سینسر بھی وقت کے ساتھ بدلے

راجیش ایس کمار

گاندھی جی نے ایک مرتبہ سینسر شپ کو اپنے انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا تھا ’اف یو ڈونٹ لائک سمتھنگ ، کلوز یور آئیز‘ ۔ سائوتھ فلموں کا سینسر بورڈ اس فلسفہ کے دونوں پہلوئوں کا استعمال کرتا ہے۔اپنی مرضی کے مطابق آنکھیں کھولتا ہے اور بندکرتا ہے۔ شاید اسی لئے اسے آئے دن قانونی طمانچے پڑتے رہتے ہیں۔ تازہ معاملہ میں پانچ سال کی طویل جدوجہد کے بعد کادھل آرنگم کو نمائش کی اجازت مل گئی ہے۔ اس فیصلہ نے ایک بار پھر سے سینسر بنام ڈائریکٹر، پروڈیوسر تنازعہ کو ہوا دے دی ہے۔ سال 2004میں پوری ہو چکی ویلو پربھاکرن کی ہدایت میں بنی فلم ’کادھل آرنگم ‘ کو تمل سنیما کی سب سے سیکسی فلم کا درجہ دیا گیا ہے۔ چنئی سینسر بورڈ نے فلم کو عریاں مناظر اور اوپن سیکس کو فروغ دینے والے کنٹینٹ کے سبب قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد ویلو نے دہلی ٹریبونل کو فلم دکھائی۔ شوبھا دیکشت کی صدارت میں فلمی دیکھی گئی، مگر نتیجہ پھر وہی رہا۔ اس طرح کئی کمیٹیوں کے چکر کاٹنے کے بعد فلم نمائش کے لئے تیار ہو پائی ہے۔
ہم سائوتھ سنیما میں سینسر شپ کی بات اس لئے کر رہے ہیں، کیونکہ ہندوستان میں فحش فلموںکا سب سے بڑا بازار یہی ہے۔ پورن ویب سائٹ پر اگر انڈین پورن کنٹینٹ ہوتا ہے تو وہ یہیں کا ہوتا ہے۔ یہاں کی تہذیب اور فلموں میں ہیجان ہمیشہ سے ہی حاوی رہا ہے۔ملو لفظ بھی یہیں کی پیداوار ہے۔ ایک اندازہ کے مطابق، یہاں روز تقریباً50ایڈلٹ فلمیں بنتی ہیں اور ان کی شوٹنگ کھلے بیچ اور فارم ہائوسوں میں ہوتی ہے۔ کئی اداکارائیںکسی پیپے راججی، سیکس اسکینڈ ل اور ایم ایم ایس معاملہ میں ملوث پائی جاتی ہیں۔ اداکارہ خوشبو تو اکثر اپنے بیباک بیانات کے سبب تنازعات  میں گھری رہتی ہیں۔ یہاں سیکس اور تشدد کے بغیر فلم بنانا ناممکن ہے۔حالانکہ کچھ فلمساز اس کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ ایسی جگہ سینسر شپ کیا اتنی آسان ہے کہ کچھ فلموں کے چند مناظر کاٹنے سے اس کی ڈیوٹی مکمل ہو جائے ۔یہاں کچھ معاملوں کا ذکر کرتے ہیں، جہاں سینسر اپنی قینچی کی دھار دکھا رہا تھا۔رام گوپال ورما کے معاون رہ چکے سمیر کی فلم ’’دوگم ناندا تھاتھو ‘‘کو بیڈروم اور بوسوں کے مناظر کے سبب اے سرٹیفکٹ دیا گیا۔ کاویری ندی آبی تنازعہ پر مبنی فلم ’تھامبی وڈین ‘ کو چنئی سینسر بورڈ نے سرٹیفکٹ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی طرز پر مدراس ہائی کورٹ نے کمل ہاسن کی فلم ’دشاوتارم‘ میں کچھ منتازعہ مذہبی حوالوںکے سبب اعتراض ظاہر کیا تھا۔ کمل کی کامیڈی فلم‘ممبئی ایکسپریس‘ کو ایک گانے کے سبب اے سرٹیفکٹ دینے کی کوشش کی گئی۔ جہاں کے سنیماکا مزاج ہی ایسا ہے اور سنیما کو ٹی وی، انٹر نیٹ اور پائریسی سے بھی مسابقت کرنی پڑ رہی ہے، وہاں چند فلمیں سینسر کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔
تاہم حقیقت میں بورڈ اور حکومت کامنشا یہ ہے کہ سماج سے تشدد اور عریانیت کو کم کیا جائے تو وہ فلموں کے بجائے ان تمام وسیلوں کو ممنوع قرار دے، جن کے ذریعہ عریانیت کی نمائش ہوتی ہے اور اسے فروغ ملتا ہے۔ یہ بنیادی حقیقت سینسر کی سمجھ سے باہر ہے کہ سوا ارب کی آبادی والے اس ملک میں صرف 15,000تھیٹر ہیں، جبکہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن چینلوں کی رسائی لا محدود ہے۔وہاں رات ہوتے ہی سیکس اور تشددکا کاک ٹیل شروع ہو جاتا ہے۔ایسے میں بورڈ کو اتنا تو سمجھ میں آتا ہی ہوگا کہ عوام یکبارگی ٹکٹ لے کر سنیما گھر زیادہ جاتے ہوں گے یا گھر میں بیٹھ کر ٹی وی اور انٹر نیٹ پر وقت گزارتے ہوں گے۔اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ہندی سنیما نہیں ہے، جہاں ذرا سی فحاشی پر مذہبی تنازعہ کی آگ لگا دیتے ہیں۔ ایسے کئی بنیادی مسائل ہیں، جن کے ساتھ سینسر بورڈ تال میل نہیں بیٹھا پاتا۔کادھل آرنگم کا قصہ بھلے ہی فریڈم آف ایکسپریشن کی فتح ہو، مگر اس سب کے درمیان ناظرین کی فکر کسی کو نہیں ہے، جن کے لئے یہ تمام تام جھام تیار کیا جاتا ہے۔ سماج بولڈ ہو چکا ہے۔جتنی تیزی سے سماج کی ذہنیت کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، سینسر اتنی ہی تیزی سے تنگ ہورہا ہے۔ اب رامائن کی جگہ ریئلٹی شو اور کائم چورن اور دنت منجن کے اشتہارات کی جگہ ایکس اور ایڈکشن ڈیوڈرینٹ کے اشتہارات چل رہے ہیں۔
بورڈ اور حکومت کو وجے آنند سے سبق لینے کی ضرورت ہے، جو بورڈ کے صدر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ پورن فلمیں تقریباً ہر جگہ کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں اور دیکھی جا رہی ہیں۔ ان سے لڑنے کا یہی طریقہ ہے کہ بورڈ اس طرح کی فلموں کو قانونی طورپر اجازت دے کر سنیما ہال میں دکھائے۔ اگر کسی مسئلہ کو جڑ سے ختم نہیں کر سکتے تو اسے غیر قانونی طریقہ سے ہونے سے روک تو سکتے ہیں۔ سائوتھ سنیما کا اپنا مزاج اور چٹکیلا رنگ ہے۔ اس لئے ہندی سنیما کی طرز پر سینسر شپ نہیں چل سکتی۔ یہاں کی تہذیب، ناظرین کی ذہنیت اور تفریحی انداز کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس کی بنیاد پر ہی معیار کو بدلا جائے۔ تب کہیں جا کر سینسر شپ کے صحیح معنی سامنے آ ئیں گے۔ورنہ ویلو جیسے بیدار ہدایت کار قانونی چیلنج دیتے رہیں گے ا ور سینسر بورڈ اپنی فضیحت کراتا رہے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *