نتن گڈکری تمہارے اسکول کا ہیڈ ماسٹر کون ہے؟

Share Article

راج کمار
نتن گڈکری تمہارے اسکول کا ہیڈ ماسٹر کون ہے؟ یہ سوال پوچھ کر دیوبھومی اترا کھنڈ کے تعلیم یافتہ عوام نے بی جے پی کے لئے مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ دہرادون کے پریڈ گراؤنڈ میں حسب خواہش عوام کی موجودگی نہ پاکر بی جے پی کے قومی صدر ایک بار پھراپنا آپا کھوبیٹھے اور انہوں نے اجلاس عام کو خطاب کرتے ہوئے کانگریس سے سوال کر ڈالا کہ افضل گرو کانگریس کا داماد لگتا ہے کیا؟ کانگریس نے اسے اپنی بیٹی دے رکھی ہے کیا؟ جس کی وجہ سے وہ اس کی حفاظت کرتی پھر رہی ہے۔ نتن گڈکری کا یہ سوال بی جے پی کے لئے خودکشی کے مترادف ہوسکتا ہے، اس کا تصور بھی گڈکری کو ہوتا تو وہ یقینی طور پر عوام کے درمیان سیاسی ریلی میں ایسے سوال نہ کرتے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے ، جب انہوں نے ایسی ناشائستہ حرکت کی ہے ۔وہ اس سے پہلے بھی ایسا کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔طفلانہ حرکتوں کی وجہ سے گڈکری کی ایک الگ شناخت بنتی جارہی ہے۔
دہرادون کو اور یہاں کے عوام کو ملک میں ان کی دانشمندی کے لئے جانا جاتا ہے۔ یہاں ویسے بھی ملک کے دیگر حصوں کی بہ نسبت پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد بہت ہے۔ یہاں کے عوام، خواہ کسی بھی سیاسی جماعت کا لیڈر دہرادون آتا ہے اور ریاست یا ملک کی سیاست پر بیان دیتا ہے تو اسے سننے کے لئے کثیر تعداد میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ پہلا موقع تھا کہ صوبے کے لیڈران کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس موقع پر عوام کی موجودگی کم رہی، جس کی توقع حکومت اور بی جے پی کے سرکردہ لیڈروں کو نہیں تھی۔ اس کے لئے خراب موسم بھی ایک خاص وجہ ہوسکتی ہے۔ پھر بھی ریاست بھر سے اچھی خاصی تعداد میں بی جے پی کارکنان موجود تھے۔ اسٹیج سے عوام کی کم تعداد کو دیکھ کر نتن گڈکری اپنی تقریر کو شہرت عطا کرنے کے لئے اس قدر بہکے کہ انہوںنے دہشت گرد افضل گرو کو ہی کانگریس کا داماد بنا ڈالا۔اس سے پہلے بھی نتن نے ایک کہاوت کے ذریعہ سماج وادی پارٹی کے قومی صدر ملائم سنگھ یادو پر طنز کرتے ہوئے کہا تھاکہ وہ سونیا گاندھی کے تلوے چاٹتے ہیں۔ اس طرح انہوںنے اپنی طفلانہ حرکت کا ایک نمونہ پیش کیا تھا، جس سے اتر پردیش کے سماج وادی پارٹی کارکنوں میں اشتعال پیدا ہوگیا تھا۔ پوری ریاست میں سماج وادی پارٹی کارکنوں نے بی جے پی کے قومی صدر گڈکری کا پتلا نذر آتش کیا تھا۔ ملائم سنگھ یادو سے اظہار افسوس کرکے گڈکری نے معافی مانگ کر اس تنازعہ کا خاتمہ کیا تھا۔ اب ایک بار پھر اسٹیج سے طفلانہ حرکت کرکے انہوں نے اپنے آپ کو تنازعہ میں کھڑا کرلیا ہے۔ ان کے بیان پر جتنا اشتعال اس مرتبہ ریاست کے کانگریسیوں میں ہے، اس سے کم اشتعال تعلیم یافتہ طبقے میں نہیں ہے۔ اب تو دیو بھومی جسے کبھی بی جے پی ماڈل ریاست کی شکل میں بنانے کا سپنا دیکھتی تھی اسی ماڈل ریاست کے عوام نے بی جے پی کے قومی صدر گڈکری کی تعلیم اور تہذیب کے تعلق سے سوالات کھڑے کر کے اسے آئینہ دکھایا ہے۔ اترا کھنڈ جسے صدیوں سے دیوبھومی کی حیثیت حاصل ہے، وہاں کے ہزاروں عوام اس بات کو جاننے کے لئے اتاؤلے ہورہے ہیں کہ نتن گڈکری کے اسکول کا ہیڈ ماسٹر کون ہے، جس نے انہیں اس قدر گھٹیا اور اوچھا سوال کرنے کی تربیت دی ۔ نتن نے اسٹیج سے جب یہ سوال کانگریس اور ان کے قومی صدر سے کیا تھا تو انہوں نے سوچا تھا کہ دہشت گردی کے موضوع پر وہ کانگریس کو پوری طرح گھیر لیں گے اور عوام کے درمیان تالیاں گونج اٹھیںگی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وہ بھول گئے کہ وہ اسی پارٹی کے قومی صدر ہیں ،جس کی این ڈی اے کی حکومت میں قندھار سانحہ کے تعلق سے دہشت گردی کے موضوع پر اٹل بہاری واجپئی  حکومت کی جو رسوائی ہوئی تھی، اس سے بی جے پی کا اصلی چہرہ پہلے ہی عوام کے سامنے آچکا ہے۔ انہوں نے یہ سوال اگرچہ کانگریس سے پوچھا تھا ،لیکن اب وہ خود ان کے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا۔
اترا کھنڈ کے لیڈر ہرک سنگھ راوت کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے تہذیب و اقدار سے عاری ہونے کی وجہ سے ہی ریاست کے عوام نے لوک سبھاالیکشن میں انہیں پوری طرح سے مسترد کردیا ہے، لیکن اتنی گھٹیا بیان بازی اور ایسی اوچھی حرکت تو اس ریاست کی بی جے پی کا ایک معمولی کارکن بھی نہیں کرتا، جس طرح کا سوال گڈکری نے اسٹیج سے کیا۔ یہ ان کی طفلانہ حرکت کے ساتھ ساتھ بی جے پی کا تہذیب واقدار سے عاری چہرہ ہے، جو ملک اور جمہوریت کے لئے شرمناک ہے۔ انہوں نے قندھار سانحہ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ پورے کا پورا طیارہ واجپئی حکومت نے جس طرح دہشت گردوں کی خدمت میں بھیجا تھا، اس پر نتن کو بتانا چاہئے کہ کیا وہ دہشت گرد ان کے داماد لگتے تھے؟
اتراکھنڈ سنسکرت یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر رہے جے رام تنظیموں کے صدر پیٹھا دھیشور برہم سوروپ برہمچاری نے گڈکری کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پوری بی جے پی کے تہذیب سے عاری ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔انہوں نے بی جے پی کو مشورہ کے ساتھ دعوت بھی دی کہ وہ اپنے صدر کو تہذیب اور بہتر خیالات سے آراستہ کرنے کے لئے دو ماہ کے لئے ہمارے جے رام آشرم کو سونپ دیں، ہم انہیں ایشور سے دعاکر کے مہذب بنا دیں گے۔انہوں نے واجپئی صاحب سے راجناتھ صاحب تک کی تہذیب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ نتن کا سوال ان کے ذہنی دیوالیہ پن کو ظاہر کرتاہے، جس کا علاج قدرت کی مہر بانی سے ہی ممکن ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر یشپال آریہ کہتے ہیں کہ اس طرح کا بیان عوام میں ان کی مقبولیت کی کمی کی وجہ سے ہوسکتاہے۔ انہوں نے اس طرح کے طفلانہ بیان کے لئے دہرادون کے عوام کے ساتھ کانگریس سے معافی مانگنے کی بات کہی۔ کانگریس کے سابق ضلع صدر لال چندر شرمانے نتن گڈکری کے بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کا زوال اس بات کا اشارہ دے رہا ہے کہ اس کابڑبولا پن اب عوام کو بھی ناگوار گزرنے لگا ہے۔ گڈکری کے اس بیان نے ریاستی حکومت کے گھوٹالے کے چرچے پر پردہ ڈال کر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جس سے صوبائی حکومت اور اس کے سربراہ نے راحت کی سانس لی ہے۔ اترا کھنڈ آمد پر تین پروگراموں میں شرکت کرنے پہنچے گڈکری تینوں مرتبہ الگ الگ تین طرح کی پوشاک میں نظر آئے۔ نیلے رنگ کی پوشاک میں وہ اتراکھنڈ پہنچے ، کریم کلر کی شرٹ پینٹ میں انہوں نے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں حصہ لیا۔ جن آکروش ریلی میں سفید کرتا پاجامہ پہنے وہ لیڈر کے لباس میں نظر آئے، بہروپیا نتن کے بیان نے انہیں بد رنگ کرکے رکھ دیا۔ اس موقع پر عوام میں جوش و خروش کی کمی کی وجہ سے حکومت کی عوامی مقبولیت کے گراف پر بحث شروع ہوگئی ہے ۔ جن آکروش ریلی میں عوام میں وہ جوش وخروش نظر نہیں آیا ، جس کی بی جے پی نے تشہیر کی تھی۔گڈکری کی بد زبانی اور طفلانہ سوال نے ریلی کے بعد عوام اور کانگریسی لیڈران میں غم وغصہ پیدا کردیا۔ دہرادون کے کئی اعلیٰ خاندان کی خواتین نے ، جو بی جے پی سے منسلک ہیں، آپس میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا کہ صدر جی کو آخر ہوکیا گیا ہے۔ ٹہری سے آئی خاتون لیڈروں کے ایک گروپ نے تو یہاں تک کہا کہ اس سے اچھے تو راج ناتھ جی ہی تھے۔ دہرادون کی ایک خاتون صحافی نے حق اطلاعات قانون کا سہارا لے کر مہاراشٹر حکومت سے گڈکری کی تعلیم اور تہذیب کے تعلق سے معلومات حاصل کرنے کے لئے حق اطلاعات قانون2005کا استعمال کیا ہے۔گڈکری نے کانگریس سے سوال کرکے اس مشہور ومعروف کہاوت پر عمل کیا ہے کہ بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *