حضرت محمدﷺ تاریخ انسانی کے عظیم جنرل

فرمان چودھری
آخری نبی حضرت محمدؐ کی سیرت پاک کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرمؐ بہترین داعی، عظیم مفکر، ایماندار تاجر،عدل و انصاف کے علمبردار،سحر انگیز خطیب اور اعلیٰ قائد کے ساتھ تاریخ انسانی کے عظیم جرنیل بھی تھے۔
آپؐ نے نبوت ملنے کے بعد جیسے ہی دعوت و تبلیغ کا کام شروع کیافوراً ہی لوگ آپ کے مخالف ہو گئے۔مجبور ہوکر آپؐ کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کرنی پڑی۔ہجرت کو ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ معلوم ہوا کہ مکہ کے قریش آپ ؐپر حملہ کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔اس وقت رسول اکرم ؐ کے سامنے دو متبادل تھے۔ ایک یہ کہ مدینے کے قریب سے مکہ والوں کا تجارتی قافلہ گزر رہا تھا، اس پر حملہ بول کر مال غنیمت حاصل کیا جائے۔دوسرا یہ کہ دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ آپؐ ایسے وقت میں قافلے کی بجائے بہترین جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی فوج سے نبرد آزما ہوئے اور اس جنگ میں ان تمام حکمت عملیوں کا مظاہرہ کیا، جن کی ایک تجربہ کار سپہ سالار سے امید کی جا سکتی ہے۔آپؐ  نے سب سے پہلے بدر کے قریب واقع پانی کے ذخیرے پر قبضہ کیا، جو اس وقت کی سب سے اہم جنگی چال سمجھی جاتی تھی اور ایسا کہا جاتا تھا کہ اگر دشمن کو پانی سے محروم کر دیا تو آدھی جنگ جیت لی۔اس کے بعد آپؐ نے اپنی کم وسائل اور محدود تعداد والی فوج کو تربیت دی اور اپنے لیے ایک اونچے ٹیلے پر خیمہ نصب کرایا۔پوری جنگ میں آپؐ اسی ٹیلے سے فوج کی قیادت کرتے رہے اور دکھا دیا کہ اگر کسی فوج کو کمانڈر اچھا مل جائے تو کم وسائل اور محدود تعداد کے باوجود جنگ جیتی جا سکتی ہے۔یہ جنگ جو بدر کے مقام پر لڑی گئی تھی کے متعلق آج بھی دنیا محو حیرت ہے کہ کس طرح313کی تعداد سے آپؐ نے 1400کی فوج کو بد ترین شکست دی۔اس پر بھی ستم یہ کہ 313کے پاس صرف 70اونٹ اور 3 گھوڑے تھے، جبکہ مخالف کے پاس جدید ہتھیار اور وافر مقدار میں اونٹ اور گھوڑے تھے۔
جنگ بدر میں قریش شکست کھا کر بھاگ گئے ،لیکن پھر اگلے ہی سال پہلے کے مقابلے زیادہ طاقت کے ساتھ آئے۔جواب میں اللہ کے رسولؐ نے بھی مقابلے کے لیے ایک ہزار کے لشکر کو مدینے سے باہر نکالا، لیکن عین وقت پر منافق عبد اللہ بن ابی اپنے300منافقوں کو لیکر واپس آ گیا۔اب محمدؐ کی قیادت میں صرف 700فوجی تھے اور جواب میںکئی ہزار جنونی، لیکن ایسے وقت میں بھی اس جلیل القدر کمانڈر نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی فوج کو میدان احد میں لے گیا۔اس عظیم جرنیل نے ایک بار پھر اپنی سپہ سالارانہ قیادت کا مظاہرہ کیا اور طاقتور دشمن کو شکست دی، لیکن جب کچھ وجوہات کی بنا پر وہ50آدمی اپنی جگہ پر قائم نہ رہ سکے جنہیں در ہ پر بٹھایا گیا تھا تو جنگ کا نقشہ بدل گیا اور مسلمان دشمن پر غالب آنے کے بجائے مغلوب ہونے لگے۔ایسے وقت میں بھی اس عظیم جرنیل نے بکھری ہوئی فوج کی قیادت کی اور دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔جب دشمن بھاگ گیا تو اس فوج کو آرام کرنا چاہئے تھا، لیکن اس عظیم جرنیل کو پتہ تھاکہ دشمن پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہئے۔ دور جدید کے ماہرین جنگ بھی محمدؐ کی جنگی بصیرت کے قائل ہو جاتے ہیں کہ کمزوری کی حالت میں بھی انھوں نے دشمن کا تعاقب کیااور نہ صرف تعاقب کیا بلکہ مدینہ سے 8میل دور جہاں تک تعاقب کیا وہاں تین روز تک قیام بھی کیا اور ان تین روز کی راتیں اس طرح گزاریں کہ ہر مسلمان رات میں الگ الگ آگ روشن کرتا، اس طرح میدان میں قریب 500مقامات پر آگ روشن کی گئی اور یہ آگ میلوں دور سے نظر آتی۔اس آگ کو روشن کرنے میں محمدؐ کی ایک یہ حکمت عملی پوشیدہ تھی کہ جو بھی دیکھے اسے محسوس ہو جائے کہ مسلمانوں کا لشکر چھوٹا موٹا نہیں بلکہ لشکر جرار ہے اور محمدؐ اس حکمت عملی میں کامیاب بھی ہوئے۔نہ صرف مکہ اور مدینہ بلکہ پورے عرب میں یہ شہرہ ہو گیا کہ مسلمانوں نے دشمن کا تعاقب کیا تھا اور مسلمانوں کا لشکر بہت طاقتور ہے،اس سے مسلمانوں کے حوصلے بلند ہوگئے۔یہ حکمت عملیاں اللہ کے رسول نے ایسے وقت میں کیں جبکہ آپؐ  تھک کر چور ہیں۔ اگر مسلمانوں کو نقصان ہوا تو وہ صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے محمدؐ کی جنگی تدبیروں پر عمل کرنے میں کوتاہی برتی تھی، ورنہ جنگ احد کا نتیجہ بھی جنگ بدر سے کچھ الگ نہ ہوتا۔
جنگ احد کی ناکامی سے تلملائے دشمن نے آخری اور فیصلہ کن معرکہ کے لیے مدینے کا رخ کیا۔جب دشمن مدینے کی سرحد کے قریب آیاتو یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ مدینہ میں داخل ہونے اور مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لیے اسے 6کلو میٹر لمبی5میٹر چوڑی اور5میٹر گہری خندق کو عبور کرنا تھا۔اس پر رسول اللہ کی یہ تدبیر کہ مسلمانوں کو تیر و کمان کے ساتھ خندق سے کچھ دوری پر بٹھا دیا۔اس طرح دشمن کے جس فرد نے بھی خندق عبور کرنے کی کوشش کی وہ زندہ نہیں بچا۔نتیجتاً دشمن فوج کو خندق کے دوسری جانب ہی رکنا پڑا اور ایک رات ایسی آندھی آئی کہ دشمن کو بھاری نقصان اٹھاکر وہاں سے بھاگنا پڑا۔تاریخ میں یہ واقعہ جنگ خندق کے نام سے مشہور ہے۔
جنگ خندق کے بعد مسلمان مطمئن ہو گئے کہ اب دشمن ان پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کر پائے گا، لیکن محمدؐ نے اس بار مسلمانوں کو دشمن پر جوابی حملہ کا حکم دیا۔آپؐ دس ہزار جاںنثاروں کے ساتھ مکہ کی جانب چل پڑے اور مکہ سے پہلے ہی ایک میدان میں پڑائو ڈالا۔اس میدان میں بھی حکمت کے تحت الگ الگ آگ جلائی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب کے تمام قبائل پر مسلمانوں کی ہیبت طاری ہو گئی اور اگلے دن مسلمان کسی مزاحمت کے بغیر شہر میں داخل ہو گئے۔بالآخر بغیر کسی قتل و غارت گری کے تاریخ انسانی کے عظیم سپہ سالار کے ذریعہ عظیم فتح یعنی فتح مکہ حاصل ہوئی اور یہ عظیم فتح تاریخ میں امر ہوگئی۔
اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ محمدؐ ایک کامیاب اور باصلاحیت کمانڈر بھی تھے، جن کی قیادت میں مسلمانوں نے کم تعداد اور قلیل وسائل کے باوجود جنگ بدر، جنگ احداور جنگ خندق میں دشمن کو پسپائی پر مجبور کر دیا اور جب خود پیش قدمی کی تو دشمن کے ٹھاٹ باٹ آپ کے قدموں میں تھے۔

Latest posts by فرمان چودھری (see all)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *