تاریخ اسلام کے اوراق سے

رضوان عابد

اسی دور میں جب مصر میں فاطمی خلافت کمزور ہوگئی تو صلیبیوں کو یہ آسان چارہ معلوم ہوئی اور للچائی ہوئی نظروں سے مصر کی جانب دیکھنے لگے۔ ان کا ارادہ تھا کہ اسکندریہ پر قبضہ کریں اور اس کے ساتھ پورے مصر پر قبضہ کرلیں فاطمی خلافت اس وقت آپس میں شدید اختلاف کا شکار تھی۔ ایک کے بعد ایک جتنے بادشاہ بھی مقرر کیے جاتے محل کے اندر ہی قتل کردیے جاتے۔ درباری سازشوں کی وجہ سے فاطمیوں میں صلیبیوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت و ہمت نہیں تھی۔ اس خطرہ کے پیش نظر خلیفہ نے نورالدین زنگی سے درخواست کی کہ ایک لشکر بھیجا جائے جو مصر کی حفاظت کرے۔ نورالدین زنگی نے اسعدالدین شیرکوہ اور صلاح الدین ایوبی کے زیر اہتمام ایک لشکر مصر روانہ کیا۔ کچھ عرصہ بعد اسعدالدین شیرکوہ کا انتقال ہوگیا اور ان کے بھتیجے صلاح الدین ایوبی مصر کے وزیر اعظم بنا دیے جاتے ہیں۔ صلیبیوں کا خطرہ ٹل جاتا ہے، لیکن فاطمی سلطنت اتنی کمزور ہوگئی کہ اس کی بقا ناممکن ہوگئی۔ صلاح الدین ایوبی جب یہ دیکھتے ہیں کہ فاطمی سلطنت کو برقرار رکھنا ناممکن ہے اور شام اور مصر کو یکجا کرنا ضروری ہے تو مصر کی خلافت کو ختم کر کے مصر کا صوبہ بھی زنگی سلطنت میں شامل کردیا جاتا ہے۔ اب نورالدین زنگی عراق، شام اور مصر کے سلطان بن جاتے ہیں۔ نورالدین زنگی کی پیدائش 1117ء اور انتقال 1173ء میں ہوا۔ نورالدین زنگی مسجد اقصیٰ کی فتح نہیں دیکھ پائے۔ انہوں نے ایک بہت خوبصورت منبر بنوایا جو بعد میں مسجد اقصیٰ میں نصب کیا گیا۔ یہ سعادت 1187میں سلطان صلاح الدین ایوبی کو نصیب ہوئی۔ صلاح الدین ایوبی نے نورالدین زنگی کی تربیت میں سلطان کی ذمہ داری سنبھالی۔ تقریباً 28سال کے اپنی حکمرانی کے دور میں نورالدین زنگی نے کئی سو چھوٹی بڑی جنگیں لڑیں۔ دوسری صلیبی جنگ بھی اسی دور میں لڑی گئی۔ نورالدین زنگی کو کئی محاذ پر بہ یک وقت جنگ کرنی پڑی۔ سیاسی سطح پر عباسی خلافت کو سہارا دینا تھا۔ فاطمی خلافت میں جو کمزوریاں تھیں، انہیں ختم کرنے کی کوشش کی، جب یہ ممکن نہیں ہوا تو مصر کو اپنی سلطنت میں شامل کیا۔ ترک اور دوسرے سلاطین میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ہشاشین جو مسلمانوں کی صفوں میں شامل تھے، کوختم کرنے کی کوشش کی اور صلیبیوں کے خلاف محاذ کھولا اور جنگیں کیں۔ اس کے بعد صلاح الدین ایوبی کے لیے بیت المقدس کی فتح کا راستہ ہموار ہوگیا۔
دوسری صلیبی جنگ کا اہم نقطہ یہ تھا کہ صلیبیوں کی طرف سے جو بھی Alliesتھے، سب کے اپنے اپنے مقاصد تھے۔ اس Expeditionکا اپنا کوئی مقصد ہی نہیں تھا۔ آپس کے اختلافات کی وجہ سے انہوں نے اپنے ہی علاقے قسطنطنیہ اور آس پاس کے علاقوں میں تباہی مچائی اس سے مقامی آبادی ان کے خلاف ہوگئی۔ اتنی جنگوں کے بعد مسلمان اتنے ٹرینڈ ہوگئے تھے کہ ان کا مقابلہ کرسکیں۔ عراق، شام اور مصر ایک کمانڈ میں آنے کی وجہ سے مسلمانوں کا اتحاد مضبوط ہوگیا تھااو ر سب سے بڑھ کر نورالدین زنگی جیسی قیادت جو جنرل کے ساتھ ساتھ ایک ولی اللہ اور درویش بھی تھے، اس نے مسلمانوں میں جذبہ جہاد کی ایک نئی روح پھونک دی۔
اسلامی سپہ سالاروں اور غازیوں کا فوجی سیاسی اور دوسرے پہلوؤں کے علاوہ ایک روحانی پہلو بھی ہے، جس کو علامہ اقبال نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا۔
یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر پہ صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی دہشت سے رائی
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مالِ غنیمت نہ کشور کشائی
یہ روحانی پہلو سرور کائنات اشرف الموجودات شفیع المظلومین رحمۃ للعٰلمین جناب محمد رسول اللہ ﷺ کا عطا کردہ ہے۔سرور کائنات نے 23سال میں جو دنیا کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا، اس کا ایک ممتاز پہلو یہ بھی تھا کہ مومن موت کو بہت خوشی اور چاہت کے ساتھ گلے لگاتا تھا۔ یہ امتیاز دنیا میں صرف مومنین کو حاصل ہوا۔ تمام مومن حکمراں، جنرل، سپہ سالار وغیرہ کا یہ روحانی پہلو بہت اہم ہے کیوںکہ اس دور میں جنگ ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ حوصلہ اور ہمت سے لڑی جاتی تھی۔
یہ روحانی پہلو آپ ہر غازی کے کردار میں پائیںگے۔ نورالدین زنگی بھی انہی غازیوں میں سے ہیں کہ جن سے اللہ نے امت کی دفاع کا کام بھی لیا اور ان سے حضور ؐکی وہ خاص الخاص خدمت لی جو تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھی گئی، جب قائد اتنے روحانی مقام پر ہوں تو ظاہر سی بات ہے جو وہ آنے والوں کو تربیت دیںگے تو وہ بھی اسی اعلیٰ مقام پر ہوںگے۔ نورالدین زنگی نے اسعدالدین شیرکوہ کو تیار کیا اور ان کے ساتھ ساتھ سلطان صلاح الدین ایوبی کو بھی تیار کیا۔
یہ قدرت کا فیصلہ تھا کہ نورالدین زنگی کے بعد صلاح الدین ایوبی سلطان بن کر سامنے آگئے۔ نورالدین زنگی کے بعد فوری طور پرلیڈر شپ کا خلا پیدا ہوا۔ اگر ان کے بعد اس دور میں کوئی طاقتور قیادت نہ آتی تو صلیبی سازشوں سے اور طاقت سے مسلمانوں کو اکھاڑ پھینکتے، لیکن صلاح الدین ایوبی صرف 37برس کی عمر میں 1174میں سلطان مصرو شام اور عراق ہوئے جو مقام تاریخ میں سلطان صلاح الدین ایوبی کو ملا وہ آج تک کسی مسلمان حکمران کو حاصل نہیں ہے۔ یہ وہ غازی ہیں جو فاتح بیت المقدس بھی ہیں۔ 1917میں فرانسیسی جنرل جب یہاں پہنچتا ہے تو صلاح الدین ایوبی کی قبر پر جا کر اعلان کرتا ہے کہ صلاح الدین ہم یہاں پہنچ گئے ہیں۔ ہمیں روک کے دکھاؤ گویا700سال بعد بھی صلیبیوں کے دلوں میں صلاح الدین کے خلاف نفرت کی آگ بھڑک رہی تھی۔ 1187میں جب مسلمانوں نے 90سال کے بعد دوبارہ بیت المقدس فتح کیا تو یہ صلاح الدین ایوبی کے کارناموں کی معراج ہے، جس دن بیت المقدس فتح ہوا تو 27رجب تھی یہ وہ دن ہے جب سرور کائنات محمدﷺ کا معراج کا سفر ہوا تھا۔ اس فتح میں اللہ کی تائید تھی، جس دور میں صلاح الدین ایوبی فتوحات میں لگے ہوئے تھے، اس دور میں پوری دنیا میں کوئی جنرل یا حکمراں ان کے پائے کا نہیں تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی شہاب الدین غوری کے ہم عصروں میںسے ہیں۔ اسی زمانے میں غوری ہندوستان کی طرف بڑھ رہے تھے۔ صلاح الدین ایوبی کرد نسل سے ہیں۔
صلاح الدین ایوبی کی شخصیت Multi dimentionalہے، جس وقت صلاح الدین ایوبی کا انتقال ہوا تو چند درہم کے علاوہ ان کا کوئی اثاثہ نہیں تھا اور دوسری طرف اتنا شاندار سلطان کہ دنیا میں اس کے نام کی دہشت آج بھی طاری ہے۔ ایک طرف جنگ کے پانسے پلٹنے والا جنرل، دوسری طرف غیروں کی ماں بیٹیوں کے سروں پر شفقت سے ہاتھ رکھنے و الا رحم دل انسان۔ صلاح الدین ایوبی کی عظمت کا اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یوروپ کے سارے بادشاہ مل کر اپنے Standing armiesکے ساتھ صلاح الدین پر جنگ کے میدان میں اور سازشوں کے تحت 20سال حملے کرتے رہے اور یہ مرد مجاہد اکیلا پورے یوروپ کا مقابلہ تن تنہا کرتا رہا۔ یہ اس قدر غیرمعمولی شجاعت ہے کہ جس کی مثال مشرق و مغرب میں کہیں نہیں ملتی۔ صلاح الدین ایوبی تلوار کے غازی کے ساتھ ساتھ کردار کے غازی بھی ہیں۔ پوری عمر صرف ایک بیوی رکھی۔ کبھی کسی کی بہن بیٹی کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ سب کے ساتھ انصاف کیا۔ اس کی دو مثالیں ہم بیان کرنا چاہتے ہیں۔
ایک دفعہ عیسائی لشکر سے ایک عورت روتی پیٹتی مسلمانوں کے لشکر کی طرف آگئی تو سپاہیوں نے اسے سلطان کے سامنے پیش کیا۔ صلاح الدین ایوبی نے پوچھا ماجرہ کیا ہے تو اس عورت نے کہا میرے بچے کو کچھ لوگ اٹھا کر لے گئے تھے۔ جب میں اپنے بادشاہ کے پاس گئی تو اس نے مجھے کہا کہ تم مسلمانوں کے بادشاہ کے پاس جاؤ، سنا ہے وہ بہت رحم دل اور انصاف کرنے والا ہے، وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ میں تمہارے پاس آئی ہوں۔ خدا کے واسطے میری مدد کرو۔ اس عورت کی چیخیں دیکھی نہیں جارہی تھیں۔ اس کی حالت دیکھ کر سلطان مصر و شام صلاح الدین ایوبی آنسوؤں سے رونے لگتے ہیں اور اپنے سپاہیوں کو حکم دیتے ہیں کہ چاروں طرف پھیل جاؤ اور اس کے بچے کو تلاش کر کے فوراً حاضر کرو، جب اس کا بچہ ڈھونڈ کر لایا جاتا ہے تو عورت جذبات میں آکر بری طرح رو رہی ہوتی ہے اور سلطان اس کے ساتھ ساتھ رو رہے ہوتے ہیں ، اس عورت کو گھوڑے پر بیٹھا کر حفاظت کے ساتھ اس کے لشکر میں واپس پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہ اس سلطان کی انسان دوستی اور محبت ہے، جس کی وجہ سے اس کے دشمن بھی سلطان کے لیے تفریحی کلمات بولنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ (جاری)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *