وزارت داخلہ بنام یو پی ایس سی

دلیپ چیرین

آئی پی ایس افسران کے خالی پڑے 657عہدوں کو پر کرنے کی حکومت کی کوشش یو پی ایس سی کے رویے کی وجہ سے کھٹائی میں پڑتی نظر آرہی ہے۔ وزیرداخلہ پی چدمبرم نے یو پی ایس سی کو مشورہ دیا تھا کہ وہ مرکز اور ریاستی حکومتوںکے ماتحت کام کر رہے نوجوان پولس افسران کو آئی پی ایس افسران کی شکل میں تقرر کرے، لیکن کمیشن کے ذریعہ چدمبرم کی صلاح کو ٹھکرائے جانے سے نکسل ازم اور دہشت گردی سے لڑنے کے ان کے منصوبے کو بھی جھٹکا لگا ہے۔
وزارت داخلہ نے کمیشن سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ اس کوٹے سے ہر سال 70-80افسران کی تقرری کرے۔ یہ تقرریاں سول سروسز امتحانات اور ریاستوں کے پرموشن کوٹے سے ہر سال ہونے والی تقریباً 150افسران کی تقرری کے علاوہ تھیں۔ چدمبرم کی صلاح سابق آئی پی ایس افسر کمل کمار کی صدارت میں تشکیل پینل کی سفارشات پر مبنی تھی۔ کمیشن کے انکار کے بعد وزارت داخلہ اب وزیراعظم کے دفتر کو راضی کرنے کی کوشش میں لگی ہے، تاکہ اس اسکیم کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ انہیں یہ بھروسہ ہے کہ وزیراعظم اس کے لیے راضی ہو جائیں تو کمیشن کے انکار کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وزارت داخلہ کایہ خواب شرمندۂ تعبیر ہو پاتا ہے یا نہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *