ماس کمیو نی کیشن

اس بات سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ آج کے اس مقابلہ کے دور میں ہماری نئی نسل خصوصاً مسلم نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہے ۔ یہ زمینی حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاںلے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے‘ تودوسری جانب نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو مالی وسائل کی کمی یا خاندان کی پرورش کا بار گراں اپنے کندھوں پر آجانے کی وجہ سے ترک تعلیم پر مجبور ہوگیا اور انہیں کسب معاش کے لئے نکلنا پڑا۔ہم ایسے نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے ’کیریئر گائیڈ‘ کے نام سے ایک کالم شروع کرنے جارہے ہیںجس میںہم آپ کو مختلف کورس‘ان کی افادیت‘داخلہ کے لئے اہلیت‘اداروں کے نام اور فیس وغیرہ سبھی معلومات آپ کو فراہم کرائیں گے ‘تاکہ تھوڑی اور محنت کرکے اپنے کیریئر کوتابناک اور مستقبل کو روشن بناسکیں۔ہم اپنے ہرشمارہ میں قلیل مدتی پروفیشنل کورسز کے بارے میں بات کریں گے۔آج ہم جس کورس کے تعلق سے بات کرنے جارہے ہیں ‘اس کا نام ہے ’ماس کمیونی کیشن‘۔
کورس کا نام :۔  ماس کمیونی کیشن
کورس کی افادیت:۔
ماس کمیونی کیشن آج کے دور کا سب سے پرکشش اور پسندیدہ ترین پروفیشن ہے۔اس کے اندر دولت اور شہر ت دونوں ہی ہیں ۔نئی نسل میں یہ پروفیشن بہت ہی مقبول ہے۔ نوجوانوں کی کثیر تعداد اس کی جانب راغب ہورہی ہے اور ماس کمیونی کیشن کا پیشہ اختیار کررہی ہے ۔حالانکہ یہ کوئی نیا پیشہ نہیں ہے ‘کئی دہائیوں پہلے میڈیا وجود میں آچکا تھا ۔بہت پہلے جب سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی اور ریڈیو اور ٹیلی ویژ ن معرض وجود میں نہیں آئے تھے‘ اس وقت اخبارات کے ذریعہ خبریں عوام تک پہنچائی جاتی تھیں ‘جس کو آج ہم پرنٹ میڈیا بھی کہتے ہیں ۔میڈیا کی دوحصوں میں تقسیم ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے آجانے کے بعد کی گئی ۔اخبارات کو پرنٹ میڈیا کا نام دیا گیا جبکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کو الیکٹرانک میڈیا کے نام سے پکارا گیا ۔ٹیلی ویژن کے وجود میں آجانے کے بعد میڈیا کے شعبے میں زبردست انقلاب آگیا ۔ ماس کمیونی کیشن کے ساتھ بہت سی چیزیں جڑ گئیںجیسے جرنلزم‘ فلم میکنگ‘ ایڈورٹائز منٹ وغیرہ ۔ان کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا توہوئے ہی ‘ساتھ ہی یہ چیلنج سے بھر پور پروفیشن بن گیا ۔اس کے لئے بے خوف وخطر بات چیت کرنے کی مہارت ‘سخت محنت اور کئی زبانوں میں مہارت ہوناضروری ہے ۔اس شعبہ کا اصل مقصدعوام تک پیغامات(خبروں)کی  ترسیل ہے ۔ماس کمیونی کیشن وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا رہا اور اخبارات سے ریڈیو اور ریڈیوسے ٹیلی ویژن اور فلم تک کا سفر طے کیا۔آج ماس کمیونی کیشن میں ان لوگوں کے لئے بے شمار مواقع ہیں جو اس شعبہ میں دلچسپی رکھتے ہیں اور اس میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں۔آیئے اب ماس کمیونی کیشن کورس کے بارے میں کچھ جانکاری حاصل کرتے ہیں۔
کورس کی تفصیل :۔
ماس کمیونی کیشن کے کورس مختلف سطحوں پر دستیاب ہیں۔ڈپلومہ ‘پی جی ڈپلومہ ‘ انڈر گریجویٹ ‘ پوسٹ گریجویٹ یہاں تک کہ ڈاکٹریٹ کی سطح کے پروگرامز بھی موجود ہیں۔آپ ان پروگراموں میں سے کسی کا بھی انتخاب کرسکتے ہیں۔جہاں تک داخلے کے لئے اہلیت کا سوال ہے تو یہ اس بات پر موقوف ہے کہ آپ کس کورس کا انتخاب کرتے ہیں ‘کیونکہ ہر کورس میں داخلے کی اہلیت کے معیار مختلف ہیں۔
کیریئر:۔
اس شعبے میں کیریئر بہت ہی تابناک ہے ‘کیونکہ یہاں پر کیریئر سازی کے بے شمار مواقع ہیں۔چونکہ ماس کمیونی کیشن ایک وسیع وعریض میدان کی طرح ڈیولپ ہورہا ہے ‘اس لئے آپ مختلف شعبوں جیسے پبلک ریلیشن‘ اخبارات‘ریڈیو ‘ٹیلی ویژن‘ پبلیشنگ ہاؤس ‘ ایڈور ٹائزنگ ایجنسیاں‘حکومتی ادارے وغیرہ میں نفع بخش روزگار کے مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔
اہلیت:۔
اگرآپ ماس کمیونی کیشن کے ڈپلومہ یا انڈر گریجویٹ کورس میں داخلے کے خواہشمند ہیں تو آپ کے لئے کسی بھی سبجیکٹ میں انٹر میڈیٹ پاس ہونا ضروری ہے ۔پی جی ڈپلومہ اور پوسٹ گریجویٹ ڈگری کورسز میں داخلے کے لئے کسی بھی سبجیکٹ میں گریجویٹ ہونالازمی ہے ۔جہاں تک ڈاکٹریٹ کی سطح کے پروگرام کا تعلق ہے تو اس کے لئے ماس کمیونی کیشن میں ماسٹرس ڈگری ضروری ہے۔
ادارے:۔
چونکہ ماس کمیونی کیشن میں کیریئر کا مستقبل تابناک ہے ‘ اس میں پیسہ بھی ہے اور دولت بھی ۔اس کو معزز پیشہ تصور کیا جاتا ہے ‘اس لئے ماس کمیونی کیشن کے اعلیٰ کالجوں میں داخلہ لینا بہت ہی مشکل کام ہے ۔ماس کمیو نی کیشن کے چند مشہور ومعروف اور اعلیٰ ادارے یہ ہیں۔
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن(آئی آئی ایم سی)نئی دہلی‘ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف جرنلزم اینڈ نیو میڈیابنگلور‘منورام اسکول آف کمیونی کیشن کوٹائم‘ ٹائمز اسکول آف جرنلزم نئی دہلی ‘ ایکزویئر انسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیشن ممبئی‘ ایشین کالج آف جرنلزم چنئی ‘ فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیاپونے‘ سمبائسس انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن پونے‘ مدراانسٹی ٹیوٹ آف کمیونی کیشن‘ احمد آباد‘اے جے قدوئی ماس کمیونی کیشن ریسرچ سینٹر‘جامعہ ‘نئی دہلی۔
فیس:۔
بیچلر ڈگری        تقریبا1لاکھ 50ہزار روپئے سالانہ
ماسٹر ڈگری        تقریبا1لاکھ 50ہزار روپئے سالانہ
پی جی ڈپلومہ        تقریبا1لاکھ 50ہزار روپئے سالانہ
ڈپلومہ        تقریبا 50ہزار روپئے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *