نکسلیوں کے خلاف فوج کا استعمال غیر مناسب

پربھات رنجن دین
پہلے فوج نے اور اب سبکدوش ہو چکے سینئر فوجی افسران نے حکومت کی مجوزہ فوجی تعیناتی پالیسی کے حوالے سے اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ جو بات حکومت کو سمجھنی چاہئے، اسے ملک کی فوج حکومت کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہے کہ ترقیاتی کاموں میں جنگی پیمانے کی تیزی لائے اور بد عنوانیوں کے قصوروار سول پولس اور انتظامیہ کے افسران و اہلکاروں کو عہد وسطیٰ کی سزا دیے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ فوج کا یہ چیلنج حکومت ہند کو نہیں ہے، بلکہ مخالف جماعتوں کو بھی ہے۔ در اصل یہ چیلنج ہندوستان کے سیاسی ڈھانچے کو ہے،جو غیر جمہوری ہو گیا ہے۔ مبارکباد کی مستحق ہندوستان کی فوج ہے، جو جمہوری اقدار میں یقین رکھتی ہے اور ویسی ہی صلاح دیتی ہے۔ ہندوستان کے انصاف کے نظام کے لیے بھی فوج کا رخ سبق دینے والا ہے۔
اپنے ہی ملک کے لوگوں پر گولی نہ چلانے کے فوج کے رخ کی حمایت میں کئی سینئر فوجی افسران کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ فضائیہ نے تو سرکاری طور پر اعلان ہی کر دیا کہ فضائیہ کے ہیلی کاپٹر نکسل مخالف آپریشن کے لیے نہیں دئے جائیںگے۔ اس کے لیے مرکزی سرکار الگ سے ہیلی کاپٹر خریدے۔ ہندوستانی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل اور میجر جنرل جیسے اعلیٰ عہدوں پر رہے سینئر فوجی افسران سمیت کئی دیگر اعلیٰ فوجی افسران نے ’چوتھی دنیا‘ کے منچ پر آکر نکسلیوں کے خلاف فوج کے استعمال پر اپنی گمبھیر قانونی پیچیدگیوں پر تفصیل سے اور بڑی بے باکی سے اپنی رائے دی ہے۔
ہندوستانی فوج کی شمالی کمان جیسے حساس فوجی محکمے کے جنرل افسر کمانڈنگ ان چیف (جی او سی ان سی) رہے لیفٹیننٹ جنرل موہندر ایم والیہ 1962کی چین جنگ کے ساتھ ساتھ 1965اور 1971کی ہندوستان-پاکستان جنگ لڑ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی دیگر اہم آپریشنز میں وہ میدان جنگ کے پالیسی ساز کے طور پر سرگرمی کے ساتھ حصہ لے چکے ہیں۔ انہیں کئی جنگی تمغوں اور خاص فوجی میڈلوں سے نوازا جاچکا ہے۔ جنگ لڑنے سے لے کر جنگ کی پالیسی بنانے تک میں جنرل والیہ اسپیشلسٹ مانے جاتے ہیں۔ جنرل والیہ واضح طور پر کہتے ہیں کہ نکسلی تنظیموں کے خلاف فوج کو اتارنا بالکل غلط ہے۔ نظم و نسق بحال رکھنا اور اندرونی سیکورٹی بند و بست سول انتظامیہ کا کام ہے نہ کہ فوج کا۔ ملک میں اپنی ذمہ داری دوسرے کے سر پر ڈالنے کا جیسے چلن ہوگیا ہے۔ سیاست نے ہندوستانی موسیقی کو تہس نہس کر کے رکھ دیا ہے۔ سول پولس اور انتظامیہ کا کام فوج کے سر ڈالنے کا سب سے بڑا نقصان فوج کی مہارت کو پہنچنے گا۔ فوج ملک کو باہری خطروں سے بچانے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ اندرونی معاملوں میں الجھ کر اپنی حالت پولس جیسی بنا لینے کی۔ ایسے غیر ضروری کاموں میں پھنسنے سے فوج اپنی پیشہ ورانہ ٹریننگ کی لازمیت سے محروم رہ جائے گی اور ملک کو باہری خطروں سے بچانے کا ابتدائی فرض حقیر ہو کر رہ  جائے گا۔ اس سے پیدا ہونے والے بحران سے ملک کو نجات دلانے کی صلاحیت کیا اپنے ملک کے لیڈروں میں ہے؟ سوچنے سمجھنے کی اتنی ہی صلاحیت سیاسی لیڈروں میں ہوتی تو کیا آج فوج اتنے تناؤ بھرے حالات سے گزرتی؟ جنرل والیہ ملک کے سیاست دانوں کے تئیں حقارت جتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اینٹی نکسل آپریشن میں فوج کو اتارنے یا نظم و نسق جیسے مسائل پر فوج کو الجھانے جیسی حرکتیں فوج کے حوصلوں پر بے حد منفی اثر ڈالیںگی۔ ملک کے عام شہریوں کے من میں فوج کا احترام کم ہوگا کیوںکہ فوج ملک کے لوگوں سے لڑنے کے لیے نہیں ہوتی۔ کسی بھی فوج کا سب سے بڑا اعزاز اس کے تئیں ملک کے لوگوں کا عزت و احترام ہوتا ہے، اگر اپنے ہی ملک میں فوج کی عزت نہیں بچی رہے گی تو پھر ملک کا کیا ہوگا؟ جس ملک میں سیاست دانوں کی وجہ سے سول پولس اور نیم فوجی دستوں کی شبیہ انتہائی خراب ہوچکی ہو، ایسے میں فوج کی شبیہ کو داغ دار کرانے کی سیاسی کوششیں حب الوطنی نہیں بلکہ ملک سے بغاوت ہے۔ اس کی ملک کے لوگوں کو مخالفت کرنی چاہیے۔جنرل والیہ نکسلیوں کے خلاف فوج اتارے جانے کے مرکزی سرکار کے رویے پر اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی عدم اتفاقی پر خوشی جتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہندوستانی فوجی قیادت نے ایسا کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستانی فوج سچے من سے جمہوری ہے۔ سیاسی لیڈروں جیسی پوشیدگیہندوستانی فوج میں نہیں ہے۔ فوج کی عدم اتفاقی اور فوج کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالات کو شائع کرنے اور اسے پورے ملک کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے جنرل والیہ ’چوتھی دنیا‘ کے تئیں بھی اپنا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
میجر جنرل نیلندر کمار کو آرٹیلری(توپ خانہ) میں 1969میں کمیشن ملا اور انہوں نے 1971کی جنگ بھی لڑی۔ 1982میں وہ جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ میں آئے اور وہ ہندوستانی فوج کے جج ایڈووکیٹ جنرل بھی بن گئے۔ کئی عالمی اسٹیجوں پر انہوں نے ہندوستان کی نمائندگی کی۔ فوجی قانون پر ان کی کئی کتابوں نے عالمی پیمانے پر شہرت پائی۔ نکسلی تنظیموں کے خلاف فوج کو اتارے جانے کے مسئلے پر ان کی رائے قانونی اعتبار سے اہم ہے۔ میجر جنرل نیلندر کمار کہتے ہیں کہ ہندوستانی آئین کو بنانے والے دانشور سیاسی لیڈروں نے جمہوری ڈھانچے کو ڈیزائن کرتے وقت ہی آنے والے وقت میں اس سے پیدا ہونے والے مسائل اور نامساعد حالات کے بارے میں تصور کر لیا تھا۔ سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور ذات برادری کی دشمنی سے مستقبل میں بھڑکنے والے تشدد و کئی دیگر آنے والے خطرات کو بھانپتے ہوئے ہی خانہ جنگی، بیرونی حملہ یا ملک کے اقتصادی ڈھانچہ کے تباہ ہونے کی صورت میں ایمرجنسی نافذ کرنے کاآئین میں انتظام کیا گیا تھا۔

وسیع و عریض ہندوستان مختلف ضابطے، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی عدم مساوات، رسم و رواج، زبانیں اور مختلف قبائل و ذاتوں کا مجموعہ ہے۔ ملک کے لوگوں نے انتخابی بے قاعدگی، انصاف میں تاخیر اور حکومت کی بے اعتنائی کو اتنا برداشت کیا ہے کہ جمہوری عمل، مشورہ اور حل کا راستہ ہی رک گیا۔ انہی وجوہات کے تحت عام آدمی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کو مجبور ہوا، تشدد میںاضافہ ہوا، سماجی ہمدردی میں کمی آئی اور جمہوری عمل متاثر ہوگیا۔
ہمارے ملک کا قانونی اور آئینی ڈھانچہ نظم و نسق  پر عمل کرانے کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کو دیتا ہے اور اسی لیے پولس اور علاقائی مسلح پولس مثلاً یوپی کی پی اے سی یا بہار کی بی ایم پی کا بندو بست کیا گیا، لیکن غیرسماجی عناصر کے دہشت گرد تنظیموں یا قوم مخالف طاقتوں میں تبدیل ہوجانے اور ریاستی انتظامیہ کے ناکام ہو جانے پر کیا ہوگا؟ یہ اور خطرناک ہوجائے گا، جب ملک کی دہشت گرد تنظیموں کو سرحد پار سے مدد ملنے لگے تو ایسے میں کیا مرکزی سرکار چپ بیٹھی رہے گی؟ نہیں، ایسی صورت میں ملک کی یکجہتی اور اتحاد کو محفوظ رکھنے اور شہریوں کی حفاظت کیلئے دستور میں باقاعدہ دفعہ موجود ہے۔ تب دستور اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مرکزی حکومت یا متعلقہ ریاست کا گورنر ریاست کے انتظامی ڈھانچہ کومضبوط و مستحکم کرنے اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے  فوج کا تعاون حاصل کرے۔ لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ فوج آئین کی شقوں کے مطابق ریاست کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی، وہ صرف ریاست کو اپنا تعاون پیش کرسکتی ہے۔ اس لئے قانون میں آرمڈ فورسز (اسپیشل پاور س) ایکٹ کا بھی انتظام کیا گیا، جو گورنر یا مرکزی حکومت کو نظم و نسق کی بحالی میں ریاستی انتظامیہ کی مدد کرنے کے لئے فوج کے استعمال کی اجازت دیتا ہے۔ یہ آپ جانتے ہی ہیں کہ فوج براہ راست مرکزی حکومت کے زیرکنٹرول رہتی ہے، لہٰذا مرکزی حکومت فوج کے استعمال کی ریاست کی سفارش کوخارج بھی کرسکتی ہے اور اسے التوا میں بھی ڈال سکتی ہے۔ فوج کو کسی شہری کو گرفتار کرنے، اس سے پوچھ تاچھ کرنے یا غیر قانونی ہتھیاروں کے ذخیرے یا اڈے کو تباہ کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے۔ دستور کے مطابق صرف آرمڈ فورسز (اسپیشل پاورس) ایکٹ ہی فوج کو اس کام کی اجازت دیتا ہے۔ جب تک بحرانی کیفیت سے دوچار ریاست میں آرمڈ فورسز ایکٹ نافذ نہیں کیا جاتا، فوج کو وہاں کے نظم و نسق کی بحالی میں ریاستی انتظامیہ کو تعاون دینے کے لئے ا تارا ہی نہیں جاسکتا۔ جہاں تک نکسلی مسئلے کا تعلق ہے، تو تمام لوگ یہ مانتے ہیں کہ ناقص انتظامیہ، بدعنوانی، مقامی لوگوں کا استحصال ، مقامی پولس کا نکما پن، قبائلیوں کو نظر انداز کرنا اور شہریوں کی جہالت کے لئے ذمہ دار انتظامیہ کی وجہ سے ہی صورت حال اتنی خراب ہوئی ہے۔
مرکزی حکومت نے ملک کے سامنے یہ واضح نہیں کیا کہ نکسلیوں کے خلاف فوج اتارے جانے پر وزارت دفاع آخر کیوں متفق نہیں ہوئی۔شفافیت کے فقدان کی وجہ سے فوجی کمان وریاستی حکومت میں غیرشفافیت کا ماحول بنا رہتا ہے۔ مرکز ی حکومت نے فوج کے تینوں شعبوں کو متحدہ طور پر کمانڈکرنے کے لئے چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدے کا بندوبست نہیں کیا۔ اس سے فوج کے تینوں شعبوں کی کمان اور کنٹرول میں توازن بنا ئے رکھنے میں سخت مشکلات درپیش آتی ہیں۔ حساس مشترکہ آپریشن میں احکام جاری کرنے کی اتھارٹی اور اس کی تعمیل کے بکھر جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ فوج کا ایک شعبہ کسی دوسرے شعبہ کے افسر کا حکم کس ضابطے کے تحت مانے، یہ پریشانی بنی رہتی ہے۔ اس کے علاوہ فوج اور پولس کی رینک میں زبردست فرق کی وجہ سے بھی آپریشن کے درمیان کمانڈ اینڈ کنٹرول میں زبردست مشکلیں پیش آتی ہیں۔ ٹریننگ کا فقدان اور لاجسٹک سپورٹ کی کمی جیسی دیگر مشکلات اور پریشانیاں پہلے ہی سے موجود ہیں۔
کسی بھی ریاست یا علاقہ میں نظم ونسق کی بحالی میں فوج کے استعمال کا فیصلہ آرمڈ فورسز(اسپیشل پاورس) ایکٹ نافذ کئے بغیر پوری طرح غیر قانونی اور نامناسب ہے۔ ویسے، نیشنل رائفلز اور آسام رائفلز سمیت آرمی کی تمام اکائیاں پہلے سے جموں وکشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں بری طرح الجھی ہوئی ہیں اور ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ پہلے سے ہی بہت زیادہ ہے۔نکسلی آپریشن میں فوج کے استعمال کا مطلب ہے، دہشت گردی اور علیحدگی پسندی پر قابو پانے کی فوج کی مسلسل کوششوں کو ناکام کرنا۔
انہی وجوہات کی بنا پر فوج کے سینئر کمانڈر اپنے ہی ملک کے لوگوں کے خلاف فوج کے افسروں اور جوانوں کواتارنے پر متفق نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی شکایتوں کا اثر بھی فوج کے حوصلے پر پڑ سکتا ہے۔ ایسے الزامات نکسلی آپریشن میں فوج کے اتارے جانے کے بعد مزید بڑھ سکتے ہیں۔ داخلی تناؤ کی وجہ سے خود کو گولی مارنے یا ساتھی یا افسروں کو گولی مارنے جیسے واقعات ، نکسل مخالف آپریشن میں فوج کے اتارے جانے کے بعدمزید بڑھ سکتے ہیں ۔ ان حالات کے باوجود کیا فوج شورش زدہ علاقے میں جانے سے انکار سکتی ہے؟ یہ سوال آج پورے ملک میں ہر خاص وعام کی زبان پر ہے۔ فوج اپنی عدم رضامندی کی تکنیکی وجوہات کے بارے میں حکومت کو پہلے سے اطلاع کر سکتی ہے، لیکن آپریشن میں اتارے جانے کے سرکاری حکم سے انکار نہیں کر سکتی۔ یہ بھی درست ہے کہ مرکزی حکومت ایمرجنسی کا اعلان کئے بغیر یا آرمڈ فورسز ایکٹ نافذ کئے بغیر فوج اتارنے کا نا عاقبت اندیشانہ فیصلہ نہیں لے سکتی۔

موجودہ سیاست فوج کے لئے بڑا خطرہ

فوج نے وزارت دفاع کے سامنے جو سوالات اٹھائے ، ان سوالوں پر انڈین ایئر فورس کے کمانڈر کے کے چودھری نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کمانڈر چودھری کو فوج کی حساس پالیسیوں اور سائبر وارفیئر کا ماہر افسر مانا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے مرکزی خفیہ ایجنسی را کی تکنیکی شاخ نیشنل ٹیکنیکل ریسرچ آرگنائزیشن(این ٹی آر او)میں بھی ان کی خدمات لی گئیں اور سبکدوشی کے باوجود فوج کی مختلف اکائیوں میں سائبر وارفیئر کے بارے میں تعلیم وتربیت کے لئے کمانڈر چودھری کو بلایا جاتا ہے۔
فوج کا سوال-مرکزی حکومت کس قانون یا آئینی بنیاد پر نکسلیوں کے خلاف فوج کو اتارے گی؟ آرمڈفورسز(اسپیشل پاورس) ایکٹ نافذ کئے بغیر کیا یہ ممکن ہے؟ جموں وکشمیر اور شمال مشرقی ریاستوں میں نافذاس ایکٹ کو واپس لئے جانے کے سیاسی مطالبوں کی کیا کوئی منطقی بنیاد ہے؟
کمانڈر کے کے چودھری– ملک کی سیاسی قیادت کو قانون کے معاملے میں ووٹ کی سیاست کو شامل کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ جس لاء اینڈ آرڈرکے مسئلے پر فوج اتارے جانے کی کوششیں ہورہی ہیں، وہ مسئلہ بھی لیڈروں کے ذریعہ آدیواسیوں اور غریبوں کے استحصال کی وجہ سے ہی پیدا ہوا ہے۔لیڈروں نے استحصال اور بدعنوانی میں انتظامیہ کو بھی اپنا ہتھیار بنایا۔ اس لئے آج پولس گرے ہوئے اخلاق کی بھیڑ بن کر رہ گئی ہے۔ مجرموں کو لیڈروں کی پناہ ملی ہوئی ہے اور پولس کی حیثیت لیڈروں کے نوکروں اور دلالوں جیسی رہ گئی ہے۔ ان حالات میں بھی اگر مرکزی حکومت یہ مانتی ہے کہ نظم ونسق سے جڑے نکسلی مسئلے کو کنٹرول کرنے میں سول پولس اور انتظامیہ ناکام ہے تو اسے، آرمڈ فورسز (اسپیشل پاورس) ایکٹ نافذ کرنے کے بعد ہی فوج کا استعمال کرنا ہوگا۔ جہاں سیاست ہوتی رہے، وہاں فوج کو اپنا سر قطعی نہیں ڈالنا چاہئے۔
فوج کا سوال- فوج کی اولین ذمہ داری سرحد کی حفاظت کرنا ہے۔ ہندوستانی فوج پاکستان سے آنے والے دہشت گردوں سے مسلسل برسرپیکار ہے۔ فوج میں افسروں کی زبردست قلت ہے، جبکہ فوج پر بوجھ بہت زیادہ ہے۔ ایسے میں نکسل مخالف آپریشن میں فوج اتارنے کا فیصلہ کیا نامناسب نہیں؟
کمانڈر کے کے چودھری- ہندوستانی فوج اپنے محدود وسائل کے باوجود کوئی بھی چیلنج قبول کرنے اور اسے انجام تک پہنچانے کی اہل ہے، لیکن ملک کے اندرونی لاء اینڈ آرڈر معاملہ میں فوج کا استعمال تبھی ہو جب تمام متبادل ختم ہو جائیں اور مرکزی حکومت اسے اختیاری طور پر تسلیم کر لے۔ میرا ماننا ہے کہ حکومت کے پاس متبادل باقی ہیں۔ بس سیاسی قوت فیصلہ کا فقدان ہے۔ اقتدار کی کرسی سنبھالنے والے مرکز اور ریاستوں کے لیڈران ایک دوسرے پر الزام تراشی اور غیر معمولی حالات میں سیاست کرنے سے باز آئیں، تبھی تو متبادل کے بارے میں غور کیا جا سکتا ہے۔
فوج کا سوال- حکومتیں ہر معاملہ میں فوج کا استعمال تو کرنے لگتی ہیں، مگر قانونی لڑائی میں پھنسنے کے لئے اسے اکیلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ فوج کو سول قانون بھی جھیلنا پڑتا ہے اور فوج کا قانون بھی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اور مستقبل میں جب فوج کو اینٹی نکسل آپریشن میں اتارا جائے گا تو ایسا نہیں ہوگا اس کی حکومت کیا گارنٹی دیتی ہے؟
کمانڈر کے کے چودھری– اس کی تو کوئی گارنٹی نہیں ہے۔ سیاست کرنے والے اور حقوق انسانی کی دوکان چلانے والے لوگ کسی بھی حادثہ کو طول دے کر فوج کے مسلح دستہ کی حوصلہ شکنی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔ میڈیا بھی غیر ذمہ دارانہ طریقہ سے بغیر سوچے سمجھے ان معاملات کو ضرورت سے زیادہ ہائی لائٹ کرتا ہے۔ یہ نہیں سوچتا کہ ایسا کرنے سے ملک کا کیا نقصان ہو رہا ہے۔ فوج تبھی حوصلے سے کام کر سکتی ہے، جب اسے حکومت، سیاسی جماعتیں،انسانی حقوق کی تنظیمیں، میڈیا اور عام شہری کا بھروسہ اور ہمدردی ملے۔ مگر اس کا پورا فقدان ہے۔ آپ دیکھئے جموںو کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ ایسے میں فوج نکسلی آپریشن میں اترنے سے اپنی نااتفاقی تو ظاہر کرے گی ہی۔
فوج کا سوال- سول پولس انتظامیہ کے پوری طرح ناکام ہو جانے پر حکومت نے آخر کسے قصوروار ٹھہرایا اور اسے کیا سزا ملی؟ سول پولس انتظامیہ کے ناکارہ پن کی گہری ہوتی جارہی کھائی پر پردہ ڈالنے کے لئے ہر بار فوج کا بیجا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟
کمانڈر کے کے چودھری– اب یہ کہنے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ ملک بھر کے لوگ اب یہ جانتے اورسمجھتے ہیں کہ آزادی کے بعد سے آج تک مسلسل مختلف حکومتوں، لیڈران اور سول انتظامیہ نے ملک کے غریب قبائلیوں کا زبردست استحصال کیا ہے۔شدیدبدعنوانیاں پورے مسئلہ کی جڑ ہیں۔ اب اسے جڑ سے اکھاڑنا مشکل ہو رہا ہے اور لیڈر ڈال کاٹنے میں مصروف ہیں۔ نکسل یا مائونواز یا عام زبان میں کہیں تو بغاوت کا پیڑ برگد ہوتا چلا جائے گا، لیڈران کو یہ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔قبائلیوں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی بھی حمایت نکسلی تنظیموں کو ملنے لگے گی، کیونکہ عام لوگوں کا لیڈران، مقامی پولس اور انتظامیہ سے بھروسہ پوری طرح اٹھ چکا ہے۔ اس لئے عام آدمی آج نکسلیوں پر زیادہ بھروسہ کرنے لگا ہے۔ بھروسہ کے اس قبل از وقت خطرے کے باوجود فوج کے تئیں لوگوں کو یقین ہے۔لہذا مرکز ی حکومت کو اس یقین کو بحال رکھنے کے لیے محتاط رہنا چاہئے۔
فوج کا سوال- اگر اینٹی نکسل آپریشن میں فوج اتاری جاتی ہے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ آپریشن کے درمیان میں ہی مرکزی حکومت گھٹیا اور سستی سیاست کے کھیل کے ذریعہ نکسلی کمانڈروں سے بات چیت شروع نہ کر دے؟
کمانڈر کے کے چودھری– حکومت آپریشن کے دوران گھٹیا سیاست کرے گی ہی۔ آپریشن کے درمیان ہی سستی سیاسی بات چیت کرنے کا سلسلہ شروع ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کی تو میں ابھی گارنٹی دے رہا ہوں۔ حقوق انسانی اور میڈیا والے فورس کے خلاف ایک نکاتی اسائنمنٹ پر لگ جائیںگے، اس کی تو میں ابھی ہی گارنٹی دے سکتا ہوں۔
فوج کا سوال- اس کی کون پہچان کرے گا کہ کون نکسلی ہے اور کون عام آدمی؟ تب جبکہ مقامی خفیہ ڈھانچہ، پولس اور انتظامیہ پوری طرح تباہ ہوچکا ہے۔
کمانڈر کے کے چودھری- تباہ نہیں ہوا۔ یہ کام نہیں کر رہا ہے۔ مقامی پولس اور انتظامیہ نے کام چھوڑ دیا ہے۔ پہلے بدعنوانی اور پھر خوف۔ کوئی خفیہ اطلاعات کا لین دین نہیں ہو رہا۔ نیم فوجی دستہ کے افسر اور جوان مررہے ہیں مگر کسی بھی بڑے نکسلی آپریشن میں سول پولس یا انتظامیہ کا کوئی افسر یا سپاہی نہیں مر رہا۔ مقامی لوگ خوف کے سبب کچھ اطلاعات نہیں دے سکتے۔ ایسی صورت میں فوج اتارنے کا مطلب مائونوازوں کے ساتھ ساتھ دیگر بے قصور لوگوں کی موت کو بھی دعوت دیناہے۔ مرکزی حکومت کو اور ملک کو اس کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

ملک کو سب سے زیادہ فوجی دینے والی ریاستوں میں اینٹی نکسل آپریشن تشویشناک

لیفٹیننٹ  کرنل اجیت سنگھ کو 1978میں آرمڈ (ٹینک) کور میں کمیشن ملا۔ ان کی قابلیت اور کارکردگی کو دیکھتے ہوئے 1990میں انہیں فوجی خفیہ ایجنسی (ملٹری انٹیلی جنس) میں بھیج دیا گیا۔ ملٹری انٹیلی جنس کے افسر رہتے ہوئے کرنل سنگھ نے آئی ایس آئی کا خفیہ نیٹ ورک توڑنے میں قبل از وقت کامیابی حاصل کی۔ کارگل جنگ کے درمیان ایک خفیہ آپریشن میں ہوئے زوردار بم دھماکہ میں لیفٹیننٹ کرنل اجیت سنگھ شدید طور سے زخمی ہو گئے اور انہیں فوج کی نوکری سے چھٹی لینی پڑی۔ مائونوازوں کے خلاف فوج اتارے جانے کے مسئلہ پر کرنل سنگھ کہتے ہیں کہ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیںکہ بغیر آپریشن کے مسئلہ کا حل نہیں ہو سکتا۔ مگر آپریشن فوج کی گولی سے ہو یہ غیر ضروری ہے۔ ترقی کے کام میں جنگی پیمانہ کی تیزی اور بدعنوانی کے قصور وار سول پولس اور انتظامیہ کے افسران و اہلکار کوعہد وسطیٰ کی سزا دیے جانے سے ہی یہ آپریشن پورا ہو سکتا ہے، ورنہ نہیں۔فوج فوری طور پراس مسئلے پر قابو پا سکتی ہے، لیکن اگر ترقی نہیں ہوئی اور ترقیاتی کاموں میں ہو رہی بدعنوانیوں کو نہیں روکا گیا تو مائونواز پھر ابھریں گے اور زیادہ طاقتور طریقہ سے حملہ کریں گے۔
اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کے لوگوں کے خلاف گولی چلانے کے لئے فوج کو مجبور ہونا پڑے گا۔یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ جن پانچ ریاستوں میں مستعدی سے اینٹی نکسل آپریشن چلے گا اور بہت ساری غیر ضروری ہلاکتیں ہوں گی، وہی ریاستیں سب سے زیادہ فوجی بھی دیتی ہیں۔فوج میں سپاہیوں کی سب سے زیادہ آمد بھی انہیں ریاستوں سے ہوتی ہے تو اینٹی نکسل آپریشن میں فوج کے استعمال کے بائی پروڈکٹ کی شکل میں جو نتائج ہمارے سامنے آئیں گے انہیں جھیلنے کے لئے بھی تو مرکزی حکومت کو تیار رہنا ہوگا!
نکسل متاثرہ ریاستوں میں فوج کے ذریعہ گولی چلانے اور اس سے ہونے والی اموات پر انسانی حقوق کے رضاکاروں کے ذریعہ کئے جانے والے شور شرابہ کی بات کو کرنل سنگھ کاٹ دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنان یا سیاستدانوں کا شور شرابہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ نکسل متاثرہ ریاستوں میں مسلمانوں کو خوش کرنے کا مسئلہ نہیں ہے، لہٰذا وہاںانسانی حقوق کے تشدد کاایشو زیادہ نہیں اٹھے گا، یہ طے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *