پلاننگ کمیشن کی مرمت

دلیپ چیرین
پلاننگ کمیشن آج دفتر شاہوں کا گھر اور نہرو وین دور کی سب سے بڑی یاد گار بن چکا ہے، لیکن آئندہ کچھ برسوں میں اسے منظم کرنے اوراس کی تعمیر نو کی تیاری چل رہی ہے۔خیر، اس کے نقادوں کے مطابق ، اتنی جلدی یہ سب ہو پانا ممکن نہیں ہے اور ایسا بھی لگ رہا ہے جیسے پلاننگ کمیشن کی حقیقی صورتحال سے بے فکر پلاننگ کمیشن کے ارکان اور نائب صدر مونٹیک سنگھ اہلووالیہ کو پھٹکار بھی لگائی جا چکی ہے۔
نقل و حمل کے وزیر کمل ناتھ نے سب سے پہلے پینل ارکان کو، غیر اخلاقی صلاح کار ہونے کا قصور وار ٹھہرایا۔سینئر کانگریسی لیڈر انل شاستری بھی اس گروپ کا راگ الاپنے میںشامل ہوئے اور یہاں تک کہ سکریٹری برائے خوراک الکا سروہی نے بھی عوامی تقسیمی نظام کو سدھارنے میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے استعمال کے مسئلے پر اہلووالیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔
اہلووالیہ کے خلاف سخت تنقید کو پلاننگ کمیشن پر حملے کی شکل میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔مجوزہ سدھاروں (جس کا تصور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کیا ہے) میں ایک اہم سدھار کی شکل میں نام میںتبدیلی کی بھی بات ہے۔اس کے تحت پلاننگ کمیشن کو سسٹم ریفارم کمیشن کی شکل میں تبدیل کیا جانا بھی شامل ہے۔ ارون میرا (جو پہلے باسٹن کنسلٹنگ گروپ سے وابستہ تھے، اب پلاننگ پینل کے رکن ہیں) کو مفاد عامہ میں تیزی سے صاف ستھرے طریقے اور بڑے پیمانے پرکمیشن کی تعمیر نو کے کام میں لگایا گیا ہے۔لیکن یہ سب مستقبل کی باتیں ہیں۔فی الحال لوگ اہلووالیہ پرتنقید کرتے رہیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *