بڑھ رہے ہیں یوروپ میں خواتین پر مظالم

(عفاف اظہر(کناڈا

بی سی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یوروپ اور امریکہ میں مقیم سائوتھ ایشین خاندانوں میں سیکڑوں خواتین ایسی ہیں جنہیں غلاموں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ حال ہی میں یو کے (UK)کے کئی ایسے کیس سامنے آئے ہیں جن میں باپردہ مسلم خواتین کو بیاہ کر پاکستان سے لایا گیا اور غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور گیا۔ گھر سے باہر نکلنے پر پابندی، کسی سے بات چیت پر پابندی، زبان اور معاشرے سے لاعلم رکھ کر تمام تر حقوق غصب کر لئے گئے ، اتنا ہی نہیں بلکہ شوہر اور سسرال کی مارپیٹ بھی برداشت کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ کچھ سال اسی طرح گزرنے کے بعد گھر سے بھاگنے کا موقع پاتے ہی ہمسائیوں کی مدد سے معاملہ پولس کے علم میں آیا اور اس مغربی معاشرے میں مقیم مشرقی عورت کی یہ توہین آمیز زندگی ہرذی شعور انسان کو حیرت میں ڈال گئی۔ بی بی سی کی جانب سے شائع کردہ سائوتھ ایشین تنظیموں کی خصوصی رپورٹ کے مطابق یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں بلکہ آج بھی سیکڑوں عورتیں ان مغربی معاشروں میں رہتے ہوئے بھی پاکستانی معاشرے کے عین مطابق اپنے حقوق سے محروم و نابلد مرد کے ظلم وستم سہنے پر مجبور، بے کسی و لاچاری کی زندگی گزار رہی ہیں۔
عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیںاور خود کو مرد کہتے ہیں، ایسے مردوں کو تو نہ کبھی شرم آئی ہے نہ آئے گی، مگر ہروہ کوکھ ضرورشر مندہ ہوگی جو ایسے نامردوں کو دھرتی پر جنم دینے کی غلطی دہراتی چلی آ رہی ہے۔ یہ کسی ایک عورت کی توہین نہیں بلکہ حوا کی بیٹیوں کی توہین ہے۔ یہ کسی ایک عورت کے صبر کی تحقیر نہیں بلکہ صنف نازک کی ذلت ہے جو رشتوں کا مطلب تک نہیں جانتے مگر رشتوں پر حق جمانا چاہتے ہیں۔ عورت صرف بیوی نہیں کسی کی ماں، کسی کی بیٹی اور کسی کی بہن اور سب سے بڑھ کر ایک عورت ہے وہ عورت جوہمیشہ سہمی رہے ہمیشہ بے عزت ہوتی رہے اور مجازی خدا کا روپ لئے مرد انہیں کچلتے رہیں،ان کی آواز دباتے رہیں۔پیروں کی جوتی سمجھتے رہیں اور عورت بدلے میں اندھا پیار لٹاتی رہے، مرد کو پوجتی رہے، یہی عورت ہے جس نے ایسے نامردوں کو خدا بنا ڈالا ہے جو کہ انسان بھی کہلانے کے قابل نہیں۔
ایک مرد مسلمان تو عورت کے حقوق کی حفاظت کا ضامن تھا مگر آج یہی مسلمان مردعورت کے حقوق پرکالے ناگ بن کر بیٹھ گئے ہیں مگر بھول گئے ہیں کہ ایک عورت جب پیار لٹانے پر آتی ہے تو ممتا کا روپ لے کر دھرتی پر چھا جاتی ہے مگر جب اپنے لٹے ہوئے حقوق کے لئے آواز اٹھانے پر آئے تو اسے رضیہ سلطانہ کا روپ دھارنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ عورت اگر مرد کی صورت میں شیطان کو جنم دے سکتی ہے تو وہی عورت ایسے شیطان نما مردوں سے لڑنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہے۔وہ عورتیں جنہیں نسل درنسل صدیوں سے صرف کچلا ہی گیا ہو ان کا ظلم کے سامنے کھڑا  ہونا بہت مشکل ہو جاتا ہے لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ اگر عورت کا صبر اور حوصلہ بہتے دریائوں کا رخ موڑ سکتا ہے تو وہی عورت جب بدلہ لینے پر آجائے توپھنکارتی ناگن سے کہیں زیادہ زہریلی ثابت ہوتی ہے۔ اگر عورت اپنے گھر کی خاطر ہر قربانی دے سکتی ہے تو وہی عورت اپنے حقوق کی حفاظت کے لئے غاصبوں کی جانیں بھی لے سکتی ہے۔اگرآج بھی ہر عورت خود اپنے حقوق کی حفاظت کی ضامن بن جائے تو اس پر ہاتھ اٹھانے، اس کے حقوق غصب کرنے والے نامردوں کو بھاگنے کے لئے یہ دھرتی بھی کم پڑ جائے گی۔ اگر ایک دیاجل جائے تو اس سے ہزاروں دیئے جلائے جا سکتے ہیں اسی طرح اگر ایک عورت اپنے حقوق پہچان کر ان کی ضامن خود بن جائے تو آنے والی نسلوں کا مستقبل بدلا جا سکتا ہے۔ ایسے مردوں کے آگے سر جھکا کرخاموشی سے حقوق لٹانے کی بجائے سر اٹھا کر جینے کی روش ڈالنی ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ عورت اگر ارادہ کر لے تو اسے بدلنا ناممکن ہوتا ہے۔ اگر آج ان عورتوں کو گھروں میں پیٹا جاتا ہے۔ قیدیوں کی طرح رکھا جاتا ہے تو کل یہ کسی دوسری عورت کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے خود ہم میں سے کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔یہ فقط اس عورت کی تذلیل کا سوال نہیں بلکہ عورت سے جڑے ہر رشتے کی توہین وتذلیل ہے۔جس کا ازالہ ہمارے معاشرے میں صدیوں سے غصب ہوتے عورت کے تمام حقوق چھین کر ہی ممکن ہے۔
جب تک عورت خود نہ جاگے گی اسے ان مظالم سے چھٹکارانہ ملے گا۔ جب تک عورت تشدد برداشت کرنے کی روش نہ چھوڑے گی، اس پر اٹھتے ہاتھوں کو توڑا نہ جا سکے گا اور اپنے حقوق کی پہچان کی چھوٹی سی چنگاری ہی کافی ہے ایسے مجازی خدائوں کے تخت کو جلانے کے لئے ذرا سوچئے کہ آج ایک عورت کسی نہ کسی طرح بھاگ کر ظلم سے بچ گئی مگر ان عورتوں کا کیا ہوگا جو آج بھی ایسے ہی پٹ رہی ہیں خوار ہو رہی ہیں۔چولہوں کے ساتھ بھسم ہو رہی ہیں۔ غیرت و عزت کے نام پر کٹ مر رہی ہیں، بدلے میں قربان ہو رہی ہیں، رسوم و رواج کے نام پرستی کی جا رہی ہیں کون بچانے آئے گا انہیں؟جب تک عورت خود ایسے مظالم پر خاموشی کی بجائے آواز نہیں اٹھائے گی یہ سلسلہ بند نہ ہوگا۔۔عورت کوئی بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں دو وقت کی روٹی تو کسی جانور کو بھی مل جاتی ہے،لیکن اس دووقت کی روٹی کے لئے ہمارے معاشرے کی عورت کب تک ظلم کی چکی میں پستی رہے گی؟آخر کب تک یہ مظالم سہتی رہے گی؟کیا ایک عورت کو عزت کے ساتھ جینے کا کوئی حق نہیں؟
میں بخوبی جانتی ہوں کہ ایک عورت کو ہزاروں طرح کے خوف لاحق ہوتے ہیں اور ایک ڈریہ بھی ہوتا ہے کہ گھر کی چاردیواری میں کون بچانے آئے گا؟بعد میں اس کا کیا ہوگا؟مگر سچ تو یہ ہے کہ یہی ڈر یہی خوف ایک عورت کا سب سے بڑا دشمن ہے، مار ڈالئے اس خوف کو، کچل ڈالئے ایسی بزدلانہ سوچ کو، اگر ایک عورت ڈرنا خوف زدہ ہونا ختم کردے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے ڈرا نہیں سکتی پھر ایسے نامردوں سے کیا ڈرنا جو عورت پر ہاتھ اٹھائیں، اس کے حقوق سلب کریں گو کہ ہمارے معاشرے میں عورت صدیوں سے ظلم کی چکی میں پستی چلی آ رہی ہے مگر آج بھی اتنا دم ہے کہ ظالموں کو کچل سکے، ہر وہ ہاتھ توڑ سکے جو اس کے وجود پر اور اس کی عزت پر اٹھے۔ اگر مشرقی عورت مرد کو خدائی کے تخت پر بٹھا سکتی ہے تو وہی عورت اس تخت کی بنیادیں ہلانا بھی جانتی ہے۔
خدارا!ختم کیجئے یہ تماشے دیکھنا اور اس طرح ایک تماشہ بن کر جینا۔اگرآج بھی مشرقی عورت کی مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھی تو اس معاشرے میں حوا کی بیٹیاں عزت نفس اور حقوق کی جنگ ہاریں گی گویا کہ آنے والی کئی نسلیں اپنا وجود ہی کھو دیں گی۔ظلم کرنے سے بڑا گناہ اس ظلم کو خاموشی سے برداشت کرنا ہے اور پھر صدیوں کی اس گمبھیر خاموشی اور بے جا صبر نے آج تک ظلم کو بڑھایا ہی تو ہے۔
دنیا میں اس سا کوئی منافق نہیں قتیل
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *