اڈوانی کی بدقسمتی ہے کہ وہ سورج بن کر چمک نہیں سکتے

اڈوانی ایک معزز شخص ہیں معزز ہونے کا مطلب یہ قطعی نہیں ہے کہ دبو قسم کے آدمی ہیں ۔ کئی بار انہوں نے سخت فیصلے بھی کئے ہیں ،نہ صرف دوسروں کے بارے میں بلکہ اپنے بارے میں بھی۔ ایسا ہی ایک سخت فیصلہ تھا 1973میں پہلی بار جن سنگھ کا قومی صدر بننے کے بعد پروفیسر بلراج مدھوک کو پارٹی سے برخاست کرنے کا۔ ان دنوں مدھوک کا شمار جن سنگھ کے سرکردہ لیڈروں میں ہوتا تھا اور وہ خود کو اٹل بہاری کے برابر مانتے تھے۔
حیدرآباد سندھ(جو اب پاکستان میں ہے)میں پیداہونے والے لال کرشن اڈوانی کی عوامی زندگی راشٹریہ سویم سیوک کے راستے شروع ہوئی۔ کراچی کے سینٹ پیٹرک اسکول سے میٹریکولیشن پاس کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لئے حیدر آباد، سندھ کے ڈی جی نیشنل کالج میں چلے گئے۔ وہیں اڈوانی کے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے تعلقات قائم ہوئے، جس کا کام ابھی وہا ںشروع ہی ہوا تھا۔ اڈوانی اس میں ایسے رچ بس گئے کہ کراچی میں انجینئرنگ کی پڑھائی میں عوامی کام کے لئے انہیں وقت کم ملتا۔1947 میں جب ہندوستان تقسیم ہواتھا ، تب تک وہ کراچی نگر آر ایس ایس کے سکریٹری بن چکے تھے۔
تقسیم کے بعد اڈوانی کا خاندان ہندوستان آکر کانڈلا(گجرات) میں بس گیا اور وہ راشٹریہ سویم سیوک کے باضابطہ رکن بن گئے۔ 1947سے 1951تک سنگھ کے پرچارک کے طور پر انہوں نے راجستھان کے الور، کوٹا، بھرت پور، بوندی اور جھالاواڑ وغیرہ علاقوں میں کام کیا ۔1952میں جب بھارتیہ جن سنگھ کا قیام عمل میں آیا تھا، تو اڈوانی اس میں شامل ہوگئے ۔ وہ راجستھان میں جن سنگھ کیمنتری بنائے گئے اور انہیں راجستھان اسمبلی میں لیجسلیچر پارٹی جن سنگھ  کے دفتر کو سنبھالنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ جن سنگھ کے ابتدائی دنوں میں یہ عہدہ خاصا اہمیت کا حامل تھا۔ پارٹی کا اس وقت آغاز ہی ہوا تھا اور اس کے بیشتر اراکین اسمبلی بھی پارلیمانی طور طریقوں سے لا علم تھے۔ چونکہ اراکین اسمبلی کو اچھا خاصا وقت اپنے علاقوں میں گزارنا پڑتا تھا، اس لئے اسمبلی کے لئے ان کو تیار کرنے کا کام بھی اڈوانی کو ہی کرنا پڑتا تھا۔ لہٰذا خود ایم ایل اے نہ ہوتے ہوئے بھی انہیں اسی وقت سے پارلیمانی کارروائی کی باریکیوں سے واقفیت حاصل کرنی پڑی ۔ آج لوگ راجیہ سبھا میں جس اڈوانی کو بغور سنتے ہیں، اس کی بنیاد تین دہائی قبل ہی پڑ گئی تھی۔
اڈوانی کی اس صلاحیت سے متاثر ہوکر ہی جن سنگھ کی قیادت نے 1958میں انہیں دہلی لاکر اپنے پارلیمانی دفتر کی ذمہ داری سونپی۔ اس مرتبہ جن سنگھ کے کئی لیڈر پہلی بار لوک سبھا میں منتخب ہوکر آئے تھے۔ اس میں اڈوانی کے ہی ہم عمر اٹل بہاری واجپئی بھی تھے ۔ اس وقت پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت اور حزب اختلاف کی پارٹیوں میں تجربہ کار ممبران کی کمی نہیں تھی۔ ایسی صورت میںجن سنگھ کی موجودگی کا احساس کرانے کے لئے ضروری تھا کہ اس کے ممبران اچھی طرح تیاری کرکے بولیں۔ اڈوانی کے ذمہ اپنی جماعت کے اراکین کو تیاری کرانے کا کام تھا اور اس میں انہیں کامیابی بھی ملی۔ واجپئی نے پہلی بار ہی لوک سبھا میں جس صلاحیت کا مظاہرہ کیا اس کے پیچھے اڈوانی کا تعاون شامل تھا۔اس دوران انہوں نے دہلی جن سنگھ کیمنتری کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔اس دوران اڈوانی نے تاحیات کارکن کی زندگی ترک کر کے خاندانی زندگی میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔ پیشے کے طور پر انہوں نے جرنلزم کو اختیار کیا اور انگریزی ہفت روزہ اخبار’ آرگنائزر‘ کے ایڈیٹر بنے۔ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ انہوں نے 1965میں کیا، جب انہوں نے ڈاکٹر ہومی بھا بھا سے سوال پوچھ کر یہ جواب نکلوالیا کہ اگر حکومت ہند ایٹم بم بنانے کا فیصلہ کرے تو وہ دوسال میں پندرہ لاکھ روپے فی بم کی لاگت سے تیار ہوسکتا ہے۔آرگنائزر میں ان کے دو کالم ’دہلی ڈائری‘ اور’ پریسکوپ‘ بہت مشہور ہوئے ۔ اب بھی لال کرشن اڈوانی ان چنندہ سیاست دانوں میںسے ایک ہیں جن سے ملک کے مشہور ومعروف اخبارات اور جرائدمضامین لکھنے کی درخواست کرتے ہیں اور اڈوانی اپنی تمام ترسیاسی مصروفیات کے باوجود ان کے لئے بھی وقت نکال ہی لیتے ہیں۔
1965سے 1967تک اڈوانی دہلی جن سنگھ کے نائب صدر رہے۔ 1966-67 میں وہ دہلی انٹرنل سٹی پریشد میں جن سنگھ پارٹی کے لیڈر تھے۔ 1967میں جب دلی مہانگرپریشد کے الیکشن میں جن سنگھ کو اکثریت حاصل ہوئی، تو وہ مہانگر پریشد کے صدر منتخب ہوئے۔ ایوان کے پریزائڈنگ افسر کے طور پر ان کی غیر جانبداری کی تعریف اب بھی ہوتی ہے۔ اس عہدے پروہ مارچ1970تک رہے۔ 1970سے 1972تک وہ ریاست دہلی کے جن سنگھ کے صدر رہے۔ 1970میں وہ راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ مسلسل 18برس تک راجیہ سبھا میں رہنے کے بعد اس برس انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ راجیہ سبھا کا انتخاب نہیں لڑیںگے لیکن پارٹی کے دباؤ کے سامنے انہیں جھکنا پڑا۔
قومی سطح پر اڈوانی کا نام پہلی مرتبہ 1973میں موضوع بحث بنا، جب وہ جن سنگھ کے قومی صدر منتخب کیے گئے۔ اس برس جن سنگھ کا کانپور میںمنعقد قومی کنونشن کافی ہنگامہ خیز رہا تھا۔ پروفیسر بلراج مدھوک بھی عہدۂ صدارت کے دعویدار تھے۔ صدر نہیں بن پانے پر انہوں نے جن سنگھ کے لیڈروں پر طرح طرح کے الزامات عائد کیے، لیکن انہیں شکایت اڈوانی سے نہیں تھی۔ اڈوانی کے وقار کی اس سے بہتر شناخت اور کیا ہوسکتی ہے۔
اڈوانی کو آپ دانشور لیڈر کہہ سکتے ہیں۔ 1974میں انہوں نے اپنی قانونی ذہنیت کا ثبوت دے کر سپریم کورٹ کے ججوں کو حیران کر دیا تھا۔ اس سے پہلے اڈوانی بمبئی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کر چکے تھے، لیکن کسی عدالت میں وکالت نہیں کی تھی۔ وکالت کا موقع 1974میں ملا۔ اس برس صدارتی الیکشن ہونا تھا۔ گجرات اسمبلی معطل ہوگئی تھی۔ سوال کھڑا ہو اکہ کیا تمام رائے دہندگان کے پورے نہیں ہونے پر بھی صدارتی انتخاب ہوسکتا ہے اور کیا یہ آئین کے مطابق ہوگا۔ صدر نے آئین کی دفعہ 143کے مطابق سپریم کورٹ کا مشورہ مانگا۔ جن سنگھ نے اس مقدمے میں مداخلت کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی جانب سے بحث کرنے گئے لال کرشن اڈوانی پہلی مرتبہ عدالت کے سامنے بطور وکیل حاضر ہوئے۔ وہاں انہیں اٹارنی جنرل نیرین ڈے، سالیسٹر جنرل لال نارائن سنہا، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایف ایس نریمن جیسے قانون دانوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اڈوانی نے 7دنوں تک عدالت کو یہ سمجھانے کے لیے بحث کی کہ حکومت ہند نے دانستہ طور پر گجرات اسمبلی کا انتخاب نہیں کرایا ہے۔ سپریم کورٹ کی جس 7رکنی بنچ کے سامنے انہوں نے بحث کی تھی، اس کے ممبر چیف جسٹس اے این رے، جسٹس ایم ایچ بیگ اور جسٹس چندر چوڑ جیسے لوگ تھے۔ جسٹس ایچ آر کھنہ تو تبھی سے اڈوانی کے مداحوں میں شامل ہوگئے۔ جسٹس کھنہ نے اپنی خود نوشت میں زندگی کے دو اہم فیصلوں کا کریڈٹ اڈوانی کو دیا ہے۔ ایک 1979میں چرن سنگھ کی قلیل مدتی کابینہ میں مقرر ہونے کے بعد اس سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ، دوسرا 1982میں صدارتی انتخاب میں گیانی ذیل سنگھ کے خلاف کھڑا ہونے کا فیصلہ۔ کسی سیاسی لیڈر کے لیے یہ کم اہم حصولیابی نہیں ہے۔
جون 1975میں ایمرجنسی لگنے پر لال کرشن اڈوانی کو بھی گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اس برس وہ تیسری مرتبہ جن سنگھ کے قومی صدر منتخب کیے گئے تھے۔ اس سال مارچ 1975میں جن سنگھ کی قومی کانفرنس دہلی میں ہوئی تھی، جس میں مہمان خصوصی لوک نائک جے پرکاش نارائن تھے۔ اڈوانی نے بنگلور جیل میں اپنے دن یوں ہی انتظار میں نہیں گزارے تھے۔ سیاسی اور آئینی موضوعات پر وہ کالم لکھتے تھے، جو باہر لا کر لٹریچر کی شکل میں تقسیم ہوتے تھے۔ ایمرجنسی کے شروعاتی دنوں میں ہی جیل میں لکھا گیا ان کامضمون جس میں آنجہانی اندرا گاندھی کی ایمرجنسی اور ہٹلر کے طورطریقوں میں برابری کا انکشاف ہوا تھا، خوب تذکرے میں رہا۔ ان دنوں اندراگاندھی کابینہ کے وزیر داخلہ یشونت رائے چوہان کو بھی کہیں سے اس کی اطلاع ملی تو ایک صحافی سے انہوں نے کہا تھا، ذرا وہ بک لیٹ لا کر مجھے بھی دو، بڑی تعریف سنی ہے اس کی۔
بنگلور جیل میں لکھی گئی اڈوانی کی ڈائری بعد میں’’ اے پریزنرس اسکریپ بک‘‘ (قیدی کا ردی کھاتا) نام سے شائع ہوئی۔ اس میں کسی کے تئیں حسد نہیں ہے، کوئی دانشور شخص ہی ایسا کر سکتا ہے۔ جیل سے اڈوانی جنوری 1977میں رہا ہوئے تھے۔ لوک سبھا انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے لوک نائک جے پرکاش کی ہدایت میں بنی جنتا پارٹی میں انہیں جنرل سکریٹری بنایا گیا تھا۔ مارچ 1977 میں مرکز میں جنتا پارٹی کی سرکار بننے کے بعد وہ وزیر برائے اطلاعات و نشریات بنائے گئے۔ جولائی 1979میں مرار جی کی حکومت گرنے تک وہ اس عہدے پر رہے۔ وہ جنتا پارٹی میں زبردست تبدیلی کا وقت تھا۔ الزام در الزام کا سلسلہ شروع ہوا۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کھیل پورے جوش سے کھیلا جارہا تھا۔ ایسے وزیر انگلیوں پر شمار کیے جانے کے لائق تھے، جن کے اوپر کسی طرح کا الزام نہ لگا ہو۔ اڈوانی بھی اسی چھوٹی سی جماعت میں تھے۔ ان کے علاوہ شاید مدھو دنڈوتے ہی ایسے تھے، جن پر کسی طرح کا الزام نہیں لگا۔
اڈوانی اچھے شخص ہیں، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دبو بھی ہیں، کئی بار انھوں نے سخت فیصلہ بھی کئے ہیں ، نہ صرف دوسروں کے بارے  میں، بلکہ اپنے بارے میں بھی کئے ہیں ۔ ایسا ہی ایک سخت فیصلہ لیا تھا 1973میں پہلی بار جن سنگھ کے قومی صدر بننے کے بعد پروفیسر بلراج مدھوک کو پارٹی سے برطرف کرنے کا۔ ان دنوں مدھوک کا شمار جن سنگھ کے اہم لیڈران میں ہوتا تھا۔ وہ خود کو اٹل بہاری کے ہم منصب سمجھتے تھے ۔ پارٹی کا صدر نہیں بن پانے کی ناراضگی میں انھوں نے دیگر لیڈران کے خلاف زبردست بیان بازی شروع کی۔ پارٹی میں قاعدے قانون قائم رکھنے کے لیے مدھوک کی برطرفی ہی واحد راستہ تھا ۔ یہ فیصلہ صدر ہونے کے ناطے اڈوانی کو ہی کرنا تھا۔اس وقت وہ پہلی بار پارٹی کے قومی اجلاس میں شامل ہوئے تھے۔عام ذہنیت ایسے حالات میں متنازعہ معاملات دور رہنے کی کوشش کرتی ہے ، مگر اڈوانی نے کوئی کمزور ی نہیں دکھائی اور مدھوک کو برطرف کر دیا تھا۔ اپنے بارے میں بھی وہ سخت فیصلہ لے سکتے ہیں، اس کا ثبوت انھوں نے جنتا حکومت کے دوران دیا۔ راجیہ سبھا میں وہ جنتا پارٹی کے لیڈر تھے۔وزیر اعظم  مرار جی دیسائی کے صاحبزادے کانتی بھائی کا معاملہ راجیہ سبھا میں اٹھا۔اپوزیشن  اس معاملہ کی تفتیش سپریم کورٹ کے کسی جج سے کرانے کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مرارجی دیسائی اس کے لئے تیار نہیں ہو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی ممبر پارلیمنٹ پہلے تحریری طور پر اس کی شکایت کرے۔ مخالف جماعتیں اس کے لئے تیار نہیں تھیں اور تفتیش نہیں کرانے پر راجیہ سبھا کی کارروائی روکنے پر آمادہ تھیں۔اڈوانی نے حکمراں جماعت کا لیڈر ہونے کے ناطے مخالف لیڈران سے بات چیت کرنے کا راستہ نکالا کہ کانتی بھائی دیسائی کے معاملہ پر راجیہ سبھا میں ہوئی بحث کی تفصیل ہی سپریم کورٹ کے جج کے پاس بھیجی جائے ۔یہ مشورہ لے کر  اڈوانی وزیر اعظم مرار جی دیسائی کے پاس گئے ،مگر مرارجی نے اسے ماننے سے انکار کر دیالہذا اڈوانی نے وزارت سے اپنا ستعفیٰ دے دیا۔ اپنی کتاب ’’ وشواس گھات‘‘ میں اڈوانی نے اس حادثہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ راجیہ سبھا کے لیڈر کے طور پر میں نے یہ پایا کہ میں جس بات کو صحیح سمجھتا ہوں، اسے ماننے کے لئے وزیر اعظم کو تیار نہیں کر پایا ہوں اور اس طرح میں میٹنگ کا کام چلانے میں ناکام ہوں۔ اس لئے میرا مستعفی ہو جانا ہی بہتر ہوگا‘‘۔پھر بھی یہ حل نکالنا غلط ہوگا کہ اڈوانی اڑیل مزاج کے ہیں۔
عام رائے  کے لئے وہ اپنے ذاتی خیالات کو پیچھے رکھ سکتے ہیں۔ جنتا حکومت کے دنوں میں لائے گئے پارٹی تبدیل کرنے کے مخالف بل کے وقت یہ دیکھنے کو ملا۔ اس بل کے جواز کی وجہ سے اٹھے تنازعہ کے سبب وزیر اعظم مرارجی دیسائی نے مخالف جماعتوں کی ایک میٹنگ بلائی ، جس میں حکومت کی جانب سے اڈوانی بھی تھے۔ زیادہ تر جماعتوں کا اصرار تھا کہ اپنی جماعت کے حکم کے خلاف ووٹ دینا بھی پارٹی تبدیل کرنے کے زمرے میں شامل کیا جائے ۔صرف سی پی آئی ایسا نہیں چاہتی تھی۔ اس کے نمائندے بھوپیش گپتاکو پانچویں لوک سبھا میں اس سلسلہ میں بنی مشترکہ کمیٹی کے دنوں سے ہی جانکاری تھی کہ اڈوانی بھی اس کے خلاف ہیں۔اس میٹنگ میںوہ بار بار اڈوانی کو اپنے خیالات ظاہر کرنے کے لئے کہنے لگے۔اڈوانی نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا اور یہ بات واضح کر دی کہ اس بل سے متفق نہیں ہونے پر بھی وہ وہی بات تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں جس پر سب کا اتفاق ہے۔
سیاست میں اچھے شخص کی حدود کو سمجھنے کے لئے بھی اڈوانی بہترین مثال ہیں۔اپنی پارٹی کی اگلی قطار میں وہ دس سال سے زیادہ وقت سے ہیں، مگر پارٹی انہیں پارلیمنٹ یا اسمبلی کے انتخابات میں کھڑا کرنے کا خطرہ نہیں اٹھا سکتی۔وہ حامیوں میں اعتماد تو قائم کر سکتے ہیں، مگر جوش نہیں۔ واجپئی کی طرح اڈوانی نے بھی پارٹی صدر کے طور پر 8برس مکمل کئے۔ حالانکہ بی جے پی کوفنڈ جمع کرنے کے لئے واجپئی کا ہی نام چلانا پڑا۔اڈوانی کی شخصیت میں اس مقناطیسی شخصیت کا فقدان ہے جو لوگوں کو خود بخود ہی کھینچ لاتی ہے۔
ایسے لوگ اندھیرے میں چراغ  بن کر امید کی کرن تو روشن کر سکتے ہیں، مگر ان سے یہ امید نہیں کی جا سکتی کہ وہ سورج بن کر دنیا کو چکا چوندھ کر دیں گے۔ لال کرشن اڈوانی جیسے لوگ سیاست کی عمارت میں ستون کے اوپر کا کلش بن کر چمک نہیں سکتے، مگر ڈھانچہ کو قائم رکھ سکتے ہیں۔ یہ وہ قیمت ہے، جو اڈوانی جیسے لوگوں کو سیاست میںچکانی ہی پڑتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *