لندن نامہ

حیدر طباطبائی۔ لندن ،یو کے۔

برطانیہ کی مسلم کمیونٹی کے لئے ایک درد ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہو جاتا ہے۔ برطانوی ہوم سکریٹری میڈم تھریسامئی نے اعلان کیا کہ ڈاکٹر ذاکر نائک پر برطانیہ میں داخلہ پر پابندی لگا دی گئی ہے ،کیونکہ کسی ایسے شخص کو برطانیہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ،جس کی آمد عوامی مفاد میں نہ ہو، لیکن لیبر پارٹی کے لارڈ نظیر احمد نے کہا کہ یہ فیصلہ غلط ہے، اس سے مسلم کمیونٹی میںرنگ و نسل کی نفرت اور بڑھے گی۔دوسری جانب محمد صبغت اللہ بیرسٹر اور دوسرے چند مسلم لیڈروںنے کہا ہے کہ یہ اچھا قدم ہے۔
ہندوستان کے ممتاز مسلم اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک پر الزام ہے کہ وہ برملا اسامہ بن لادن کی مدح سرائی کیا کرتے ہیں ،امریکہ کو بہت بڑا دہشت گرد بتاتے ہیں۔ ڈاکٹر ذاکر نائک کے لیکچر زکے خلاف برطانیہ کے اخبارات نے مہم چلا رکھی ہے۔ وہ یہاں آتے رہے ہیں اور بہت مقبول ہیں۔ سنی اتحاد کونسل برطانیہ کے جنرل سکریٹری مولانا قاضی عبد العزیز چشتی نے کہا ہے کہ نائک نے ایک بار یزید ملعون کو علیہ السلام کہہ کر تمام مسلمانوں کی دل آزاری کی ہے۔ ایسے موقع پر ہوم منسٹر کی حمایت کرتے ہوئے انھوں نے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو خط لکھ کر ڈاکٹر ذاکر نائک کی برطانیہ میں آمد پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ برطانیہ میں ان صوفی مبلغین کو آنے کی ضرورت ہے جو اعتدال پسند ہوں۔ اب مسلمانوں میں دو گروپ ہو گئے ہیں ایک ان کی حمایت میں دوسرا مخالفت میں۔ ہر گروپ اپنا اپنا موقف لے کر عدالت جا رہاہے۔
اگر احساس کمتری سے فدویت اجاگر ہو جائے یا پھر اطاعت گزاری ،سجدہ ریزی ، خدمت شعاری اور بندگی سے امریکہ جیسے سامراج کا دل موم ہو جاتا تو آج برطانیہ میں اقتصادی حالت اس قدر ابتر نہ ہوتی۔ اب حالت یہ ہے کہ خود انگریز اس بات کے مخالف ہیں کہ ان کے فوجی کابل جا کر افغان عوام کو ٹھوکریں مار رہے ہیں۔ چنانچہ اس ہفتہ افغانستان سے واپس آنے والی برطانیہ کی فوجوں کے خلاف مسلم تنظیموں کے ہمراہ انگریز بھی موجود تھے۔ اس مظاہرے کے دوران ’’مسلم اگینسٹ کروسیڈ‘‘(کروسیڈ کے مخالف مسلمان) نامی تنظیم اور برٹش ڈیفنس لیگ کے حامیوں کے درمیان تلخ الفاظ کا تبادلہ اور نعرہ بازی ہوئی۔اس مظاہرے میں چالیس مسلمان لڑکے اور لڑکیوں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جو برطانیہ کے  امریکی ظلم کے ہمراہ چلنے یا عراق اور افغانستان میں غریب عوام کو کچلنے کے خلاف تھے۔لندن سے دوسری داغ داغ خبر یہ ہے کہ چند روز قبل ہندوستانی سکھوں کی جانب سے گولڈن ٹیمپل پر ہندوستانی افواج اور سکھوں کی تاراجی و جرنیل سنگھ بھنڈراں والے و دوسرے سکھوں کے قتل کے خلاف احتجاج ہوا۔ٹریفالگر اسکوائر میں منموہن سنگھ کی حکومت کے خلاف تقریباً ایک لاکھ سکھوں نے مظاہرہ کیا ۔ سکھوں نے خالصتان آزاد کرانے اور سکھ قوم پر ہونے والے مظالم کو بند کرانے میں مدد مانگی۔ برطانوی وزیر اعظم کے نام یہ یادداشت دی گئی۔اس جلسے میں خوبصورت سکھ لڑکیاں پلے کارڈ لئے ہوئی تھیں۔ جن پر لکھا تھا کہ ’’انڈیا آئوٹ آف خالصتان‘‘خالصتان پورا پنجاب ہے جو سکھوں کا گھر ہے۔ سکھوں کو انصاف دو۔ ورنہ ہم لڑکر اپنا حق حاصل کرنا جانتے ہیں۔
پہلے تو ٹریفالگر اسکوائر پردھواں دار تقریریں ہندوستان کے خلاف اور منموہن سنگھ کی حکومت کے خلاف ہوئیں پھر ایک جلوس کی شکل میں سکھ برادری نے دس ڈائوئینگ اسٹریٹ پر جا کر تجویز پیش کی۔ اس احتجاجی ریلی میں برمنگھم سے لیبر پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ جان پیپلر نے بھی خطاب کیا اور سکھوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ خطاب کرنے والے سکھ رہنمائوں میں خالصہ تنظیم کے نائب صدر منموہن سنگھ، خالصہ جنرل سکریٹری رنجیت سنگھ سرائے، بلبیر سنگھ بھاٹی ، گردار سنگھ اورسردار جوگا سنگھ اس جلسے میں ہی ایک جگہ پر شہید ہونے والے سکھوں کی بنائی گئی علامتی قبروں پر بچوں اور خواتین نے پھول چڑھائے اور آہ وزاری کی۔
؎ایک خبر لندن کے اخباروں و ٹی وی پر گشت کر رہی ہے کہ اگلے ہفتے ہندوستان کے 460فوجی افسران مزید تربیت کے لئے اسرائیل پہنچ چکے ہیں۔ ان میںسینئرافسران بھی شامل ہیں جن کا تعلق تینوں افواج سے ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی ایئر فورس کے ڈپٹی انٹیلی جنس چیف مہا دیو کھنڈالا بھی اسرائیل میں پہلے سے موجود ہیں۔ ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان فوجی ٹریننگ کا معاہدہ 2006سے ہوا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیل ہندوستانی فوجی بندرگاہ رسد و کالی کٹ کے درمیان جدید مواصلاتی رابطہ اسٹیشن قائم کر رہا ہے۔ رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور ہندوستان کے اہداف یکساں ہیں۔
لندن کی کلچرل خبروں میں ایک تو یہ خبر گرم ہے کہ اردو زبان کی نام نہاد عالمی کانفرنس غالباً تیرہ جولائی کو لندن میں ہوگی۔ پھر دوسری خبر یہ ہے کہ ہندوستان کے میوزک ڈائریکٹر سلیم سلیمان نے جو اس وقت جو ہانس برگ میں ہیں کو لمبیا کی پاپ کوئن شکیرا کو ہندوستان میں گانے کے لئے راضی کر لیا ہے ۔ عنقریب شکیرا ہندی زبان میں گانے گائے گی۔ بطور نمونہ شکیرا نے انڈین گانا چک دے انڈیا گایا ہے جو بہت پسند کیاگیا ہے۔
اب غاصب اسرائیل نے غزہ میں اپنا گھیرا تنگ کر دیا ہے ۔ ہر روز فاقوں سے کتنے انسان مرتے ہیں۔ یہ خبر یں باہر نہیں آ رہی ہیں۔ وجہ جوہانسبرگ سے فٹبال کی خبروں کا کہراا یسا پھیلا ہے کہ سیاسی مطلع ابر آلود ہو چکا ہے۔ ایران نے چین اور روس کے خلاف سیاسی جنگ شروع کر دی ہے جو فٹبال کی خبروں تلے دب چکی ہے۔ ایک رپورٹ یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں خاص کر ہندوستان اور پاکستان میں ہر سال کئی کروڑ ہرے بھرے درخت کاٹ کر ان کی لکڑی فروخت کر دی جاتی ہے۔ یہ فٹبال فوبیا جب تک ختم ہوگا تب تک کتنے غزہ کے باشندے مارے جا چکے ہوں گے۔

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *