اب چدمبرم صاحب کو جواب دینا ہی ہوگا

پربھات رنجن دین
نکسلیوں کے خلا ف فوج اتارنے پر آمادہ وزارت داخلہ نکسلی تنظیموں کو اربوں روپے کا فنڈ دینے والے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی لسٹ 2007 سے دبائے بیٹھی ہے اور اس پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نکسلیوں کو فنڈنگ کرنے والوں میں سرکاری محکمے اور تنصیبات بھی شامل ہیں۔ حکومت کے نرم رویے سے نکسلیوں کو دی جانے والی فنڈنگ مسلسل بڑھتی چلی گئی اورنکسلی تنظیموں کی اقتصادی ریڑھ توڑنے کے بجائے، مرکزی حکومت ہوا میں لاٹھی گھمانے کا تماشہ کرتی رہی ہے۔ مرکزی حکومت یا مرکزی وزیرداخلہ پی چدمبرم کی نکسلی معاملے میں نظرآنے والی سنجیدگی کیا محض دکھاوا ہے۔ یہ اہم سوال سامنے اس لیے ہے، کیوںکہ وزارت داخلہ کو 2007میں ہی خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے یہ تفصیلی معلومات مہیا کرا دی گئی تھی کہ نکسلی تنظیموں کو نکسل متاثرہ ریاستوں کے کن کن صنعتی گھرانوں، سرمایہ داروں ، تاجروں، ٹھیکیداروں، سرکاری کارخانوں، زمینداروں اور یہاں تک کہ بی ڈی او اور سی ڈی او تک کے یہاں سے مسلسل لاکھوں روپے کی فنڈنگ کی جارہی ہے۔ مسلسل ہوتی اس فنڈنگ کی وجہ سے نکسلی تنظیمیں طاقتور ہوتی چلی گئیں اور کئی ریاستوں میں ان کی حکومت قائم ہوتی چلی گئی۔ نکسلی تنظیموں کو کی جانے والی فنڈنگ کی سرکاری اطلاع پر جھارکھنڈ سمیت کئی ریاستوں کی پولس نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کی اور ان اطلاعات کو تفصیل سے تیار کر کے خفیہ ایجنسیوں نے مرکزی حکومت کے پاس تفصیلی رپورٹ اور لسٹ بھی پیش کردی، لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ لسٹ مرکزی حکومت نے دبا دی اور ہوا میں تیر چلاتی رہی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نکسلیوں کے خلاف فوج اتارنے پر آمادہ وزیرداخلہ پی چدمبرم کی وزارت میں ہی وہ لسٹ 2007سے دبی پڑی ہے۔ المیہ دیکھئے کہ خود مرکزی حکومت ہی سرکاری طور پر یہ کہتی رہی کہ نکسلی تنظیموں کی فنڈنگ مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ 2007سے لے کر 2010تک کی لسٹ مرکزی حکومت کے پاس موجود ہے، لہٰذا حکومت کے ذریعہ اسے تشویش کا موضوع بتایا جانا محض فرضی بیان بازی ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ صنعتی گھرانوں، تاجروں، سرمایہ داروں اور مافیاؤں نے نکسلی تنظیموں کو فنڈ دے کر اپنی حفاظت کی گارنٹی تو لے لی لیکن عام لوگوں اور نیم فوجی دستوں کی جان پر بن آئی ہے۔ اب فوج کی جان لینے پر خود ملک کے سیاست داں آمادہ ہیں۔ امریکہ کے نقش قدم پر چلنے والی مرکزی حکومت نے امریکہ سے بھی کوئی سبق نہیں لیا۔ پوری دنیا یہ جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی چھیڑنے سے قبل امریکہ نے نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا بھر میں پھیلی تمام دہشت گرد تنظیموں کی اقتصادی لگام کس دی تھی۔ امریکہ نے باقاعدہ اعلان کر کے دہشت گرد تنظیموں کے اقتصادی وسائل کاٹ ڈالے، جہاں جس بینک کے کھاتے کا پتہ چلا، ان بینک کھاتوں کو سیل کردیا گیا اور فنڈ کا ذریعہ تہس نہس کرڈالا، لیکن ہندوستان میں برسراقتدار لیڈر ڈائیلاگ تو بڑے بڑے بولتے رہے لیکن نکسلیوں کااقتصادی وسیلہ مزید مضبوط ہوتا چلا گیا۔ نکسلیوں کو فنڈ دینے والے صنعت کاروں کے خلاف آج تک کوئی بڑی نکسلی کارروائی نہیں ہوئی۔ نہ ان کے صنعتی کارخانوں پر کوئی آنچ آئی اور نہ ہی ان کی مصنوعات لوٹی یا برباد کی گئیں، جب کہ اسی فنڈ سے نکسلی تنظیمیں جدید ترین ہتھیار خریدتی رہیں اور اس سے عام لوگوں اور نیم فوجی دستوں کے جوانوں کی بے معنی ہلاکتیں ہوتی رہیں۔ایسے عجیب و غریب حالات میں ملک کے لوگوں کے سامنے یہ شک پیدا ہونا لازمی ہے کہ آخر نکسلیوں کا حمایتی کون ہے؟ آپ یہ جانتے ہیں کہ لالو پرساد یادو، شیبوسورین، نتیش کمار اور ممتا بنرجی سمیت کئی لیڈروں پر نکسلیوں سے ساز باز کر کے الیکشن میں مدد لینے کے الزامات عمومی طور پر لگتے رہے ہیں۔ یہ صرف الزامات نہیں ہیں، بلکہ ان میں کچھ حقیقت بھی ہے۔ کئی خونخوار نکسلی کمانڈر ان لیڈروں کی حمایت سے الیکشن بھی جیت چکے ہیں اور اپنی حمایت سے کئی لیڈروں کو الیکشن میں کامیاب بھی کرواچکے ہیں، لیکن نکسلیوں کی فنڈنگ کے مسئلے پر خاموشی اختیار کر کے ملک کی توجہ دوسری طرف لے جانے والے برسراقتدار لیڈر نکسلیوں کے حامی نہیں، بلکہ وہ صنعتی گھرانوں اور سرمایہ داروں کے مفادات دیکھ رہے ہیں کہ کہیں ان کا کوئی نقصان نہ ہوجائے اور وہ کہیں قانون کے شکنجے میں نہ پھنس جائیں۔ واضح ہو کہ دونوں طرح کے لوگ ملک کی سیاست پر حاوی ہیں۔ ووٹ کے لالچ میں نکسلیوں کی حمایت کرنے والے لیڈر سرمایہ دار گھرانوں کے مفادات پورے کرنے میں حکومت کا بے جا استعمال کررہے ہیں۔ مرناعام آدمی کو ہے یا فوج اور نیم فوجی دستوں کے جوانوں یا افسروں کو۔
نکسلیوں کو فنڈنگ کرنے والے صنعتی گھرانوں اور سرمایہ داروں کی 2007-08کی لسٹ جو مرکزی وزارت داخلہ کی دیگر لسٹوں میں دبی پڑی رہی ہے، ان میں سے جھارکھنڈ کی لسٹ چوتھی دنیا کو حاصل ہوئی۔ آپ یہ جانتے ہیں کہ نکسلی ابھی سب سے زیادہ طاقتور جھارکھنڈ میں ہی ہیں۔ مرکزی وزارت داخلہ یہ بیان دیتا رہا ہے کہ نکسلی تنظیموں کو سب سے زیادہ فنڈ ریاست جھارکھنڈ سے ہی ملتا ہے۔ معدنیات اور صنعتی کار و بار کے لحاظ سے سب سے خوشحال ریاست سے کمائی کرنے والے صنعت کار نکسلی تنظیموں کو بھی خوشحال بنانے میں لگے ہوئے ہیں اور مرکزی حکومت ملک کے عوام کی توجہ دوسری جانب مبذول کراتی رہی ہے۔ قوم کی خدمت پر لیڈروں کی خود کی خدمت حاوی ہورہی ہے اور نکسلی پورے وسطی ہند پر حاوی ہوتے چلے گئے۔
چوتھی دنیا کے پاس جو 26صفحات کی لسٹ ہے اس میں 550سے زیادہ نام ہیں۔ ان میں رانچی ضلع کے 48، گملا کے 22، پلاموں کے 53، لاتیہار کے 41، گڑھوا کے 71، ہزاری باغ کے 40، رام گڑھ کے 10، چترا کے 22، گریڈیہہ کے 55، کوڈرما کے 5، چائی باسا کے 30، جمشید پور کے 15، سرائے کیلا کے 43، بوکارو کے 84، دھنباد کے 7صنعت کار، سرمایہ دار، تاجر، ٹھیکیدار، سرکاری کارخانے اور بلاک شامل ہیں۔ دھنباد ضلع کا ٹونڈی بلاک، توپ چانچی بلاک اور گووند پور بلاک جھارکھنڈ میں نکسلیوں کو سب سے زیادہ فنڈ دینے والے سرکاری محکمے ہیں۔ نکسلیوں کو فنڈ دینے والوں میں لکڑی اور کوئلے کے کئی اسمگلر بھی شامل ہیں۔ 2007-08میں جھارکھنڈ کے رانچی ضلع سے نکسلیوں کو 65لاکھ 56ہزار روپے ملے۔ اسی طرح نکسلیوں نے گملا سے 15لاکھ 25ہزار روپے اور پلاموں ضلع سے 2کروڑ 22لاکھ روپے، لاتیہار سے 13لاکھ 12ہزار روپے، گڑھوا سے 11لاکھ 65ہزار روپے، ہزاری باغ سے 2کروڑ 19لاکھ 59ہزار روپے، رام گڑھ سے 6لاکھ روپے، چترا سے 11لاکھ 5ہزار روپے، گریڈیہہ سے ایک کروڑ 14لاکھ 76ہزار روپے، کوڈرما سے 12لاکھ روپے، چائی باسا سے 4کروڑ 46لاکھ 30ہزار روپے، جمشید پور سے 56لاکھ روپے۔ سرائے کیلا سے 24لاکھ 85ہزار روپے، بوکارو سے 45لاکھ 15ہزار روپے اور دھنباد ضلع سے 64لاکھ روپے کی کمائی کی۔ یہ پوری لسٹ تفصیل سے ہم شائع کر رہے ہیں۔ ان میں سے کئی نام دیکھ کر آپ چونک جائیںگے اور سمجھیںگے کہ ملک کا نظام اصلیت میں کیسا ہے۔ یہ صرف جھارکھنڈ کی لسٹ ہے، ملک بھر کی لسٹ جو مرکزی وزارت داخلہ کی فائلوں میں گم ہے، اس سے نکسلیوں کی فنڈنگ کی سنگینی اور دفاعی صلاحیت کے بارے میں آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں۔
دنتے واڑہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں کی ہلاکت کے کچھ ہی دنوں بعد جب نکسلیوں نے مسافروں سے بھری بس اڑا دی، تب وزیر داخلہ پی چدمبرم نے نکسلیوں کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے لوگوں اور دانشوروں کو جی بھر کے کوسا تھا۔ ایک ٹی وی چینل پر دیے انٹرویو میں چدمبرم نے کہا تھا کہ ماؤنوازوں سے ہمدردی رکھنے والے لوگ ہی نکسلیوں کو قابو میں کرنے کی حکومت کی کوششوں میں روڑہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری مشینری کو ایسے لوگ کمزور بنا رہے ہیں، جو رائٹر، دانشور، سماجی کارکن یا این جی او کارکنان نکسلیوں سے ہمدردی رکھتے ہیں، وزیر داخلہ کی نظر میںبیع ملی زمینی سطح پر نفسیاتی رومانیت، فیشن  اور رابن ہڈ ذہنیت میں مبتلا لوگ ہیں۔وزیر داخلہ کے اس بیان کے دائرے میں کون کون لوگ آتے ہیں، یہ بحث کا موضوع نہیں، بحث کا موضوع ہے چدمبرم کا وہ انتباہ جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وقت آنے پر ایسے تمام لوگوں کی شناخت کی جائے گی…۔ یہ کہتے ہوئے پی چدمبرم نکسلیوں کو فنڈ دے کر انہیں طاقتور بنانے والے صنعت کاروں کی شناخت کرنے اور ان پر کارروائی کرنے کی بات بالکل گول کر گئے۔ فنڈنگ کرنے والے لوگوں کی لسٹ دبائے بیٹھے وزارت داخلہ کے ہی ہم نشیں ہیں پی چدمبرم، لہٰذا ان کی باتوں کی اصلیت صاف صاف سمجھ میں آتی ہے۔ چدمبرم سے آگے کود کر مرکز کی برسراقتدار کانگریس نے اپنے ترجمان منیش تیواری کے ذریعہ نکسلیوں کی حمایت کرنے والے لوگوں کو ففتھ کالمنسٹ(اندر رہ کر گھات کرنے والا) تک بتایا تھا، لیکن نکسلیوں کو فنڈ دے کر انہیں طاقتور کون لوگ بنارہے ہیں اور اندر رہ کر گھات کون لگا رہے ہیں، اس بارے میں حکومت کی طرف سے شاطرانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔
مرکزی خفیہ ایجنسی کے نکسل معاملات پر نظر رکھنے والے ماہر افسروں سے نکسلیوں کی فنڈنگ کے مسئلے پر اس نمائندے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ نکسلی تنظیموں کا باقاعدہ ایک بجٹ ہے اور مرکزی وزیر داخلہ بھلے ہی لسٹ دباکر بیٹھے رہیں، لیکن خفیہ ایجنسی کے پاس فنڈنگ کے تعلق سے اطلاعات کی کمی نہیں ہے۔ 2007 ,2009 کے درمیان ماؤنوازوں کا بجٹ 60کروڑ روپے تھا۔ اس میں 42 کروڑ روپے اسلحہ کے لئے اور دو کروڑ روپے خفیہ معلومات حاصل کرنے کے لئے رکھے گئے تھے۔ بقیہ رقم ٹرانسپورٹیشن، ٹریننگ، تشہیر واشاعت کے لئے مختص کی گئی تھی۔خفیہ ایجنسیوں نے وزارت داخلہ کو دی گئی رپورٹ(لسٹ) میں جھارکھنڈ میں پکڑے گئے ماؤنواز کمانڈر و پولت بیورو کے ممبر مسر بیسرا،2007میں پکڑے گئے ،زونل کمانڈر رگھوناتھ ہیمبرم عرف برسین عرف نربھئے، اورنگ آباد بہار کے رہنے والے دہلی اور ہریانہ کے اربن کمانڈر پرمود مشرا اور کئی دیگر نکسلی کمانڈروں کے اقبالیہ بیانات کا بھی حوالہ دیا ہے۔ نکسلی تنظیمیں جھارکھنڈ، چھتیس گڑھ یا اڑیسہ کی کانوں سے نہ صرف دولت حاصل کرتی ہیں بلکہ وہ ان سے دھماکہ خیز اشیاء (جلیٹن اور ڈائنامائٹ وغیرہ) بھی برآمد کرتی ہیں۔ المیہ تو یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں17؍اپریل2010کو ماؤنوازلیڈر کشن جی کا جو لیپ ٹاپ برآمد ہوا، اس سے حاصل شدہ معلومات سے بھی اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ امسال جھارکھنڈ سے ماؤنوازوں کو 12کروڑ20لاکھ روپے ملے ہیں۔
تین علاقوں سے ماؤنواز سو کروڑ روپے سالانہ وصولیابیاں کرتے ہیںاور اپنے کیڈروں کو باقاعدہ تنخواہ دیتے ہیں۔ خفیہ ایجنسی کے افسر نکسلی تنظیم کو نکسل کارپوریشن بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انہوں نے امسال وصولی کا ٹارگیٹ بڑھاکر ڈیڑھ سو کروڑ روپے کردیا ہے۔ ہر سال ٹارگیٹ میں 15فیصد کا اضافہ کردیا جاتا ہے۔ رنگداری ٹیکس ، ڈرگس، لوٹ پاٹ، پھروتی، ڈکیتی کے علاوہ ،نکسلی تنظیم تقریباً ایک کروڑ روپے افیون کی کاشت کرنے والوں سے بھی وصول کرتی ہے۔ انٹیلی جنس بیورو کے پاس اس بات کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ افیون کی کاشت کرنے والوں سے لیوی وصول کرنے کیلئے نکسلی تنظیم افیون کی پیداوار کو فروغ بھی دے رہی ہے ۔اورا نہیں تحفظ بھی فراہم کررہی ہیں۔آئی بی کی خفیہ اطلاع کے مطابق وزارت داخلہ کو اس بات کا علم ہے ، اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی، یہ سبھی کے سامنے ہے۔ بہار، جھارکھنڈ اور آندھرا پردیش سے نکسلیوں کو مجموعی ٹیکس کا 40فیصد ملتا ہے۔ سب سے زیادہ پیسہ معدنیاتی خزانے سے مالا مال جھارکھنڈ سے ملتا ہے۔ مغربی بنگال اور اڑیسہ سے تو نسبتاً پیسے کم ملتے ہیں، لیکن مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرل جیسی ریاستوں سے بھی فنڈ ملتا ہے۔چند دنوں قبل رائے گڑھ پولس نے ایک انجینئرنگ کالج کے اسٹاف کو13لاکھ روپے لے جاتے ہوئے پکڑا تھا جو نکسلیوں کے حوالے کرنے کے لئے جارہا تھا۔ اس سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ جو تنظیم یا صنعتی ادارہ نکسلیوں کو لاجسٹک سپورٹ دیتے ہیں انہیں محض 6فیصد لیوی دینی پڑتی ہے۔ دیگر کو15فیصد، یہاں تک کہ بس اور ٹرک یونینوں کو بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ جھارکھنڈ میں پانچ سے دس فیصدسول ٹھیکیداروں کو،50روپے فی ٹرک و بس اور ایک ہزار سے پانچ ہزار روپے تک ٹرک آپریٹروں کو دینا پڑتا ہے۔ بنگال میں اسٹون کرشر، ٹھیکیداروں، تاجروں اور یہاں تک کہ اسکول ٹیچروں کو بھی ٹیکس دینا پڑتا ہے۔
2007میں نکسلیوں نے ہتھیاروں کی خرید کے لئے ایک آسٹریلین کمپنی سے معاہدہ کیا تھا ، جو نکسلیوں کو ملیشیا، میانمار اور بنگال کے راستے ہتھیار پہنچا رہی ہے۔ اقتصادی تعاون کو تو چھوڑئے، مرکزی حکومت اس آرمس سپلائی لائن کو آج تک تباہ نہیں کرپائی ہے۔ اس کے علاوہ نکسلیوں کے استعمال کے لئے خصوصی ٹائر اور موٹر سائیکلیں خریدی جارہی ہیں۔ یہاں تک کہ ممبئی کی اس ٹیکسٹائل کمپنی کا بھی پتہ چلا ہے جو نکسلیوں کے لئے وردی سپلائی کرتی ہے۔ رائے پور کی ایک چھاپے ماری میں پانچ کروڑ روپے کی وصولیابیاں کی دستاویز اور وردی کا پورا بیورا ملا تھا۔ نکسلیوں کی 6کمپنیوں کے لئے وردی کی سپلائی آنی تھی۔ خفیہ ایجنسیوں نے یہ ساری معلومات مرکزی وریاستی حکومت دونوں کو مہیا کرائیں ،لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
اب ایک اور المیہ دیکھئے ۔ وزارت داخلہ کے دستاویز ہی یہ بتاتے ہیں کہ نکسلیوں کی آمدنی مجموعی طور پر 14سوکروڑ روپے سے کم نہیں ہے۔ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ نے کچھ دنوں پہلے کہا تھا کہ یہ رقم ہزار سے 12سوکروڑ روپے ہے۔ پولس اسے دو ہزار کروڑ روپے بتا تی ہے۔ بتا تو سبھی رہے ہیں ، لیکن کوئی کارروائی نہیں ہورہی ۔دوئم انتظامی اصلاح کمیٹی کی ساتویں رپورٹ میں تمام ریاستی حکومتوں اور ریاستی پولس سے نکسلی تنظیموں کی اس وصولی اور بلیک منی کو جائز کرنے کے دھندے پر مؤثر طریقے سے قدغن لگانے کے لئے الگ سے ایک خصوصی ٹیم بنانے کی سفارش کی گئی تھی۔ دوسری انتظامی اصلاح کمیٹی نے یہ سفارش فروری2008میں ہی کی، لیکن ریاستی حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی اور نہ ہی مرکزی حکومت نے اس کو لائق توجہ سمجھا۔مرکزنے ریاستی حکومتوں سے نکسلی تنظیموں کے ذریعہ غیر قانونی کان کنی روکنے کے لئے مؤثر تدبیر کرنے کو کہا تھا ، لیکن زمینی حقائق کیا ہیں، یہ مرکزی حکومت بھی جانتی ہے۔
نکسلی لیڈروں کی عالی شان زندگی بھی ان کے پاس وافر مقدار میں دولت کی آمد کو ظاہر کرتی ہے۔ جھارکھنڈ کے بنڈو علاقے میں پکڑا گیا ایک نکسلی کمانڈر ریباک کے جوتے، برانڈڈ شرٹ اور ہائی اسٹینڈرڈ موبائل فون سے لیس تھا۔ ریجنل کمانڈر کندن پٹھان نے مئی 2008میں بینک سے لوٹے گئے چار لاکھ روپے میں صرف ایک لاکھ سینٹرل کمیٹی کو لوٹائے تھے۔ باقی رقم اس نے ہتھیار خریدنے اور موبائل و ہوٹل بازی کرنے میں اڑا دیے۔ نکسلیوں کے ہر 30ارکان پر 20کے قریب اچھی موٹر سائیکلیں ہوتی ہیں۔ خفیہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ نکسلی لیڈر شپ کئی ریاستوں میں مختلف اقسام کی صنعتوں میں بھی سرمایہ کاری کررہی ہے۔2009میں ماؤنوازپولت بیورو کے ارکان امیتابھ باگچی کی گرفتاری کے بعد یہ بات منظر عام پر آئی تھی۔ اس کے پاس سے بنگال کی چند صنعتی اکائیوں میں 20کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی دستاویز بھی برآمد ہوئیں تھیں۔ بنگال چیپٹر کے سکریٹری سومین نے بھی گرفتاری کے بعد اس بات کا اقرار کیا تھا کہ بنگال میں لگائے گئے سرمایے کی رقم ایک کروڑ سے کم نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *