رواداری و برداشت دین اسلام کا بنیادی سبق

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا گناہ کبیرہ میں سے ہے، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا آدمی اپنے والدین کو گالی دے سکتاہے؟ فرمایا، ہاں وہ کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، وہ اْس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔‘‘
آج ہمارے معاشرہ میں یہی چیز ایک فتنہ اور ایک وبال کی صورت میں عام ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں ہر گھر، خاندان، معاشرہ، صوبوں اور علاقوں میں نفرت پھیلتی جارہی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی اس قدر عام ہوچکی ہے کہ حق اور باطل میں فرق کرنا مشکل ہوگیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سورہ انعام کی آیت نمبر108میں ارشاد فرمایا:’’اور تم لوگ ان کو برا نہ کہو جن کی یہ پرستش کرتے ہیں اور اللہ کے سوا، پس وہ برا کہنے لگیں گے اللہ کو بے ادبی سے بغیر سمجھے، اسی طرح ہم نے ہر طریقے والوں کے لیے ان کا عمل آراستہ کر رکھا ہے پھر ان سب کو اپنے رب کے پاس پہنچنا ہے تب وہ جتلا دے گا ان کو جو کچھ وہ کرتے ہیں۔‘‘ اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک اہم اصول کی ہدایت فرمائی ہے اور یہ اصول اسلامی تہذیب و تمدن کا ایک بنیادی اصول ہے اور وہ یہ کہ جو کام خود کرنا جائز نہیں اس کا سبب اور ذریعہ بننا بھی جائز نہیں، اگر ایک کام کرنا انسان براسمجھتا ہے تو پھر اس کام کا محرک بننا بھی درست نہ ہوگا، اسی سے رواداری کا اصول سمجھ میں آجاتا ہے۔
یہ آیت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جن حالات میں نازل ہوئی اگر ان حالات کو پیش نظر رکھا جائے تو خوب اچھی طرح یہ بات واضح ہوجائے گی کہ انسان کو کس حد تک روا داری کا خیال رکھنا چاہیے۔
ابن جریر کی تفصیلات کے مطابق جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب مرض الموت میں تھے تو قریش کے مشرک سردار جو رسول اکرم صلی اللہ کی دشمنی اور آپ کو تکلیفیں پہنچانے میں لگے ہوئے تھے، ان کو یہ فکر ہوئی کہ ابوطالب کی وفات ہمارے لیے ایک مشکل مسئلہ بن جائے گی کیوںکہ اگر ہم ابوطالب کے بعد ان کو قتل کریںگے تو لوگ کہیں گے کہ ابو طالب کے سامنے تو کچھ نہ کرسکے اب اکیلا پا کر قتل کردیا، لہٰذا اب وقت ہے خود ہم ابوطالب سے مل کر فیصلہ کن بات کرلیں، لہٰذا قریش کے چند سرداروں نے یہ مشورہ کر کے ابوطالب کے پاس جانے کے لیے ایک وفد مرتب کیا، جس میں ابوسفیان، ابوجہل، عمرو بن عاص قریش کے سردار تھے۔ ابوطالب سے اس وفد کے لیے وقت لینے کا کام ایک شخص مطلب کے سپرد ہوا، اس نے ابوطالب سے اجازت لے کر وفد کو وہاں پہنچایا۔ وفد نے ابوطالب سے کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ آپ کے بھتیجے نے ہمارے معبودوں کو اور ہمیں سخت تکلیف پہنچا رکھی ہے، ہم چاہتے ہیں کہ آپ ان کو بلا کر سمجھادیں کہ وہ ہمارے معبودوں کو برا نہ کہیں۔ ابوطالب نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلایا اور کہا یہ آپ کی برادری کے سردار آئے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ آپ ہمیں اور ہمارے معبودوں کو برا کہنا چھوڑدیں تو پھر ہم بھی آپ کو اور آپ کے معبود کو برا نہ کہیںگے اس طرح مخالفت ختم ہوجائے گی۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا یہ بتاؤ اگر میں تمہاری یہ بات مان لوں تو کیا تم ایک ایسا کلمہ کہنے کے لیے تیار ہوجاؤ گے، جس کے کہنے سے تم سارے عرب کے مالک ہوجاؤگے؟ ابوجہل بولا، ایسا کلمہ ایک نہیں ہم دس کہنے کو تیار ہیں۔ آپ بتائیں وہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا لا الہ الا اللہ یہ سنتے ہی سب برہم ہوگئے۔ ابوطالب نے کہا کہ اے میرے بھتیجے اس کلمہ کے سوا کوئی اور بات کہو کیوںکہ آپ کی قوم اس کلمہ سے گھبرا گئی ہے۔ آپ نے فرمایا چچا جان میں تو اس کلمہ کے سوا کوئی دوسرا کلمہ نہیں کہہ سکتا اگر چہ وہ آسمان سے آفتاب لا کر میرے ہاتھ پر رکھ دیں، اس پر وہ لوگ ناراض ہو کر کہنے لگے کہ پھر ہم بھی آپ کے معبود کو برا کہیںگے اس پر سورہ انعام کی یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ ان کے بتوں کو برا نہ کہیں جن کو ان لوگوں نے خدا بنا رکھا ہے، ورنہ وہ اپنی بے راہ روی اور بے سمجھی سے اللہ تعالیٰ کو برا کہیںگے۔ رواداری کا یہ سنہری اصول ذہن میں آنے کے بعد ایک سوال ابھرتا ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات میں بتوں کا تذکرہ سخت الفاظ میں آیا ہے جیسے فرمایا: ’’یہ بت بھی کمزور اور ان کے چاہنے والے بھی کمزور‘‘ ایک اور جگہ ارشاد فرمایا: ’’یعنی تم اور جن بتوںکی تم عبادت کرتے ہو وہ سب جہنم کا ایندھن‘‘ تو ان آیات میں بتوں کو برا کہا گیا ہے پھر رواداری کا مطلب کیا ہوا؟ اسی بات کا جواب روح المعانی میں تفصیل سے دیا گیا ہے کہ ان آیات میں کسی کو برا بھلا کہنا مقصود نہیں بلکہ غلط کام کا برا انجام بتانا مقصود ہے، لہٰذا یہ رواداری کے خلاف نہیں۔ رواداری کی ایک اور مثال حدیث میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو برا نہ کہے، صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے ماں باپ کو برا کہے؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں، انسان خود تو اپنے ماں باپ کو برا نہیں کہتا لیکن جب وہ کسی دوسرے شخص کے والدین کو برا کہے گا تو اس کے نتیجہ میں وہ دوسرا اس کے ماں باپ کو برا کہے گا اس کا سبب یہ بیٹا بنا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے خود اس نے اپنے والدین کو برا کہا۔ جب معاشرے میں کسی بھی مرحلے میں دوسرے کو برا کہا جائے گا تو جواب میں برا ہی سننے کو ملے گا ۔یہاں سے فساد کا دروازہ کھل جائے گا، جس سے ایک گھر کے افراد میں پھوٹ پڑجاتی ہے، باپ بیٹا ایک ساتھ کھانا چھوڑ دیتے ہیں صرف اس لیے کہ باپ نے اسے برا کہا جسے بیٹا اچھا سمجھتا تھا اور بیٹے نے اسے برا کہا جسے باپ اچھا سمجھتا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *