نتیش کمار نے نریندر مودی کی مخالفت کیوں کی

وسیم راشد

بہار کی سیاست ایک تاریخی موڑ پر کھڑی ہے۔الیکشن کی گہما گہمی کے دوران ہر پارٹی عوام کو اپنی طرف رجھانے کی کاوشوں میں مصروف ہے۔تاہم نتیش کما ر نے ایک ایسی چال چلی ہے جس کے سبب بہار میں کسی بھی دوسری پارٹی کو الیکشن میں کامیابی ہاتھ لگنا تقریباً نا ممکن ہو جائے گا۔اگر نتیش کمار اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آنے والے کئی برسوں کے لیے بہار میں بی جے پی اور جے ڈی یو کی مشترکہ حکومت قائم ہو جائے گی۔ نتیش کمار بہار میں جے ڈی یو اور بی جے پی اتحاد کو ایک پارٹی کے سانچے میں ڈھال کر حامی اور مخالفین کا رول اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔اس طرح بہار میں سنگل پارٹی ڈومیننس کا دور شروع ہو جائے گا، جس طرح 1947سے 1977تک کانگریس ملک کے اقتدار پر قابض رہی، ویسا ہی خواب نتیش کمار بھی بہار کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔
گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے آتے ہی بہار کا سیاسی پارہ چڑھ گیا۔بہار کی مشترکہ حکومت کی دونوں جماعتیں آپس میں ہی الجھ گئیں۔نریندر مودی کے خلاف نتیش کمار نے محاذ کیا قائم کیا سیاسی دائوں ںپیچ لڑانے والوں نے نفع و نقصان کا حساب کتاب لگانا شروع کر دیا۔کچھ تو یہ بھی کہنے لگے کہ اس کا فائدہ کانگریس پارٹی کو ہوگا۔بہار میں بی جے پی اور جے ڈی یو اتحاد مستقبل میں بھی بر قرار رہے گا یا ٹوٹ جائے گا اس پر جوا کھیلا جانے لگا۔شروعات سے ہی دونوں جانب سے جم کر بیان بازی ہوئی اور حالات بے قابو نہ ہو جائیں اس لیے پٹنہ میں جاری جنگ کو دہلی سے کنٹرول کیا گیا۔ جے ڈی یو کے اہم لیڈر شرد یادو نے اندازہ لگانے والے اس بازار کو یہ کہہ کر ٹھنڈا کر دیا کہ بہار میں بر سر اقتدار این ڈی اے کے باہمی اتحاد کو کوئی خطرہ لا حق نہیں ہے۔بی جے پی اور جے ڈی یو کی دوستی پہلے کی طرح قائم ہے۔ حیران کن بات یہ ہے اس ہائی وولٹیج ڈرامے کے درمیان نریندر مودی کے اصل سیاسی حریف لالو پرساد یادو اور رام ولاس پاسوان پورے کھیل سے غائب رہے۔نتیش کمار کی مودی کی مخالفت کی کیا وجہ ہے؟ نتیش کمار سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔وہ نریندر مودی یا کسی اور کے سبب اپنی حکومت کو خطرے میں ڈالنے کا جوکھم نہیں اٹھا سکتے۔پھر وہ ایسا کر کے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ اگر بی جے پی سے اس سطح پر کوئی نظریاتی اختلاف ہے، اگر انہیں سخت ہندو پرستی سے اتنی ہی نفرت ہے تو ان کے ساتھ مل کر حکومت کیوں چلا رہے ہیں؟
پہلے بی جے پی نے ایک اشتہار کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان یہ کنفیوزن پھیلانے کی کوشش کی کہ گجرات کے مسلمان دوسری ریاستوں کے مسلمانوں سے زیادہ خوش ہیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اشتہار میں دکھائی گئیں لڑکیاں اعظم گڑھ کے شبلی کالج اتر پردیش کی ہیں۔ مطلب یہ کہ اشتہار بنانے والوں کو پورے گجرات میں ایک بھی خوش حال مسلمان نہیں ملا جو بی جے پی کے اس اشتہار میں نظر آنے کے لیے تیار ہو۔اس لیے اتر پردیش سے خوش حال مسلمانوں کی تصویر چرائی گئی۔ اس اشتہار پر خوب ہنگامہ ہوا۔ نتیش کمار نے رات کے کھانے کو کینسل کرکے بی جے پی کو بے عزت کرنے کی بھر پور کوشش کی۔ نتیش کمار نے ایسے تیور دکھائے کہ مودی کی مخالفت کا پورا کریڈٹ خود ہی لے گئے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو میڈیا اور بہار کے عوام کے درمیان رام ولاس پاسوان اور لالو پرساد یادو مودی کی مخالفت کا جھنڈا بلند کرتے۔ نتیش کمار کو مودی کا دوست بتا کر مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کرتے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لالو پرساد یادو نے پریس کانفرنس تو کی لیکن اس کا مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں ہوا۔رام ولاس پاسوان اور لالو پرساد یادو نے اگر نتیش کمار کی سیاسی چال بازی کو سمجھ لیا ہوتا تو دونوں کو فائدہ پہنچتا۔ بی جے پی نے دوسری چال نتیش کمار اور نریندر مودی کوایک ساتھ دکھانے والے شتہار سے چلی۔ اس اشتہار کو دکھانے کا مقصد یہ تھا کہ نتیش کمار بھی نریندر مودی کی طرح ترقیاتی کاموں کو فوقیت دینے والے لیڈر ہیں۔گجرات میں کس حد تک ترقی ہوئی ہے اس مسئلے پر تو پھر کبھی بات کریں گے۔ فی الحال تو بہار کی سیاسی بساط پر نتیش کمار کی شہ مات والی چالوں کو سمجھنے کا وقت ہے۔
پوری دنیا میں 30سے زائد ایسے ممالک ہیں، جہاں جمہوریت ہے، لیکن وہاں ایک ہی پارٹی برسوں سے بر سر اقتدار ہے ۔ ان ممالک میں غریبی ہے، بے روزگاری ہے، عوام متعدد مسائل سے نبرد آزما ہیں ، وہاں انتخابات بھی ہوتے ہیں، دوسری سیاسی جماعتیں بھی ہیں، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ وہاں جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو برسر اقتدار جماعت ہی فاتح ہوتی ہے۔ ان ممالک کے عوام تعلیم یافتہ بھی ہیں اور حالات سے باخبر بھی۔انتخابات میں کسی طرح کی دھاندلے بازی بھی نہیں ہوتی پھر بھی انتخابات کا نتیجہ ہمیشہ ایک ہی ہوتا ہے۔مخالف جماعتیں الیکشن جیت ہی نہیں پاتیں اور اس طرح وہ کبھی اقتدار میں نہیں آ پاتیں۔جمہوریت کی یہ شکل افریقہ، ایشیااور جنوبی امریکہ کے علاوہ یوایس اے اور کناڈا میں بھی موجود ہے۔ان دونوں ممالک میں ایسی کئی ریاستیں ہیں جہاں برسوں سے ایک ہی پارٹی اقتدار پر قابض ہے۔امریکہ کے کولمبیا میں1973سے ڈیمو کریٹک پارٹی ہی کامیاب ہوتی آ رہی ہے۔1927سے اب تک شکاگو کی میئر شپ پر ڈیمو کریٹک پارٹی کا ہی قبضہ ہے۔کناڈا کی البرٹی ریاست میں 1971سے پرو گریسو کنزرویٹو پارٹی کی حکومت چل رہی ہے۔ سیاست کی تعریف میں ایسے پارٹی سسٹم کوون پارٹی ڈومیننس سسٹم کے نام جانا جاتا ہے۔ون پارٹی ڈدمیننس ایک ایسا پارٹی سسٹم ہے جہاں صرف ایک پارٹی ہی حکومت بناتی ہے اور اپوزیشن ہمیشہ ہی اپوزیشن رہتی ہے۔کچھ ممالک میں اپوزیشن قانونی طور پر موجود تو ہے لیکن وہ اتنی کمزور اور بے اثر ہوتی ہے کہ بر سر اقتدار جماعت کو چیلنج نہیں کر پاتی۔ایسا نہیں ہے کہ ان ممالک یا ان ریاستوں میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط نہیں ہیں۔جیسے کہ جاپان میں لبرل ڈیمو کریٹک پارٹی یا پھر کناڈا کی سسکا چیوان ریاست میں ٹامی ڈگلس کی حکومت۔یہ سبھی اپنی شہرت کے سبب مسلسل اقتدار پرقابض رہتی ہیں۔اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ بر سر اقتدار پارٹی ایسی حکمت عملی پر کام کرتی ہے کہ دوسری سیاسی جماعتوں کو عوام کے درمیان مشہور ہونے کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔
جن ممالک میں ایک ہی پارٹی کا دبدبہ ہے، ان کے حامی یہ مانتے ہیں کہ حکومت صحیح سمت میں کام کر رہی ہے، اس لیے انتخابات جیتتے چلے جاتے ہیں۔تاہم حقیقت جاننے کے لیے اس نظام کی تھوڑی گہرائی میں جانا ضروری ہے۔ کسی بھی جمہوریت میں بر سر اقتدار جماعت کے حامی اور مخالفین کااپنا رول ہوتا ہے۔ دونوں کے اپنے موقف اور سروکار ہوتے ہیں۔کثیر جماعتی نظام میں ہر ایک کا اپنا نظریہ ہوتا ہے جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنے اپنے نظریات عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔عوام جس پارٹی کو حمایت دیتے ہیں وہ پارٹی الیکشن جیت جاتی ہے۔عوام جس پارٹی کے نظریات کو قبول نہیں کرتے اسے ووٹ ہی نہیں دیتے اور وہ پارٹی ہار جاتی ہے۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اگر کوئی برسر اقتدار جماعت دوسری جماعت کے ایجنڈے اور نظریات کو ہی ہائی جیک کر لے تو اپوزیشن کیا کرے۔مطلب یہ ہے کہ حکومت ہی کوئی پالیسی اپنائے اور اس کے حامی ہی مخالفت پر اتر آئیں تو ایسی حالت میں اپوزیشن کبھی بھی بر سر اقتدار جماعت کو اپنی حمایت نہیں دے سکتی۔دنیا بھر میں موجود ون پارٹی سسٹم پر قابض بر سر اقتدار جماعتیں سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کام کرتی ہیں۔ وہ خود ہی منصوبے بناتی ہیںاور خود ہی اس کی مخالفت بھی کرتی ہیں۔اپوزیشن کو بے اثر کرنے اور حاشیے پر لے جانے کے لیے وہ ایسے حالات کو جنم دیتی ہیں،جس سے کہ وہ حامی اور مخالفین دونوں کا کردار خود ہی  طے کر لیں اور اس طرح وہ حکومت کی پالیسی اور نظریات کے حامیوں کے ساتھ ساتھ حکومت کے فیصلے کے مخالف عوام کو بھی اپنے ساتھ لیکر  چلنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔
ہندوستان میں آزادی کے بعد 1977تک ایسا ہی ہوا تھا۔کانگریس مسلسل حکومت کرتی رہی۔ اس عرصے میں کانگریس پارٹی میں سماج وادی ، سخت ہندو پرست، بایا ںبازو، حزب مخالف اور مضبوط علاقائی لیڈر موجود تھے۔حکومت چلانے والے بھی اور حکومت کی مخالفت کرنے والے بھی کانگریسی ہی تھے۔ اسی لیے دوسری کسی پارٹی کو نہ تو بڑھاوا مل سکا اور نہ ہی مرکز میں کانگریس کو ٹکر دینے والی پارٹی ہی جنم لے سکی،نتیجے کے طور پر ہر بار کانگریس ہی الیکشن میں کامیاب ہوتی رہی۔ملک کی سیاست پر کانگریس کا ہی دبدبہ قائم رہا۔ ایمرجنسی کے بعد جنتا پارٹی کی سرکار بھی بنی، لیکن وہ سرکار پانچ سال تک نہیں چل سکی۔ ڈھائی سال کے بعد پھر کانگریس پارٹی اقتدار میں آئی۔ مطلب یہ کہ ہمارے ہندوستان میں ایک ہی پارٹی کا اقتدار قائم رہا۔ اس عرصہ میں ہندوستان بھی ان ممالک کی ہی قطار میں کھڑا تھا، جہاں کثیر جماعتی جمہوریت ہونے کے باوجود برسراقتدار جماعتیں الیکشن نہیں ہارتی تھیں۔اس کی اہم وجہ بر سر اقتدار جماعت کی حکمت عملی ہی ہوتی ہے، ان پارٹیوں کے اندر کھلے دل ودماغ والے نظریات اور انٹراپارٹی ڈیموکریسی ہی ان کے کام کرنے کی طاقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی قومی مسئلہ پر برسراقتدار جماعت ہی حمایت اور مخالفت کا مرکز بن جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حکومت پالیسیاں بناتی بھی ہے اور اس پارٹی کے لوگ ان پالیسیوں کی مخالفت بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں اپوزیشن کو سیاسی جگہ نہیں مل پاتی ہے۔ ہر اہم مسئلہ کی برسراقتدار گروپ حمایت و مخالفت کر کے عوام کو گمراہ کرتا ہے، جس کے سبب عوام کے درمیان اپوزیشن کا جو بھی عمل ہوتا ہے، وہ برسراقتدار گروپ کے ساتھ ہی مل جاتا ہے۔ اپوزیشن حکومت کی پالیسیوں کے خلاف لوگوں کو اکسانے میں ناکام ہوجاتی ہے۔بی جے پی اور جے ڈی یو نے بہار میں ایسا ہی کیا ہے۔ نریندر مودی پٹنہ سے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت سونیا گاندھی پرزبانی حملہ کر کے سرخیاں بٹورنے میں کامیاب ہوگئے۔ مودی کی مخالفت کر کے نتیش کمار اپنی سیکولر شبیہ بنائے رکھنے میں کامیاب رہے۔ مسلمانوں کے درمیان نتیش نے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کی  اور ہندو رائے دہندگان کے درمیان بی جے پی نے اپنی  مضبوط شناخت بنا لی۔ بی جے پی اور جے ڈی یو جماعتیں آپس میں جھگڑا کر کے اپنی اپنی پارٹیوں کو فائدہ پہنچانے میں کامیاب رہیں۔
سیاست کا کھیل بھی شطرنج کی طرح ہوتا ہے۔ ہر کسی کو ایسی چال چلنی ہوتی ہے، جس سے کہ وہ مخالف کو ایک ہی حملے میں مات دے سکے۔ نتیش کمار نے مودی کی مخالفت کر کے ایسی ہی چال چلی ہے۔ بہار میں اپوزیشن کا سب سے بڑا ہتھیار سیکولرزم ہے۔ نتیش نے اس چال سے مخالفین کے سب سے مضبوط ہتھیار کو ہی بے اثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ بی جے پی کے ساتھ مشترکہ حکومت بھی چلا رہے ہیں، ساتھ ہی بی جے پی کے سب سے مضبوط لیڈر نریندر مودی کی مخالفت  بھی کر رہے ہیں۔ نتیش کمار کی مودی مخالفت میں کچھ سچائی ہوسکتی ہے، لیکن سیاست اتنی آسان ہوتی تو مانا بھی جاسکتا ہے۔ یہ کیسے بھلایا جاسکتا ہے کہ گذشتہ لوک سبھا انتخابات کے دوران نتیش نے مودی کے خلاف محاذ قائم کر رکھا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ نریندر مودی کو بہار میں گھسنے نہیں دیںگے، لیکن انتخابات ختم ہوتے ہی وہ پنجاب کی ریلی میں مودی کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے نظر آئے۔ وہی متنازع فوٹو اس بار بہار کے اخباروں میں شائع ہوا ہے۔ بہار میں انتخابات قریب ہیں، اس لیے ہر لیڈر اپنی چال سوچ سمجھ کر چل رہا ہے۔ نتیش کمار کی یہ چال ان کے مخالفین کے پیروں سے زمین کھینچ لے گی۔ اس چال سے انہیں مسلمانوں کے ووٹ بھی ملیں گے اور انہی کے ووٹ کی وجہ سے وہ جیت بھی حاصل کرسکیں گے اور بی جے پی کے ساتھ مل کر پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اگر نتیش کمار کی یہ حکمت عملی کامیاب ہوجاتی ہے تو بہار میں سیاست کا نیا دور شروع ہوجائے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ لالو پرساد یادو، رام ولاس پاسوان اور کانگریس پارٹی بہار میں نتیش کے جواب میں کیا کرتی ہے؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *