بدل رہے ہیں یوروپ مسلم نوجوان

بشریٰ اقبال ملک.جرمنی

مذاکرات کے سلسلوں سے مسلم اور غیر مسلم ممالک میں جو سب سے بڑا اختلاف محسوس کیاگیاہے وہ یوروپین ممالک کے آئین یعنی constitution اور اسلامی شریعت میں تضاد کا ہے۔ مثلاًاسلامی حدود کے قوانین، عورت کے حقوق،شادی و طلاق کے قواعد، لڑکیوں کی تعلیم کے علاوہ اولاد کے حقوق ہیں،جن کامقام یہاں کے آئین میں بے حد اہم اور حساس ہونے کے ساتھ آزادانہ اور لبرل ہے۔ یہ معاملات براہ راست ا سلامی معاشرت سے ٹکراتے ہیں۔ یوروپ میں مسلم خاندانوں کے والدین اور بڑوںکی اپنی اولاد پر ویسی حکمرانی نہیں رہتی جیسی ان پر ان کے والدین کی رہ چکی ہوتی ہے ۔ اس لیے اولاد کے معاملے میں خاص طور پر لڑکیوں کے معاملے میںیوروپ میں رہ کر بھی یوروپ کے قوانین کو قبول کرنا بے حد مشکل امر ہو جا تا ہے۔
بلکہ سچ یہ ہے کہ یہاںکے قوانین کو دل سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے ان سے دانستہ اور نادانستہ بہت سے ایسے کام بھی ہوجاتے ہیں جو غیر قانونی اور انسانی حقوق کے خلاف ہو تے ہیں، جن کی وجہ سے یوروپ میں آکر بسنے والے باہر کے عوام یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں میں گر جاتے ہیں۔ اس شش وپنج کو کم کرنے کے لیے یہاں پر پیدا ہونے والی نسل اپنے بچوں کے ساتھ کسی حد تک پوروپ کے قانون کے مطابق سلوک کر کے Integration میں ا پنا بھر پورکردار ادا کر رہی ہے ۔اس سلسلے میں خاص طور پر پڑھے لکھے روشن خیال مسلمان اس تضاد اور کشمکش کے برے اثرات کو کم کرنے کا کام کر رہے ہیں اور   Integration polocy   بنانے والے اداروں کے ساتھ بڑھ چڑھ کر کام کر رہے ہیں۔
اسلامی شرعی قوانین جن پرابھی تک سوفیصد مسلم آبادی والے ممالک  کے ہی افراد اورفرقوں کا ہی آپس میں اتفاق نہیں ہو پایا ہے، توبھلا یوروپ میںجہاں مختلف ممالک اور مختلف فرقوںاور طبقوں کے مسلمان آکر جمع ہوئے ہیں اسلام کا کیاحال  ہوگا۔ یہاں پر ایسے مسلمانوں کی بہتات ہے جو دنیا جہان کی ترقی اور مسائل سے بے خبر محض پردے اور داڑھی کی لمبائی جیسی بحثوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ اپنے کردار کی کمزوریوں سے چشم پوشی کرتے ہوئے یوروپ کی بے حیائی، آزاد روی کا رونا روتے رہتے ہیں۔ اس قسم کے رویے کی وجہ سے یورپ میں اسلام کچھ عجیب مضحکہ خیز سا ہو رہا ہے ۔شایدو جہ یہ ہے کہ دوسری زمینوں کے یہ پودے دیار غیر میں اپنے وطن اور مذہبی ماحول کی کمی کو پوراکر نا چاہتے ہیں اوریہاں آنے والے کچھ بیمار ذہنوں کی گرفت میں جلد آجاتے ہیں۔ ان کے پروگرام اور محفلیں ان کو اپنے وطن کی مٹی کی خوشبو کا احساس دیتی ہیں اور اپنوں کی کمی کی پیاس کو کم کرتی ہیں۔ اس لیے ان میں یک جہتی کی فضا پیدا ہو جاتی ہے،جو ان کو ان کی بتائی ہوئی شریعت پر قائم رہنے پر مجبورکرتی ہے۔
اس قسم کے دبائو کی و جہ سے یہاں بھی اکثر ویسے ہی واقعات پیش آتے ہیں جیسے ان سر زمینوں پر آتے تھے جن کو وہ چھوڑ آئے ہیں۔ اکتوبر 2004سے جون2005  تک جرمنی میں 8 مسلم خواتین کو ان کے خاندان کے مردوں نے قتل کیا اور ان پر  مقدمے قائم ہوئے ۔یہ تو سامنے آجانے والے واقعات ہیں جو اخبار اور ٹی وی تک پہنچ جاتے ہیں۔یہاں ان گنت ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جو جرمن قانون کے مطابق انسانیت اور انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ مثلاً بچوں کی ان کی مرضی کے خلاف شادی، لڑکیوں کو بلوغت کے بعد واپس اپنی سر زمیں پر بھیج دینا، لڑکیوں کو جرمن لڑکیوں سے ملنے جلنے پابندی اور نافرمانی کی صورت میں سزائیں دینا وغیرہ۔ ان حالات میں اگر کوئی لڑکی گھر سے بھاگ جائے تو یہاں کا قانون اور سوشل ادارے اس کی بھر پور مدد کرتے ہیں، جو یہاں کے مسلمانوں اور قانون کے درمیان  مزید فاصلے بڑھا دیتے ہیں۔1950سے 1960کی دہائی میںیورپ کی تعمیرنو کے لیے افرادی قوت کی ضرورت پڑی تو شمالی افریقہ ،ترکی اور پاکستان نے اپنے مزدور یوروپ بھیجے ۔اس کے بعد پاکستان میں قادیانی فرقے کو کافر قرار دینے کی وجہ سے ترکی میں علوی فرقے اور کرد بغاوت کے باعث اور پھر اسرائیل فلسطین کے مسلمان یہاں پناہ حاصل کرتے رہے۔ انقلاب ایران اور پھرافغانستان میں روس  کی وجہ سے بہت سے مسلمانوں نے یہاں آکر اپنی جان بچائی۔ 11 ستمبر کے واقعہ کے بعد افغانستان اور عراق کی تباہی نے بھی مصیبت زدہ مسلمانوں کو یوروپ کی جانب بھیج دیا، کیو نکہ یوروپی ممالک کے آئین میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ دینے کے قوانین زیادہ گنجائش والے اور لچکدار ہیں۔ مختلف تہذبوں ،روایات اور جغرافیائی حالات سے آئے ہوئے مسلمانوں کا یوروپ میں اپنے اپنے تصورات اور عقائد کے آئینے میں تشخص کی تلاش کا سفر جاری ہے۔ دوسر ی طرف ان کا یہاں کی تہذیب اورمذہب سے ٹکرائو بھی ہو رہا ہے ۔ ایک باہوش اور حالات کو سمجھنے و الے فرد کے لیے چاہے وہ پیدائشی یہاں کا باشندہ ہے یا آکر بسا ہوا ہے اس کویوروپین حکام کی پریشانی کا خوب اندازہ ہو رہا ہے۔ اس لیے وہ policy   Integration  بنانے والوں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *