پولس کے خلاف آر ٹی آئی کا استعمال

چوتھی دنیا میں آر ٹی آئی کالم شروع کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد صرف یہی ہے کہ اس کے ذریعہ ہم اپنے قارئین اور عام آدمی کو اتنی طاقت دے سکیںکہ لوگ انتظامیہ اور حکومت سے اپنے حق کے لیے سوال پوچھ سکیں۔ساتھ ہی ہمارا مقصد یہ بھی ہے کہ ہم آپ کے مسائل کا حل نکالنے میں مدد کر سکیں۔ہمیں خوشی ہے کہ لوگ سوال پوچھنا چاہتے ہیںاور اس کے لیے ہم سے صلاح بھی لے رہے ہیں۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم آپ کے ہر قدم پر آپ کے ساتھ ہیں۔ہم مسلسل اس کالم میں آپ کے ذاتی مسائل سے متعلق آر ٹی آئی درخواستیں شائع کریں گے، تاکہ آپ کو اپنا سوال پوچھنے میں آسانی ہو۔آپ بس ہمیں خط ، ای میل یا فون کے ذریعہ اپنے مسائل کے بارے میں بتائیں۔اس شمارے میں بھی ہم بہار کے اوم پرکاش صاحب کے مسئلے سے متعلق ایک آر ٹی آئی درخواست شائع کر رہے ہیں۔ہمیں امید ہے کہ یہ درخواست اوم پرکاش صاحب کو انصاف دلانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
اس درخواست کی اشاعت کے پیچھے ہمارا مقصد اپنے قارئین کو یہ بتانا ہے کہ پولیس ڈپارٹمنٹ سے وابستہ معاملوں میں بھی ڈرنے یا پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیںہے۔ آر ٹی آئی اور چوتھی دنیا آپ کے ساتھ ہے۔اگر آپ کے ذریعہ دائر کی گئی ایف آئی آر پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی تو آپ یہاں شائع آر ٹی آئی درخواست کا استعمال کر کے یہ جان سکتے ہیںکہ اب تک آپ کی ایف آئی آر پر کارروائی کیوں نہیں کی گئی اور کارروائی نہیں کرنے کے لیے ذمہ دار افسر کے نام اور عہدے کے بارے میں بھی جانکاری مانگی جا سکتی ہے۔اس شمارے میں شائع درخواست پر آپ اگر نظر ڈالتے ہیں تومعلوم ہوتا ہے کہ اس میں پوچھے گئے سوالوں کا جواب دینا اتنا آسان نہیں ہے۔کوئی بھی پولیس افسر یہ نہیں چاہے گا کہ ان کی لاپروائی اور نا اہلی عوام کے سامنے آئے۔آر ٹی آئی درخواست نہ صرف اطلاعات فراہم کرنے کا کام کرتا ہے بلکہ یہ بے ایمان اور بد عنوان افسران کی لگام کسنے کا بھی کام کرتا ہے۔ساتھ ہی زنگ لگ چکے نظام کو سدھارنے کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ آپ سوال پوچھیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *