امریکی جنگ اب پاکستان میں

محمود ایاز
زیاده دور نہیں گزشتہ 10سال کی تاریخ کا مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کا غیر مشروط تعاون، لاجسٹک سپورٹ اور انٹیلی جنس معلومات شامل حال نہ ہوتی تو امریکہ کو ہر گز یہ جرأت نہ ہوتی کہ وہ افغانستان میں اپنی افواج داخل کر سکے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا کردار اور تعاون نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ امریکی دوستی کے بدلے میں پاکستان کو کیا ملا؟ 11/9 کے بعد پاک امریکہ کے تعلقات شخصی مفاد پر مبنی رہے۔ امریکہ کی ایک غاصب اور ڈکٹیٹرکی حمایت اور پاکستان کے عوام کو 9سال تک جمہوریت کے ثمرسے محروم رکھنا امریکی دوغلی پالیسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
19 مارچ 2009 کو امریکی تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ دنیا بھر کے مشہور اخبارات میں شائع ہوئی۔ رپورٹ میں تھنک ٹینک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عسکریت پسند کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے، جو کہ عالمی امن کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ اب پاکستان میں منتقل ہو چکی ہے، لہٰذا امریکہ کو پاکستان کے حوالے سے اپنا رویہ سخت کرنا ہوگا۔ 18 مارچ 2009 کو نیو یارک ٹائمز نے انکشاف کیا کہ امریکہ ڈرونز حملوں کا دائرہ کار کوئٹہ تک پھیلانے پر غور کر رہا ہے۔ امریکہ کوئٹہ کے آس پاس طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنائے گا۔ انہی دنوں صدر براک اوباما کو دو رپورٹس امریکی انتظامیہ کی طرف سے بھیجی گئیں۔ امریکی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں طالبان کا اثرورسوخ بڑھ رہا ہے لہٰذا پاکستان میں ڈرونز حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی آپریشنز بھی کیے جائیں اور امریکہ ڈرونز حملوں کا دائرہ کار وسیع کرے اور اسے بلوچستان تک پھیلا دے، جہاں طالبان کی اعلیٰ قیادت محفوظ پناگاہوں میں روپوش ہے اور وہاں بیٹھ کر افغانستان میں اتحادی افواج کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ 19 مارچ 2009کوامریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہاکہ امریکہ طالبان کو کچلنے کے لیے کوئٹہ سمیت پاکستان بھر میں آپریشن تیز کرے گا۔ طالبان قبائلی علاقوں سے بلوچستان کے طرف ہجرت کر چکے ہیں۔ امریکہ ان کا ہر جگہ تعاقب کرے گا اور ان کے خلاف آپریشن کیے جائیں گے۔ 19 مارچ 2009 کو ہی امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے برطانوی وزیر دفاع جان بٹن سے ملاقات کی اورملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ کے لیے آئندہ تین سے پانچ برس پاکستان اور افغانستان ہی فوجی کارروائی کے اہداف ہونے چاہئیں۔
تھنک ٹینک کی رپورٹس، نیویارک ٹائمز کے دعوے، جان بٹن اور رابرٹ گیٹس کے بیانات سے امریکی عزائم کا اندازہ اسی وقت لگایا جا سکتا تھا، مگر ہمارے حکمرانوں کی آنکھوں پر ڈالروں کی پٹی بندھی ہوئی ہے، لہٰذا وہ یہ دیکھنے سے قاصر رہے اور ان رپورٹس و بیانات کی تردید کرتے رہے۔ مگر آج جب موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے، جب امریکی اتحادی افواج کو عسکریت پسند افغان باشندوں اور طالبان کی سخت مزاحمت کے باعث جن کٹھن حالات کا سامنا کرنا اور جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جس سے ان کی افواج کے حوصلے پست ہوگئے ہیں اور وہ سخت مایوسی اور بددلی کا شکار ہیں اور انہی حالات کی وجہ سے امریکی جرنیل میک کرسٹل نے وزیر دفاع کو ایک رپورٹ پیش کی، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ افغانستان میں اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی خطرناک ترین صورتحال ہے اور آئندہ 6 ماہ تک کسی اچھی خبر کی توقع نہ رکھی جائے۔ امریکی سی آئی اے کی ایک رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا جا چکا ہے کہ افغانستان کے ایک چوتھائی علاقے پر طالبان کا قبضہ ہے جو کہ کرزئی حکومت کو مفلوج کر رہا ہے۔ سی آئی اے کے سربراہ نے خود اعتراف کیا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ 9 سال سے جاری جنگ ہمارے لیے انتہائی کٹھن ثابت ہوئی ہے۔
یوں محسوس ہورہا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی افواج کا انخلا افغانستان سے مقرر کیے گئے شیڈول سے پہلے ہی شروع کر دیںگے، مگر یہاں چند اہم سوالات یہ پیدا ہوتے ہیں کہ کیا امریکہ افغانستان سے نکل کر پاکستان میں آ بیٹھنا چاہتا ہے؟ کیا امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان میں بلاواسطہ یا بالواسطہ کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟ کیا امریکہ دہشت گردی کی اس جنگ میں پاکستان کو پھنسا کر خود نکلنا چاہتا ہے؟ بظاہر یوں نظرآ رہا ہے کہ امریکہ یہ تینوں حربے استعمال کرنا چاہتا ہے، کیونکہ امریکی سی آئی اے چیف لیون پنٹا نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ القاعدہ کے رہنمااسامہ بن لادن پاکستان کے انتہائی دشوار گزارپہاڑی علاقوں میں موجود ہیں۔ ڈرون حملے پاکستان نہیں، امریکہ کے دفاع کے لیے کیے جارہے ہیں تاکہ القاعدہ پھر کبھی یہاں حملہ نہ کر سکے ۔ دوسری طرف امریکہ کا یہ کہنا کہ بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے ٹریننگ کیمپس ہیں، جو لوگوں پر اپنا قانون اور ضابطہ ٹھونس رہے ہیں اور معصوم خواتین پر ظلم و تشدد کر رہے ہیں ، لہٰذا امریکہ ان ٹریننگ کیمپس کو ختم کرنا چاہتا ہے۔
مارچ 2009 کی رپورٹس اور بیانات اور موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ بہت جلد امریکی جنگ پاکستان کا رخ کرنے والی ہے اورکسی حد تک ڈرونز حملوں اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کی صورت میں جاری بھی ہے۔ امریکی انتظامیہ بہت جلد پاکستان میں طالبان کے خلاف بہت بڑا آپریشن شروع کرنا چاہتی ہے اور ان آپریشنز میں امریکہ کا ٹارگیٹ قبائلی علاقوں کے علاوہ کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگرعلاقے بھی ہوںگے۔
امریکی سی آئی اے چیف کا یہ کہنا کہ ڈرون حملے پاکستان نہیں، امریکہ کے دفاع کے لیے کیے جارے ہیں، ہماری حکومت کے منہ پر طمانچہ ہے، جبکہ ان حملوں سے اور ان کے رد عمل میں ہونے والے خودکش حملوں سے ہونے والا جانی اور مالی نقصان ہمارا ہو رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال ہماری بگڑ رہی ہے۔ اقتصادی بدحالی کا ہمیں ہی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سی آئی اے چیف کے ان بیانات سے امریکہ کی دوغلی پالیسی بے نقاب ہو گئی ہے۔ اگر امریکہ کو اس خطے میں اپنا مفاد عزیز ہے اور وہ یہاں ہمارے تحفظ کے لیے نہیں اپنے تحفظ کے لیے ڈرون حملے کررہا ہے اور ہمارے علاقوں میں ہمارے ہی شہریوں پر کر رہا ہے تو پھر ہمیں اپنے خلاف اس جنگ میں مزید نقصان اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟ امریکہ اپنے مفادات کی اس جنگ میں ہمیں جھونکے رکھنا چاہتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *