بندوق نہیں جمہوریت ہی تبدیلی کا ہتھیار ہے

چھتیس گڑھ کے ڈی جی پی وشو رنجن کا ماننا ہے کہ نکسلی بندوق کی بنیاد پر تبدیلی چاہتے ہیں جو ممکن نہیں ہے۔ تبدیلی کے لیے انہیں جمہوری راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ پیش ہے ان سے ہمارے کوآرڈینٹ ایڈیٹر منیش کمار کی ایک لمبی بات چیت کے اہم نکات۔
سوال: آپ پر الزام ہے کہ آپ نے چھتیس گڑھ میں یہ فرمان جاری کیا ہے کہ کوئی میڈیا اہلکار، کوئی اخبار یا ٹی وی کا رپورٹر نکسلیوں کے ساتھ کھڑا نظر آئے گا یا پھر ان کے ساتھ ہمدردی رکھے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی؟
جواب: یہ تو کہا ہی نہیں گیا ہے۔ میں نے ٹی وی اور کئی مقامات پر کہا ہے کہ صرف کسی سے بات کرنے پر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ کارروائی تبھی ہوسکتی ہے جب ہمیں کوئی مثبت ثبوت ملے کہ فلاں شخص نکسلیوں کی مدد کر رہا ہے۔
سوال: یہ کیسے طے ہوگا کہ فلاں میڈیا اہلکار نکسلیوں کی مدد کر رہا ہے؟ اخبار میں رپورٹ لکھنے کے جرم میں آپ کسی پر کیسے کارروائی کرسکتے ہیں؟
جواب: صرف اخبار میں لکھنے سے یہ طے نہیں ہوگا۔ جب وہ شخص صحافی نہیں ہوگا۔ اگر وہ نکسلیوں کو بندوق پہنچا رہا ہے یا کوئی دیگر چیز پہنچا رہا ہے تو پھر وہ صحافی نہیں ہوگا نا!
سوال: دوسرے پولس افسران کی بہ نسبت لوگ آپ سے مزید کچھ امیدیں رکھتے ہیں۔ آپ رائٹر ہیں اور شاعر بھی ہیں۔ آپ اخباروں میں اخلاقی مضامین لکھتے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ آپ کی ڈیوٹی اور آپ کے خیالات میں تضاد ہے؟
جواب: میں ایک شاعر ہوں، حساس ہوں، میں تشدد برداشت نہیں کرسکتا اور اخلاقی سطح پر میں یہ مانتا ہوں کہ نکسل ازم کا جو پورا نظریہ ہے وہ جمہوری سوچ اور جمہوری نظریات کے خلاف جارہا ہے۔ وہ ایک ماؤنواز تانا شاہی قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ مجھے بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا جتنا بھی ادب ہے، کتابیں ہیں، ان میں یہ بات صاف صاف لکھی ہے کہ وہ پرتشدد جد و جہد اورہتھیاروں کے ذریعہ اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، جو جمہوری سوچ ہے اور جس نظریہ کو لے کر ہندوستان نے آزادی کی لڑائی لڑی، یہ سب کچھ اس کے برعکس ہے۔ اس لیے میں اخلاقی طور پر ان سے اتفاق نہیں رکھتا۔
سوال: اخلاقی بحث سے دور زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ ملک کے دیہی علاقوں میں ہمارا سرکاری نظام ناکام ہوچکا ہے۔ کیا آپ کو نہیں لگتا ہے کہ نکسل ازم حکومت کی بدعنوانیوں کا ہی نتیجہ ہے؟
جواب: اس کا بھی جمہوری حل ہی نکالنا پڑے گا۔ دیکھئے، جمہوریت کی بھی ترقی ہونا ضروری ہے۔ جمہوریت میں تبدیلی بھی جمہوری طریقے سے ہی ہوتی ہے، بندوق سے نہیں۔
سوال: یہ بات بھی تو سچ ہے کہ آزادی ملے ہوئے 60سال ہوگئے اور ابھی بھی ہمارے دیہی علاقوں کی حالت خراب ہے۔ وہاں غریبی ہے، بجلی نہیں، پانی نہیں، اسکول نہیں اور طبی سہولیات نہیں ہیں۔ ایسے میں دیہات میں رہنے والے لوگوں اور قبائلیوں کے پاس دوسرا راستہ کیا ہے؟
جواب: دوسرے ممالک میں جمہوریت 100سال اور 200میں ڈیولپ ہوئی ہے۔ 60برسوں میں بہت کچھ ہوا ہے اور بہت کچھ نہیں ہوا ہے، جو کچھ نہیں ہوا ہے،ا س کے لیے ہم تانا شاہی تو نہیں لاسکتے، یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ جہاں تانا شاہی آئی ہے، وہاں کیا حشر ہوا ہے۔
سوال: کیا آپ کے اندر کا شاعر یہ مانتا ہے کہ فوج سے، پولس سے، یا سی آرپی ایف سے اس تحریک کو ختم کیا جاسکتا ہے؟
جواب: ہم تحریک کو ختم نہیں کر رہے ہیں، ہم تشدد کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحریک بغیر تشدد کے بھی چلائی جاسکتی ہے۔ آخر کار ماؤنوازوں کی بہت سی ایسی تنظیمیں ہیں جو تشدد کا راستہ ترک کر کے جمہوریت کے راستے پر اتری ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ تمام ماؤنواز ہتھیار اٹھا کر ہی کام کر رہے ہیں۔ اگر آپ پوری دنیا میں کمیونسٹ تحریکات کو دیکھیں تو ایسا کئی جگہ ہوا ہے کہ کمیونزم کو جمہوری طریقے سے لانے کی کوشش کی گئی، کیوں کہ انہیں محسوس ہوا کہ آج کے دور میں تشدد کا راستہ کار گر ثابت نہیں ہوتا ہے۔
سوال: لیکن ہمارے ملک میں پرتشدد تحریکات کی توسیع ہو رہی ہے۔ کچھ سال قبل تک 50اضلاع تھے اور اب 260اضلاع ایسے ہیں، جہاں نکسلیوں کا اثر ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ملک میں پرتشدد تحریکات کا دبدبہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے؟
جواب: دیکھئے بندوق سے دبدبہ بڑھایا جاسکتا ہے۔ میرا یہ ماننا ہے اور جن لوگوں نے بستر کے ان علاقوں میں کام کیا ہے جہاں پر اس طرح کا تشدد ہو رہا ہے وہ بھی جانتے ہیں اور بہت سارے ریسرچ کرنے والوں کا بھی یہی خیال ہے کہ نکسلیوں کا بہت بڑا طبقہ اس خوف سے ان کے ساتھ ہے کہ اگر وہ تھوڑا بھی اختلاف کرے گا تو اسے مار دیا جائے گا۔ اس لئے ہم یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ وہ صحیح ہیں۔
سوال :  خواہ چھتیس گڑھ ہو یا اڑیسہ، ایسا کیوں ہورہا ہے کہ کچھ تنظیموں ، جو عوامی بیداری کا کام کررہی ہیں، کے کارکنان کو نکسلی بتاکر پریشان کیا جاتا ہے۔ پولس انہیں گرفتار کرلیتی ہے؟
جواب : ایسا سب کے ساتھ نہیں ہوتا ہے۔آج بھی بہت ساری رضاکار تنظیمیں کام کررہی ہیں ۔ کچھ ریاستوں میں ایک دو ،چار یا پانچ تنظیموں پر پابندی عائد کی گئی ہے، کیونکہ ان کے خلاف مثبت ثبوت ملے ہیں کہ وہ نکسلیوں کی مدد کررہی ہیں۔ یہ کہنا غلط اس لئے بھی ہے، کیونکہ بہت ساری کمیونسٹ تنظیمیں بھی کام کررہی ہیں، ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی ہے۔
سوال :  ایک عجیب و غریب اتفاق ہے کہ جہاں نکسلیوں کا اثر ہے ، ان علاقوں میں معدنیات کے ذخیرے ہیں۔ حکومت کے ساتھ ساتھ غیر ملکی کمپنیاں وہاں دونوں ہاتھوں سے دولت جمع کررہی ہیں، لیکن وہاں رہنے والوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔
جواب : آپ جو کہہ رہے ہیں، اس پر کوئی تفصیلی تحقیق کسی نے نہیں کی ہے۔ بستر میں آج کی تاریخ میں این ایم ڈی سی اور بستر منرل کارپوریشن کے علاوہ کسی بھی ملٹی نیشنل یا غیر ملکی کمپنی کو کام نہیں دیا گیا ہے۔ جہاں پر ایسار کی پائپ لائن جا رہی ہے، وہ این ایم ڈی سی سے خریدکر اس کے ٹرسٹ کو بھیجی جارہی ہے۔ ٹا ٹا کو جو اسٹیل پلانٹ بنانے کو دیا گیا ہے، آج تک اس کے لئے زمین نہیں دی گئی ہے۔ پراسپکٹنگ کے لئے بھی جو دیا گیا ، اس میں بستر کا پوائنٹ جنگلی علاقہ شامل نہیں ہے۔ ہم تو پولس والے ہیں، لیکن ان باتوں کی تصدیق مرکز اور ریاستی حکومت کی سطح پر بھی کی جاسکتی ہے۔ آپ کو یہ معلوم ہوگا کہ بستر ملک کا سب سے بہترین جنگلی علاقہ ہے اور جنگل کے قانون کے تحت زیادہ تر کانیں اس کے اندر ہیں۔ جنگلوں کو آپ کاٹ نہیں سکتے ہیں اور اس کے لئے سپریم کورٹ کے ذریعہ بنائی گئی کمیٹی ہے ، جو اس کی اجازت دیتی ہے تو کیسے کسی کمپنی کو دیا جاسکتا ہے؟
سوال : نکسلی اتنے اضلاع میں پھیلے ہیں، اتنی بڑی تنظیم چلارہے ہیں۔ اسے چلانے کے لئے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نکسلیوں کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے؟
جواب :  حقیقت یہ ہے کہ ان کو خطیر رقم غیر قانونی وصولی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ ان لوگوں کو دہشت زدہ کرکے لیا جاتا ہے، جو ان علاقوں میں کام کرتے ہیں۔ اگر آپ ان دیہی علاقوں میں جائیں تو دیکھیں گے کہ گائوں والوں کا آدھا کھانا وہ لے جاتے ہیں۔ پی ڈی ایس سے جو ملتا ہے، اس کا آدھا لے جاتے ہیں۔ ان کو دینا پڑتا ہے۔ ان کی ملٹری پلاٹون کے لئے دیتے ہیں، ان کی فوج کے لئے دیتے ہیں۔ جہاں بھی نکسلی ہیں، وہاں کے آدیواسی دے رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جو چھوٹے موٹے کام ہوتے ہیں، چھوٹے موٹے ٹھیکیدار ہوتے ہیں، وہ وہیں رہتے ہیں۔ انہیں ڈرا دھمکا کر پیسہ لیا جاتا ہے۔ جہاں پر آپ کی پوری تحریک وصولی پر مبنی ہے اور یہ زیادہ تر زمین کے اندر کی تحریکوں میں ہی ہوتا ہے۔ اس میں کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ دنیا بھر میں جہاں بھی اس طرح کی تحریکیں ہیں، وہاں ناجائز وصولی ہوتی ہے۔
سوال:خبریں تو یہ بھی آ رہی ہیں کہ سرکاری افسران بھی مائونوازوں کو پیسے دے رہے ہیں؟
جواب:بستر میں یہ نہیں ہوتا ہے، یہ کسی دوسری جگہ کی بات ہو سکتی ہے۔ الفا میں نارتھ ایسٹ کے علاقوں میں اس طرح کی چیزیں سامنے آئی ہیں، لیکن بستر میں نکسلیوں نے کسی افسر سے پیسہ لیا ہو، یہ نہیں ہوا۔ بستر سے تو انھوں نے افسران کو ہی نکال دیا توپیسہ کس سے لیں گے؟
سوال:اگر آپ کو یہ ساری باتیں معلوم ہیں تو اس ناجائز وصولی ریکٹ کو توڑنے کے لئے کوئی حکمت عملی کیوں نہیں بنائی گئی؟
جواب:ایسا نہیں ہے۔ جہاں بھی پتہ لگتا ہے، لوگ پکڑے بھی جا رہے ہیں۔ ہمارا جو عدالتی عمل ہے، اس کا بھی دھیان رکھنا پڑتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ ہم اسے عدالت میں ثابت کرنے کے اہل ہیں تو کارروائی کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آخری فیصلہ تو ہم نہیں لیں گے، عدالت ہی لے گی۔
سوال:توا س کا مطلب یہ ہوا کہ بہت ساری معلومات ہونے کے باوجود پولس کچھ نہیں کرتی ہے؟
جواب:نہیں، ہمارا کہنا یہ نہیں ہے۔ حالانکہ مجرم پکڑا ہی جاتا ہے۔ مگر اسے ثابت کرنا پڑتا ہے۔ قانونی عمل میں جس عدالتی نظام کو ہم مانتے ہیں اور جتنا بھی مہذب سماج ہے، اس کی بنیاد ہی اس بات پر ہے کہ 99قصوروار بھلے ہی چھوٹ جائیں مگر کسی ایک بے قصوروار کو سزا نہیں ملنی چاہئے۔ اس لئے پورا عمل دھیما ہوتا ہے۔بہت ہی پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑتا ہے۔
سوال:مائونواز کبھی ٹرین کی لائنوں کواڑا دیتے ہیں، تھانوں پر حملے اور پولس والوں کے قتل ہو رہے ہیں۔ اس سے پورے ملک میں خوف و دہشت کا ماحول بن گیا ہے۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ہمارا پورا نظام ہی ناکام ہو رہا ہے۔ کیا آپ اس خطرے کو محسوس نہیں کرتے ؟ کیا آپ کو اس بات سے ڈر نہیں لگتا ؟
جواب: تاریخ کی جو مدت ہوتی ہے، وہ کسی آدمی کی حیات کی نہیں ہوتی ہے۔ اس لئے میرا ماننا ہے کہ جیسے جیسے جمہوری طاقتیں مضبوط ہوئی ہیں، ویسے ویسے پر تشدد اور دہشت گردانہ طاقتیں ختم ہوئی ہیں۔ یہ ہمارے ملک میں بھی ہوگا، کیونکہ ہمارے یہاں آزادی کی لڑائی بھی جمہوری سوچ کو آگے رکھ کر لڑی گئی۔ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ اس طرح کی طاقتیں تھوڑی بہت حرکتیں کر کے اور خوف کا ماحول بنا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گی۔
سوال: آخر میں میں آپ سے پھر ایک بار پوچھنا چاہتا ہوں کہ میڈیا پر پابندی والی بات میں کتنی حقیقت ہے؟
جواب: یہ تو آپ یہاں کے میڈیا والوں سے ہی پوچھئے۔ اگر میڈیا کووہاں جانے سے روکا جاتا ہے تو خبریں کہاں سے آتی ہیں؟ وہاں کی تصویریں کہاں سے آتی ہیں؟ یہ تو صرف انتظامیہ پر دبائو ڈالنے کے لئے ایک خاص طرح کے لوگ اس طرح کی خبروں کی تشہیر کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *