آنجہانی دگوجے سنگھ کا آخری انٹرویو

دگ وجے سنگھ صاحب چندرشیکھر صاحب کے وقت میں حکومت ہند کے وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ میں تھے۔ چندر شیکھر کے دور اقتدار میں بہت سارے اہم حادثات واقع ہوئے۔ ان تمام حادثات کے پس پردہ کیا وجوہات تھیں، معلوم کرتے ہیں دگ وجے سنگھ سے اور ساتھ ہی جانیںگے آج کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے بارے میں چندر شیکھر صاحب کی رائے جسے بتا رہے ہیں دگ وجے سنگھ صاحب۔
چندرشیکھر صاحب کی حکومت میں کئی اہم فیصلے ہوئے۔ دگوجے صاحب سے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ چندر شیکھر صاحب کے دماغ میں اپنی حکومت کے لیے کیا نقشہ تھا۔ مطلب کتنا کام وہ کر پائے اور کون سے اہم کام باقی رہ گئے۔
دیکھئے سیاسی طور پر ان کی ترجیح تھی اجودھیا تنازع کو سلجھانا اور پنجاب میں الیکشن کروانا۔ دونوں کام انہوں نے کر کے دکھائے۔ اقتصادی طور پر وہ دو اہم کام کرنا چاہتے تھے۔ ایک تو نوجوانوں کو روزگار دینا، دوسرا ویسٹ لینڈ یعنی خالی زمین کو کیسے ہرا بھرا کریں۔ دوسری جو سب سے اہم بات اس قلیل مدتی حکومت میں ان کے دل میں تھی وہ تھی قومی جذبہ۔ مجھ کو یاد ہے کہ ایک بار ورلڈ بینک کے چیئرمین میکن ماراچندر شیکھر سے ملنے ہندوستان آئے تھے۔ سرمایہ، پیسہ اور امریکی سیاسی طاقت، ان تینوں کا استعمال میکن مارا اپنے الفاظ میں کر رہے تھے۔ جب انہوں نے میکن مارا کی پوری بات سن لی تب چندرشیکھر صاحب نے کہا کہ ہمیں جتنی ضرورت آپ سے ہے اتنی ہی آپ کوہم سیبھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان تنہا ملک ہے جہاں سے پیسہ آپ کو وقت پر مل جاتا ہے، سود مل جاتا ہے اوردوسرے ملکوں میں آپ کا پیسہ ڈوب جاتا ہے۔ باقی فیصلہ آپ خود کریں اور اس کا اتنا زبردست دباؤ ہوا کہ پہلی بار آئی ایم ایف کا لون وزیر خزانہ کے وہاں جائے بغیر مل گیا۔
سونا گروی رکھنے کے معاملے میں تو ان پر ایک بڑا داغ بھی لگا۔
اس وقت صدر جمہوریہ وینکٹ رمن صاحب تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غیرملکی قرضوں کے سود کاانتظام وقت پورا ہونے سے پہلے کرنا چاہیے۔ اسی درمیان الیکشن کا اعلان بھی ہوچکا تھا۔ چندر شیکھر کا خیال تھا کہ نئی حکومت آئے اور وہ فیصلہ لے، لیکن وینکٹ رمن صاحب نے کہا کہ یہ ایک چیلنج ہے، چونکہ آپ برسراقتدار ہیں تو اسے قبول کیجئے۔ چندرشیکھر صاحب نے یہ صلاح صدر جمہوریہ کو دی کہ اورلیڈروں سے آپ اس پر تبادلۂ خیال کرلیں، کیوںکہ یہ الیکشن میں اسے ایشو بنا دیںگے۔ وینکٹ رمن صاحب نے کہا کہ ہم نے سب کو اعتماد میں لے لیا ہے اور کچھ اسمگلنگ کا سونا تقریباً 13-14ٹن سونا ٹریزری کے باہر پڑا ہوا تھا۔ چندرشیکھر صاحب نے دن طے کیا کہ ٹھیک ہے میں دستخط کرتا ہوں، لیکن پوسٹ ڈیٹ میں۔ 23مئی کو آخری پولنگ ہونی تھی۔ انہوں نے 23مئی کو پوسٹ ڈیٹ میں دستخط کیے۔ بدقسمتی سے راجیو گاندھی کا 21تاریخ کو قتل ہوگیا اور الیکشن ٹل گیا۔ دقت یہ تھی کہ وینکٹ رمن نے اگر کانگریس میں کسی کو اعتماد میں لیا ہوگا تو راجیو گاندھی کو ہی لیا ہوگا اور وہی چلے گئے۔ راجیو گاندھی نے تو کسی کو بتایا نہیں ہوگا کہ وینکٹ رمن سے ان کی کیا بات ہوئی۔ سیاست میں بہت کم ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے ملک کی عزت اہم ہوتی ہے۔ شروع مچا سونا گروی سونا گروی۔ اس کا اچھا پہلو یہ تھا کہ چندر شیکھر صاحب نے 13ٹن سونا ہی گروی رکھا، لیکن جب نرسمہاراؤ وزیر اعظم بنے اور منموہن سنگھ وزیر خارجہ تو انہوں نے 40ٹن سونا گروی رکھا اور اس کا کوئی شور نہیں ہوا۔ اس میں کہاں گئی ملک کی عزت؟
چندرشیکھر صاحب کے وقت میں لوگوں نے ایک اندازہ یہ لگایا کہ ان کے کچھ سرمایہ داروں سے کافی گہرے رشتے ہوگئے تھے۔ میں کچھ نام لیتا ہوں، جن کے اوپر آپ کمینٹ کریں جیسے ہندوجااوردھیرو بھائی امبانی۔
بالکل غلط۔ سچ پوچھئے تو دھیرو بھائی پر تو انہوں نے نان ویلیبل وارنٹ ہی نکال دیا تھا۔ کوئی کیس مقدمہ پہلے ہی چلا آرہا تھا اور اس وقت سالیسٹر جنرل گری صاحب تھے، وہ ٹرمیننٹ لائر تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر تو مجھ سے لیگل اوپینین مانگا گیا ہے کہ کیا کریں۔ چندرشیکھر نے کہا کہ جیسا قانون کہتا ہے ویسا کرو۔ بعد میں وہ وارنٹ نہیں نکل پایا۔ کیوں نہیں نکلا، اس کہانی کے اندر میں نہیں جاؤںگا، لیکن اس کی جانکاری دھیرو بھائی کو ہو گئی تھی اور شاید حکومت کو گرانے میں ان کا کردار بھی ہوسکتا ہے۔
دھیرو بھائی کا کیا کردار تھا؟
ایسا اس وقت کے لوگوں کا خیال تھا۔ ایسا چندرشیکھر صاحب بھی مانتے تھے۔ کچھ تو سرمایہ داروں کا دباؤ تھا۔ اس میں ایک یہ دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔ہم سے انہوں نے کئی بار یہ کہا کہ معلوم ہوتاہے کہ ہماری سرکار گرانے میں ان لوگوں کا کردار تھا۔ چندرشیکھر صاحب کو اس کا احساس ہوتا تھا۔
وی پی سنگھ صاحب کے وقت ہندوجا کبھی بھی ساؤتھ بلاک میں نہیں آپائے، لیکن چندرشیکھر صاحب کے وقت میں میں نے سنااشوک ہندوجا…۔
جہاں تک میری جانکاری ہے کہ چندرشیکھر صاحب کے وقت میں بھی ہندوجا کبھی ساؤتھ بلاک نہیں آئے تھے۔
برلا اورگوینکا سے کیسا رشتہ تھا ان کا؟
چندرشیکھر صاحب ہمیشہ مذاکرات میںیقین کرتے تھے۔ وہ جب پنجاب کے دہشت گردوں سے بات کر سکتے تھے تو وہ بڑلا سے بھی بات کرتے تھے، دھیرو بھائی امبانی سے بھی بات کرتے تھے، ہندوجا سے بھی بات کرنے میں کوئی پرہیز نہیں تھا، لیکن ان کے فیصلے میں کبھی ان لوگوں کا دباؤ نہیں دیکھا۔
لیکن ایک بہت بڑا امپریشن اور ہے ، وہ یہ کہ چندراسوامی، چندر شیکھر جی کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے تھے۔
میںنے چندر شیکھر جی کو قانون کو درکنار کرکے کوئی کام کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا ہے۔ ان کے ناقدین بھی آج تک کوئی ایک مثال پیش نہیں کرسکے یا کہہ سکے کہ چندر شیکھر نے چندراسوامی کے کہنے پر کوئی کام کیا ہو یا اس کا کوئی ثبوت ملا ہوکہ چندرا سوامی کے کہنے پر انہوں نے کوئی کام کیا ہو۔ ایسا نہیں ہے، بلکہ اس کے برعکس میں کہتا ہوں کہ ایک بار چندر اسوامی جی بیرون ملک سے آرہے تھے ، ان پر وشوناتھ نے کوئی مقدمہ دائر کردیا تھا اور جب وہ آرہے تھے تو لوگوں کو محسوس ہوا کہ چندراسوامی چندر شیکھر جی کے خاص آدمی ہیں ۔ اس لئے وہ کہیں گے کہ ان کے آنے پر کوئی روک ٹوک نہیں لگے، لیکن سچ پوچھئے تو انہیں اینٹی سپیٹری بیل لینا پڑا۔
چندر شیکھر صاحب جب وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹے اور الیکشن ہار گئے ۔ شاید اس کے بعد اکیلے وہ جیتے، تو ایک تو ان کی زندگی یہ ہے کہ لوک سبھا میں اپنی شکست کے بعد بھی ، جب بھی چندر شیکھر کھڑے ہوتے تھے تو ہم دیکھتے تھے کہ پورا ایوان خاموش ہوجاتا تھا اور ان کی بات پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ سنتا تھا، لیکن آخری دنوں میں وہ اس ڈیموکریٹک سیٹ اپ سے بہت مایوس تھے۔
سچ پوچھئے تو راجیو گاندھی کے ساتھ انہوں نے جو بیان دیا تھا حکومت چلانے کے لئے اور اس میں کم از کم سال بھر کا وقت طے ہوا تھا، لیکن جس طرح چار مہینے میں ان کی حکومت اور چار مہینے کیوں ، پندرہ دن، مہینے بھر میں ہی راجیو گاندھی اپنی ایک الگ رائے رکھنے لگے اور وہ اسی راستے پر چلنے کی کوشش کرنے لگے جو اندرا گاندھی اور چرن سنگھ کے دور میں ہوا کرتا تھا۔چندر شیکھر اس سے بہت دلبرداشتہ ہوئے۔ دوسری چیز ، جس کے لئے وہ وزیر اعظم بنے ، ان کاموں کو نہیں کرنے دیا گیا تھا، اس وجہ سے بھی شیکھر کبیدہ خاطر تھے۔ وہ منموہن سنگھ سے شکستہ دل تھے کیونکہ منموہن سنگھ ان کی حکومت کے اقتصادی مشیر تھے اور منموہن سنگھ کے اخلاق و کردار سے متاثر ہوکر ہی شاید انہیں اقتصادی مشیر بنایا تھا ، لیکن جیسے ہی حکومت گری تو منموہن سنگھ نے اپنی پالیسی ہی بدل دی۔ چندر شیکھرصاحب کو یہ لگا کہ ایک آدمی نے اپنی زندگی کے 60 برس ایک طرح سے گزارے ہوں اور اچانک وہ پوری طرح پلٹی کھاجائے یہ کیسے ممکن ہے۔ یہ بھی ان کے لئے فکر کی بات تھی۔
تو چندر شیکھر صاحب منموہن سنگھ کی اس تبدیلی کو کس طرح سے دیکھتے تھے؟
ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ پارلیمنٹ میں ایک مباحثہ ہورہا تھا ۔ بجٹ پر بحث ہورہی تھی تو نرسمہاراؤ نے اٹھ کر کہا کہ چندر شیکھر جی ہم نے تو آپ کے ہی آدمی کو وزیر مالیات بنایا یہ سوچ کرکہ یہ آپ کے اقتصادی مشیر تھے توجو آپ سوچ رہے ہیں اسے یہاں بھی پیش کررہے ہیں، تو چندر شیکھرجی نے اٹھ کر کہاکہ یہ ہمارے اقتصادی مشیر تھے وزیر مالیات تھوڑی تھے۔ جس چاقو سے میں بیگن کاٹ رہا تھا اس سے آپ ہارٹ سرجری کرنے لگے ۔ یہ تو آپ کی غلطی ہے، چاقو کا قصور تھوڑی ہے۔ ہم تو ان سے صلاح لے رہے تھے، فیصلہ کرنا ہمارا کام تھا، ہمارے وزیر مالیات کا کام تھا۔ آپ نے تو الٹا کردیا۔ کبھی کبھی منموہن سنگھ ان کے حملے سے بوکھلا جاتے تھے۔
چندر شیکھر صاحب کے دماغ میں کہیں نہ کہیں یہ بات تھی کہ منموہن سنگھ نے ایک طرح سے اپنے ملک سے بے ایمانی کی ہے……………………………
انہیں لگتا تھا کہ منموہن سنگھ نے اپنے اصولوں سے بے ایمانی کی ہے۔ ساٹھ سال تک جس اقتصادی پالیسی کو چلایا اسے ریورس گیئر میں لادیا۔ اب یہ الگ بحث ہے کہ اس سے ملک کو فائدہ ہوا یا نقصان ۔لیکن انہی کے ایک اقتصادی صلاح کار جو پلاننگ کمیشن کے ممبر اور راجیہ سبھا لائے گئے ارجن سین گپتا نے رپورٹ دی کہ اس ملک میں 74کروڑ لوگ ایسے ہیں جو روزانہ20روپے سے کم پر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ دوسری جانب دولت کی چکاچوندھ بھی بیس سال میں دکھائی دی ہے، لیکن وہ دولت سمٹ کر 20فیصدلوگوں کے پاس رہ گئی ہے۔ ہندوستان کے اندر بھی کئی ہندوستان بنتے جارہے ہیں۔ آج تو صرف میری ہی ریاست بہار کی حکومت نے لکھ کر بھیجا ہے کہ ہمارے یہاں ڈیڑھ کروڑ خاندان ایسے ہیں جوخط افلاس سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں، لہٰذا حکومت روٹی، چاول، چینی ، راشن اور تیل مہیاکرائے۔ ڈیڑھ کروڑ کا مطلب ساڑھے سات کروڑ لوگ خط افلاس کے نیچے ہیں۔آٹھ کروڑ بہار کی آبادی اور ساڑھے سات کروڑ غریب۔ چندر شیکھر جی کو ملال اس بات کا ہے کہ این ڈی اے کی حکومت بھی ویسے ہی کام کر رہی ہے۔
چندر شیکھر نے آپ کو اور آپ جیسے دو تین لوگوں کو پیار دیا۔ ان کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے آپ کے لئے تو پدرانہ کردار ادا کیا، لیکن اپنے بیٹوں کو آگے کیوں نہیں بڑھایا؟
2004میں چناؤ ہورہا تھا۔ مجھے لگا کہ آج میں اس مقام پر ہوں کہ ان کے احسانات کا بدلہ چکا سکتا ہوں،لہٰذا ہم نے سوچاکہ ان کے بڑے لڑکے پنکج کو سیٹ دے دی جائے ، اس سلسلے میں میں نے اٹل بہاری جی سے بات کی اور ان کی رائے جاننی چاہی تو اٹل جی نے کہا کہ اس سے بڑھ کر خوشی کی بات اور کیاہو سکتی ہے۔ اس کے بعد میں چندر شیکھر جی کے پاس گیا۔چندر شیکھر جی نے کہا کہ جب تک میں موجود ہوں خاندان سے ایک ہی فرد الیکشن لڑے گا۔اگر پنکج کی اپنی حیثیت ہوتی اور چناؤ لڑتے تو ہمیں کوئی دقت نہیں ہوتی ۔ لیکن وہ چندر شیکھر کا بیٹا ہے اس لئے دگوجے سنگھ ٹکٹ دے رہے ہیں تو ہمیں ہی کہہ دو ریٹائر ہوجاتے ہیں۔ پنکج کو الیکشن لڑنا ہے، لڑے، ہم بلیا چھوڑ دیتے ہیں۔ جنہیں بھی چندر شیکھر جی نے آگے بڑھایا وہ سبھی لوگ ابھی ٹکے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کسی نے بھی خاندان کے بچوں کو چناؤ نہیں لڑایا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *