کون جیتے گا؟ راہل یا مایاوتی

پربھات رنجن دین
ملک  میں سیاست کا محور طے کرنے والی ریاست اترپردیش میں اسمبلی انتخابات تو 2012میں ہونے ہیں، لیکن کئی اہم سیاسی جماعتوں کے بڑے لیڈران یہ ماننے لگے ہیں کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات پہلے بھی ہوسکتے ہیں، کیسے؟ وہ اس کا کوئی منطقی یا اطمینان بخش جواب نہیں دے پاتے۔ ملائم سنگھ یادوجیسے سینئر لیڈر بھی کہتے ہیں کہ ریاست میں اسمبلی انتخابات پہلے ہو سکتے ہیں۔ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی جس طرح اپنی پارٹی کو چاق چوبند کرنے میں لگی ہیں اور تنظیمی سطح پر قوت اور توازن کا کام جس تیز رفتاری سے ہو رہا ہے، اس سے بھی کچھ یہی اشارہ ملتا ہے۔ ریاست کے کئی اعلیٰ نوکرشاہ بھی کہتے ہیں کہ انتخابات کے پہلے جس طرح برسراقتدارپارٹی انتظامیہ سے متعلق فیصلے، تعیناتیاں اور تقرریاں کرتی ہے،ویسا ہی آج کل اترپردیش میں تیزی سے ہو رہا ہے۔ بی ایس پی کی تیزی کو دیکھتے ہوئے کانگریس بھی زمینی سطح پر اپنی بنیاد مضبوط کرنے میں پوری طرح سرگرم ہو گئی ہے۔کانگریس کی سرگرمی کو اس سے بھی سمجھ سکتے ہیں کہ راہل گاندھی کی رضامندی سے دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی نے براہ راست کمان سنبھال لی ہے۔ پارٹی کی حکمت عملی میں ریاستی کانگریس کو بہت حد تک شامل نہیں کیا جا رہا ہے۔ایک الگ محنتی نوجوان دستہ کانگریس کے لیے ٹھوس خاکہ تیار کرنے میں سرگرداں ہے۔ یہ قبل از وقت الیکشن کرانے کی ہی تیاری ہے، جس کی طرف الیکشن کمیشن کی بھی توجہ دلائی جارہی ہے۔
قبل از وقت انتخاب کرانے کی بی ایس پی کی بے چینی دلتوں، مسلمانوں اور برہمنوں کو اپنے ساتھ سمیٹنے کی کوشش کانگریس کی تیزی کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے۔ کانگریس اترپردیش میں 1989کی طرح واپسی کرنا چاہتی ہے۔ اگر اس بار ایسا نہیں ہوا تو پھر بہت دیر ہوجائے گی۔ اترپردیش میں کانگریس کو نئی زندگی دینے کے لیے پوری قوت سے لگے راہل گاندھی کی بھی یہ سمجھ میں آگیاہے کہ دلتوں، مسلمانوں اور برہمنوں سے کانگریس کے ساتھ پرانے رشتوں کو دوبارہ بحال کیے بغیر کام نہیںبننے والاہے۔ خاص طور پر دلتوں اور مسلمانوں کو۔ حال ہی میںہوئے ضمنی انتخابات میں کانگریس بھلے ہی خاطر خواہ جیت حاصل نہیں کرسکی، لیکن دلتوں اور مسلمانوں کا ووٹ فیصد کانگریس کی جانب بڑھا ہے، جولوگ اترپردیش کے سماجی اور سیاسی درجۂ حرارت کو محسوس کرتے ہیں، وہ یہ جانتے ہیں کہ ریاست کا تقریباً 66ذاتوں والا دلت طبقہ مختلف چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ ہے۔ یہ چھوٹی پارٹیاں ان کے جذبات سے جڑی ہیں، لہٰذا یہ چھوٹی پارٹیاں بڑے پیمانے پر ووٹ بھی کاٹتی ہیں اور خود بھلے ہی نہیں کا میاب نہیں ہوتیں، لیکن بڑی پارٹیوں کے امیدواروں کو شکست سے دوچار ضرور کر دیتی ہیں، چنانچہ سیاسی ضرورت کے پیش نظر اب کوئی بھی بڑی پارٹی ریاست کی چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملائے بغیر نہیں چل سکتی۔ بڑی سیاسی پارٹیوں کو اس کی سمجھ بھی ہے، لیکن ان کے پاس اس کا کوئی کارگر متبادل نہیں ہے۔
ابھی حال ہی میں ڈومریاگنج اسمبلی سیٹ پر جو ضمنی انتخاب ہوئے، انھوں نے سارے سیاسی اعدادو شمار الٹ پلٹ کر رکھ دیے۔ انتخابی نتیجہ آنے کے بعد جب ووٹوں کا حساب کتاب سامنے آیا تو یہ ظاہر ہوا کہ بڑی سیاسی پارٹیاں کچھ اور امید لگائے بیٹھی تھیں، جب کہ اندر ہی اندر زمینی سطح پر کچھ اور ہی واقع ہوگیا۔ چھوٹی پارٹیاں اتنی بڑی سیندھ مارلے جائیںگی اس کا اندازہ کسی بھی بڑی پارٹی کے لیڈر کو نہیں تھا۔ بہرحال ڈومریا گنج میں برسراقتدار بی ایس پی کے جیتنے پر عوام اور لیڈروں کو تعجب بھلے ہی نہیں ہوا، لیکن اس کے بعد کے واقعہ نے لیڈروں کو حیرت میں ضرور ڈالا۔ مقامی سطح کی سیاسی پارٹی پیس پارٹی آف انڈیا(پی پی آئی) نے ساری بڑی سیاسی پارٹیوں کے اعداد و شمار بگاڑ کر رکھ دیے۔ سماجوادی پارٹی نے تو اپنی جھنجھلاہٹ اجاگر بھی کر دی ا ور کہا کہ اس کے لیے چھوٹی پارٹیاں ذمہ دار ہیں۔ پارٹی کے صدر ملائم سنگھ یادو نے یہ بھی کہا کہ پیس پارٹی نے ایس پی کا کام زیادہ بگاڑا۔ دراصل پی پی آئی کو ایس پی امیدوار سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ ایس پی سے نکالے گئے امرسنگھ کی حمایت پی پی آئی کوحاصل تھی۔ ڈومریاگنج اسمبلی کے ضمنی انتخاب ایک ٹیسٹ کیس کی طرح ہیں، جس کے نتیجہ کی بوکھلاہٹ میں ایس پی لیڈر اور ممبرپارلیمنٹ موہن سنگھ نے کہا کہ مقامی پارٹیاں ریاست کی سیاست کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔حالانکہ موہن سنگھ مقامی پارٹیوں کے حمایتی مانے جاتے ہیں۔ پیس پارٹی سے بھی نیچے چوتھی پوزیشن پانے کی وجہ سے ایس پی کی جھنجھلاہٹ کی وجہ سمجھی جاسکتی ہے۔ کانگریس یہاں پانچویں مقام پر رہی، لیکن اس کے مسلم ووٹوں کا فیصد میں اضافہ ہوا۔ کانگریس کے پاس لکھنؤ مغربی اسمبلی سیٹ کے لئے ہوئے ضمنی انتخاب کی مثال ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال جی ٹنڈن کے رکن پارلیمنٹ بننے سے خالی ہوئی اس سیٹ پر کانگریسی امید وار گیان کشور شکلاکو کامیابی حاصل ہوئی، جب کہ شیعہ مسلم اکثریت والے اس علاقے میں ایس پی کے امید وار بھکل نواب چناؤ ہار گئے، جہاں ڈیڑھ لاکھ مسلم ووٹ ہیں۔ کانگریس کو یہ کہنے کا جواز حاصل ہے کہ مسلم رائے دہندگان کانگریس کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ اعدادوشمار سے بھی پتہ چلتا ہے کہ سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی، دونوں کا مسلم ووٹ فیصد گھٹا ہے، جبکہ کانگریس کا بڑھا ہے۔
بہرحال2007کے اسمبلی انتخابات کے بعد اتر پردیش میں جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ان میں چھوٹی علاقائی جماعتوں کا متاثرکن کردار ابھر کر سامنے آیا ہے۔2009کے لوک سبھا انتخابات میں بھی ان جماعتوں کا اثر دکھائی دیا۔ بڑی سیاسی پارٹیوں کے لیڈران ان چھوٹی جماعتوںکواگرچہ منفی کردار اداکرنے والی اور ووٹ بینک پر نقب زنی کرنے والی پارٹیاں قرار دیں، لیکن یہ صاف ہے کہ ان چھوٹی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا عہد حاضر کی سیاست کی اہم ترین ضرورت ہے۔اس میں جو بھی جماعت آگے نکلے گی، اس کا پلڑا بھاری رہے گا۔
کانگریس تمام معاملوں میں دوسری پارٹیوں کو پیچھے چھوڑ رہی ہے۔ کانگریس کے چند بزرگ لیڈر ان بھلے ہی راہل کا قد چھوٹا کرنے کے لئے الٹی چال چل رہے ہوں، لیکن کانگریس کو پھر سے زندگی عطا کرنے کی کوششوں میں راہل پوری دلجمعی کے ساتھ مصروف ہیں۔1989 اور اس کے پہلے دلتوں کے یکمشت ووٹ کانگریس کی جھولی میں جاتے تھے۔ برہمن، مسلم اور دلت ووٹ بینک کانگریس کے ساتھ تھا۔ کانگریس اس ووٹ بینک کو پھر سے اپنے پاس لانا چاہتی ہے۔ 23سال بعد وہ پھر سے اقتدار میں واپس آنے کی کوششوں میں لگی ہے۔ 2007 میں برہمن رائے دہندگان نے بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ دیا تھا، لیکن برہمن کے نام پر چندلوگوں نے فائدہ اٹھایا۔ یہ دیکھ کر برہمنوں کی اکثریت پھر سے کانگریس کی جانب لوٹنا چاہتی ہے۔کانگریس کی صوبائی کمیٹی میں برہمنوں کو برتری دی گئی ہے۔ صوبائی کمیٹی کے صدر، پارٹی اراکین کے لیڈر اور یوتھ کانگریس کے صدر برہمن ہیں، لیکن راہل کی کوشش دلت- برہمن -مسلم کمبی نیشن قائم کرنے کی ہے۔راہل کو دلتوں کے ایسے لیڈر کی تلاش ہے جو چمار یا جاٹو کمیونٹی کا نہ ہو۔اس کے لئے پاسی فرقے کے لیڈر کو کانگریس متفقہ طور پر کھڑا کرنا چاہتی ہے۔ دلتوں میں چمار کے بعد ریاست میں پاسی فرقے کا ہی سب سے زیادہ سیاسی اثر ہے۔اترپردیش میں دلتوں کی 66مختلف ذاتیں ہیں۔2001کی مردم شماری کے مطابق دلتوں میںجاٹو کی آبادی 56فیصد ہے،جب کہ پاسی20فیصد، دھوبی، کوری، بالمیکی15فیصد اور گونڈ، دھانک اور کھٹیک آبادی5فیصد ہے۔ بقیہ 4فیصد میں مسہر، کٹھیریا اور دیگر دلت ذات کے لوگ آتے ہیں۔
مایا وتی خود جاٹو ذات سے تعلق رکھتی ہیں اور اس ذات پر ان کی گرفت کافی مضبوط ہے، لیکن پاسی ذات کے لوگ بی ایس پی سے بالکل الگ ہوچکے ہیں۔ ریاست کی تقریباً ڈیڑھ سو اسمبلی سیٹوں پر پاسی کمیونٹی کی آبادی پانچ ہزار سے 75ہزار اور 82اسمبلی سیٹوں پر 30سے75ہزار ہے۔لہٰذا اودھ علاقے کے 82اسمبلی علاقوں میں پاسیوں کے فیصلہ کن کردار کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ جاٹوؤں کو چھوڑکر پاسی سمیت دلت کمیونٹی کی دیگر ذاتیں راشٹروادی کمیونسٹ پارٹی سے متعلق پارکھ مہاسنگھ کے نیچے تیزی سے متحد ہورہی ہیں۔ دلتوں کی برہتر کمیونٹی کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ جاٹو ذات کے سامنے ان کی حیثیت دوسرے درجے کی ہے۔مایا وتی کے جانشین کے اعلان نے بھی پیغام کی تشہیر میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ کمیونٹی پہلے تو بی ایس پی ،ایس پی،بی جے پی میں منقسم رہتی تھی، لیکن اب تیزی سے کانگریس کی طرف اس کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ یہ سمجھتے ہوئے کانگریس بھی غیر جاٹو دلت ذاتوں کو اپنی جانب مائل کرنے میں مصروف ہے۔ راہل گاندھی کے جو دورے دلتوںکے گھر ہوئے، ان میں پاسی کمیونٹی کے لوگ زیادہ تھے۔ کانگریس کو 2007کے اسمبلی الیکشن میں محض دو فیصدجاٹو ووٹ ملے تھے ، جو 2009کے لوک سبھا انتخابات میں بڑھ کر 4فیصد ہوئے۔ لیکن غیر جاٹودلت وو ٹ فیصدپانچ فیصد سے بڑھ کر 16فیصد پر پہنچ گیا۔رائے بریلی میں سونیا گاندھی کاپاسی راجا کے ماہی قلعے پر جانا اور قلعے کو آثار قدیمہ اور سیاحتی مقام کی شکل میں ڈیولپ کیے جانے کا وعدہ کرنا، راہل گاندھی کا امیٹھی کے سمرا گائوں میں شیو کماری کوری کے گھر جانا یا سرا وستی میں چھیدی پاسی کے گھر جا کر رکنا یا پرتاپ گڑھ کے ایک مندر میں ہوئی بھگدڑ کے معاملے میںرادھے شیام پاسی کو اپنا موبائل فون دینا یا اترپردیش اسمبلی میں کانگریس پارٹی اراکین اسمبلی کے لیڈر پرمود تیواری کا پرتاپ گڑھ میں گائوںکی پردھان دیو کی پاسی کے گھر رکنا جیسے کئی واقعے غیر جاٹو دلتوں کو کانگریس کی طرف سمیٹنے کی کوشش ہی تو ہے۔ کانگریس قیادت کی جانب سے ملے مثبت اشارے کے سبب پاسی کی اکثریت والے علاقے سے پی ایل پونیا کو لوک سبھا انتخابات میں کامیابی ملی۔کچھ سینئر کانگریسی رہنمائوں کا ماننا تھا کہ پونیا کو ریاست میں آگے لاکر پارٹی دلتوں کی حمایت پانے کی کوشش کر سکتی ہے، لیکن کانگریس قیادت جاٹو بنام جاٹو کے بجائے جاٹو بنام دیگر دلتوں کا ملا جلا سیاسی اکھاڑا تیار کرنا چاہتی ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ پاسی سمیت دیگر دلت ذاتوں کے اہم لیڈران کو کانگریس کے خیمے یا حمایت کے دائرے میں لایا جائے۔کانگریس تیزی سے اس کوشش میں لگی ہوئی ہے۔دراصل سال2007میں جو مایاوتی نے کیا اور اسمبلی انتخابات میں شاندار جیت درج کی، وہی راہل گاندھی2012میں دہرانا چاہتے ہیں۔ کانگریس ضلع سطح پر کارکنان کے ساتھ مل کر کام کرنے والے تین -تین لیڈروں کا پینل تیار کرا رہی ہے۔ الیکشن میں اس پینل کی بنیاد پر ہی کانگریس اپنے امید واروں کا انتخاب کرے گی۔
ریاست کے سیاسی حالات بھی کانگریس کا ساتھ دے رہے ہیں۔ بی جے پی کی سیاست حاشیے پر ہے اور عنقریب ہی اس کی واپسی کی ا مید بھی نہیںہے۔ مسلم ووٹروں کے پاس اب ایس پی ، کانگریس اور بی ایس پی تین متبادل ہیں۔ بی ایس پی حالانکہ پنڈت-دلت اتحاد کو پنڈت-دلت-مسلم اتحاد میں بدلنا چاہتی ہے، لیکن مایاوتی کا بی جے پی کے ساتھ پرانے تعلقات کا سیاسی پس منظر مسلمانوں کو بی ایس پی سے جوڑنے سے روک رہا ہے۔دلتوں کو اپنے ساتھ لانے میں کانگریس کو فی الحال دقتیں ضرور پیش آ رہی ہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ دلتوں میں ایک ذات کو چھوڑ کر دیگر ذاتیں سیاسی متبادل تلاش کر رہی ہیں۔راہل کی دلت سیاست پر مایاوتی کا غصہ بھی یہی بتاتا ہے کہ راہل کی حکمت عملی سے بی ایس پی میں گھبراہٹ ہے۔کانگریس کے کچھ سینئر لیڈران کا بھی ماننا ہے کہ جن پنڈتوں کا ایک طبقہ ستیش چندر مشرا کی وجہ سے بی ایس پی سے جڑا ، اسی طرح دلتوں جاٹو طبقہ مایاوتی کے سبب بی ایس پی سے جڑ گیا۔لہذا دیگر طبقوں کے لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کا سیاسی موقع کانگریس اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی۔ڈاکٹر ایوب کی قیادت والی پیس پارٹی آف انڈیا، سونے لال پٹیل کی ودھوا کرشنا پٹیل کی قیادت والی اپنا دل، کوشل کشور کی قیادت والی راشٹروادی کمیونسٹ پارٹی اور پارکھ مہا سنگھ، اوم پرکاش راج بھر کی قیادت والی بھارت سماج پارٹی جیسی چھوٹی جماعتوں کا آنے والے اسمبلی انتخاب میں اہم رول ہو سکتا ہے، لیکن ان جماعتوں کے لیڈروں کی سیاسی پہچان درج کرانے کا کام کانگریس کے سامنے مشکلیں پیدا کر رہا ہے۔کانگریس چھوٹی جماعتوں کو باہم ملانا چاہتی ہے، جبکہ یہ چھوٹی جماعتیں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے با عزت اتحاد چاہتی ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *