورا یوروپ ان کے قرض میں ڈوب گیا تو پوپ نے حکم دیا کہ جہاں کہیں یہ ملیں، ان کو پکڑ کر زندہ جلا دو اور سارا مال و دولت لوٹ لو۔ یوروپ نے قرض ادا کرنے کا یہ آسان حل نکالا کہ جس نے قرض دیا تھا اسی کو قتل کردیا۔ اس حکم کے بعد ہزاروں کی تعداد میں یہ نائٹس قتل کئے گئے اور ان کی دولت پر عیسائیوں نے قبضہ کرلیا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب راتوں رات یوروپ سے ان کا صفایا کیا گیا تو کئی سو سال تک یہ Knightsکہیں نظر نہیں آئے اور جب یہ دوبارہ سامنے آئے تو پورے یوروپ میں رشوتیں دے دے کر اور اپنے حق میں قانون بنوا کر آئے اور بینک آف انگلینڈ، فیڈرل ریزرو اور دوسرے بینکنگ کے اداروں کی شکل میں آئے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی نے جنگیں تو سیکڑوں کی تعداد میں لڑیں، لیکن جو بہت اہم جنگیں ہیں، ہم ان پر روشنی ڈالیں گے۔ سلطان کی جنگی حکمت عملی یہ تھی کہ بیت المقدس کو فتح کرنے سے پہلے آس پاس کے سارے علاقے اور قلعوں پر قبضہ کرلیا جائے اور عیسائیوں کی سپلائی لائن کاٹ دی جائے،ا س کے لیے سلطان نے ایک بہت تیز چھاپہ مار مہم پورے فلسطین میں جاری رکھی ہوئی تھی اور وہ اس بات پر نظر رکھتی تھی کہ صلیبی نیا قلعہ کہاں بنا رہے ہیں۔ Jacob Fort پر جب صلیبیوں نے قلعہ بنانے کی کوشش کی تو اس قلعہ میں تقریباً 1500میسن نائٹس اور تعمیر سے متعلق تمام لوگ موجود تھے۔ سلطان نے جب قلعے کی طرف پیش قدمی کی تو ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں سے عیسائیوں نے بھی قلعے کی حفاظت کے لیے پیش قدمی کی جو بھی قلعہ پر پہلے پہنچ جاتا وہ اسے فتح کرسکتا تھا، کیوںکہ قلعہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ سلطان صلیبیوں سے پہلے پہنچے اور 6دن کی جھڑپ کے بعد قلعہ کو فتح کرلیا۔ سلطان کے حکم پر تمام Knightsکو قتل کردیا گیا۔ Jacob Fortکی فتح کے بعد اب سلطان کے لیے بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کا راستہ کھل چکا تھا، مگر صلیبی فوجوں کو سمندر کے راستے مسلسل فوجی امداد اور کمک پہنچ رہی تھی۔ 1180میں سلطان نے اپنا بحری بیڑا تیار کیا اور بیروت کے قلعے پر حملہ کیا۔ اب پہلی بار صلیبیوں کو احساس ہوا کہ سمندر میں بھی سلطان سے جنگ لڑنی پڑے گی۔ سلطان چاہتے تھے کہ صلیبیوں کو کھلے میدان میں شکست دی جائے اور اس کے بعد بیت المقدس کی طرف پیش قدمی کی جائے۔ سلطان کے مقابلے کے لیے ایک بہت بڑا صلیبی لشکر باہر نکلا۔ تاریخ میں یہ فیصلہ کن جنگ تصور کی جاتی ہے اور یہ سب سے بڑی جنگ ہے جو سلطان نے فلسطین میں لڑی اور اس کے نتیجے میں تاریخ کا دھارا تبدیل ہوگیا۔ 1187کی اس جنگ کو جنگ حتین کہا جاتا ہے۔ اسی جنگ حتین میں آرنٹ سلطان کے قبضہ میں آیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *