جتنا پیسہ ، اتنی پوجا

راجکمار

دیو بھومی اتراکھنڈ میں براجمان نارائن عام لوگوں سے کتنی دور ہوچکے ہیں، یہ عوام کو ان ’پاون دھاموں‘ میں پہنچنے پر پتہ چلتا ہے۔ ان دھاموں میں درشن کی فیس میں اس سال بھی راست40فیصد کیے گئے اضافے نے بھگوان اور عوام کی دوری بڑھا دی ہے۔ اس اضافہ سے بدری ناتھ دھام میں براجمان نارائن کے درشن امیر لوگ ہی کر پائیںگے۔ ملک کا متوسط طبقہ غریب کسان یا مزدور خصوصی پوجا کی شرحوں کو دیکھ کر پوجا کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ریاست کے قیام کے بعد 9برسوں میں ان دھاموں میں پوجا کو تین گنا مہنگا کیا جاچکا ہے۔ بدری کیدار مندر سمیتی ہر سال پوجا کی شرحوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ لوگوں کی عقیدت اور یقین کی علامت بدری ناتھ اب جنتاجناردن سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
آج بھی بیکنٹھ دھام کو مجسم کرنے والے بدری ناتھ دھام کو نجات دینے والا مقدس مقام ماناجاتا ہے۔ یہاں کے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ یہاں براجمان نارائن کے درشن کر کے انسان دنیا کے مایا موہ سے آزادہوجاتا ہے۔ اس عقیدے کے سبب اتراکھنڈ کو دیوبھومی ماناجاتا ہے۔ گہری مذہبی عقیدت کی وجہ سے ہی ملک کے کونے کونے سے عقیدت مند یہاں کھنچے چلے آتے ہیں، لیکن اب اس ’پاون دھام‘ میں براجمان نارائن کو ان کے پجاری-منتظمین نے اتنا مہنگا بنا دیا ہے کہ جنتا اور جناردن الگ الگ ہوتے جارہے ہیں۔
اتراکھنڈ ریاست کے قیام کے بعد ان دھاموں میں مہمان نوازی کا جذبہ کم ہوتا جارہا ہے اور عوام سے من مانی دولت وصول کی جارہی  ہے۔ دھاموں میں مندر کے انتظام کے لیے بنائی گئی بھگوان بدری ناتھ کیدار ناتھ مندر سمیتی نے بھگوان کے درشن کی فیس میں 40فیصد کا اضافہ کر کے پوجا کو ہی مہنگا بنا ڈالا۔ یہ اضافہ  ریاست کے قیام کے بعد سے ہی من مانے ڈھنگ سے کیا جارہا ہے۔ 2001 میں مہابھیشیک پوجا کی شرح 2100روپے تھی۔ یہ 2007میں 4500روپے اور 2010میں6301روپے کر دی گئی۔ اس دھام میں ابھیشیک پوجا کی شرح 2001میں1100روپے تھی جسے 2007میں 3500روپے اور 2010 میں4901روپے کر دیا گیا۔اس دھام میں نارائن کے دربار میں گیتا پاٹھ کے لئے جہاں سال 2001میں751روپے لئے جاتے تھے وہ 2007میں 1501روپے اور 2010میں سیدھے بڑھ کر 2101روپے ہو گئے۔ وید پاٹھ کے لئے 2001میں501روپے لئے جاتے تھے جو 2007 میں 1001 روپے ہو گئے اور اب 2010میں یہ بڑھا کر 1401روپے کر دئے گئے۔ دھام میں نارائن کی کھڑے ہوکرکرپور آرتی کرنے کی فیس 2001میں 75روپے تھی، جسے 2007میں بڑھا کر 151روپے کیا گیا اور اب 2010میں اسے 211روپے کر دیا گیا۔ اس دھام میں نارائن شری کی چاندی کی تھال میں آرتی کرنے کی فیس 2001میں 151روپے تھی، جسے 2007میں بڑھا کر 301 روپے کر دیا گیا۔سورن آرتی کی فیس 2001میں 201روپے تھی، جسے 2007میں351روپے اور 2010میں بڑھا کر 491روپے کر دیا گیا۔ دھام میں وشنو سہستر نام پاٹھ کی فیس 2001میں301روپے تھی جسے 2007 میں بڑھا کر 401روپے اور 2010میں561روپے کر دیا گیا۔ وشنو سہستر ناما ولی پاٹھ 2001میں301روپے میں ہوتا تھا جو 2007میں501روپے اور 2010میں701روپے کا ہو گیا۔ شین آرتی گیت میں شامل ہونے کے لئے عقیدتمندوں کو 2001میں501روپے دینے پڑتے تھے۔2007میں یہ 1001روپے اور 2010میں1401روپے ہو گئے۔ ملک کے گوشہ گوشہ سے بدریکاآ شرم پہنچنے والے ہزاروں غریب کسان مزدور نارائن کے دھام میں کسی طرح پیدل یا عام وسائل سے کسی طرح دھکے کھا کر پہنچ بھی جاتے ہیں تو اتنی مہنگی پوجا شرح دیکھ کر ان کا سارا مذہبی جذبہ غائب ہو جاتا ہے۔ نارائن دھام میں قابض پنڈت اور پجاریوں کے اس مکڑ جال نے پاون دھام کو وصولی دھام میں تبدیل کر دیا ہے۔اس دھام میں 2001میںچار لاکھ 22ہزار647تیرتھ یاتری آئے تھے۔ 8سال کے بعد 2009میں یہ تعداد نو لاکھ 11ہزار333ہی رہی۔2001میں مندر کمیٹی کو تقریباً24لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی جو 2009 میں بڑھ کر 9کروڑ 22لاکھ کے قریب پہنچ گئی۔ نر میں نارائن کا روپ دیکھنے والی اس دیو بھومی میں دریدر نارائنوں کی بری حالت ہے۔ مندر سمیتی سمیت مذہب کے ٹھیکیدار خاموش ہیں۔ سرکاری انتظام کے نام پر پولس کے ساتھ ہی نیم فوجی دستوں کے جوان بھی تعینات ہیں، لیکن ان کا کام محض وی آئی پی کی خدمت اور حفاظت کرنا ہی رہ گیا ہے۔گزشتہ دنوں دھام میں تعینات پولس نے بنگال سے آئی خواتین پر جس طرح بربریت کاامظاہرہ کرتے ہوئے لاٹھیاں برسائیں، اس نے انتظامیہ کی ساری قلعی کھول دی ۔ معاملہ اتنا بڑھا کہ وہاں کے تاجر بھی ہڑتال پر چلے گئے ۔ حکومت نے ان خطاوار پولس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی، تبھی معاملہ ٹھنڈا ہوا۔ ایسے واقعات بار بار پیش آتے ہیں، لیکن عوام سب کچھ جھیل کر واپس چلے آتے ہیں۔ گھوٹالہ، ملاوٹ اور تمام طرح کی فریب کاری کے ذریعہ مسافروں کا استحصال ہوتا ہے، لیکن انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں ۔ مذہب کے ٹھیکیدار ہی اس کے لئے ذمہ دار ہیں اور جائداد کے لئے آپس میں لڑتے بھی رہتے ہیں۔ اس پیٹھ میں حال میں تین تین شنکر اچاریہ خود کو جگت گرو ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن یہاں کا نظام درست ہو اس کے لئے کوئی پہل نہیں کرتا۔

پوجا کے لئے وصول کیا جانے والانذرانہ
سن
2001
2007
2010
مہابھیشیک پوجا
2100
4500
6301
ابھشیک پوجا
1100
3500
4901
گیتا پاٹھ
751
1501
2101
ویدپاٹھ
501
1001
1401
کرپور آرتی
75
151
211
سورن آرتی
201
351
491
وشنو سہ ستر نام پاٹھ
301
401
561

پوجا کے لئے وصول کیا جانے والانذرانہ
سن
2001
2007
2010
مہابھیشیک پوجا
2100
4500
6301
ابھشیک پوجا
1100
3500
4901
گیتا پاٹھ
751
1501
2101
ویدپاٹھ
501
1001
1401
کرپور آرتی
75
151
211
سورن آرتی
201
351
491
وشنو سہ ستر نام پاٹھ
301
401
561

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *