اور ہو سکتے ہیں بھوپال جیسے حادثے

پربھات رنجن دین

پورا ملک، پورا میڈیا اور پوری سیاست بھوپال مسئلہ پر بلیم گیم میں مصروف ہے۔مسئلہ سانحہ اور تباہی نہیںبلکہ مسئلہ صرف اینڈرسن اور ارجن سنگھ کاہے ۔سانحہ کے 25سال گزر جانے کے بعد آج بھی بھوپال کی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ اس وقت زہریلی گیس سے متاثر ہوئے لوگ آج تک مر رہے ہیں،آج تک بیمار ہو رہے ہیں۔ آج بھی لوگوں کی صحت خراب ہو رہی ہے۔ گزشتہ 25سالوں میں کتنی حکومتیں بدلیں اور میڈیا نے کتنا پانی بدلا، کتنی ترقی ہوئی، مگر آج تک سیاستداں اور میڈیا اپنی ترجیحات طے نہیں کر پائے۔ڈھائی دہائی کی مدت میں جو حکومتیں آئیں اور گئیں، ان میں کئی بار بایاں بازو بھی حکومت میں حصہ دار رہا۔، مگر بڑی بڑی باتیں بنانے والے کمیونسٹ لیڈران اس وقت اینڈرسن کے مسئلہ پر کچھ نہیں بول پائے اور نہ ہی حادثہ کی لمبے وقت تک کھنچ رہی ٹریجڈی کی طرف مرکز کی توجہ مبذول کرائی۔ ایک شخص پر پورا مسئلہ مرکوز کر دیا گیا ہے۔ بھوپال جیسے حادثے کوروکنے کے لیے کسی نے توجہ نہیں دی۔ نہ ہی اقتدار کے علمبرداروں نے اور نہ میڈیا نے۔25سال میں کسی نے بھی زمین سے جڑا مسئلہ نہیں اٹھایا۔بھوپال تو ہو گیا، مگر ایٹمی توانائی کے نام پر ملک میں جو 45مقامات پر ٹائم بم نصب کئے جا رہے ہیں، ان کی حفاظت کے کیا انتظامات کئے جا رہے ہیں یا کسی حادثہ یا سازش سے ان میں دھماکہ ہونے پر لوگوں کو بچانے کے کیا انتظامات کئے جار ہے ہیں؟ایٹمی معاہدہ کے نام پر امریکہ کے تمام پرانے ری ایکٹر ہندوستان میں لا کر لگائے جا رہے ہیں۔نیو کلیئر لائبلٹی بل لانے کی عجلت کرنے والی منموہن سنگھ کی حکومت کو امریکہ کے پینسل وانیا میں تھری مائل آئیلینڈ حادثہ (28مارچ 1979)اور روس کا چیرنوبل حادثہ (26اپریل 1986)کیا یاد نہیں؟ ہندوستان میں نئے سرے سے قائم ہو رہے ایٹمی توانائی اداروں میں انسانی چوک، نکسل پرستی، برادری یا مذہبی دشمنی یا دہشت گردی کا دھماکہ خیز اثر نظر آیاتو اس سے نکلنے کے کیا طریقے وضع کیے جا رہے ہیں، اس پر سوچنے کی کسی کو بھی فرصت نہیں ہے۔ ہندوستان کے ایٹمی توانائی اداروں میں امریکہ کے پرانے اور زنگ آلود آلات لگائے جا رہے ہیں، ایسے میں خطرے کا اندیشہ لاحق ہے اور حادثہ ہوتا ہے تو اس میں کروڑوں لوگوں کی ہلاکت ہوگی۔ بھوپال سانحہ کے 25سال بعد تک ہم اس سے سبق نہیں لے پائے اور دھماکے کے دہانے پر ملک کو پھر سے کھڑا کرنے جا رہے ہیں۔ ایٹمی توانائی اداروں میں حادثہ ہونے کے بعد ہونے والی افرا تفری،  بد نظمی، بھگدڑ اجتماعی ہلاکتوں کی کیسی شکل اختیار کرے گی اس کا تصور آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔ ملک میں غیر فوجی ایٹمی توانائی اداروں کے قیام کا فیصلہ لے کر حکومت ہند نے  پڑوس کے دشمن ممالک کو آسان ٹارگیٹ دے دیا ہے، مگر اس سے حفاطت کے کیا طریقے ہوں گے ،اس پر مرکزی حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔سیاست ہو یا میڈیا، عوام کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا۔ اصل مسئلہ سے باہر کے گھیرے میں پوری بحث گھوم رہی ہے، فیشن کی طرح جسے کچھ دنوں میں ختم ہو جانا ہے۔
ملک میں تباہی کی سازش رچی جا رہی ہے۔ ایک جانب ملک کے سیاستدانوں کو ملک کی حفاظت سے مطلب نہیں تو دوسری جانب پاکستان کے ایٹمی و معدنیاتی اداروں پر القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے مضبوط ہوتے ہوئے شکنجہ کے بارے میں خفیہ ایجنسیاں بار بار الرٹ کر رہی ہیں، جو خاص طور پر ہندوستان کے ایٹمی اداروں کے لئے خطرہ کی گھنٹی ہیں۔ انہیں حالات میں سال 2009کے آخری دو ماہ میں ملک کے تین ایٹمی اداروں میں تین ایسے حادثے ہوئے جس نے ہمیں حیران بھی کیا اور ملک کے ایٹمی حفاظتی بندوبست کی اصلیت بھی اجاگر ہوئی۔ 24نومبر 2009کو کرناٹک کے کیگا ایٹمی پلانٹ میں خطرناک ٹریٹیم کا رسائو ہوا۔ 7دسمبر 2009کو مہاراشٹر کے تارا پور ایٹمی ادارے سے انتہائی حساس آلات کی ہو رہی اسمگلنگ پکڑ ی گئی اور 29دسمبر 2009کو مہاراشٹر کے ہی مشہور بھابھا ایٹمی ریسرچ ادارے میں آگ زنی کی واردات ہوئی ، لیکن آگ آج تک پر اسرار بنی ہوئی ہے۔ جس میں ملک کے دو ایٹمی سائنسداں امنگ سنگھ اور پارتھ باگھ خاکستر ہو گئے۔خفیہ ایجنسیوں کا بھی کہنا ہے کہ کیگا ایٹمی کارخانہ سے خطرناک ٹریٹیم (ہائیڈروجن-3)کے لیک ہونے کی واردات ایک بڑے حادثہ کو انجام دینے کے ارادے سے کی گئی تھی۔ ہندوستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے صدر انل کاکوڈکر نے بھی یہ بات تسلیم کی تھی۔ کیگا ایٹمی مرکز کے ڈائریکٹر جے پی گپتا نے اس حادثہ کوواضح طور پر سازش قرار دیا تھا۔ نیو کلیئر پاور کارپوریشن سے الگ سے تفتیش شروع کی گئی اور مرکزی وزارت برائے ایٹمی توانائی کو اعلیٰ سطحی تفتیش کا اعلان کرنا پڑا، مگر اس کے بعد چاروں جانب خاموشی چھا گئی۔ ایٹمی کارخانے میں رسائو کرانے کی سازش کے پیچھے کون لوگ تھے اور اگر بڑا حادثہ ہو جاتا تو مرکز ی حکومت کے پاس اس کے بچائو کے کیا طریقے ہیں؟ بھوپال سانحہ کو سامنے رکھ کر اسے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے ۔کیگا سازش پورے ملک کو ایک واضح اشارہ دینے والا معاملہ ہے، مگر اس پر نہ حکومت کی توجہ ہے اور نہ ہی میڈیا کی۔کیگا حادثہ کے بعد 7دسمبر 2009کو مہاراشٹر کے تارا پور ایٹمی پاور سینٹر سے ایک ساتھ کئی لوگوں کو حساس ایٹمی آلات کی اسمگلنگ کرتے ہوئے پکڑا گیا۔ انٹیلی جنس بیورو کے افسران کا کہنا ہے کہ یہ اسمگلنگ بڑے حادثہ کا سبب بن سکتی تھی۔
29دسمبر 2009کو مہاراشٹر کے بھابھا اٹامک ریسرچ سینٹر میں لگی پر اسرار آگ میں دو سائنسدانوں کے مارے جانے کے حادثہ کو درکنار نہیں کرنا چاہئے۔مگر ان تمام حادثات پر خاموشی کا پردہ ڈال دیا گیا ۔ یہ تب ہو رہا ہے جب ہندوستان کی خفیہ ایجنسیاں ملک کے نیو کلیئر اداروں پر دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں اندیشہ ظاہر کر رہی ہوں اور مرکزی حکومت کو آگاہ کر چکی ہوں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک کی تصویر بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ایٹمی حادثات کے ہونے پر لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ مارے جائیں گے۔ لاکھوں لوگ شدید طور سے زخمی ہوں گے۔ ریڈیشن سے ہونے والے بخار، بھوک ، دھماکوں اور آگ زنی سے مرنے والوں کی تعداد الگ ہوگی۔ فوج کے ماہر ڈاکٹر کرنل ایم ایل پنہانی اور کرنل ڈاکٹر تیجندر ایس بھٹی کا ایسے حادثے میں شدید گرمی سے ہونے والے زخموں سے نمٹنے کی تیاریوں پر زیادہ زور ہے۔ان کا ماننا ہے کہ ایسے ایک ہزار زخمیوں کے پانچ دنوں تک ابتدائی علاج کے لئے 2850کلو گرام مرہم پٹی اور 21ہزار کلو گرام انفیوزن فلوئڈ کی ضرور پڑے گی۔10زخمیوں کو پہلے آٹھ گھنٹے کے دوران ہی 60لیٹر فلوئڈ کی ضرور ت پڑے گی۔ اس طرح 10زخمیوں کو صرف آٹھ گھنٹے کے لئے تین سو لیٹر آکسیجن (150)سلینڈر درکار ہوں گے۔قابل ذکر ہے کہ امریکہ کا پینسل وانیا میں واقع تھری مائل آئی لینڈ ایٹمی ادارہ شہری علاقے سے دور تھا،مگر ہندوستان میں قائم کوئی بھی ایٹمی ادارہ غیر آباد علاقہ میں نہیں ہے بلکہ آبادعلاقوں سے منسلک ہے۔
بھوپال سانحہ کے بعد اس ڈھائی دہائی میں اقتدار اور سیاست کی ترجیحات صاف صاف اجاگر ہوئیں۔ اسی درمیان ہندوستان کا امریکہ کے ساتھ ایٹمی معاہدہ بھی ہوا۔اب وہ بھی دھماکہ کرنے کے لئے تیار ہو رہا ہے۔ جو عذاب ہندوستان کے عوام کو جھیلنا ہوگا، جیسے بھوپال والوں کو سہنا پڑا تھا۔امریکہ سے ایٹمی معاہدے کے بعد اب ایٹمی توانائی کارخانوں کی سپلائی کے لئے امریکہ اور دیگر غیر ملکی کمپنیاں منھ کھولے کھڑی ہیں۔ اب امریکہ کی فکر ان سپلائر کمپنیوں کے مفادات کا دفاع کرنے کی ہے۔سول لائبلٹی فار نیو کلیئر ڈیمیج بل کی دفعات کے مطابق نیوکلیائی توانائی کارخانوں میں ہونے والے کسی بھی حادثے کے لئے ان کمپنیوں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکے گا ،جن کمپنیوں نے آلات سپلائی کئے تھے۔ سپلائی کیے گئے خراب آلات یا تکنیک کے سبب ہی حادثہ کیوں نہ پیش آیا ہو۔سپلائی کنندہ کمپنیاں اس کے لئے جواب دہ نہیں ہوںگی۔نیوکلیائی توانائی پلانٹ میں کوئی حادثہ ہونے پر غیر ملکی سپلائر کمپنیوں کو قانونی طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکے گا اور نہ ہی ان پر حادثے کی سنگینی کے مطابق کوئی مالی جرمانہ عائد کیا جاسکے گا۔ہلاک بھی ہوںگے ہندوستان کے عوام اور جواب دہی بھی ہندوستان کے نیوکلیائی توانائی ادارے یا  دیگر متعلقہ ادارہ جات کی ہی ہوگی۔مجوزہ ’سول لائیبلٹی فار نیوکلیئر ڈیمیج بل ‘میں ایک شق یہ بھی ہے کہ غیر ملکی سپلائر کمپنیوں پر صرف 450ملین ڈالر کاتاوان عائد ہوگا، حادثہ خواہ کتنا بھی بھیانک ہو۔ حادثہ اور اس سے ہونے والے نقصانات کے لئے سپلائر کے بجائے انڈین آپریٹر قصوروار ٹھہرائے جائیں گے۔
غیر ملکی کمپنیوں کے لئے یہ جواب دہی خود حکومت ہند طے کررہی ہے، جب کہ ہندوستان ہی وہ ملک ہے، جو سال 1984میں دنیا کے سب سے بھیانک صنعتی حادثہ سے دوچار ہوا تھا۔ بھوپال کی یونین کاربائیڈ فیکٹری میں گیس لیک ہونے کی وجہ سے مردوخواتین اور بچوں سمیت ہزاروں لوگوں کی دردناک موت ہوگئی تھی۔ اس حادثے کے متاثرین اور مہلوکین کے ورثا کو غیر ملکی کمپنی نے مناسب معاوضہ نہیں دیا۔ اس معاملے میں محض 470ملین ڈالر کے ہرجانے کی قلیل رقم منظور کرلینے کی وجہ سے حکومت ہند پر دنیا بھر میں جم کر تنقید ہورہی ہے، اس کا بھی مرکز پر بالکل اثر نہیں ہورہا ہے اور پھرسے ہندوستانیوں کے حفاظتی پہلوؤں کو نظرانداز کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ حکومت ہند نے 10بلین امریکی ڈالرکے خرچ پر امریکی کمپنی زینرک الیکٹریکل کمپنی(جی ای این)اور جاپان کی توشیبا کارپوریشن کی ایک کمپنی ویسٹنگ ہاؤس الیکٹرک کو ہندوستان میں دو نیوکلیئر کارخانے قائم کرنے کا ٹھیکہ دینے کا فیصلہ بھی کرلیا ہے۔
امریکہ کے پنسلوانیا میں واقع تھری مائیل آئی لینڈ نیو کلیئر پلانٹ میں 1979میں بھیانک حادثہ ہوا تھا۔ جائے حادثہ کو درست کرنے اور صفائی ستھرائی میں 14سال کا طویل عرصہ لگ گیا اور اس پر امریکہ کو ایک بلین ڈالر سے زائد خرچ کرنا پڑا ۔ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک کو جس کے پاس سارے وسائل موجود ہیں،14سال کا وقت لگا۔ ہندوستان میں، جس کے پاس محدودوسائل ہیں ، کیا صورت حال ہوگی اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔امریکہ کی چاق وچوبند انتظامیہ کے باوجود نیوکلیائی توانائی فیکٹری میں پیش آئے حادثے کا موازنہ مالی جواب دہی کے نظریے سے ساڑھے دس بلین ڈالر ہوتا ہے، جس میں ہر پانچ سال پر اضافہ ہوتارہتا ہے،لیکن ہندوستان کی حکومت کے پاس ایسا کوئی انتظام نہیں ہے اور نہ ہی وہ مجوزہ سول لائبلٹی فار نیوکلیئر ڈیمیج بل میں امریکہ کے تھری مائیل آئی لینڈ حادثے پر 1979میں امریکی صدارتی کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ ہی دے رہی ہے،جس میں امریکہ کے صدر جمی کارٹر نے نیوکلیائی کارخانوں کی تعمیر پر بندش لگا دی تھی۔ اس حکم سے امریکہ کی قریب ڈیڑھ سو نیوکلیئر فیکٹریوں کا کام رک گیا تھا۔ اب حکومت ہند کو بھوپال گیس حادثہ کا شکار ہونے والے شہریوں کی موجودہ صورت حال ، موجودہ سہولتیں اور جواب دہی طے کرنے کے لئے خود ہی قرطاس ابیض کے ساتھ ملک کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔ مرکزی حکومت کو یورینیم، تھوریم جیسے ریڈیو دھرمی معدنیات کی کانوں کی کانوںکوئی خیال نہیں ۔ جھارکھنڈ کے جادوگوڑایورینیم کان کے وسیع علاقے میں لوگ بھاری تعداد میں مہلک امراض کے شکار ہورہے ہیں اور ان کے ہاتھ پاؤںو جسم کے دوسرے اعضاء  خراب ہو رہے ہیں۔ اس پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔ یہ ہندوستانی شہری گنی پگ کی طرح بھیانک موت کا شکار ہونے کے لیے بنے ہیں۔ پارلیمنٹ میں پاس ہونے والے مجوزہ بل بھوپال سانحے سے سبق لے کر محتاط ہوئی امریکی کمپنیوں کی شاطر پہل کا نمونہ ہے، لیکن حکومت ہند بھوپال جیسے حادثوں سے کوئی سبق نہیں لیتی۔ واضح ہو کہ یونین کاربائڈ اور ڈاؤ کیمیکلز کمپنی کی طرف سے بھی یہ مانگ آتی رہی ہے کہ حادثوں کے لیے سپلائر کمپنیوں کے بجائے آپریٹر ایجنسی پر اقتصادی فرائض طے کیے جائیں۔ …اور بالآخر حکومت ہند نے بل میں ایسا ہی کرڈالا، یہاں تک کہ شہری ایٹمی توانائی کے فروغ کے حالات کا جائزہ لینے والے فیڈریشن آف انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (فکی) کے25ارکان والی جماعت نے بھی اپنی 57صفحات کی رپورٹ میں مرکزی حکومت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ ایٹمی حادثات کے شکار شہریوں کو فوری سہولت اور امداد کے لیے الگ سے قانون بنے اور ایسے حادثات سے متاثرلوگوں کا معاوضہ طے کرنے کے لیے ٹریبونل تشکیل دینے کا سخت قانونی انتظام مجوزہ بل میں کیا جائے۔ قانون میں غیر ملکی کمپنیوں اور ملکی آپریٹروں کا فرق نہیں ہو۔ کارخانوں میں خراب آلات اور بے جا تکنیک کی سپلائی کرنے کے باوجود محفوظ نکلنے کا امکان تلاش کر رہی غیر ملکی کمپنیوں کو اس کا موقع نہ ملے۔ فکی نے بھی اس کا خاص خیال رکھا اور مرکزی حکومت کو ا س حوالے سے آگاہ بھی کیا، لیکن مرکزی حکومت نے فکی کا مشورہ نہیں مانا۔ رپورٹ تیار کرنے والی جماعت کے سربراہ خود نیوکلیئر پاور کارپوریشن کے سی ایم ڈی ایس کے جین ہیں۔
بھوپال حادثہ میں یونین کاربائڈ پر 2152کروڑ روپے (470ملین ڈالر) کا جرمانہ طے ہوا۔ اسے سپریم کورٹ نے بھی قبول کیا اور مرکزی حکومت نے بھی، لیکن بھوپال گواہ ہے اس بات کا کہ جرمانہ کی رقم اور نقصان کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھوپال حادثہ کے شکار لوگ آج بھی معاوضے کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں۔ متعینہ رقم سے متاثر لوگوں کو کوڑیاں بھی نہیں مل پائیں۔ بھوپال حادثہ کو سامنے رکھتے ہوئے جب آپ مجوزہ سول لائبلیٹی فار نیوکلیئر ڈیمیج بل کو دیکھیں تو آپ کو اس کے پیچھے شاطر چہرے صاف نظر آئیںگے۔ اب یونین کاربائڈ جیسی کمپنیاں خراب مال اور بے جاآلات کی سپلائی کر کے بھی موج کریںگی، منافع کمائیںگی اور حادثہ ہونے پر نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا کو قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ کیا سین آنے والا ہے۔ اس کا آپ تصور کریں۔ کیسے اور کس ذہنیت کے ساتھ نیوکلیئر پاور کارپوریشن کو کام کرنا ہے، اس کے بارے میں آپ سوچیں۔ بھوپال حادثہ اس بات کے لیے ہمیں محتاط کرتا ہے کہ ایٹمی آپریٹروں اور سپلائروں پر مستقبل کے بڑے حادثوں کے پیش نظر وسیع فرائض طے ہوں اور اسے سنگین جرم و سخت سزا کے قانونی گھیرے میں لایا جائے۔ مرکزی حکومت نے امریکہ اور جاپان کی جن کمپنیوں کو 10ہزار میگاواٹ کے دو ایٹمی کارخانے قائم کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے، اس کے لیے الیکٹریسٹی ایکٹ کی معینہ شقوں کے مطابق کوئی ٹینڈر شائع نہیں کیا گیا۔ یہ حکومتوں نے آپس میں مل بیٹھ کر ہی طے کرلیا۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس کے پیچھے کیا کھیل ہوئے ہوںگے۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایٹمی کار و بار میں لگی امریکی کمپنیوں نے امریکی صدر کو انتخابی فنڈ میں بڑی رقم صرف اس لیے دی تھی کہ وہ ہندوستان کے ساتھ ایٹمی معاہدہ کر کے ان کمپنیوں کے لیے ہندوستان میں دھندے کا راستہ کھولیں۔ بہرحال ایٹمی توانائی اداروں میں ہونے والے جان مال کے نقصان اور ماحولیات کو ہونے والے نقصان دونوں الگ الگ ہیں۔ انہیں ایک ساتھ رکھ کر اس کے اقتصادی نقصان کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ حادثہ سے متعلق کسی بھی ملک کے قانون کا بنیادی اصول یہی ہے کہ جان و مال کا نقصان ہونے پر جس کی وجہ سے نقصان ہوا ہے، وہ پورا معاوضہ ادا کرنے کے لیے پابند ہوگا۔ ماحولیات کو آلودہ کرنے اور اسے نقصان پہنچانے کی سزا عالمی اصولوں کی بنیاد پر طے ہوتی ہے۔ اس پر سپریم کورٹ کا بھی واضح فیصلہ ہے۔ ایسے میں سول لائبلیٹی فار نیوکلیئر ڈیمیج بل لا کر نقصان کرنے والے کو قانونی تحفظ دینے کا سرکاری پروپیگنڈہ نہ صرف سپریم کورٹ کی خلاف ورزی ہے، بلکہ یہ آئین کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ملک کی موجودہ قانونی صورت حال کے مطابق کسی بھی صنعتی حادثہ کی ذمہ داری پلانٹ کے مالک کی ہوتی ہے اور پورا جرمانہ ادا کرنا اس کا قانونی فرض۔ اس سے آگے اسے ہی ماحولیات کے نقصان کاہرجانہ بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *