خواتین اپنے مسائل کے لئے قرآن کا مطالعہ کریں

وسیم راشد

یہ کیا ہورہا ہے؟ یہ کیسی ترقی پسندی ہے؟ یہ معاشرہ کا عروج ہے یا زوال؟ ہم تو بے تحاشہ ترقی کر رہے ہیں۔ ہمارے سائنس داں تو مریخ پر پانی تلاش کر کے زندگی کا پتہ لگا رہے ہیں۔ چاروں طرف ایک شور بپا ہے کہ ہم ایسے سائنٹفک دور میں قدم رکھ چکے ہیں، جہاں کچھ سالوں کے بعد ہوا میں گاڑیاں چلنے لگیں گی۔ یہ سب دیکھ سن اور پڑھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے، مگر جب اس سماج اس معاشرہ میں خواتین پر نظر جاتی ہے تو ایک ہی ہفتے میں اخبار کی بے شمار خبروں پر بھی نظر پڑتی ہے، جن میں سے زیادہ تر خبریں خواتین پر ہو رہے مظالم کی داستان بیان کرتی نظر آتی ہیں۔ یہ میرے سامنے 3دن کے اخبار ہیں اور بی بی سی کی اردو سروس کی ایک خبر بھی ہے، جس میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے جو واقعات ہوئے ہیں، ان میں 2008کی بہ نسبت 2009میں 13فیصد اضافہ ہوا ہے، یعنی 2008میں تشدد کے واقعات 7ہزار571رپورٹ کیے گئے تھے، جب کہ 2009میں 8ہزار 548واقعات درج کیے گئے اور ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیادہ تر شادی شدہ خواتین اس تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں اور ہمارے ایشیائی ممالک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے مرد حضرات نہ صرف اپنے ممالک میں اپنی بیویوں پر ظلم و ستم کرتے ہیں، بلکہ جب وہ دوسرے ممالک میں جاتے ہیں اور وہاں کے ترقی یافتہ معاشرے میں بھی اسی مردانگی والی عادت کا استعمال کرتے ہیں تو زیادہ افسوس ہوتا ہے۔ ہمارے ہندوستان سے یا پاکستان سے جو مرد حضرات برطانیہ، امریکہ، کناڈا، جرمنی یا دوسرے یوروپی ممالک میں بس گئے ہیں، وہ وہاں کے قوانین کو سمجھنے کے باوجود اپنی بیویوں کے لیے حاکمانہ رویہ رکھتے ہیں اور ایسا جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں جیسا کہ انہوں نے اپنے گھروں میں اپنے بڑوں سے دیکھا اور سیکھا ہے، حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے ملک یا پڑوسی ملک کے نوجوان اس ترقی کا حصہ بنتے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی ذہنیت بھی تبدیل کرتے، لیکن ہوا اس کے برعکس۔ ایسے متعدد کیس ہمارے سامنے ہیں، جس میں برطانیہ اور امریکہ وغیرہ میں شادی کے بعد خواتین پر بے تحاشہ مظالم ہوئے۔ اعداد و شمار یہ بتاتے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان سے برطانیہ ویوروپ کے دیگر ممالک میں شادی کر کے جانے والی لڑکیوں کا پاسپورٹ چھین کر انہیں امیگریشن کے کاغذات سے محروم کر کے بے یار و مدد گار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ گزشتہ سال تقریباً 600کے قریب ایسی خواتین کی شادیاں اور گھر خراب ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں نہ صرف شوہر ہی ظلم کرتے ہیں، بلکہ ساس سسر بھی نوکر سمجھ کر ان کا استحصال کرتے ہیں، کیونکہ ان ممالک میں نوکر ملنا آسان ہے، مگر ان کی تنخواہ دینا بہت مشکل ہے۔
اسی طرح اب دوسری خبر پر نظر جاتی ہے تو غازی آباد کے ایک کنٹریکٹر نے اپنی بیوی کا قتل کر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔ اسماء نام کی اس خاتون پر اس کے شوہر کو شبہ تھا کہ اس کی بیوی نے اپنے شوہر کی ماں کو 3سال قبل زہر دے دیا تھا۔ ایسی نہ جانے کتنی خبریں ہیں، دل چاہتا ہے کہ ایک ایک کر کے سب کو بیان کروں۔ ہر خبر دل دہلادینے والی ہے۔ ہر خبر کو پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ عورت کو کہاں سکون ہے؟ کون عورت کی ترقی پسندی اور اس کے وجود کو تسلیم کرنا چاہتا ہے؟ یہ سب خبریں ایک دم دل مسوس کر رہ جانے پر مجبور کر دیتی ہیں اور یہ احساس دو چند ہوجاتا ہے کہ ابھی تو منزل بہت دور ہے، ابھی تو عورت کو اپنے وجود کی اور لڑائی لڑنی ہے۔ ہاں ایسے میں روشنی کی ایک کرن بھی نظر آتی ہے۔ جب لکھنؤ کی ایک خبر پر نظر پڑتی ہے، جہاں ایک ہی گھر کے 3مرد اپنی اپنی بیویوں کو طلاق دیتے ہیں۔ وہ بھی اس طرح کہ نہ بے چاری بیویوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کب طلاق دی؟ کس کے کہنے پر دی اورکیوں دی؟ کہانی بڑی دلچسپ بھی ہے، حوصلہ افزا  بھی مگر عبرت ناک بھی ہے۔ نشاط فاطمہ(24)، عرشی عابدی(27) اور حنا خاتون (32) تینوں کی شادی شدہ زندگی میں اس وقت بھونچال آگیا، جب ان کو پتہ چلا کہ ان سے بتائے بغیر، ان کو مطلع کیے بنا ان کے شوہروں نے جعلی طلاق نامہ کے کاغذات تیار کرائے۔ لکھنؤ کے سلطان المدارس کے مولانا موسیٰ، مولانا اصغر اورمولانا صادق اس پورے معاملہ میں ملوث تھے اور 2500روپے دے کر یہ طلاق نامے تیار کرائے گئے۔ ان خواتین کا یہ بھی الزام تھا کہ ان علماء نے نشاط فاطمہ کے شوہر کا نکاح ایک لڑکی سے کرا کر اسے نینی تال بھی بھیج دیا۔جب یہ تینوں عورتیں ان علماء کے بلانے پر اصل معاملہ کی تحقیق کرنے پہنچیں تو وہاں پر پہلے سے موجود تقریباً ایک درجن علماء نے ان سے کہا کہ وہ ان عورتوں کا دوبارہ نکاح کرادیںگے، اگر وہ ان سے متعہ کرلیں اور ان کا کہنا یہ تھا کہ بوڑھا جوان نہ دیکھیں۔ ایک ہفتے کی تو بات ہے۔ایک ہفتے کے بعد وہ دوبارہ ان کے شوہروں سے ان کی شادی کرادیںگے۔ یہاں یہ بات واضح کرنی بے حد ضروری ہے کہ شیعہ، سنی سوچ کر یا سمجھ کر یہ واقعہ بیان نہیں کیا جارہا، بس یہ وہ تاثرات ہیں جو خواتین کے تعلق سے ان کی حالت زار بیان کرنے کے لیے ایک درد مندانہ جذبہ لیے ہوئے ہیں۔ ان خواتین نے ان علماء کی بے تحاشہ پٹائی کرنی شروع کردی اور میڈیا نے اس پورے واقعہ کو اپنی عادت کے مطابق خوب کوریج دی۔ یہاں نہ میڈیا کا چٹخارہ لے لے کر خبر کو بیان کرنا مقصد ہے اور نہ ہی اس مسئلہ کو کسی بھی طرح مذہب یا کسی فرقہ یا مسلک سے جوڑ کر دیکھنا مقصد ہے، بس صرف وہ اہم ہے جو ان خواتین نے کیا، یعنی اپنے حق کی لڑائی خود ہی لڑی۔ ان عورتوں کا کہنا ہے کہ وہاں موجود کسی بھی مولوی کو دیکھ کر یہ محسوس نہیں ہورہا تھا کہ ان میں سے کسی کو بھی ا س بات کا دکھ یا افسوس ہے یا سچ میں ان کی ہمدردی ان عورتوں کے ساتھ ہے۔ ان میں سے ایک خاتون حنا کا کہنا ہے کہ مار پیٹ کرنا ان خواتین کا مقصد نہیں تھا، بلکہ وہ تو وہاں سے جانا چاہتی تھیں، مگر وہاں موجود مولویوں نے ان کے ہاتھ پکڑ کر ان کو وہاں زبردستی بٹھانا چاہا، اس پر یہ بھڑک گئیں۔ ان خواتین نے انگریزی کے اہم اخبار کو یہ بھی بیان دیا کہ اس مدرسہ کے تقریباً 12مولوی اس طرح غریب عورتوں کو بے وقوف بناتے ہیں اور یہ باقاعدہ ایک ریکٹ ہے۔
بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ ان خواتین نے یوپی گورنر بی ایل جوشی کو ایک میمورنڈم بھی دیا ہے، جس میں درخواست کی گئی ہے کہ ان مولویوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے۔ حالانکہ اس پورے معاملہ کو لے کر اخبارات نے زیادہ خبریں نہیں چھاپی ہیں اور لکھنؤ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ انل ساگر نے اس کو مذہبی ایشوبتا کر یہ کہا ہے کہ پولس اس معاملہ کو ضرور دیکھے گی۔ مولانا کلب جواد صاحب نے بھی اس مسئلہ کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے۔ خواتین کو یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ ان مولویوں کے خلاف جو بھی مناسب کارروائی ہوگی، وہ ضرور کی جائے گی۔ اسی ضمن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری جناب یعقوب عباس کا بھی یہی کہنا ہے کہ ان مولویوں کے خلاف کافی دن سے خبریں مل رہی ہیں اور پوری چھان بین کرنے کے بعد ہی اس پر فیصلہ لیا جائے گا۔
یہ پورا واقعہ ہمارے لیے عبرت ناک ہے۔ قرآن وہ ضابطۂ حیات ہے وہ مکمل کتاب ہے، جس میں سب کچھ موجود ہے۔ ہم قرآن کو صرف گھروں اور مسجدوں میں سنبھال کر رکھتے ہیں، قرآن کو اٹھاتے ہیں، اس کو چومتے ہیں، اس کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کو واپس اس کی جگہ پر رکھ دیتے ہیں۔ ہمارے بچے قرآن پڑھتے ہیں، مگر لفظ تفسیر و ترجمہ سے واقف نہیں ہیں۔ اگر ہم قرآن کو بھی اسکولوں کے نصاب کی ہی طرح سمجھ سمجھ کر پڑھیں اور یہ سوچ لیں کہ ہمیں یہ امتحان بھی پاس کرنا ہے کہ زندگی کی تمام تر معلومات ایک مومن کو قرآن سے مل جائیں تو ہمیں اپنے مسائل کے لیے کسی مولوی یا مفتی یا قاضی کے پاس بھٹکنا نہیں پڑے گا۔ بار بار ہمارے اسلامی معاشرہ میں کبھی طلاق کا مسئلہ کھڑا ہوجاتا ہے، کبھی کوئی پہلا شوہر واپس آجاتا ہے(جیساکہ یکم جولائی کے اخبار میں ایک خبر تھی کہ پہلا شوہر 15سال بعد واپس آگیا، بے چاری عورت جو شوہر کے غائب ہونے کے بعد دیور سے شادی کرنے پر مجبور کردی گئی، اب وہ لاچار و بے یار و مددگار کھڑی ہے کہ کیا کرے۔) کبھی حلالہ کا مسئلہ کھڑا ہوتا ہے، کبھی متعہ یا عدت کے حوالے سے بات ہوتی ہے۔ ایسے میں صرف اور صرف ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن کو ہی سامنے رکھا جائے اور صرف اور صرف قرآن کی روشنی میں فیصلے لیے جائیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم ایک مہم چلائیں کہ دنیا کا ہر مسلمان قرآن کو خود پڑھے۔ آج ہو یہ رہا ہے کہ قرآن کو سمجھانے والے لوگ تو ہیں،قرآن کو پڑھانے والے نہیں۔ قرآن کے لیے کہنے والے لوگ توہیں، قرآن کی کہنے والے نہیں ہیں۔
جتنے بھی ادارے ہیں ان کو پہلا قدم یہ اٹھانا چاہیے کہ ہندوستان کے ہر مسلمان کو قرآن سمجھ کر پڑھنے کے لیے Motivateکریں۔ جب قرآن خود سمجھیںگے تو ایسے واقعے نہیں ہوںگے۔ چاہے عورت ہو یا مرد وہ خودقرآن پڑھے، کیونکہ قرآن میں وہ سب کچھ ہے جو انسان کو صحیح فیصلہ لینے پرآمادہ کرسکے، لیکن اگر کوئی قرآن پڑھے گا ہی نہیں تو قرآن میں جو سب کچھ لکھا ہے، وہ اس کے لیے بے کار ہے، پھر جو بہکائے گا، اس میں وہ بہک جائیںگے۔
بار بار میڈیا اسی طرح ہمارے چھوٹے چھوٹے مسائل کو لے کر بڑا بڑا کھیل کھیلتا رہے گا۔ خواتین جب بھی کبھی کسی بھی معاملہ میں دھوکہ کھاتی ہیں اور وہ بھی اپنی لاعلمی کے سبب تو بے تحاشہ دکھ ہوتا ہے اور اس وقت یہ دکھ مزید بڑھ جاتا ہے، جب ہمارے مولوی ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں۔ خواتین یقینا کسی بھی طرح مرد حضرات سے کم نہیں ہیں۔ ہمارے ملک میں تو ’لہریاکے ایل‘ نام کا ایک ایسا اخبار بھی ہے جو صرف اور صرف خواتین نکالتی ہیں۔ یہ اخبار بندیلی زبان میں نکلتا ہے۔ بندیلی زبان ہندی کی ہی ایک بولی ہے جو مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ دہلی کی مشہور مصنفہ فرح نقوی بھی ان خواتین کے لیے ایک مثال ہیں جو ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے والی خواتین کو اپنی کتاب ’ویوز ان دی ہنٹر لینڈ‘ میں متعارف کراتی ہیں۔ فرح نقوی ’لہریا‘ اخبار کے تعلق سے بتاتی ہیں کہ اس اخبار کا مقصد چترکوٹ کی خواتین کو قوت فراہم کرنا، انہیں مضبوط بنانا اور ان کو خواندہ کرنا ہے۔ اسی طرح اگر مسلم خواتین کچھ اخبارات صرف اور صرف اپنے مسائل کے لیے نکالنا شروع کردیں تو وہ دن دور نہیں کہ جس طرح بنگلہ دیش کی سفیر عصمت جہاں اقوام متحدہ کے لیے منتخب ہوئی ہیں اورانہوں نے 185ووٹ میں سے 153ووٹ حاصل کرکے تاریخی ریکارڈ بنایا ہے اور ان کا انتخاب یو این او کی مخصوص کمیٹی برائے ’خواتین کے تئیں تفریق کا خاتمہ‘ کے لیے ہوا ہے۔ اسی طرح ہماری مسلم خواتین بھی ہر جگہ ہر کمیٹی ، ہر محاذ پر فخر وطن اور فخر قوم ثابت ہوںگی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *