انصاف کی آواز کہیں سے نہیں آتی

عفاف اظہر,کناڈا
پاکستان میں دو سال قبل آزادی کی تاریخی جدوجہد کے بعد سستے اور فوری انصاف کے حصول کے بلند و بالا دعووں کے ساتھ معرض وجود میں آنے والی ” آزاد عدلیہ ” سے فوری انصاف کی توقع آج بھی فقط ایک خواب ہی ہے ۔ عدلیہ کی بحالی کے باوجود پاکستانی عدالتوں میں زیر التوا مقد موںکی تعداد تیرہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر کی تمام عدالتوں میں روزانہ دو سے تین ہزار نئے مقدمات آتے ہیں اور جبکہ زیر سماعت مقدمات پر فیصلوں کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے ۔ ملک کی عدالتوں سپریم کورٹ ہائی کورٹ اور فیڈرل شریعت کورٹ میں زیر التوا مقدموں کی تعداد ایک لاکھ پچاسی ہزار سے بھی زیادہ ہے، جن میں سے اکثر مقدمات تو ایک عشرے سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں ۔ سب سے زیادہ زیر التوا مقدمات صوبہ پنجاب میں ہیں۔ صرف لاہور ہائی کورٹ  میں ہی ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زائد جبکہ ماتحت عدالتوں میں نو لاکھ پچاس ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیںاور سندھ ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ میں ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد مقدمات اور بلوچستان میں بارہ ہزار کے لگ بھگ مقدمات زیر التوا ہیں نیز پشاور میں ایک جج کو توہین عدالت کا نوٹس ملنے کی وجہ سے تمام تر مقدمات کی سماعت روک دی گی ہے۔ قانوناً ایک سول جج کے پاس زیر سماعت مقدمات دو ہزار سے زائد نہیں ہو سکتے، جبکہ عملاًہر سول جج کے پاس اس وقت آٹھ ہزار سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں ۔ ملک بھر میں ہزاروں ایسے افراد جیلوں میں پڑے ہیں، جن کے مقدمات کا فیصلہ زیر التوا ہے جن میں سے اکثر و بیشتر تو دس دس سالوں سے مقید ہیں۔ ا علیٰ عدالتیں سیاسی نوعیت کے مقدمات میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں، جبکہ عام آدمی مقدمات میں الجھ کر سالہا سال سے جیلوں میں پڑے موت کی دعائیں مانگ رہے ہیں ۔
” خدا کے لئے میری جیل سے جان چھڑا دو یا پھر دعا کرو کہ مجھے موت آ جائے ” یہ الفاظ پچیس سالہ محمد عظیم کے ہیں جو ایک زیر التوا مقدمے کی وجہ سے گزشتہ سات سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے اور سنٹرل جیل کراچی میں پچھلے نو سال سے فیصلے کے منتظر پچپن سالہ عبد الغفار جن کا مقدمہ ابھی ایک تاریخ سے آگے نہیں بڑھ سکا ،کا کہنا ہے کہ غربت کی وجہ سے وہ اپنا وکیل نہیں کر سکے ا ور حکومت کے مقرر کردہ وکیل کبھی سماعت میں موجود نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’مقدمات میں الجھ کر جیل میں سماعت کے طویل انتظارسے تو بہتر ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی خود کشی کر لیں ‘‘ چارلس فرنیڈو کا کہنا ہے کہ ان کے بہنوئی کو شک میں گرفتار کیا گیا تھا اور پچھلے پانچ سالوں سے وہ پیشیاں بھگت رہے ہیں جبکہ اصل ملزمان بیرون ملک فرار ہو چکے ہیں، لیکن وہ ہر پیشی پر حاضر ہوتے ہیں اور ایک نئی تاریخ لے کر آ جاتے ہیں۔کراچی کی واحد سنٹرل جیل میں اٹھارہ سو افراد کی گنجائش ہے مگر وہاں اس وقت چار ہزار سے بھی زائد افراد قید ہیں، جن میں زیادہ تر ایسے ہیں جن کے مقدمات زیر التوا ہیں۔ ملک بھر کی باقی تمام جیلوں کی حالت سنٹرل جیل کراچی سے مختلف ہرگز نہیں ہے ۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق پاکستان کی جیلیں آج کے دور میں بھی غلامی کے اڈے ہیں، جہاں مسائل اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ وہ ایک ٹائم بم کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ مقدمات کے التوا کی وجہ سے شک و شبہے اور چھوٹے چھوٹے ذاتی عناد کی خاطر ڈالے گئے مقدمات میں گرفتار انڈر ٹرائل اور کم عمر بچوں کو جیل میں پیشہ وارانہ مجرموں کے ساتھ رکھا جاتا ہے، جہاں سے وہ جرم کی دنیا میں داخل ہوتے ہیں اور ہماری جیلوں کو جرم کی یو نیو رسٹیاں قرار دینے میں مہر ثبت کر رہے ہیں۔
آج دنیا کی تاریخ میں ثابت شدہ ریکارڈ کے ساتھ ایک عجیب اتفاق ہے کہ آج ہمارے صدر اور وزیر اعظم دونوں ہی ایسے اشخاص ہیں جو زیر التوا مقدمات کی بھول بھلیوں میں سے گزرتے ہوے آٹھ اور پانچ سال مسلسل جیلوں میں رہ چکے ہیں اور وہاں کے حالات و واقعات سے ان سے زیادہ واقف اور کون ہو سکتا ہے ۔ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک میں ایسا آج تک نہ ہوا ہے نہ ہی ہونے کی توقع ہے کہ ایک ہی وقت میں ریاست کے دو سب سے بڑے عوامی عہدے ایسے افراد کے پاس ہوں جو کہ خود ایک لمبے عرصہ تک جیل کاٹ چکے ہیں ۔ اب ایسے لوگوں کے دور اقتدار میں بھی جیلوں کی حالت اور عدالتی نظام میں بہتری نہ آ سکے تو پھر کسی دوسرے سے بھلا کیا توقع رکھی جا سکتی ہے . ؟؟
آج ہم جس معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں وہ بلا شبہ ایک ناکارہ اور مفلوج معاشرہ ہے، جس میں رہنے والے بہرے ہیں گونگے ہیں اور اندھے ہیں۔ ایسے میں سچ کا جھوٹ کے بے لگام گھوڑوں کے پاؤں تلے کچلا جانا کوئی انہونی بات نہیں۔ عوامی مفاد کے تیرہ لاکھ مقدمات کا زیر التوا ہونا ہی اس معاشرے کی مجموعی جھلک پیش کر دیتا ہے۔ اس نام نہاد آزاد عدلیہ کے باوجود بھی یہ نظام مظلوم کی بجائے ظالم کا مددگار ہے اور عوام کی بجائے کرپٹ سیاستدانوں کا محافظ ہے۔عوام الناس نے سڑکوں پر آ کر چیف جسٹس صاحب کو تو بحال کروا دیا۔ عدلیہ کو نام و نہاد آزادی سے ہمکنار کروانے والے عوام غلام کے غلام ہی رہے۔ عوام کو اس عدلیہ کی آزادی کا صلہ کیا ملا ؟ یہی کہ طالبان اور مبینہ دہشت گرد بم دھماکے اور اجتماعی قتل و غارت میں ملوث ہو کر بھی دھڑا دھڑعدالتوں سے دودنوں کے اندر بری ہو رہے ہیں اور جن کے مقدمات ہی ذاتی یا مذہبی منافرت کے لئے بلا وجہ  پیدا کئے گئے ہیں وہ دس دس سال تک جیلوں میں قید ہیں اور پھر تاریخوں پر تاریخیں ڈالنا بھی غربت ختم کرنے کا ایک طریقہ ہے کہ مقدمہ اتنا لٹکاؤ کہ ہمت نہ رہے یا پھر خود غریب ہی نہ رہے۔ اگر کوئی دل جلا شکایت کرنے کی کوشش کرے تو توہین عدالت کے تحت نمٹا لو۔آج لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں تو کہاں ہیں وہ ہستیاں جنہوں نے گھر گھر جا کر سستا انصاف دینے کا نعرے لگا کر ووٹ حاصل کئے تھے۔ اگر عوام کی محافظ پولیس اور انصاف کے علمبردار جج صاحبان تحائف قبول کریں گے اور سفارشی جج حلف اٹھائیں گے تو تیرہ لاکھ کیا زیر التوا مقدمات کی تعداد چھبیس لاکھ کو بھی تجاوز کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، کیوں کہ جب جج صاحبان سیاستدانوں کے رحم و کرم پر اور سیاست داں ججوں کے سہارے بنے ہوں تو انصاف بھی تو فقط بلاول ہاؤس اور رائونڈ تک ہی محدود ہو گا نا۔ واہ یہ ہے اسلام کا قلعہ کہلانے والا اسلامی جمہوریہ پاکستان …جہاں ملکی سطح پر قائم کردہ عدالتوں کے علاوہ شرعی عدالتوں، فوجی عدالتوں، دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں ،علاقائی سطح پر جرگہ اور پنچایت کے وسیع نیٹ ورک کے علاوہ انفرادی طور پر بھی گلی محلوں میں انصاف کے ٹھیکے دار موجود رہتے ہیں۔ پھر بھی انصاف کی فراہمی کا یہ عالم ہے کہ شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *