خواتین کی ریاست میں زچہ خواتین کا برا حال

سریندر اگنی هوتری
اتر پردیش میں ’جننی سرکشا پریوجنا‘ کی حالت انتہائی خستہ ہے۔ زچہ بچہ سینٹر کے باہر سڑک پر خواتین بچہ پیدا کرنے پر مجبور ہیںیہاں کی وزیر اعلیٰ بھی خاتون ہیں۔ ریاست کے 3424 پرائمری ہیلتھ مراکزپر صرف 32خواتین ڈاکٹر تعینات ہیں، جب کہ پانچ ہزار سے زائد مرد ڈاکٹر ہیں۔ پی ایم ایس کیڈر میں خاتون ڈاکٹروں کے لئے پندرہ فیصدکا ریزرویشن ہے جب کہ لوک سبھا اور اسمبلی میں 33فیصد خواتین کوریزرویشن دینے کی بات ہورہی ہے۔ گزشتہ 10سالوں میں ایک بھی ایم بی بی ایس طالبہ پی ایم ایس کیڈر میں ڈاکٹر نہیں بنی۔نصف آبادی کے ساتھ اتنی بڑی نا انصافی قابل افسوس ہے۔حاملہ ہونا کوئی مرض نہیں ہے لیکن ہر سال حمل کے دوران ، بچے کی پیدائش اور غیر محفوظ اسقاط حمل کے باعث ہزاروں خواتین موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔ حیران کردینے والی بات یہ ہے کہ مرنے والی ان خواتین کی کوئی گنتی نہیں ہوتی اور کوئی یہ بھی نہیں دیکھتا کہ انہیں ہوا کیا تھا۔ بیبوا نورگیا( کوشی نگر) طبی مرکز پردرد زہ سے تڑپ رہی عورت نے کھلے عام سڑک پر بچہ پیدا کیا،کیونکہ طبی ملازموں نے اسے بھگا دیا تھا۔ حادثہ کے بعد گاؤں کے لوگ مشتعل ہوگئے اور کوٹوا روڈ کو جام کردیا۔ موقع پرپہنچے میڈیکل افسر نے قصور وار طبی ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی یقین دہانی توکرائی، لیکن انہیں کیا سزا ملی آج تک پتہ نہیں چلا۔ گاؤں مڑار وندولیا مسہر ٹولی کے باشندے پارس مسہر کی بیوی مایا دیوی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ان کے خاندان کا الزام ہے کہ اے این ایم ڈلیوری کرانے کے عوض پیسے مانگ رہی تھی، پیسہ نہیں دینے پراسے اسپتال سے بھگا دیاگیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورت نے سڑک پر ہی بچے کو جنم دے دیا۔قرب وجوار کی عورتوں نے چاروں طرف سے چادر سے پردہ کرکے بچہ پیدا کرایا۔گاؤں کے لوگ مشتعل ہوگئے اور ٹریفک جام کردیا ۔انچارج میڈیکل آفیسر ڈاکٹر پی کے مشرا موقع پر پہنچے اور زچہ بچہ کو طبی مرکز لے گئے۔ انہوں نے قصور وار طبی ملازموں کے خلاف کارروائی کرنے کی بات بھی کہی، لیکن پھر ڈھاک کے تین پات ۔ یہ حادثے بتاتے ہیں کہ’ جننی سرکشا پریوجنا‘ کا ریاست میں کیا حال ہے۔شراوستی ضلع میں ’جنی سرکشاپر یوجنا‘ کے تحت72نرسوں کو تربیت دی گئی اور انہیں ڈلیوری کٹ بھی دی گئیں ، لیکن زچہ اور بچہ کی اموات کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
اتر پردیش کے عام لوگوں کوطبی سہولیات کے لئے لمبی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔ زیادہ تر عوامی طبی مراکز ،جہاں پرائمری اور ایمرجنسی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنایا گیا تھا، وہاں سروس شروع ہی نہیں ہوئی ہے۔ ریاست میں ایک لاکھ میں 517 خواتین ڈلیوری کے دوران دم توڑ رہی ہیں اور اتر پردیش میں پیدا ہونے والے 1000بچوں میں 67 زندہ نہیں بچتے۔ قومی سطح پر بچوں کی مجموعی اموات کی تقریباً ایک چوتھائی اموات اتر پردیش میں ہوتی ہیں۔ 100میں سے صرف 22بچے ہی اسپتال میں پیدا ہوتے ہیں۔ تین چوتھائی زچگیاں غیر صحت بخش ماحول میں گھر میں ہی ہوتی ہیں۔ حاملہ خواتین میں 80فیصد اینمک ہوتی ہیں۔
ریاست میں انڈین پبلک ہیلتھ کے معیار کے مطابق 583 کمیونٹی طبی مراکز کی کمی ہے۔ ایک تہائی سے کم کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں کوئی زچگی کی ماہر ڈاکٹر مقرر نہیں ہے اور تقریباً45فیصد طبی مراکز میں موجود ایمبولنس چلانے کے لئے بھی رقم دستیاب نہیں ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اتر پردیش میں قائم ہر 20میں سے صرف ایک پرائمری ریفرل اسپتال میں آپریشن کے ذریعہ زچگی کرائی جاتی ہے اور 100میںسے صرف ایک اکائی میں بلڈ بینک کی سہولت دستیاب ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے اتر پردیش کے کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں اور ضلع اسپتالوں کا دورہ کیا۔ حال یہ ہے کہ حاملہ خواتین کو کبھی کبھی خون چڑھانے یا آپریشن سے زچگی کرانے کے لئے 100کلو میٹر(60میل) سے بھی زیادہ دور کے طبی مراکز میں ریفر کردیا جاتا ہے۔جب کسی خاتون کوزچگی کے لئے اسپتال لے جاتے ہیں تو اسے اپنی نال کٹوانے اوردواؤں کے لئے پیسے دینے پڑتے ہیں۔ صفائی وغیرہ کے لئے بھی کچھ پیسہ دینا پڑتا ہے۔ اسٹاف اور نرس بھی پیسے مانگتے ہیں۔
حکومت کا دعویٰ
خاتون ڈاکٹرو ں کی کمی کے تعلق سے حکومت کی دلیل ہے کہ اسپتالوں میںنرسیںو آشا کرمی ہیں اس لئے خاتون گائنوکولاجسٹ کی ضرورت نہیں۔خاتون ڈاکٹر دور دراز کے گاؤں کی پی ایچ سی میں کام کرنے نہیں جاسکتیں۔
این جی او کا کہنا ہے
غیر سرکاری تنظیم ہیومین رائٹس واچ کی نشا واریا کہتی ہیں کہ سبھی سرکاری اورپرائیویٹ اسپتالوں کے لئے حاملہ عورتوں سے متعلق اموات کے تمام معاملات کی رسمی اطلاع دئے جانے کو لازمی کیا جانا چاہئے۔قومی دیہی صحت مشن کے تحت شرح اموات کے واقعات کی جانچ کرائی جانی چاہئے۔جانچ کے دوران عمل سے متعلق خامیوں پر توجہ دی جائے اور اس سے حاصل شدہ نتائج کو ضلعی اور ریاستی سطح کی اسکیمیں بناتے وقت اکٹھا کیا جائے۔
آخر کیا ہے جنی سرکشا یوجنا؟
ڈلیوری کے دوران زچہ و بچہ کی اموات پر قابو پانے کے لئے مرکزی حکومت نے ’جننی سرکشا یوجنا ‘نافذ کی۔ ’جننی سرکشا یوجنا‘ کے تحت زچگی کرانے والی عورت کی حوصلہ افزائی کے طورپرکچھ رقم دینے کا ضابطہ ہے۔ گاؤں کی خاتون کو 1400روپے، شہر کی خاتون کو ایک ہزار روپے تو گھر میں بی پی ایل خاندان کی خاتون کے تربیت یافتہ ہاتھوں سے زچگی پر پانچ سو روپے دئے جاتے ہیں۔ یہ رقم آشا بہو کو بھی ملتی ہے، جو خاتون کو اسپتال تک لے جاتی ہے اور اس کی ٹیکہ کاری وغیرہ کرتی ہے۔
اسکیم میں سوراخ
جننی یوجنا میں دولت کو ٹھکانے لگانے کے پورے بندوبست ہیں۔ دراصل سرکاری اسپتال میں وہی طبقہ آتا ہے، جو غریب ہے۔ انہیں آسانی سے بے وقوف بنایاجارہا ہے۔ اس کے ڈسچارج ہوتے وقت رقم ملنی چاہئے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔پیسے کے لئے انہیں مہینوں دوڑایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بجٹ نہیں ہے۔ جننی یوجنا میں سب کچھ مفت ہے، لیکن خواتین کو بھرتی کرنے میں روپے لئے جارہے ہیں، اسے ایڈمیشن فیس کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی فارم بھرنے سے لے کر دیگر رسمی کارروائیوں تک، ہرکام کی قیمتیں طے ہیں۔
سونیا کے حلقے کا حال
ریاست کا سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ضلع رائے بریلی جہاں سے یوپی اے کی صدر سونیا گاندھی لوک سبھا کے لئے منتخب ہوکر آتی ہیں، ان کے پارلیمانی علاقے میں جننی سرکشا یوجنا کے تحت گزشتہ سال44ہزار زچگی کرائی گئیں۔42ہزار عورتوں کو رقم مل گئی ہے اور دو ہزار منتظر ہیں۔ بیدار اضلاع میں شمار کئے جانے والے ضلع رائے بریلی کے نصیر آباد میں دلت خاتون کی اسپتال کے گیٹ پرزچگی کے معاملے میں تو ریاست کے ہیلتھ ڈائرکٹر تک کو جانچ کے لیے آنا پڑا تھا۔ ضلع میں دو درجن سے زیادہ زچہ اور بچہ موت کے منہ میں سما چکے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *