ملائم کی معافی،نیا سیاسی پینترا

سنتوش بھارتیہ

ملائم سنگھ یادو نے مسلمانوں سے معافی مانگی ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ مستقبل میں وہ ایسی غلطی نہیں کریںگے۔ اس بار ملائم سنگھ یادو کے لیے کلیان سنگھ کی دوستی بھاری پڑ گئی۔حالانکہ پہلے بھی ملائم سنگھ نے کلیان سنگھ کا ساتھ لیا تھا اور ان کے بیٹے کو اپنی کابینہ کا رکن بھی بنایا تھا۔ اٹاوہ، فرخ آباد، مین پوری اور ایٹہ میں انہوں نے ساکشی مہاراج کی مدد لی تھی۔ انہیں ہیلی کاپٹر دیا۔ بدلے میں لودھ راجپوتوں کے بیشتر ووٹ سماجوادی پارٹی کو ملے، لیکن گزشتہ اسمبلی انتخابات میں کلیان سنگھ کی دوستی کے سبب اعظم خان کی تحریک نے مسلمانوں کے دلوں میں خوف پیدا کردیا۔ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ مسلمانوں نے ملائم سنگھ کا ساتھ مکمل طور پر چھوڑ دیا تھا،بلکہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ مسلمانوں نے ملائم سنگھ کا ساتھ پوری طرح نہیں دیا۔
اس درمیان کئی واقعے رونما ہوئے۔ امر سنگھ اور ملائم سنگھ الگ ہوئے۔ امیتابھ بچن نے دونوں سے یکساں دوری بنانی شروع کردی۔ ملائم سنگھ کے خلاف مایاوتی نے کئی سیاسی قدم اٹھائے۔ پہلا قدم تھا اپنی پارٹی کو نئے سرے سے منظم کرنے کا۔ ان کے ساتھ رہے اضلاع کے عہدیداران ہٹائے ضرور گئے، لیکن ان سب کی اقتصادی حالت عہدہ چھوڑنے سے قبل کافی مضبوط ہوچکی تھی۔ نئے عہدیداران آئے اور مایاوتی نے دو ہدف حاصل کرلیے۔ ہر ضلع میں انہوں نے مضبوط مرکز ان افراد کی شکل میں قائم کیا، جن کی اقتصادی حالت مضبوط ہوگئی اور ان کے تئیں پیدا ہوا غصہ انہیں ہٹا کر رفع کردیا۔ نئے عہدیداران بی ایس پی کو مزید مضبوط بنانے میں سرگرم ہوگئے ہیں۔ دوسرا قدم انہوں نے دلتوں کے ساتھ مسلمانوں کو جوڑنے کی کوشش کی شکل میں اٹھایا ۔ ساتھ کے مسلم لیڈران کو انہوں نے اشارہ دیا ہے کہ اس بار کے اسمبلی انتخابات میں وہ 25فیصد کے آس پاس ٹکٹ مسلمانوں کو دیںگی۔ مسلمان اس سے خوش ہیں۔
کانگریس بھی اترپردیش میں پیر پسار رہی ہے۔ الیکشن اکیلے لڑنا چاہتی ہے اور مسلمانو ں کے درمیان پیغام بھیج رہی ہے کہ انہیں دوبارہ کانگریس میں واپس آنا چاہیے۔ مسلم لیڈران کو چھوڑ دیں تو مسلم کارکنان کانگریس کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔ یہی صورت حال ملائم سنگھ کے لیے باعث تشویش ہے۔ پہلے ان کے ساتھ 70فیصد مسلمان تھے، لیکن اب کتنے ہیں کسی کو نہیں پتہ۔ سماجوادی پارٹی میں مسلمانوں کو اپنی جانب راغب کرنے والے لوگ بہت کم بچے ہیں، ویسے بھی اب بیشتر لوگ ملائم سنگھ سے براہ راست تعلق رکھنا چاہتے ہیں۔ ملائم سنگھ بھی ڈمپل یادو کی شکست کے بعد یادو اور مسلمان اتحاد کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اسی کے پہلے قدم کے طور پر انہوں نے کلیان سنگھ کے ساتھ آنے کی وجہ سے مسلمانوں سے معافی مانگی ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملائم سنگھ کے اس معافی نامے سے مسلمانوں پر اچھا اثر ہوا ہے، لیکن اس اچھے اثر کو ختم کرنے میں بھی ان کے بھائی شیوپال سنگھ نے تاخیر نہیں کی۔ کہہ دیا کہ معافی مانگنا تو سیاسی مجبوری ہے۔ کلیان سنگھ کو لے کر کوئی غلطی نہیں کی تھی۔ اپنے پریوار اور اپنی جماعت کی اس خامی کو اگر ملائم سنگھ دور نہیں کر پائے تو انہیں اس الیکشن میں دوبارہ پچھلے الیکشن کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں ایک بات کہنا چاہیںگے۔ ملائم سنگھ اپنی تمام تر کوششوں کے بعد بھی اترپردیش سے آگے سیاسی طاقت نہیں بڑھاسکے۔ اتفاق سے یہی مایاوتی کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ پچھلے سالوں میں کافی کوششوں کے بعد بھی بی ایس پی کی سیاست اترپردیش سے آگے نہیں بڑھی ہے، صرف کانگریس ہے جو اترپردیش کے باہر تو حیثیت رکھتی ہے، لیکن اس کی اترپردیش میں کوئی حیثیت نہیںہے۔ بہار میں بھی یہی حال ہے۔ مسلمانوں کا ساتھ جسے بھی ملے گا، اس کی اترپردیش میں سیاسی طاقت بڑھ جائے گی، لیکن ملے گا کسے یہ سوال بہت بڑا ہے۔
کانگریس ابھی بھی مسلمانوں کو اپنے ساتھی کے ناطے نہیں دیکھ رہی،بلکہ صرف حمایت دینے والے ممکنہ طبقہ کی شکل میں دیکھ رہی ہے۔ کانگریس کے پاس مسلمانوں کو اپنا ساتھی بتانے والا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ٹھیک اسی طرح ملائم سنگھ بھی بنا کسی پروگرام کے ہیں۔ مایاوتی کے پاس ایک پروگرام ہے کہ وہ مسلمانوں کو اسمبلی میں زیادہ سیٹیں دیںگی۔
اب مسلمان کس پر بھروسہ کرتے ہیںیہ تو مسلمانوں کے اوپر ہے، لیکن اس نے گزشہ 20سالوں میں دیکھا ہے کہ جب بھی انتخابات نزدیک آتے ہیں، تو مسلمانوں کی تنظیمیں یا مسلمانوں کے لیڈر جن میں سیاسی اور مذہبی دونوں شامل ہیں، طرح طرح کی بیان بازی کرنے لگتے ہیں۔ ابھی وقت ہے کہ مسلمانوں کی تنظیمیں اور مسلمانوں کے لیڈر باہم مل کر بیٹھیںاور کم سے کم ایک ملا جا مطالبات کا خاکہ تیار کریں اور اسے سیاسی جماعتوں کے سا منے رکھیں۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ جیسے سیاسی جماعتیں عام مسلمانوں کی کسوٹی پر ہیں، ویسے ہی مسلمانوں کی تنظیمیں بھی عام مسلمانوں کی کسوٹی پر ہیں۔ اب مسلمانوں کے لیڈروں اور تنظیموں کو سیاسی جماعتوں کے دلالوں کا رول چھوڑ دینا چاہیے۔ وقت تیزی سے بھاگ رہا ہے اور بدل بھی رہا ہے۔ مسلمانوں کی نئی نسل اب اقتدار میں شرکت چاہتی ہے۔ یہ شرکت ہی اسے برسوں کی ذلت سے چھٹکارا دلاسکتی ہے۔ اپنے آخری رول میں آچکے لیڈر اور تنظیمیں کیا جواں سال مسلمانوں کی خواہشات اور خوابوں کو سمجھیںگے یا آہستہ آہستہ کنارے ہوکر بے کار ہوجائیںگے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *