سونیا گاندھی اور مودی کا گجرات

روبی ارون

گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف جنگ کی شروعات کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کا نیا ایجنڈا ہے۔حالانکہ نریندر مودی سونیا کے اس نئے ایجنڈے سے واقف نہیں ہیں۔ مگر قومی صلاح کار کونسل کو ہتھیار بنا کر مودی کے خلاف جنگ جیتنے کا ایجنڈا گجرات میں سونیا گاندھی کی سیاسی جدو جہد کا اعلان ہے۔ اس اہم سیاسی جنگ کی کمان سونیا گاندھی نے اپنے ہاتھوں میں لے رکھی ہے ،جس کے لئے ہتھیار بنایا ہے سونیا گاندھی نے قومی صلاح کار کونسل کو اور گجرات کے سابق سینئر آئی اے ایس افسر ہرش مندر، سماجی کارکن فرح نقوی اور مرائی چٹرجی کو ۔سونیا گاندھی کے یہ تینوں اہم پیادے گجرات میں نریندر مودی کے خلاف ہتھیار گھمائیں گے۔ فساد اور فرضی مڈبھیڑ معاملوں میں متنازعہ طور پر سرخیوںمیں رہنے والے نریندر مودی کے خلاف اب سونیا گاندھی نے اپنی سیاسی دھار تیز کرتے ہوئے انہیں دبوچ لینے کا ارادہ کر لیا ہے۔ سونیا یہ سمجھ رہی ہیں کہ آنے والے وقت میں اگر کانگریس کو ملک میںسکون کے ساتھ حکومت کرنی ہے تو انہیں گجرات سے نریندر مودی کا سیاسی شامیانہ اکھاڑنا ہوگا۔ اس طرح کانگریس اپنی اہم حریف بی جے پی کو اس کی اوقات بتا سکتی ہے۔ لہٰذا سونیا ایک تیر سے کئی شکار کرنا چاہتی ہیں۔ سابق نوکر شاہ ہر ش مندر نے ابھی تک فسادات سے جڑے 2000سے زائد معاملات کو کورٹ میں ازسر نو سماعت کے لئے کھلوایا ہے۔اس طرح سونیا گاندھی اپنے اس دائو سے گجرات کے مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیابی کا تانا بانا بن رہی ہیں۔ اس کا پیغام صرف گجرات میں ہی نہیں، بلکہ پورے ملک میں جائے گا اور اس اقدام سے سیاسی فائدوں کے بارے میں آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے خلاف سونیا گاندھی کی جنگی حکمت عملی  کے چوتھی دنیا کے پاس پختہ ثبوت ہیں۔ نریندر مودی کی کھلی مخالفت کرنے اور فرقہ واریت کے خلاف کام کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے ان تینوں کے ذریعہ چلائی جانے والی رضاکار تنظیموں کو 100کروڑ روپے کا عطیہ دیا ہے۔ ہرش مندر انڈین مسلم ریلیف اینڈ چیرٹی نامی تنظیم کے لئے بھی کام کرتے ہیں اور اس تنظیم سے کانگریس کا گہرا تعلق ہے۔ ہرش مندر اس ادارے کے لئے فنڈ جمع کرنے کا کام بھی کرتے ہیں اور اس کے لئے وہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں سے ہندوستان میں اقلیتی بہبود کے نام پر اربوں روپے وصول کرتے ہیں۔
سونیا گاندھی کی یہ بھی کوشش ہے کہ فرقہ واریت مخالف قانون بنا کر وہ نریندر مودی کے گلے میں قانون کا پھندا جلد سے جلد ڈال سکیں ۔ آپ کو یاد دلا دیں کہ ہرش مندر نے گجرات فسادات کی مخالفت میں استعفیٰ دے دیا تھا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے امن برادری نامی تنظیم بنائی تھی۔ سماجی کارکن فرح نقوی ’انہد‘ نامی رضاکار تنظیم سے وابستہ ہیں اور مرائی چٹرجی یہی کام آزادانہ طریقہ سے انجام دیتی ہیں۔فرح اور مرائی گزشتہ طویل عرصہ سے اقلیتوں کے حقوق، خواتین کی عزت اور ان کی تعلیم کے ایشو پر بھی کام کرتی آ رہی ہیں۔قومی صلاح کار کونسل میں ان تینوں کو شامل کرنے کے پیچھے یہی خاص وجہ رہی ہے۔ یہ تینوں عام طور پر نریندر مودی کی فرقہ وارانہ پالیسیوں کی مخالفت بھی کرتے رہے ہیں۔
ایک اور خاص بات یہ ہے کہ سونیا مودی کے خلاف سیاسی جنگ تو فتح کرنا چاہتی ہیں مگر گجرات میں اپنے کسی سیاسی سپہ سالار پر بھروسہ بھی نہیں کرتیں۔ اس کا سیاسی پیغام یا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ سونیا کی نظر میں گجرات میںکانگریس کا کوئی لیڈر اس قابل نہیں ہے جو نریندر مودی کے خلاف ماحول بنانے کا مادہ رکھتا ہو۔پچھلی بار جب گجرات میں اسمبلی الیکشن ہوئے تھے تو نریندر مودی کے مقابلہ میں ریاستی سطح کا کوئی کانگریسی لیڈر نہیں تھا۔ ایسے میں مودی کے سامنے سونیا گاندھی کو ہی سیدھے میدان میں اترنا پڑا تھا۔ اس کے باوجود بھی کانگریس بری طرح ہار گئی۔ موجودہ وقت میں کانگریس کی سب سے بڑی خواہش یہی ہے کہ گجرات میں نریندرمودی کے خلاف زبردست ماحول تیار ہو، تاکہ آئندہ اسمبلی الیکشن میں گجرات کے رائے دہندگان کا رخ موڑنے میں اس ماحول کا استعمال کیا جا سکے۔ ہر ش مندر، فرح نقوی اور مرائی چٹر جی ایسا ماحول بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ ایساکر دینے سے گجرات میں کانگریس کی دشواریاں کم ہو گئی ہیں۔ جن لوگوں کو ہتھیار بنا کر سونیا گاندھی گجرات میںکانگریس کے حق میں ماحول بنانا چاہتی ہیں، خود ان کی ہی شبیہ گجرات میں بہتر نہیں ہے۔ سونیا کے اس فیصلہ سے ان کے کچھ بے حد عزیز لوگ ناخوش ہیں۔ ان لوگوں کا تعلق بھی گجرات سے ہے، جن کی گجرات سے وابستہ اپنی سیاسی خواہشات ہیں۔ ہر ش مندر امن برادری نا م کی ایک رضا کار تنظیم چلاتے ہیں اور اپنی تقریروں میں پاکستان کی کھلی حمایت کرتے ہیں۔ وہ ایکشن ایڈ نام کے بین الاقوامی ادارے کے ہندوستان میں کنٹری ہیڈ بھی ہیں۔ ایکشن ایڈ پر یہ الزام ہے کہ وہ امریکہ  میںمقیم ان جہادیوں سے اپنے ادارے کے لئے مالی امداد لیتا ہے جو کشمیر میں جہاد کر رہے لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ ایکشن ایڈ گجرات میں جس طرز سے کام کرتا ہے، وہ بھی متنازعہ رہا ہے۔
بی جے پی کے ریاستی صدر آرسی فالدو کہتے ہیں کہ ایکشن ایڈ اور ہرش مندر ہندوستان میں مسلم علیحدگی پسندی کو فروغ دینے کا کام کر رہے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے حکومت ہند کو اس حوالے سے کئی بار آگاہ بھی کیا ہے، مگر حکومت نے ا ٓنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ سونیا گاندھی نے نریندر مودی جیسے طوفان کا سامنا کرنے کے لئے جس درخت کا سہارا لیا ہے اس کی جڑوں میں بھی بدعنوانیوں کی دیمک لگی ہے۔ ہرش مندر ہوں یا فرح نقوی، کوئی دودھ کا دھلا نہیں ہے۔ سونیا گاندھی نے بھوکے غریب بچوں کا پیٹ بھرنے اور مسلمانوں کے غریب بچوں کو تعلیم دینے کے لئے ہرش مندر کو 100کروڑ روپے کا عطیہ دے دیا مگر حقیقت میں اس پر عمل نہیں ہورہاہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر کہتے ہیں کہ ہرش مندر نے سرائے بستی علاقہ میں رضاکاری کے نام پر جو گورکھ دھندہ چلا رکھا ہے اس کا گواہ پورا شہر ہے۔ہرش مندرکو ایکشن انڈیا سے بھی بے شمار عطیہ ملتا ہے۔ حکومت دہلی سے بھی وہ ادارے کے نام پر موٹی رقم وصول کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہرش مندر کو جمعیۃ علمائے ہند سے بھی بھرپور پیسہ ملتا ہے۔ اقلیتی اور غریب بچوں کی تعلیم کے نام پر ہرش نے جس ہاسٹل کا قیام کیا ہے وہاں دو سال گزر جانے کے بعد بھی آج تک بچوں کی پڑھائی ، کھیل کود، کائونسلنگ ،ڈرگ ڈی ایڈکشن ،ریکریشن جیسی سرگرمیاں شروع نہیں کی جا سکی ہیں۔ بچوں کے بیمار پڑنے پر صحیح علاج اور دوا تک کا انتظام نہیں ہے۔ جب بچوں کی طبیعت زیادہ خراب ہو جاتی ہے تو انہیں بال سدھارگھر بھیج دیا جاتا ہے۔ تاہم ان اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو معقول تنخواہ بھی نہیں دی جاتی۔ محض 2ہزار سے 5ہزار کی تنخواہ پر رکھے گئے ملازمین سے پندرہ سے بیس گھنٹے کام لیا جاتا ہے۔ مہینوں گزر جاتے ہیں اور ہرش مندر اپنے ہی اداروں کی جانب رخ تک نہیں کرتے۔ایسا آدمی گجرات میں سونیا گاندھی کی ڈوبی ہوئی کشتی کو بھلا کیا کنارے لگا پائے گا؟
حالانکہ سونیا گاندھی اور ان کی حکومت کی یہ کوشش ہے کہ این اے سی کے ذریعہ وہ اپنے کاموں میں بدلے تیور اور کلیوروں کا نمونہ پیش کر سکیں۔ لہٰذا فرقہ واریت مخالف قانون کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ کو بھی سونیا نے اپنی فہرست میں سب سے اوپر جگہ دی ہے۔ یہاں یہ ذکر کرنا لازمی ہے کہ ہرش مندر سپریم کورٹ کے ذریعہ مقرر کئے گئے غذائی تحفظ کے کمشنر بھی ہیں اور وہ خوراک کے حقوق قانون کے لیے گجرات میں کام بھی کر رہے ہیں۔
گجرات کے وزیر خوراک نروتتم بھائی تریکم داس پٹیل کہتے ہیں کہ ہرش مندر جب افسر تھے تب بھی کام کرنے کے بجائےڈھول زیادہ پیٹتے تھے ۔اب سماجی خدمت کے نام پر بھی وہ شور مچا رہے ہیں۔ نروتتم بھائی کہتے ہیں کہ سونیا گاندھی اور کانگریس کے  بنیادی کرداراور قول و فعل میںفرق رہتا ہے۔ اس لئے ہر ش مندر سے سونیا گاندھی کی سانٹھ گانٹھ کوئی حیرانی پیدا نہیں کرتی۔ تاہم ان تمام قاعدوں کے باوجود کانگریس گجرات میں نریندرمودی کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی۔ سابق مرکزی وزیر ٹیکسٹائل اور گجرات میںکانگریس کے سینئر لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا کہتے ہیں کہ قومی صلاح کار کونسل میں ایسے سماجی خدمتگاروں اور عوام سے وابستہ لوگوں کو شامل کر کے کانگریس اعلیٰ کمان نے کانگریس کاہا تھ عام آدمی کے ساتھ کا پیغام دیا ہے اور جس ہرش مندر اور فرح نقوی پر الزامات عائد ہو رہے ہیں، انھوں نے گجرات کے فساد متاثرین کے زخموں پر مرہم لگانے کا کام کیا ہے۔ حقوق انسانی کے ان ہی کارکنان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ نریندر مودی کی حکومت اقلیتوں پر مظالم ڈھانے سے گھبراتی ہے۔اس لئے سونیا گاندھی کا یہ قدم یقینا نہ صرف گجراتی مسلمانوں بلکہ ملک بھر کے اقلیتوں کے مفاد میں ہے۔
بڑودہ کے ایک سماجی کارکن یوسف بھائی کہتے ہیںکہ دراصل جس طرح گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے فرقہ واریت کو محور بنا کر گجرات کے ہندئووں کے دل میں یہ خوف بیٹھا دیا تھا کہ اگر وہ نہیں ہوں گے تو گجرات کے ہندوئوں کا جینا مشکل ہو جائے گا۔ بالکل اسی طرز پر سونیا گاندھی بھی کام کر رہی ہیں۔ وہ اپنے تینوں سفیروں کے ذریعہ گجرات اور ملک کے دوسرے مسلمانوں کو یہ بھروسہ دلانا چاہتی ہیں کہ ملک میں مسلمانوںکو عزت کے ساتھ جینے کا حق اگر کوئی دلوا سکتا ہے تو وہ صرف کانگریس پارٹی ہی ہے اور بی جے پی اور بھاجپائی وزیر اعلیٰ نریندر مودی ان کی جان کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کہنے کو سونیا گاندھی کے اس ایجنڈے میں خوراک کے تحفظ، تعلیم اور روزگار جیسے اہم مسئلے ہیں، مگر جس طریقہ سے سونیا قومی صلاح کار کونسل کے ذریعہ اپنا پانسا پھینک رہی ہیں اس سے یہی بات ظاہر ہو رہی ہے کہ کانگریس کا مقصد ملک میں فرقہ ورانہ ہم آہنگی قائم کرنا نہیں بلکہ خود کو سیکولر ثابت کرنا ہے اور اس نظریے سے کانگریس کی یہ کوشش ملک کے مفاد میں تو قطعی نہیں کہی جا سکتی۔

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔
Share Article

روبی ارون

روبی ارون سیاسی ، جرائم اور سماجی سروکاروں کی خبروں کو اپنی قلم کے ذریعہ گزشتہ 18سال سے اٹھاتی آ رہی ہیں۔ عام عوام کے مفاد اور صحافت کے لئے ہمیشہ جدو جہد کرنے والی روبی ارون ”چوتھی دنیا“ میں ایڈیٹر( انویسٹی گیشن)کا عہدہ سنبھال رہی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *